• 7 مارچ, 2021

بیعت کرنے سے مطلب بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ’’بیعت کرنے سے مطلب بیعت کی حقیقت سے آگاہ ہونا ہے۔ ایک شخص نے رُو برو ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کی۔ اصل غرض اور غایت کو نہ سمجھا یا پروا نہ کی تو اُس کی بیعت بے فائدہ ہے‘‘۔ ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت کر لی لیکن غرض نہیں سمجھی تو بے فائدہ بیعت ہے ’’اور اس کی اس بیعت کی خدا کے سامنے کچھ حقیقت نہیں ہے۔ مگر دوسرا شخص ہزار کوس سے بیٹھا بیٹھا صدقِ دل سے بیعت کی حقیقت اور غرض و غایت کو مان کر بیعت کرتا ہے‘‘۔ ایک دوسرا شخص ہے جس نے ہاتھ میں ہاتھ دے کر بیعت تو نہیں کی، ہزاروں میل دور بیٹھا ہوا ہے لیکن بیعت کی غرض و غایت کو سمجھا ہے، ’’اور پھر اس اقرار کے اوپر کاربند ہو کر اپنی عملی اصلاح کرتا ہے، وہ اُس رُوبرو بیعت کر کے بیعت کی حقیقت پر نہ چلنے والے سے ہزار درجہ بہتر ہے‘‘۔

(ملفوظات جلد پنجم صفحہ 457۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

پس یہ حقیقت ہے بیعت کی اور آپ کے آنے کے مقصد کو پورا کرنے کی، کہ بیعت کی حقیقت کو جاننے اور بیعت کو جاننے کی ضرورت ہے۔ اور جیسا کہ پہلے بیان ہوا ہے بیعت کی حقیقت اُس وقت معلوم ہو گی جب آپ کی بیان فرمودہ دس شرائطِ بیعت پر غور ہو گا اور اُن پر عمل ہو گا۔ مَیں نے ابھی ایک مثال دی کہ کس طرح افریقہ کے دور دراز علاقے میں بیٹھے ہوئے لوگ بیعت کر کے اپنے ماحول میں نمونہ بن رہے ہیں اور مخالفین بھی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ حقیقی مسلمان دیکھنا ہے تو ان احمدیوں میں دیکھو۔

پس یہ نمونے ہیں جو ہم نے قائم کرنے ہیں۔ نئے بیعت کرنے والوں کی بعض اَور مثالیں بھی میں دیتا ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی شرائطِ بیعت میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ آپ سے تعلق محبت اور اخوت تمام دنیوی تعلقوں سے بڑھ کر ہو گا۔ (ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ160 مطبوعہ ربوہ) جب موقع ملے تو آج بھی دور دراز بیٹھے ہوئے لوگ اس کا اظہار کرتے ہیں کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اُن کے دلوں کو ایمان سے بھرا ہوا ہے۔

(خطبہ جمعہ 11اکتوبر 2013ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جنوری 2021