• 30 نومبر, 2020

محترم انس احمد چوہدری شہید

محترم انس احمد چوہدری شہید
(ابن محترم چوہدری محمد اکرام اللہ صاحب مرحوم)

محترم انس احمد چوہدری صاحب شہید کی پیدائش 6 جنوری 1958 کو ملتان میں اورشہادت 3دسمبر 1980 کو لاہور میں ہوئی۔ آپ محترم چوہدری محمد اکرام اللہ صاحب مرحوم (پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ ملتان چھاؤنی) اور محترمہ امتہ الحئ صاحبہ مرحومہ (صدر لجنہ اماءاللہ ملتان) کے فرزند ارجمند تھے۔
شہید انس احمد چوہدری صاحب محترم بابو اکبرعلی صاحب مرحوم (آف سٹار ہوزری، قادیان) صحابی کے پوتے اور محمد بشیر چغتائی صاحب مرحوم صحابی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے نواسے تھے۔ شہید کی والدہ محترم بابو روشن دین صاحب مرحوم (بانی مدرسہ احمدیہ ،سیالکوٹ) یکے از 313 اصحاب حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی پوتی اور محترم شیخ نیاز محمد صاحب مرحوم صحابی کی نواسی تھیں۔ (محترم شیخ نیاز محمد صاحب مرحوم ڈپٹی انسپکٹر پولیس بٹالہ محمد بخش کے فرزند تھے جس کہ بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی پیشگوئی تھی ’’محمد بخش کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور اس کی اولاد میرے حلقہ بگوشوں میں شامل ہو گی۔‘‘)

شہید کا بچپن اور وصیت

محترم انس احمد چوہدری شہید کی والدہ محترمہ کے مطابق شہید بجپن سے ہی بہت نیک، فرمانبر دار، نڈر اور ہونہار تھے۔ پیار کرنے والی شخصیت کے مالک تھے۔ طبیعت میں بہت نفاست تھی۔ چھوٹی عمر سے لباس کی صفائی کا خیال رکھتے اور یہ وصف شہید کی والدہ محترمہ کو اپنے دوسرے بچوں کے مقابلے پہ نمایاں نظر آتا تھا۔ کبھی بھی والدین کی سرزنش پر شہید نے آگے سے جواب نہیں دیا۔ ان کے والد صاحب کی بیٹوں کو تاکید تھی کہ مغرب کی نماز حلقہ کی مسجد میں پڑھنی ہے۔ ایک مرتبہ شہید وقت پہ مسجد نہ پہنچے۔ گھر واپسی پر والد صاحب کے ناراض ہونے پر کچھ دیر تو خاموشی سے ڈانٹ سنی اور پھر بے ساختہ ان کے گلے لگ گئے اور کہا ’’ابی جان معاف کر دیں، آئندہ ایسا نہیں ہوگا‘‘۔ والد صاحب نے کہا ’’آپ کو پتہ ہے کہ میں ناراض ہو رہا ہوں‘‘۔ شہید گلے لگے رہے جب تک والد صاحب کی ناراضگی رفع نہیں ہو گئی اور انھوں نے شہید کو پیار سے گلے نہ لگا لیا۔ بچپن کی دلیری کا ایک واقعہ ان کی محترمہ والدہ صاحبہ بیان کرتی تھیں۔ جب بچے چھوٹے تھے توگرمی کے دنوں میں شہید کےمحترم والد صاحب ایک کھیل بچوں کے ساتھ کھیلتے تھے۔ پائپ سے بچوں پر پانی ڈالتے۔ سب بچے پانی سے بچنے کے لئے بھاگ جاتے سوائے انس احمد شہید کے۔ وہ دلیری سے آگے بڑھ کر والد صاحب سے پائپ چھین لینے کی کوشش کرتے رہتے حتی کہ پائپ ان کے ہاتھ میں آ جاتا۔ پانچویں، چھٹی جماعت سے ربوہ میں ہونے والی سالانہ فضل عمر تعلیم القران و تربیتی کلاس میں شامل ہو‏ئے۔ (اس کلاس میں عام طور پہ کالج و جامعہ ربوہ کے طلبا‏‏ء شریک ہوتے تھے۔) میٹرک کے امتحان کے بعد جب کلاس پر رسالہ الوصیت پڑھ کے آئے تومحترم والدین سے بات کی اور بصد اصرارفارم پر کر کے دفتر بھجوایا۔ اس وقت ان کی عمر ابھی اٹھارہ سال کی نہ ہوئی تھی۔ جب وصیت کی منظوری آئی تو خوشی سے پھولے نہیں سماتے تھے۔ شہید کے والد صاحب کوجماعت کے ایک بزرگ نے ان کی وصیت سے متعلق ایک ایمان افروز واقعہ بتایا بیان کیا کہ انھوں نے شہید سے ازراہ مذاق کہا ’’آپکے والدین موصی ہیں، اور اب بچے بھی وصیت کر رہے ہیں۔ پس آپکے والد صاحب کی یہ بڑی سی کوٹھی تو جماعت کی ہو گئی۔‘‘ شہید نے برجستہ جواب دیا، ’’انکل سودا برا نہیں، ایک کوٹھی کے بدلہ میں اللہ میاں کو اگلے جہاں میں آٹھ کوٹھیاں دینی پڑیں گی۔‘‘ (شہید کی تین بہنیں اوردو بھائي ہیں۔) اس وقت آپ کو دس روپیہ ماہانہ جیب خرچ ملتا تھا۔ اپنی قلیل جیب خرچ کی رقم سوچ سمجھ کر خرچ کرتے۔ مہینہ کے آخر پہ بھی کچھ رقم پاس ہوتی۔ ایک مرتبہ شہید کی والدہ مرحومہ نے ان کے چندے کی رسید دیکھی تو تحریک جدید کی مد میں ایک روپیہ کی ادایئگی درج تھی۔ استفسار پہ کہا ’’میں یکمشت توچندہ ادا نہیں کر سکتا اس لئے جیب خرچ سے قسط وارادائيگی کرتا ہوں اور سب چندے آرام سے ادا ہو جاتے ہیں۔‘‘ جب حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے صد سالہ جوبلی فنڈ کی تحریک فرمائی تو شہید نے ڈھائی ہزار روپیہ کا وعدہ لکھوایا۔ ہمشیرہ کے پوچھنے پہ کہ اتنی رقم کیسے ادا کریں گے، شہید نے جواب دیا ’’میں نے ساری عمرسٹوڈنٹ ہی تو نہیں رہنا‘‘۔ شہید کی وفات طالبعلمی کے زمانے میں ہی ہو گئی، البتہ ان کے والد صاحب مرحوم نے ان کی شہادت کے بعد وعدے کے مطابق ادایئگی کردی۔

انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں طالبعلمی کا زمانہ اور شہادت

1977 میں محترم انس احمد چوہدری شہید کو انجینئرنگ یونیورسٹی میں داخلہ ملا۔ اس سے قبل شہید کے بڑے بھائی محترم چوہدری انیس احمد صاحب اس یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے۔ 1974 کے فسادات کےدوران انیس احمد صاحب کو بھی شہید کرنے کی کوشش جمعیت طلباء کی تنظیم نےکی تھی۔ اللہ تعالی کے فضل سے بروقت اطلاع ملنے پرخیرخواہ دوستوں نے ہوسٹل کے کمرے سے خفیہ طور پہ اوپر کی منزل کے ساتھ لگی پائپ سے نیچے اتار دیا ۔ مخالفین جب پہنچے تو کمرہ خالی پا کر سامان کو آگ لگا دی۔ بعد میں موقعہ ملنے پر انتہائی ظالمانہ طور پہ انیس احمد صاحب کو مارا۔ اسی ماحول میں شہید انس احمد چوہدری نے یونیورسٹی میں تعلیم شرو‏ع کی۔ اپنی دلیری اور قابلیت کی بناء پر شہید مرحوم نے یونیورسٹی میں بہت جلد ایک نمایاں مقام بنا لیا۔ یونیورسٹی میں طلباء کی دو تنظیمیں تھیں: قائد اعظم سٹوڈنٹ فیڈریشن اور اسلامی جمیعت طلباء۔ انس احمد صاحب شہید قا‏ئداعظم فیڈریشن کے نمایاں عہدیدار تھے۔ بے خوف ہو کر علی الاعلان احمدی طلباء کی مدد کرتےاورانھیں جمیعت کی مخالفت سے بچاتے تھے۔ جمیعت کے لوگ شہید کے خون کے پیاسے تھے اوربرملا دھمکیاں دیتے تھے۔ ایک مرتبہ جمعیت طلباء کا جلوس قائد اعظم سٹوڈنٹ فیڈرشن کے طلباء پہ حملہ کرنے آیا۔ شہید مرحوم انتہائی دلیری سے اکیلے جلوس کے سامنے آگئےاور زمین پہ ایک لکیر کھینچ کر للکارا کہ اس سے آگے کوئی نہ آئے۔ اللہ تعالی کے فضل سے جلوس مرعوب ہوکر وہیں سے مڑ کے واپس چلا گیا۔

یونیورسٹی میں (فائنل ائیرکے) امتحان سے چند ماہ قبل شہید مرحوم خدام الاحمدیہ کےاجتماع پرربوہ گئے۔ اس وقت شہید کی والدہ محترمہ (صدر لجنہ ملتان) بھی لجنہ کے اجتماع پرشرکت کے لئے ربوہ گئیں۔ وہاں حضرت خلیفتہ المسیح الثالث ؒکی تقریر سن کے آئے تو محترمہ والدہ صاحبہ کوبتایا کہ حضورؒ نے فرمایا ہے کہ ’’اب ہمیں جان کی قربانی دینی ہو گی‘‘ اور ساتھ ہی کہا ’’پتہ نہیں کون خوش قسمت لوگ ہونگے جو یہ قربانی دیں گے۔‘‘ اجتما‏‏ع سے واپسی پریونیورسٹی گئے توچند ہفتہ بعد ہی 3دسمبر (1980) جمعیت کے ظالم طلباء نے بے دردی سے گردن پہ گولی مار کے شہید کر دیا۔ قاتل سپرنڈنٹ پولیس کا بیٹا تھا اور گولیاں پولیس کی موجودگی میں چلائی گئ تھیں۔ یوں محترم انس احمد چوہدری صاحب نے22 سال کی عمر میں جام شہادت نوش کرتے ہوئے جان جان آفرین کے سپرد کر دی۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ محترم انس احمد چوہدری شہید کا جنازہ پولیس کی حفاظت میں ربوہ لایا گیا۔ 100 سے زائد غیراحمدی طلباء بس اور گاڑیوں پرجنازہ کے ہمراہ ربوہ آئے۔ حضرت خلیفتہ المسیح الثالثؒ نے ان غیراحمدی طلباء کو شرف ملاقات بخشا۔ ملاقات کے وقت شہید کے والد محترم چوہدری محمد اکرام اللہ صاحب اوربرادران چوہدری انیس احمد صاحب اورمونس احمد چوہدری صاحب بھی موجود تھے۔ اس موقعہ پہ حضرت صاحبؒ نے فرمایا ’’یہ پندرھویں صدی کا پہلا شہید ہے، اس کے بعد اور شہادتیں ہوں گی۔‘‘

حضرت صاحبؒ نے ازراہ شفقت شہید کی فیملی (والدین، دونوں برادران اور اس وقت پاکستان میں موجود ہمشیرہ) کو شرف ملاقات بخشا اور تعزیت کرتے ہوئے انتہائی تاریخ ساز ارشادات فرمائے۔ حضور اقدسؒ نے شہید کے بھائی مونس احمد چوہدری صاحب (جو اس وقت اسی انجنیئرنگ یونیورسٹی کے پہلے سال میں زیر تعلیم تھے) سے حادثہ کے پس منظر کے بارے میں دریافت فرمایا۔ مونس صاحب نے عرض کی کہ فائرنگ جمیعت کے طلباء نے کی تھی۔ اس پر حضور انورؒ نے جلال سے فرمایا: ’’جمیعت یا حکومت؟ سٹوڈنٹ یونین تو دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں ہوتی ہیں، مگر خون کی ہولی ہمارے ملک میں ہی کھیلی جاتی ہے۔‘‘ بعد ازاں فرمایا ’’دو تہائی انسانیت کی وفات بستر پہ ہوتی ہے، لیکن انسان بستر پہ سونا نہیں چھوڑ دیتا۔‘‘ بعد نماز عصر حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ نے مسجد مبارک ربوہ میں نماز جنازہ پڑھائی۔ جنازہ میں شرکت کے لئے دارالضیافت بیرون ازربوہ احمدی وغیر احمدی احباب سے بھرا تھا۔ تدفین مقبرہ بہشتی میں ہوئی۔قبر تیار ہونے پہ مکرم ومحترم حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب (حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ) نے دعا کروائی۔شہید خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار تھے۔ شہادت کے بعد انکی والدہ مرحومہ کو تعزیت کرنے والوں سے پتہ لگا کہ صدقہ وخیرات بھی کرتے تھے، جس کاذکر گھر کبھی نہیں کیا تھا۔ ایک عزیزہ نے بتایا کہ جب شادی کے بعد وہ اپنے چھوٹے بچوں کے ہمراہ اپنے والدین (جو شہید کے گھر کے پاس رہتے تھے) کو ملنے ملتان آتیں تو مکرم انس احمد صاحب شہید مغرب کی نماز پر جاتے وقت ان کے گھر سے ہوتے جاتے تا ان کے بچوں کو اپنے ساتھ حلقہ کی مسجد میں نماز کےلئے لے جائیں۔ اسی طرح مسجد سے واپسی پر قریب کے ایک گھر رہنے والی احمدی خاتون کے گھر سے ہوکر آتے۔ ان خاتون کو کمر میں تکلیف تھی اس وجہ سے آپ (گرمی کے دنوں میں) ان کی چارپائی صحن میں نکال کر آتے تا انہیں تکلیف نہ اٹھانی پڑے۔ ایسے ہی لجنہ کی ایک ممبر نے بتایا کہ ان کے مشاہدہ میں یہ بات قابل ذکر تھی کہ شہید ہمیشہ نظریں نیچی رکھ کرگزرتے تھے۔

شہادت سے قبل شہید کے والد صاحب نے ایک خواب بہت تواتر سےدیکھا کہ گھرمیں پانچ چارپائیاں ہی کافی ہیں۔ انھوں نےشہید کی والدہ صاحبہ کو (خواب کا بتائے بغیر) اکثر کہا کہ ایک چارپائی گھرپہ کام کرنےوالی ملازمہ کو دیدیں جبکہ ان کی والدہ صاحبہ کی رائے تھی کہ گرمیوں میں باہر سونے کے وقت سہولت رہتی ہے، اس لئے رہنے دیا جائے۔شہیدکی وفات سے چند ہفتہ قبل جب ان کی والدہ صاحبہ اجتماع پر ربوہ گئيں، تو شہید کےوالد صاحب نے ایک چارپائی نکال دی ۔کچھ عرصہ بعد ہی مکرم انس احمد چوہدری صاحب کی شہادت ہوگئی اوریہ خواب من وعن پورا ہو گیا۔ (اوران کے والدین کےحیات بچوں کی تعد اد چھ سے پانچ ہو گئی۔)

محترم انس احمد چوہدری شہید کی وفات کے کچھ عرصے بعد ان کی ہمشیرہ محترمہ ڈاکٹر امتہ المجیب صاحبہ نے خواب میں دیکھا کہ شہید بھائی آئے ہیں۔ ان کے ہاتھ میں ایک سفید کاغذ ہے اور بہت خوشی سے بتاتے ہیں ’’آج میرا اللہ میاں کے سامنے مقدمہ تھا، میں بری ہو گیا ہوں۔‘‘ پھرکچھ دنوں کے بعد ہی ایک اورخواب دیکھا جس میں شہید کافی سارے بزرگ احباب کے ساتھ ہیں، جنھوں نے پگڑیاں پہنی ہیں۔ شہید کہتے ہیں ’’اب میں ان کے ساتھ ہوتا ہوں۔‘‘ ڈاکٹر صاحبہ ایک جاننے والے مرحوم شخص کا نام لے کر پوچھتی ہیں کیا وہ بھی ان کے ساتھ ہیں؟ تو شہید جواب دیتے ہیں ’’نہیں، وہ تو بہت نیچے ہیں۔‘‘ شہادت کے چند سال کے بعد محترم انس احمد چوہدری شہید کے ماموں زاد بھائی کا انتقال ہوا۔ شہید مرحوم کی ہمشیرہ محترمہ امتہ السبوح صاحبہ نے خواب میں ان ماموں زاد بھائی کو دیکھا اور (خواب میں ہی) ان سے پوچھتی ہیں کیا وہ انس شہید سے ملے ہیں؟ اس کے جواب میں وہ کہتے ہیں ’’نہيں، انس بھائی تو بہت اوپر ہوتے ہیں۔‘‘ شہید کا جنازہ جب ربوہ لایا گیا تو حساب میں چندہ اضافی نکلا۔ کم عمری سے ہی اپنے خدا سے معاملہ صاف رکھنے والے نوجوان تھے۔ اللہ تعالیٰ ہر آن ان کے درجات بلند فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور اپنی مغفرت وپیار کے سایہ میں رکھے۔ آمین اللّٰھم آمین۔

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَنۡ یُّقۡتَلُ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ اَمۡوَاتٌ ؕ بَلۡ اَحۡیَآءٌ وَّ لٰکِنۡ لَّا تَشۡعُرُوۡنَ

اور جو اللہ کی راہ میں قتل کئے جائیں ان کو تم مردے نہ کہو بلکہ (وہ تو) زندہ ہیں۔ لیکن تم شعور نہیں رکھتے۔ (البقرہ:155)

(مرسلہ: ڈاکٹر امتہ المجیب چوہدری)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 18 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2020