• 30 نومبر, 2020

سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حالاتِ زندگی

تبرکات حضرت میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ
سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حالاتِ زندگی
(قسط نمبر 1-2)

چونکہ نوے فیصدی احمدی بچے انگریزی اسکولوں میں تعلیم پاتے ہیں۔ جہاں ہندوستان اور انگلستان کی تاریخ تو پڑھائی جاتی ہے مگر ہندوستان سے باہر کی اسلامی تاریخ کا کوئی کورس نہیں رکھا جاتا۔ اس لئے باوجود مسلمان اور پھر احمدی ہونے کے ہمارے بچوں کو اپنے سید و مولا سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے حالات زندگی کا بالکل علم نہیں ہوتا۔ اس نقص کو دور کرنے کے لئے میں اخبار ’’الفضل‘‘ میں ایک سلسلہ مضامین شروع کرنے کی خداتعالیٰ سے توفیق چاہتا ہوں جس سے ان شاء اللہ تعالیٰ حضور علیہ السلام کے ولادت سے وفات تک ضروری ضروری مختصر حالات احمدی بچوں کو معلوم ہو سکیں گے۔ میں ہر احمدی خاندان سے توقع رکھتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں اور بچیوں کو یہ سلسلۂ مضامین اچھی طرح پڑھائیں گے اور ان سے وقتاً فوقتاً امتحان لے کر اطمینان کرتے رہیں گے کہ ان کے بچوں کو حضور علیہ السلام کے حالات اچھی طرح یاد ہو گئے ہیں۔

حضور علیہ السلام کے حالات کا مختصر نقشہ

ذیل میں اس مضمون کی پہلی قسط پیش کی جاتی ہے۔

دنیا کے سب سے بڑے برّاعظم ایشیا کے جنوب مغرب میں عرب نام ایک جزیرہ نما ہے۔ یہ ملک گیارہ لاکھ مربع میل ہے۔ اس کا ایک صوبہ جو اس ملک کے مغربی حصہ میں بحر قلزم کے کنارے کنارے آباد ہے حجاز کے نام سے موسوم ہے۔ اس صوبہ کا دارالحکومت مکہ نام ایک شہر ہے۔ اس شہر میں 20 اپریل 570 عیسوی مطابق 12 ربیع الاوّل عام الفیل کے سال ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نسب نامہ یہ ہے۔

محمد بن عبد اللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔

اور والدہ کی طرف سے شجرہ نسب یوں ہے۔

محمد بن آمنہ بنت وہب بن عبد مناف بن زہرۃ بن کلاب۔

اس لڑکے کے والد اس کی پیدائش سے دو ماہ قبل فوت ہو چکے تھے۔ اس لڑکے کے والد مکہ کے اور والدہ مدینہ کی جو کہ حجاز ہی کا ایک شہر ہے اور مکہ سے پونے تین سو میل جانب شمال ہے رہنے والے تھے۔ اس لڑکے کی پیدائش ایران کے مشہور عادل بادشاہ نوشیرواں کے زمانہ میں ہوئی تھی۔ یہ لڑکا بڑا ہو کر خدا کا نبی ہوا اور ہم نے اسے قبول کیا اور وہ ہمارا سردار کہلایا۔ آئندہ ہم اپنے اس سردار کو حضور یا حضور علیہ السلام کہہ کر پکاریں گے۔ حضور کے دادا عبدالمطلب نے حضور کا نام محمد رکھا۔ یعنی وہ شخص جس کی بہت تعریف کی گئی ہو۔ حضور نے چند روز اپنی والدہ کا دودھ پیا۔ پھر اپنے چچا ابولہب کی آزاد کردہ لونڈی ثوبیہ کا دودھ پیا۔ پھر حلیمہ نام ایک عورت جو بنوسعد قبیلہ کی تھی آ پ کی دودھ پلائی مقرر ہوئی اور وہ آپ کو اپنے ہمراہ اپنے قبیلہ میں لے گئی۔ دو سال کے بعد حلیمہ حضور کو واپس مکہ میں لائی اور حضور کی والدہ کی اجازت سے پھر آپ کو اپنے قبیلہ میں لے گئی اور چار سال تک حضور حلیمہ سعدیہ کے گھر میں رہے۔ حلیمہ کا عبداللہ نام لڑکا حضور کا دودھ بھائی تھا۔ جب تک حضور حلیمہ کے گھر رہے حلیمہ کا گھر برکتوں سے بھرا ہوا تھا۔ چار سال کی عمر سے چھ سال تک حضور اپنی والدہ کے پاس رہے۔ چھٹے سال وہ آپ کو لے کر مدینہ میں جو اُن کا میکہ تھا گئیں۔ وہاں سے واپسی پر وہ ابواء مقام پر فوت ہو کر وہاں ہی دفن ہوئیں۔ اس سفر میں ام ایمن نام حضور کے والد کی ایک لونڈی ہمراہ تھی۔ حضور کی والدہ کی وفات پر یہ لونڈی حضور کو مکہ میں واپس لائی اور حضور اپنے دادا کی زیرنگرانی پرورش پانے لگے۔ حضور آٹھ برس کے تھے کہ حضور کے دادا عبدالمطلب جو مکہ کے سب سے بڑے رئیس تھے فوت ہو گئے۔ عبدالمطلب کے بارہ بیٹے یعنی حضور کے گیارہ چچا تھے۔ دادا کی وفات کے بعد حضور کی پرورش حضور کے چچا ابو طالب نے جو حضرت علیؓ کے والد تھے شروع کی۔ نو سال کی عمر میں حضور اپنے چچا ابو طالب کے ہمراہ ملک شام میں گئے۔ جہاں ابو طالب تجارت کرنے کے لئے ایک قافلہ میں شامل ہو کر جا رہے تھے۔ حضور نے لکھنا پڑھنا نہیں سیکھا اور نہ حضور نے حساب کی تعلیم پائی۔ لیکن ہمیں پڑھنا لکھنا اور حساب کا علم ضرور سیکھنا چاہئے کیونکہ وَعَلَّمَکَ مَالَمْ تَکُنْ تَعْلَمُ (النساء:114) کہہ کر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ اے نبی! ہم نے خود تجھے تمام علوم سکھا دیئے۔ پس حضور کو لکھنے پڑھنے اور حساب سیکھنے کے بغیر ساری مفید اور ضروری معلومات حاصل ہو گئیں اور یہ حضور کی خصوصیت ہے کہ حضور کو پڑھنے کے بغیر ساری باتیں معلوم ہو گئیں مگر ہمارے ساتھ خدا کا یہ دستور نہیں۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم لکھنے پڑھنے کے ذریعہ کتابوں سے ضروری علوم حاصل کریں۔ جیسا کہ خود حضور علیہ السلام نے فرمایا طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ (ابن ماجہ کتاب مقدمۃ باب فضل العلماء) یعنی علم پڑھنا ہر مسلمان (مرد اور عورت) پر فرض ہے۔

(روزنامہ الفضل قادیان 18مارچ 1939)

حضور بیس برس کے تھے کہ حَربُ الفجار نام لڑائی میں شریک ہوئے مگر حضور لڑے نہیں بلکہ اپنے چچاؤں کو تیر پکڑاتے تھے۔ یہ لڑائی قریش اور اس کے حلیفوں اور قیس اور اس کے حلیفوں کے درمیان نخلہ نام مقام پر جو مکہ اور طائف کے درمیان ہے ہوئی تھی۔ قریب تھا کہ قیس کو شکست ہو جاتی مگر آپس میں صلح ہو گئی۔ جب حضور پچیس سال کے قریب ہوئے تو حضور کی امانت و دیانت دیکھ کر خدیجہ بنت خویلد نے جو قبیلہ بنی اسد کی ایک مالدار معزز بیوہ تھیں۔ اپنا تجارتی مال دے کر اور اپنے غلام میسرہ کو حضور کے ہمراہ کر کے حضور کو ملک شام کی طرف بھیجا۔ اس سفر میں حضور کی برکت سے بڑا نفع ہوا۔ جب حضور واپس آئے تو حضور کی شادی حضرت خدیجہؓ سے ہوئی۔ حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس سال کی اور حضور کی پچیس سال کی تھی۔ مہر پانچ سو درہم مقرر ہوا۔ حضرت خدیجہؓ کے بطن سے قاسم، طاہر اور طیب نام تین صاحبزادے اور زینب، رقیہ اور ام کلثوم اور فاطمہ نام چار صاحبزادیاں پیدا ہوئیں۔ قاسم کی وجہ سے حضور کی کنیت ابو القاسم تھی۔ جب حضور 35 سال کے ہوئے تو خانہ کعبہ کی عمارت کو بسبب گر جانے کے قریش دوبارہ بنانے لگے۔ جب حجر اسود رکھنے کا موقع آیا تو قریب تھا کہ قبائل آپس میں لڑ پڑیں کیونکہ کوئی قبیلہ نہ چاہتا تھا کہ حجر اسود کو اٹھا کر دیوار میں اس کی جگہ رکھنے کا شرف کسی اور قبیلہ کو مل جائے۔ اس پر کئی روز تعمیر کے بند رہنے کے بعد یہ تجویز ہوا کہ جو شخص اس وقت سب سے پہلے یہاں آئے اس کا فیصلہ منظور کیا جائے۔ خدا کی قدرت کہ سب سے پہلے حضور تشریف لائے۔ جس پر سب لوگ پکار اٹھے کہ امین! امین! یعنی یہ شخص جو فیصلہ بھی کرے گا وہ امانت و دیانت پر مبنی ہو گا۔ حضور نے اپنی چادر بچھائی اور اس پر حجر اسود رکھا اور پھر تمام قبیلوں کے سرداروں نے چاروں طرف سے اس چادر کو پکڑااور جس جگہ وہ پتھر رکھا جانا تھا اٹھا کر لائے۔ پھر حضور نے اٹھا کر اس کی جگہ پر رکھ دیا اور اس طرح حضور کے حسنِ تدبر سے اللہ تعالیٰ نے لڑائی کی وہ آگ جو بھڑک کر تمام ملک کے امن کو تہ و بالا کرنے والی تھی بجھا دی۔ پھر جب حضور چالیس برس کے قریب پہنچنے لگے تو حضور کے دل میں لوگوں سے الگ رہنے کی خواہش روز بروز زیادہ ہوتی گئی۔ اس لئے حضور پانی اور کھجوریں لے کر مکہ سے تین میل کے فاصلہ پر حراء نام غار میں جا کر کئی کئی روز رہتے اور جب توشہ ختم ہو جاتا تو پھر پانی اور کھجوریں لینے کے لئے واپس گھر تشریف لے آتے۔ انہی ایام میں سچی خوابوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ پھر جب حضور پورے چالیس برس کے ہوئے تو ایک روز جبریل فرشتہ انسانی شکل میں حضور کے پاس آیا اور کہا کہ اِقْرَأ یعنی پڑھ۔آپ نے کہا کہ مَا اَنَا بِقَارِئٍ یعنی میں پڑھ نہیں سکتا یا یہ کہ میں نہیں پڑھتا۔ اس پر اس فرشتہ نے حضور کو اپنے سینہ سے لگا کر زور سے بھینچا۔ پھر چھوڑ کر کہا کہ اِقْرَأ آ پ نے پھر وہی جواب دیا۔ فرشتہ نے پھر بھینچا اور پھر چھوڑ کر کہا اِقْرَاْ۔ آپ نے پھر وہی جواب دیا۔ اس پر پھر اس نے نہایت زور سے بھینچ کر چھوڑا اور سورئہ علق کی پہلی پانچ آیتیں حضور پر نازل کیں جن کا حاصل مطلب یہ ہے۔

(1) خدا کا نام لے کر لوگوں کو قرآن مجید سنانا شروع کر (2) اسی خدا کے نام سے جس نے انسان کو خون کے ایک لوتھڑے سے پیدا کیا۔ (3) تو لوگوں کو قرآن سنا۔ تیرا خدا بڑا معزز ہے۔ وہ تجھے دنیا میں عزت دے گا (4) اسی خدا کے نام سے جس نے دنیا کے لوگوں کو قلم کے ذریعہ علوم سکھائے۔ (5) خدا انسان کو وہ کچھ سکھاتا ہے جو انسان کے علم میں نہیں ہوتا۔ وہ خدا تجھے بھی قلم کے واسطہ کے بغیر تمام علوم سکھا دے گا۔ حضور ان پانچ آیات کو لے کر گھر آئے۔ آپ کا دل اور مونڈھوں کے پٹھے کانپتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا مجھے کپڑا اوڑھا دو۔ حضرت خدیجہؓ نے حضور پر کپڑا اوڑھا دیا۔ جب حضور اُٹھے تو حضرت خدیجہؓ کو تمام واقعہ سنایا اور کہا لَقَدْ خَشِیْتُ عَلٰی نَفْسِیْ یعنی اے خدیجہ! خدا تو سچے وعدوں والا ہے مگر میں اپنی طبیعت سے ڈرتا ہوں کہ کہیں اس کام کو نبھا نہ سکوں۔ اس پر حضرت خدیجہؓ نے عرض کیا۔ اللہ آ پ کو ہرگز شرمندہ اور ذلیل نہ کرے گا۔ کیونکہ آپ رشتہ داروں کے حقوق ادا کرتے ہیں۔ گرے پڑوں کا بوجھ اُٹھاتے ہیں۔ مہمان نوازی کرتے ہیں۔ امانت ادا کرتے ہیں۔ سچ اور حق کی باتوں میں سب کی مدد کرتے ہیں۔ بلکہ آ پ وہ نیکیاں بھی کرتے ہیں جو لوگوں میں معدوم ہو چکی ہیں۔ پھر حضرت خدیجہؓ حضور ؐکو اپنے چچازاد بھائی ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں جو عیسائی ہو چکا تھا اور بائیبل کا عالم تھا۔ اور اب بوڑھا اور نابینا ہو چکا تھا۔ اس نے حضورؐ سے تمام کیفیت سن کر کہا کہ آپ کے پاس وہی فرشتہ غار حرا میں آیا تھا جو موسیٰ علیہ السلام پر وحی لاتا تھا اور کہا کہ کاش میں اس وقت تک زندہ رہوں جبکہ آ پ کی قوم آپ کو یہاں سے نکال دے گی۔ آپ نے تعجب سے فرمایا کہ کیا مجھے نکال دیں گے؟ اس نے کہا جو بندئہ خدا بھی آپ کی طرح آیا اس کی قوم نے اس سے عداوت کی۔ اور اگر میں زندہ رہا تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا۔ مگر چند روز کے بعد ورقہ کا انتقال ہو گیا۔

(بخاری کتاب کیف بدء الوحی الیٰ رسول اللہؐ)

(روزنامہ الفضل قادیان 25مارچ 1939ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2020