• 30 نومبر, 2020

حضرت چودھری عبدالعزیز بھٹی صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت چودھری عبدالعزیز بھٹی صاحب رضی اللہ عنہ
گوجرہ ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ

حضرت چودھری عبدالعزیز بھٹی صاحب رضی اللہ عنہ ولد مکرم نور محمد بھٹی صاحب اصل میں موضع رام داس ضلع امرتسر کے رہنے والے تھے لیکن بعد ازاں کاروبار کے سلسلے میں تقسیم ملک سے قبل ہی گوجرہ منڈی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں رہائش پذیر ہوگئے تھے۔ آپ 1906ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ آپ گوجرہ منڈی میں آڑہت کا کاروبار کرتے تھے۔ آپ گوجرہ جماعت کے پریذیڈنٹ بھی رہے۔ آپ نے 24؍دسمبر 1979ء کو قریباً 100 سو سال کی عمر میں وفات پائی اور بوجہ موصی (وصیت نمبر 5470) ہونے کے بہشتی مقبرہ ربوہ میں دفن ہوئے۔

(وصیت نامہ الفضل 10؍نومبر 1939ء صفحہ6)

آپ بیان کرتے ہیں:
میرا اصل وطن قصبہ رام داس ضلع امرتسر ہے۔ 1897ء میں ملازم سرکار ہوا۔ 1914ء تک پٹواری رہا۔ 1914ء میں ملازمت چھوڑ کر آڑہت کی دکان قصبہ گوجرہ میں جاری کی جو تاحال خدا کے فضل سے اچھی طرح پر چل رہی ہے۔

1311ھ میں جب سورج گرہن کا واقعہ ہوا،اس وقت یہ خاکسار چودہ پندرہ سال کی عمر میں تھا اور سکول میں تعلیم پا رہا تھا۔ سورج گرہن کے نفل ادا کرنے کے واسطے جب مسجد میں آیا (کیونکہ بچپن میں اس خاکسار کو نماز پڑھنے کا بڑا شوق تھا) تو ایک شخص شیخ دین محمد نامی نے بعد پڑھانے نفل ہائے کے وعظ فرمایا کہ اب امام مہدی بہت جلد ظاہر ہو جائیں گے۔ ماہ رمضان میں سورج گرہن،چاند گرہن ہو گیا ہے جو کہ ان کے ظہور کی علامت ہے۔ یہ بات خاکسار کے دماغ میں اس طرح بیٹھ گئی کہ آج بھی وہ نظارہ بدستور میری نظروں کے سامنے آرہا ہے۔ بعد ازاں تعلیم حاصل کرتا رہا۔ 1897ء میں تعلیم سے فارغ ہو کر میں ملازم ہو گیا۔ چونکہ سرکاری ملازمت میں انسان عام طور پر تکبر و طمع کا پتلا بن جاتا ہےاس واسطے اس زمانہ میں مَیں نماز سے بالکل غافل رہا۔ 1902ء میں میری تعیناتی موضع بہلولپور میں ہوئی۔ وہاں کے نمبردار چوہدری عبداللہ خانصاحب تھے۔ ان کی صحبت کی وجہ سے پہلی دفعہ آواز کان میں پڑی کہ قصبہ قادیان میں امام مہدی ظاہر ہو چکا ہے۔ مگر بوجہ ملازمت کے میں نے اس طرف چنداں توجہ نہ کی اور عمر اس طرح غفلت میں گزرتی تھی۔ 1904ء میں جبکہ میں موضع دیوالی ضلع لائل پور میں بندوبست کا کام کر رہا تھا، ایک احمدی لڑکا میرے پاس کام سیکھنے کے واسطے لایا گیا۔ جس کا نام فضل الرحمان تھا۔ اس کی وجہ سے مجھے کچھ کچھ علم تو ہوا مگر میں اس وقت اس کے ساتھ نیک سلوک سے پیش نہ آیا بلکہ اس کی باتوں پر سختی سے پیش آیا کرتا۔ انہی دنوں میں ایسا اتفاق ہوا کہ ایک مولوی صاحب موضع ستراہ سے میرے پاس آگئے۔ جو ہر سال مجھ سے نذرانہ لے جایا کرتے تھے اور انہی کی وجہ سے میں احمدیت سے متنفر تھا اور ایک مبلغ صاحب بھی جو ادھیڑ عمر کے تھے اور ان کی حالت ظاہراً طور پر بڑی غریبانہ تھی۔ لباس بھی معمولی کھدر کا تھا، دورہ کرتے ہوئے موضع رام دیوالی میں آگئے اور فضل الرحمان کے ساتھ بات چیت کر کے اس کے پاس بیٹھ گئے۔ افسوس مولوی صاحب کے آنے کی وجہ سے چونکہ وہ (یعنی مولوی صاحب) ان (مبلغ صاحب) سے متنفر تھے۔ میں نے کھانا بھی ان کو اچھا نہ کھلایا۔ رات کو کھانا کھانے کے بعد وہ مبلغ صاحب رو رو کر اپنا حال فضل الرحمان کو سناتے تھے کہ میں فلاں موضع میں گیا، اس جگہ کے لوگوں نے مجھے دھکے مار کر گاؤں سے نکال دیا۔ فلاں موضع میں گیا، وہاں مجھے ضربات لگائی گئیں۔ غرضیکہ جس جگہ بھی جاتا ہوں اور مرزا صاحب کی تعلیم پیش کرتا ہوں لوگ میرے ساتھ بڑی بدسلوکی سے پیش آتے ہیں۔ گالیاں بھی دیتے ہیں مارتے بھی ہیں۔ مگر چونکہ مجھے تبلیغ کا حکم ہے اس واسطے دکھ سکھ اٹھا کر اپنا کام کئے جا رہا ہوں۔ اس مبلغ کی حالت اور گفتگو نے میرے دل پر بڑا اثر کیا مگر میں نے ان پر ظاہر نہ ہونے دیا۔

پھر 1906ء میں میرا رہنا ایک ماہ کے واسطے موضع تلونڈی ضلع لائل پور میں بصیغہ ملازمت ہوا۔ وہاں چوہدری نبی بخش صاحب نمبردار دیہہ بڑے مخلص احمدی تھے۔ خدا ان کو غریق رحمت کرے۔بڑے ہی مخلص اور با اخلاص آدمی تھے۔ گاؤں والوں نے ان سے قطع تعلق کیا ہوا تھا مگر وہ بڑے صبر اور استقلال سے اپنی عمر گزارتے تھے اور جہاں بھی موقع ملتا ضرور تبلیغ کرتے۔ ان ایام میں مجھ پر ایک مقدمہ دائر تھا اور طبیعت میں بہت کچھ انکساری آگئی تھی۔ ان کی خدمت میں عرض کی کہ مقدمہ سے خلاصی کے واسطے دعا کریں انہوں نے دعا بھی کی اور مجھے فرمایا کہ اخبار الحکم آج ہی اپنے نام جاری کرا لیویں اور حضرت اقدس کی خدمت میں بھی دعا کے واسطے تحریر کریں اور بیعت بھی کر لیویں۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا اور مقدمہ سے خلاصی بھی اللہ تعالیٰ نے کر دی بوجہ دعا کرنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے۔ اس موقعہ کے بعد میری زندگی میں بڑا انقلاب آگیا۔ اخبار الحکم آنے لگ گئی۔ ہفتہ وار تازہ بتازہ وحی الٰہی پڑھنے کا موقع ملا۔ پانچوں وقت نماز ادا کرنی شروع کر دی اور عبادت میں ایسی حلاوت بھی پیدا ہو گئی مگر افسوس بوجہ غفلت پھر وہ حلاوت آج تک نصیب نہیں ہوئی۔ کچھ عرصہ کے بعد وہی مولوی صاحب ستراہ والے نذرانہ لینے کے واسطے تشریف لائے۔ ان کے سامنے احمدیت کی تعلیم کی رو سے اختلافات پیش کئے گئے۔ جس کا انہوں نے کوائی جواب نہ دیا اور کہا کہ مرزا صاحب کی کتابیں نہ پڑھا کرو، بے دین کر دیں گی۔ میرے جواب دینے پر کہ آپ نے دلیل تو کوئی پیش نہیں کی اور بالکل انوکھا دعویٰ کر دیا ہے، بہت تلملائے مگر چونکہ نذرانہ ابھی لینا تھا، سختی سے اور بدزبانی سے پیش نہ آئے اور فوراً نذرانہ طلب کر کے رفوچکر ہوگئے اور آج تک اس کے بعد بالکل نہیں آئے۔

سال 1906ء میں بندہ نے بذریعہ خط بیعت کی تھی اب دل میں شوق پیدا ہوا کہ خود حاضر حضور ہو کر بیعت کروں۔ چنانچہ 1907ء میں قادیان میں حاضر ہوا اور حضرت اقدس کے ہاتھ پر مسجد مبارک میں دستی بیعت کی۔ ظہر کے وقت حضرت اقدس نماز پڑھنے کے واسطے مسجد مبارک میں تشریف لائے بعدازاں جلدی ہی مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اوّل) حاضر ہو گئے۔ مولوی صاحب نے نماز ظہر پڑھائی اور حضرت اقدس مولوی صاحب کے داہنے ہاتھ کھڑے ہو گئے اور بائیں جانب عام مقتدی تھے۔ حضرت اقدس کے داہنے جانب کوئی شخص کھڑا نہ ہوا۔ اس سطر کی داہنی جانب خالی رہی۔ حضرت اقدس اور مولوی صاحب کے کھڑا ہونے کی جگہ پر کپڑا بچھا ہوا تھا۔ نماز فرض ادا ہونے کے بعد حضرت صاحب کھڑکی میں سے گھر تشریف لے جانے لگے تو مولوی صاحب نے ایک خط پیش کیا کہ ایک جگہ سے ایک شخص نے فتویٰ طلب کیا ہے اس کی نسبت کیا ارشاد ہے۔ مضمون یہ تھا کہ ایک گلی میں جہاں کہ پہلے کسی وقت تمام مسلمانوں کے مکانات تھے ایک مسجد واقعہ ہے اب وہ تمام مکانات فروخت ہو کر ہندوؤں کے پاس جا چکے ہیں۔ صرف مسجد ہی ہے جو بالکل تھوڑی جگہ میں ہے۔ اس گلی کے ہندو اس مسجد کا اتنا روپیہ دیتے ہیں کہ اس روپیہ سے دوسری جگہ بڑی عالی شان مسجد تیار ہو سکتی ہے۔ اگر اجازت ہو تو وہ مسجد فروخت کر کے اس روپے سے اور جگہ عالیشان مسجد بنا دی جاوے؟ جواب میں حضرت صاحب نے فرمایا کہ مسجد کسی حالت میں بھی فروخت نہیں کی جانی چاہئے۔ یا کہا کہ نہیں کی جا سکتی بلکہ وہاں ہر روز بانگ دی جانی چاہئے تا کہ ہندوؤں میں تبلیغ اسلام ہوتی رہے اور ایسی جگہ میں مسجد کا ہونا سخت ضروری ہے۔ یہ فتویٰ بندہ نے اپنے الفاظ میں لکھا ہے حضرت صاحب کے الفاظ اس وقت یاد نہیں رہے۔ مفہوم یاد ہے جو بیان کر دیا گیا ہے۔ حضرت اقدس کے گھر میں تشریف لے جانے کے بعد پھر میں مع اپنے ساتھیوں کے حضرت مولوی صاحب کے مطب میں چلا گیا۔

(رجسٹر روایات صحابہ نمبر 13 صفحہ 14،15)

آپ کے خاندان سے تعلق رکھنے والے مکرم منور احمد قیصر صاحب آف باغبانپورہ لاہور نے سانحہ دار الذکر لاہور 28؍مئی 2010ء میں جام شہادت نوش فرمایا، ان کا ذکر خیر کرتے ہوئے ان کے پھوپھی زاد بھائی محترم منصور احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور نے اپنے نانا حضرت چودھری عبدالعزیز صاحبؓ کا بھی ذکر کیا ہے، وہ لکھتے ہیں:
’’ہمارے آباؤ اجداد حضرت چودھری عبدالعزیز صاحب (1877ء۔1979ء) ولد مکرم نور محمد صاحب موضع رام داس ضلع امرتسر کے رہنے والے تھے جنھیں سب لوگ میاں جی کہہ کر پکارتے تھے۔ آپ کاروبار کے سلسلے میں گوجرہ منڈی ضلع فیصل آباد میں آباد ہوگئے جبکہ آپ کے دیگر بھائی اور افراد خانہ اپنے آبائی وطن میں ہی رہتے تھے جو قیام پاکستان کے موقع پر موضع رام داس سے ہجرت کر کے پاکستان آگئے ….. قیام پاکستان سے قبل حضرت چودھری عبدالعزیز صاحبؓ کی صرف واحد دکان ایسی تھی جس کا تعلق اہل حق سے تھا باقی سب دکانوں پر ہندو چھائے ہوئے تھے ….. آپ مالی لحاظ سے اچھے خاصے خوش حال تھے۔ آپ 40 سال سے زائد عرصہ تک گوجرہ منڈی ضلع فیصل آباد میں بطور صدر اور امامت کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ حضرت چودھری عبدالعزیز صاحب رفیق حضرت مسیح موعودؑ راقم اور ہومیو ڈاکٹر مسعود احمد صاحب چوک پرانی انار کلی لاہور کے نانا جان تھے ……حضرت چودھری عبدالعزیز صاحبؓ نے 1906ء میں بیعت کی اور آپ 102 سال کی طویل عمر پاکر 1979ء میں اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہوگئے اور بہشتی مقبرہ کے قطعہ رفقاء حضرت مسیح موعودؑ میں مدفون ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو پہلی بیوی سے تین بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا ۔ آپ کے دونوں بیٹے بچپن میں ہی وفات پاگئے۔ اسی طرح ابھی آپ کی دونوں بیٹیوں کی عمر 15 اور 3 سال کی تھیں کہ آپ کی بیوی مکرمہ فاطمہ بی بی صاحبہ 1922ء میں وفات پاگئیں اس کے بعد آپ نے اپنے والد صاحب کی ہدایت پر دوسری شادی اپنی ماموں زاد سے کی جو تین کم سن بچوں کے ساتھ جوانی میں ہی بیوہ ہوگئی تھیں جس کے نتیجے میں ایک بیٹی حلیمہ بیگم صاحبہ اور ایک بیٹا مکرم شریف احمد صاحب پیدا ہوئے۔ آپ کی چاروں بیٹیاں وفات پاچکی ہیں۔سب اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ محترمہ سکینہ بی بی زوجہ غلام حسین (حویلیاں والے)، مکرمہ حمیدہ بیگم صاحبہ (1917ء۔2006ء) زوجہ مکرم بشیر احمد صاحب سنت نگر لاہور بہشتی مقبرہ میں مدفون ہیں جبکہ باقی دو بیٹیوں محترمہ رشیدہ بیگم صاحبہ (1920ء۔1946ء) مدفن باغبانپورہ لاہور اور مکرمہ حلیمہ بیگم صاحبہ (1930ء۔1993ء) زوجہ مکرم عبدالغفور صاحب (شالیمار کالونی ملتان روڈ لاہور) مدفن ماڈل ٹاؤن لاہور کے یادگاری کتبے بہشتی مقبرہ میں نصب ہیں۔ آپ کے بیٹے مکرم شریف احمد صاحب بقید حیات ہیں اور اس وقت مغل پورہ کے علاقے میں رہائش پذیر ہیں…..‘‘

(الفضل 27؍جون 2011ء صفحہ 6)

آپ کی تصویر مکرم رضوان سعید صاحب کینیڈا نے مہیا کی ہے فجزاھم اللہ احسن الجزاء۔

٭…٭…٭

(مرسلہ: غلام مصباح بلوچ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2020