• 8 مارچ, 2021

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے (قسط 19)

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
ذاتی تجربات کی روشنی میں
(قسط 19)

الانتشار العربی۔ اس اخبار کا خاکسار پہلے تعارف کراچکا ہے۔ اس نے اپنی اشاعت 15 ستمبر 2005ء میں صفحہ 27 پر ہمارا ایک پریس ریلیز شائع کیا ہے۔ اس میں جماعت احمدیہ امریکہ کے 57 ویں جلسہ سالانہ کی تفصیل ہے۔ اخبار نے دو فوٹوز بھی دی ہیں۔ ایک بڑی فوٹو میں، مکرم ڈاکٹر احسان اللہ ظفرصاحب جلسہ کی صدارت کر رہے ہیں۔ اور ان کے دائیں طرف استاذی المکرم سید میر محمود احمد صاحب ناصر تشریف فرما ہیں جبکہ دوسری طرف مکرم ملک ناصر محمود صاحب، دوسری تصویر میں جلسہ سالانہ کے سامعین نظر آرہے ہیں۔

اخبار لکھتا ہے کہ جماعت احمدیہ کا 57 واں جلسہ سالانہ ورجینیا کے ایکسپو سینٹر میں 2تا4 ستمبر منعقد ہوا۔ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نیشنل صدر امریکہ نے جلسہ کی صدارت کی۔لوائے احمدیت کے لہرانے کے بعد پہلے سیشن میں ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نے ایک خصوصی پیغام پڑھ کر سنایا جو کہ حضرت مرزا مسرور احمد عالمگیر جماعت احمدیہ کےر وحانی پیشوا نے اس موقعہ کے لئے ارسال کیا تھا۔

حضرت مرزا مسرور احمد نے اپنے پیغام میں کہا کہ ممبران جماعت احمدیہ کو تقویٰ اختیار کرنا چاہئے جس کے نتیجہ میں انہیں خداتعالیٰ کا قرب حاصل ہو گا۔ ممبران کو چاہئے کہ وہ اپنے اوقات کو خداتعالیٰ کی عبادت اور اطاعت کے لئے وقف کریں اور اپنی زندگیوں میں سے غیرشرعی اور غیراسلامی رسومات کو نکال باہر کریں۔ خصوصاً ایسی بدعات اور غیراسلامی باتیں جو شادی بیاہ کے موقعہ پر کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نے مہمانوں کے سیشن میں انہیں خوش آمدید کیا اور آنحضرت ﷺ کی حالات زندگی بیان کئے کہ باوجود سخت تکالیف کے آپ نے ہر قیمت پر امن کو قائم رکھنے کی کوشش کی۔

ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نے مہمانوں(غیر مسلموں) کے شکوک و شبہات کا بھی اپنی تقریر میں ازالہ کیا جو کہ وہ مذہب اسلام اور آنحضرت ﷺ کی ذات مقدسہ سے متعلق رکھتے ہیں۔

اس کے بعد ایک پینل نے مہمانوں کےسوالات کے جوابات بھی دیئے۔ پینل میں امام شمشاد ناصر آف بیت الحمید چینو، امام مبشر احمد آف شکاگو، امام انعام الحق کوثر صاحب آف نیویارک کے علاوہ ناصر محمود ملک نیشنل سیکرٹری تربیت امریکہ شریک تھے۔

مکرم منعم نعیم نے ہیومینیٹی فرسٹ کے بارے میں بتایا۔ ساؤتھ کیلیفورنیا سے بھی لوگ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئے تھے۔ ان میں سے امام شمشاد ناصر نے خلافت کی اطاعت پر تقریر کی اور بتایا کہ ہماری ساری ترقیات خلافت اور خلافت کی اطاعت سے وابستہ ہیں۔ سید وسیم نے نظام وصیت میں شامل ہونے کی برکات پر اور امجد محمود خان نے بتایا کہ یہ زمانہ قلم کے جہاد کا ہے نہ کہ طاقت کے زور سے منوانے کا۔ انہوں نے کہا کہ مسیح موعود بانی جماعت احمدیہ کے آنے کی غرض بھی یہی ہے کہ لوگوں کو پیار، محبت سے اسلام کی دعوت دی جائے۔ کسی کو طاقت کے زور سے نہیں منوانا چاہئے۔

خبر کے آخر میں جماعت احمدیہ کا تعارف بیان کیا گیا ہے اور جماعت کی ویب سائٹ کا ذکر ہے۔

چینو ویلی نیوز 17 ستمبر 2005ء صفحہ B-7 پر ’’لوکل لیڈر جلسہ میں شامل ہوئے ہیں‘‘ کے عنوان سے ہماری خبر شائع کرتا ہے۔

ہم نے توجلسہ سالانہ کی خبر دی تھی۔ تفصیل کے ساتھ۔ مگر اخبار نے صرف یہ خبر دی کہ مسجد بیت الحمید کے لوکل لیڈر امام شمشاد ناصر نے جماعت احمدیہ امریکہ کے 57 ویں جلسہ سالانہ میں شرکت کی اور تقریر کی۔ جلسہ میں 4 ہزار سے زائد لوگ شامل ہوئے شمشاد ناصر نے اس سے پہلے پاکستان، گھانا، سیرالیون میں بھی خدمت کی ہے۔

یوز ایشیا نے اپنی 21 ستمبر 2005ء کی اشاعت میں ہمارے 57 ویں جلسہ سالانہ کی خبر دی ہے۔ اس میں سامعین جلسہ کی ایک تصویر بھی ہے جس کے نیچے لکھا ہوا ہے کہ سامعین جلسہ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر کی تقریر سن رہے ہیں۔

جلسہ کی تفصیل قدرے وہی ہے جو اوپر بیان ہو چکی ہے۔ اخبار نے لکھا ہے کہ جلسہ کی حاضری 4 ہزار سے زائد تھی۔ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نے جلسہ کے دوران جماعت احمدیہ عالمگیر کے روحانی پیشوا مرزا مسرور احمد کا پیغام پڑھ کر سنایا جس میں تقویٰ اور عبادت الٰہی کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔

ڈاکٹر احسان اللہ ظفر نے آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے بارے میں تقریر کی اور غیرمسلموں کے شبہات کا ازالہ بھی کیا۔ اخبار نے لکھا کہ سب مہمانوں کے اعزاز میں کھانا بھی پیش کیا گیا۔

پاکستان ٹائمز نے 22 ستمبر 2005ء مذہبی سیکشن میں ایک بڑی تصویر کے ساتھ ہماری جماعت کی خبر شائع کی ہے۔ کہ ہزاروں احمدیوں نے ورجینیا میں جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ تصویر میں سامعین دکھائے گئے ہیں۔

اخبار نے لکھا کہ جماعت احمدیہ کا 57 واں جلسہ سالانہ ورجینیا کے ایکسپو سینٹر میں ہوا جس میں ہزاروں احمدی شریک ہوئے۔ ڈاکٹر احسان اللہ ظفر امیر جماعت امریکہ نے جلسہ کی صدارت کی اور آنحضرت ﷺ کی حیات طیبہ کے واقعات سنائے۔ اس موقعہ پر ایک پینل بھی تشکیل دیا گیا تھا جنہوں نے مہمانوں کے سوالوں کے جواب بھی دیئے۔ اس پینل میں امام شمشاد ناصر آف کیلیفورنیا ، امام مبشر آف شکاگو، امام انعام الحق کوثر آف نیویارک اور ناصر ملک تھے۔

امجد محمود نے تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت قلم کا جہاد ہے اور یہی مقصد بانی جماعت احمدیہ کے آنے کا ہے۔ منعم نعیم چیئرمین آف ہیومینیٹی فرسٹ نے بھی تقریر کی اور اس کے ذریعہ سے ہونے والی خدمات کا ذکر کیا۔

انڈیا ویسٹ۔ 23 ستمبر 2005ء کی اشاعت صفحہ 34C پر ہماری ایک خبر شائع کرتا ہے جس کا عنوان ہے۔ ’’طلباء اسلام سیکھنے کے لئے مسجد کا وزٹ کرتے ہیں۔‘‘

اخبار لکھتا ہے کہ مختلف سکولوں سے بہت سے طلباء نے جماعت احمدیہ کیلیفورنیا کی مسجد بیت الحمید چینو کا وزٹ کیا تا وہ اسلام کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کر سکیں۔ اور ان کے سکول میں جو سوشل سٹڈیزپڑھائی جاتی ہے اس کے امتحان میں وہ زائد نمبرز بھی حاصل کر سکیں۔

امام شمشاد ناصر جو یہاں پر جماعت احمدیہ کے آفس ہولڈر ہیں انہوں نےطلباء کو اسلامی تاریخ، عقائد اور مسلمان کس طرح اسلامی تعلیمات پر عقائد کے مطابق عمل کرتے ہیں، کے بارے میں بتایا۔

سوالوں کے جواب میں امام نے طلباء کے درج ذیل سوالوں کا جواب بھی دیا کہ مسلمان خواتین پردہ کیوں کرتی ہیں، سؤر کھانا کیوں حرام ہے، پانچ وقت کی نمازیں کیوں رکھی گئی ہیں۔

طلباء نے دہشت گردی کے بارے میں بھی سوالات کئے۔ فلسطین اور اسرائیل کے معاملہ کے بارہ میں۔ امام شمشاد نے بتایا کہ بعض اوقات سیاسی لوگ اپنے مقاصدکے حصو ل کے لئے مذہب کو استعمال کرتے ہیں۔ اس وزٹ میں طلباء کو مسجد بھی دکھائی گئی اور لٹریچر بھی دیا گیا۔

اس خبر کے ساتھ طلباء کی ایک تصویر بھی شائع ہوئی ہے جس میں طلباء کرسیوں پر بیٹھے اپنے والدین کے ساتھ اسلام کے بارے میں معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

چینو چیمپئن 24 ستمبر 2005ء پر ہماری رمضان المبارک کی مختصراً خبر شائع کرتا ہے کہ اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک روزہ رکھنا بھی ہے۔ رمضان المبارک سے متعلق اگر کوئی معلومات چاہتے ہیں تو امام شمشاد سے رابطہ کر سکتے ہیں۔ فون نمبر بھی درج ہے۔

بیروت ٹائمز نے 29 ستمبر 2005ء صفحہ 25 پر پورے صفحہ کا رمضان المبارک کے بارے میں خاکسار کی تصویر کے ساتھ مضمون شائع کیا ہے۔

یہ عیسائی اخبار ہے تاہم اس نے مضمون کا عنوان خود ہی قرآن کریم کی ایک آیت سے اخذ کیا ہے یعنی

وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ۔ شہر رمضان المبارک

مضمون میں خاکسار نے امریکہ میں رمضان کے بارہ میں لکھا کہ شروع ہو رہا ہے پھر آنحضرت ﷺ کی احادیث نبویہ سے ماہ رمضان کی عظمت اور برکات اور یہ کہ آنحضرت ﷺ کی سخاوت رمضان میں تیز آندھی سے بھی زیادہ ہوتی تھی اور ہمیں اس وقت سونامی سےجوافرادمتاثرہ ہوئے ہیں، ان کی دل کھول کر مدد کرنی چاہئے اور اس کے لئے ہیومینیٹی فرسٹ کی ویب سائٹ بھی دی گئی ہے۔

پھر روزہ کیا ہے؟ روزے کے مقاصد، روزہ کس پر فرض ہے، کن امور سے روزہ باطل ہو جاتا ہے، روزہ کھولنے کے اوقات، بغیر عذر کے روزہ نہ رکھنے والے نیز رمضان کا پیغام لکھا ہے۔ مضمون کے آخر میں خاکسار کا تعارف ہے۔

پاکستان ٹائمز نے اپنی اشاعت 29 ستمبر 2005ء پر خاکسار کا مضمون ’’رمضان کا بابرکت مہینہ‘‘ ازامام سید شمشاد احمد ناصر آف لاس اینجلس کےعنوان سےپورے صفحہ پر خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیاہے۔ اس مضمون میں خاکسار نے روزہ کی حکمت و فلسفہ، روزے کی حکمت اور غرض و غایت، رمضان اور روزہ کی برکات و فوائد، روزہ کس پر فرض ہے، رمضان کا اصل مقصد، روزہ رکھنے کا طریق و آداب، روزہ کی نیت، روزہ افطار کرنے کا وقت، وہ امور جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے، روزہ رکھنے کا ثواب وفضیلت، روزہ اور قبولیت دعا کے اوقات، وہ امور جن سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بلا عذر روزنہ نہ رکھنے والے اور رمضان کیا پیغام دینے آتا ہے، جیسے امور لکھے ہیں۔ مضمون کے آخر میں خاکسار کا نام اور مسجد بیت الحمید کا پتہ اورفون نمبرز درج ہیں۔

اردو لنک نے 30 ستمبر 2005ء کی اشاعت کےصفحہ 6 پر خاکسار کا ایک مضمون خاکسار کی تصویر اور مسجد نبوی میں روضۂ رسول کے گنبدہ کے ساتھ شائع کیا ہے۔ مضمون کا عنوان ہے ’’رمضان کا بابرکت مہینہ‘‘ خاکسار نے اس مضمون میں تفصیل کے ساتھ روزے کے مسائل، برکات اور فضائل بیان کئے ہیں۔ یہ پورے صفحہ پر محیط مضمون ہے۔ مضمون کے آخر میں خاکسار کا نام، مسجد کا ایڈریس اور فون نمبرز دیئے گئے ہیں۔

وائس آف اسلام کی اشاعت میں بھی خاکسار کارمضان کے حوالہ سے مضمون اردو سے انگریزی ترجمہ میں شائع ہوا۔ یہ وہی مضمون ہے جو پاکستان ٹائمز میں شائع ہوا تھا۔ یعنی ’’رمضان کا بابرکت مہینہ‘‘۔ ایڈیٹر نے مضمون کے ساتھ خاکسار کی تصویر بھی شائع کی ہے۔

الاخبار ستمبر 2005ء صفحہ 27پرجوعربی اخبارہےاس نے اپنے انگریزی کے سیکشن میں خاکسار کا مضمون انگریزی زبان میں ’’رمضان کی برکات‘‘ کے عنوان سے شائع کیا ہے۔ اس مضمون میں خاکسار نے رمضان کا مقصد، روزہ کیا ہےاور اس کے فوائد و برکات کے بارے میں تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔ اسی طرح یہ بھی لکھاہےکہ اس مبارک مہینہ میں خاص طور پر غرباء کا خیال رکھنے کی طرف مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے۔ مضمون کے آخر میں فون نمبر دیا گیا ہے تا جو لوگ مزید معلومات حاصل کرنا چاہیں، رابطہ کر لیں۔

اِن لینڈ ویلی ڈیلی بلٹن نے اپنے سٹاف رائٹر میسن سٹاک سٹل کے حوالہ سے مختصراً خبرامریکہ کے 57 ویں جلسہ سالانہ کی دی جس کا عنوان یہ ہے:
’’امام جلسہ سالانہ سے واپس آگیا ہے۔‘‘

خبر میں بتایا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ امریکہ کا سالانہ جلسہ ستمبر کے پہلے ہفتہ میں ورجینیا ہوا تھاجس میں 4 ہزار کے قریب مندوبین شامل ہوئے۔ جلسہ میں ہیومینیٹی فرسٹ کے کاموں کی تفصیل کے علاوہ ایک پینل نے سوالوں کے جواب دیئےجس میں امام شمشاد ناصر مسجد بیت الحمید چینو بھی شامل تھے۔

العرب اخبار نے اپنے عربی سیکشن 5 اکتوبر 2005ء کےصفحہ 14 پر خاکسار کا مضمون ’’رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ‘‘ کے عنوان سے شائع کیااورجس میں روزہ کی برکات، فضائل اورروزہ کے مسائل کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا تھا، شائع کیا۔

العرب اخبار نے عربی سیکشن میں خاکسار کے مضمون ’’رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ‘‘ کی دوسری قسط خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کی۔ اس حصہ ٔمضمون میں خاکسار نے جن امور کو بیان کیا وہ یہ ہیں:
روزہ رکھنے کی عمر، کن پر روزہ فرض ہے، روزہ رکھنے کے اوقات، وہ امور جن سے روزہ باطل ہو جاتا ہے اور وہ کون سے امور ہیں جن سے روزہ نہیں ٹوٹتانیزبغیر عذر کے روزہ چھوڑنا گناہ ہے اور رمضان کا کیا پیغام ہے۔

مضمون کے آخر میں جماعت احمدیہ کی ویب سائٹ الاسلام کا حوالہ اور فون نمبرز دیئے گئے ہیں تا لوگ مزید معلومات کے لئے رابطہ کر سکیں۔

الانتشار العربی نے اپنے 6 اکتوبر 2005ء کےشمارہ کےصفحہ 18 پر ¼ صفحہ کا ہماری مسجد کی طرف سے علاقہ کے تمام مسلمانوں کو رمضان المبارک کی مبارکباد، خیرسگالی اور نیک تمناؤں کاپرخلوص پیغام شائع کیا ہے۔ مسجد کا فون نمبر بھی ہے۔

الانتشار العربی۔ اس اخبار نے بھی اپنے عربی سیکشن میں خاکسار کا مندرجہ بالا رمضان المبارک کے بارے میں مضمون شائع کیا۔ 6 اکتوبر 2005ء کی اشاعت میںصفحہ 32 پر مضمون کے ساتھ انہوں نے خاکسار کی تصویر بھی شائع ہوئی۔

مسلم وائس کمیونٹی نیوز پیپر۔ یہ انگریزی کا اخبار مسلم کمیونٹی کی طرف سے ایروزونا سٹیٹ سے نکلتا ہے اور ایروزونا کے علاقہ کیلیفورنیا اور لاس ویگاس میں مسلمانوں کی کونٹی میں پڑھا جاتا ہے۔ مسلمانوں کی ترجمانی کا اخبار ہے۔ خاکسار نے ان کے ایڈیٹر سے رابطہ کیا اور تعارف کرایا۔ انہوں نے تعاون کا یقین دلایا۔ خاکسار نے ان کو اپنا ایک مضمون انگریزی میں بھجوایاجس کا عنوان تھا:
’’رمضان المبارک سے کس طرح فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔‘‘

اس مضمون میں خاکسار نے درج ذیل امور کی طرف توجہ دلائی ہے:
1۔ پنجوقتہ نمازباجماعت کا اہتمام۔
2۔ نماز تہجد میں باقاعدگی۔
3۔ رمضان میں روزانہ نماز تراویح کی ادائیگی۔
4۔ تلاوت قرآن کریم۔
5۔ زیادہ سے زیادہ دعائیں کرنے کی طرف توجہ۔
6۔ ذکرِ الٰہی کرنے کی تلقین ۔(اس ضمن میں خاکسار نے قرآن کریم کی چند دعائیں اور احادیث نبویہ کی بعض دعائیں بھی نقل کی ہیں۔)
7۔ کثرت کے ساتھ درود شریف پڑھنے کی ترغیب۔
8۔ استغفار اور توبہ کی طرف توجہ۔
9۔ رمضان المبارک میں کثرت سے صدقہ و خیرات کرنے کی تلقین۔
10۔ فطرانہ کی بروقت ادائیگی تا کہ بروقت مستحقین میں تقسم کیا جا سکے۔
11۔ رمضان المبارک میں مسنون اعتکاف اور اس کے مسائل۔
12۔ رمضان میں لیلۃ القدر کی تلاش اور اس کی راتوں میں عبادت اور تہجد کا قیام۔
13۔ عیدالفطر کیسے منائی جاتی ہے وغیرہ

اس مضمون میں قرآن و احادیث اور فقہی مسائل بیان کئے گئے ہیں۔

آخر میں اپنا نام، مسجد بیت الحمید کا فون نمبر اور 1-800 WHY ISLAM کا ٹول فری نمبر دیا گیا ہے۔

پاکستان ٹائمز نے اپنی اشاعت 6 اکتوبر 2005ء کےصفحہ 9 پر خاکسار کی تصویرکے ساتھ پورے صفحہ پر رمضان المبارک کے حوالہ سے مضمون شائع کیا گیاہےجس کا عنوان یہ ہے :

رمضان المبارک سے کس طرح فائدہ اٹھایا جائے؟

اس مضمون میں بھی مذکورہ بالاامورلکھے گئے ہیں۔

لاس اینجلس ٹائمز۔ یہ یہاں کا سب سے بڑا اخبار ہے۔ اس کی 8 اکتوبر 2005ء بروز ہفتہ کی اشاعت کےصفحہ A5 پر ہماری جماعت کی ایک خبر آئی ہے۔

پاکستان کے حوالہ سے خبر کا عنوان ہے کہ ’’اقلیتوں کی مسجد پر حملہ میں 8 ہلاک‘‘

اخبار لکھتا ہے کہ حملہ آور نے مسجد کے اندر گھس کر فائر کر دیا۔ یہ مسجد مسلمانوں کی ایک چھوٹی سی جماعت (یعنی جماعت احمدیہ) کی تھی۔ حملہ کرنے سے 8 آدمی موقعہ پر ہی مارے گئے اور 19 زخمی ہوئے۔ جماعت احمدیہ کی مسجد پر یہ حملہ ’’مونگ‘‘ جگہ پر ہوا جو کہ اسلام آباد سے 150 میل دور ہے۔ انتہا پسند مسلمان، احمدیوں کو مسلمان نہیں سمجھتے۔

اخبار نے لکھاکہ ممتاز علی خان جن کی عمر 55سال ہے، نے بتایا کہ میں نیچے گر گیاتھا۔ اس کے بعد جب مجھے ہوش آئی تو میں نے اپنے آپ کو ہسپتال میں پایا۔ وقار حیدر ضلع کے چیف پولیس نے کہا ہے کہ یہ بتانا مشکل ہے کہ اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے یا کون اس حملہ کا ذمہ دار ہے۔ (یہ مسجد جماعت احمدیہ کی تھی اوراحمدیوں کی مساجد پر اس طرح کے حملہ ہوتے رہتے ہیں۔)

ڈیلی بلٹن۔ یہ لاس اینجلس کا دوسرا بڑا اہم اخبار ہے۔ اس نے اپنی اشاعت 8 اکتوبر 2005ء کےصفحہ B3 پر قریباً نصف صفحہ کی خبر دی جس میں ایک تصویر بھی ہے۔ اس تصویرمیں خواتین روتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ اس تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ جمعہ کے دن خواتین سوگ مناتے ہوئے۔ مونگ رسول پاکستان میں قاتل نے ایک اقلیتی مسلمان فرقہ کی مسجد میں گھس کر نمازیوں پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہو گئے۔

خبر کا عنوان ہے:
پاکستان میں مسجدپر حملہ کر کے 8 اشخاص مار دیئے گئے۔

یہ خبر دلشاد خان نے لکھی ہے اور ایسوسی ایٹڈ پریس سے لی گئی ہے۔

اخبار لکھتا ہےکہ مونگ، پاکستان میںجمعہ کا دن تھاجب وہاں ایک اقلیتی فرقہ کی مسجد میں گھس کر حملہ آور نے فائرنگ کی۔ یہ فرقہ وہ ہے جسے پاکستان میں مسلمان کہلانے کی ممانعت ہے۔ پولیس اور ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق حملہ میں8 لوگوں کو قتل کر دیا گیا۔

یہ واقعہ مونگ میں پیش آیا جس کی آبادی 18،000 افراد پر مشتمل ہے اوریہ علاقہ اسلام آباد سے 150 میل دور واقع ہے۔

اس شہر میں احمدیہ فرقہ کے قریباً 150 لوگ رہتے ہیں۔ یہ بانی اسلام محمد ﷺ کے ختم نبوت کے بارہ میں دوسرے فرقوں سے مختلف عقیدہ رکھتے ہیں ۔

اخبار نے لکھاکہ پولیس آفیشل محمد عارف نے کہا کہ 3 آدمی موٹرسائیکلوں پر آئے جن میں سے دو نے جمعہ کے دن مسجد کے اندر جا کر فائرنگ شروع کر دی۔ ڈاکٹر ارشد نے بتایا کہ اس کے نتیجہ میں 8 آدمی قتل ہو گئے اور 19 زخمی ہوئے ہیں۔ ان میں سے بعض کی حالت تشویشناک ہے۔

مسعود احمد راجہ جو کہ ہارٹ سپیشلسٹ ہیں اور اسی اقلیتی فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، نے بتایا کہ انہوں نے 3 آدمیوں کو دیکھا جو چہرے پر ماسک چڑھائے ہوئے تھے اور وہ فرار ہو رہے تھے۔ مجھے ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کون تھے؟ جب میں مسجد پہنچا ہوں تو دیکھا کہ لوگ رو رہے ہیں اور ہر طرف خون ہی خون ہے۔ یہ تو مجھے پتہ نہیں کہ یہ حملہ کس نے کیا لیکن ایسالگتا ہے کہ مذہبی دہشت گردی کی گئی ہے۔

اخبار نے لکھا کہ احمدیہ فرقہ کا قیام 1889ء میں ہوا جس کے بانی حضرت مرزا غلام احمدعلیہ السلام تھے جنہوں نے 19 ویں صدی میں نبی ہونے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا دعویٰ کیا۔ اس احمدیہ فرقہ کو بہت سے ممالک میں ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جارہا ہے اور پاکستان میں 1970ء سے قانونی طور پر انہیں مسلمان کہلانے سے روکا گیا ہے۔

صادق احمد شیراز جو کہ نماز پڑھا رہے تھے، نے کہا ہے کہ گولی میرے سر سے گزر کر دیوار کو لگی۔ حملہ آوروں نے مسلسل 5 منٹ تک فائرنگ کی اور کوئی شخص بھی مسجد سے باہر نہیں جا سکتا تھا۔ بس اس کے بعد ہر طرف رونے کی آوازیں تھیں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر وقار حیدر نے کہا ہے کہ اس وقت پتہ نہیں لگ رہا کہ اس حملہ کے پیچھے کن تنظیموںکا ہاتھ ہے۔

تمام اقلیتی فرقوں نے اس حملہ کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت اقلیتوں کو تحفظ دینے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ شہباز بھٹی جوپاکستان میںاقلیتوں کے لیڈرہیں، نے کہا کہ یہ سفاکانہ حملہ ہے اوربربریت کی مثال ہے اوریہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ حکومت پاکستان اقلیتوں کے جان، مال اور عزت کے تحفظ میں بالکل ناکام ہو چکی ہے۔ شیخ رشید وزیر اطلاعات نے حملہ کی مذمت کی ۔

نیوز ایشیا 12 اکتوبر 2005ء کی اشاعت میں صفحہ 12-A پر یہ خبر شائع کرتا ہے:

8 احمدی حملہ میں قتل کردیئے گئے

منڈی بہاؤں الدین۔ اخبار لکھتا ہے کہ 8 آدمی مارے گئے اور 19 شدید زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں نے منڈی بہاؤ الدین میں ایک احمدیہ مسجد پر حملہ کیا۔ حملہ آور نے بیت الذکر میں فائرنگ کی جبکہ احمدی اپنی مسجد میں فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ یہ جگہ مونگ کہلاتی ہے۔ جو لوگ مارے گئے ہیںان میں محمد اسلم کولا، یاسر احمد کولا، راجہ محمد الطاف، عابد خان، راجہ محمد اشرف، نوید احمد، راجہ عبدالمجید اورراجہ محمد ایوب شامل ہیں۔

اخبار نے لکھاہے پولیس نے کہا ہے کہ یہ دہشت گردی ہے۔ فرقہ واریت کے ساتھ اس کا تعلق نہیں ہے۔ گورنمنٹ کے وزیر شیخ رشید اور دیگر لوگوں نے اس کی مذمت کی ہے۔

بیت الذکر کے امام الصلوٰۃنے کہا کہ وہ نماز پڑھا رہے تھے جب انہوں نے فائرنگ کی آوز سنی۔ انہوں نے فوراً اپنے آپ کو زمین پر لٹا دیا۔ حملہ آوروں نے سمجھا کہ میں مرگیا ہوں اس طرح میری جان بچی۔

لوگوں نے بتایا کہ وہاں پر ہر طرف خون ہی خون نظر آرہا تھا اور رونے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ہمسائے وہاں پہنچے اور انہوں نے زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی۔

پاکستان ٹائمز 13 اکتوبر 2005ء کےپہلے صفحہ پر خبر دی جس کا بقیہ حصہ صفحہ 37 پر ہے۔ خبر کامتن یہ ہے :
’’منڈی بہاؤ الدین میںقادیانی عبادت گاہ پر فائرنگ۔ 8افراد ہلاک‘‘

ملزمان نے اندر گھس کر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر فرار ہو گئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ منڈی بہاؤ الدین سے 10 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع موضع مونگ میں 4 نامعلوم ملزمان نے گزشتہ روز علی الصبح قادیانی عبادت گاہ میں داخل ہو کر اچانک کلاشنکوف سے فائرنگ کردی۔ اس افسوسناک واقعے میں 8 افراد ہلاک اور 14 زخمی ہو گئے۔ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر فراد ہو گئے۔ اخبار نے ناموں کی اور ان کی عمروں کی تفصیل بھی دی ہے جو اس موقعہ پر مارے گئے۔

اخبار مزید لکھا ہے کہ منڈی بہاؤ الدین میں ہلاک شدگان اور زخمیوں کے خاندانوں کی درجنوں خواتین صدمے کی وجہ سے بےہوش ہو گئیں۔

جماعت احمدیہ کے ضلعی امیر چوہدری محمود احمد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اس واقعہ کو کھلی دہشت گردی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت احمدیہ امن پسند اور محبِّ وطن جماعت ہے۔ ہمیں نہیں معلوم کہ پولیس اسے کیا رنگ دے گی؟


ہفت روزہ پاکستان پوسٹ نے اپنی اشاعت 13 اکتوبر 2005ءکے صفحہ 37 پر خاکسار کا ایک مضمون خاکسار کی تصویر کے ساتھ شائع کیا ہے۔

مضمون کا عنوان ہے:
’’رمضان کا بابرکت مہینہ‘‘

اس مضمون میں خاکسار نے روزہ کیا ہے، روزہ کے فقہی مسائل، روزہ رکھنے کے اوقات، روزہ کا مقصد، روزہ رکھنے کا ثواب،روزہ کی فضیلت اور اہمیت، روزہ رکھنے کی عمر اور دیگر مسائل بیان کئے ہیں۔ قرآنی آیات ، احادیث نبویہ بھی اس ضمن میں درج کی گئی ہیں۔

پاکستان ٹائمز نے 13 اکتوبر 2005ء کےصفحہ9کی اشاعت پر خاکسار کی تصویر کے ساتھ ایک اپیل شائع کی ہے جس عنوان ہے:
ہم وطنوں سے مخلصانہ، محبانہ اور دردمندانہ اپیل۔ از امام سید شمشاد احمد ناصر ۔ لاس اینجلس

خاکسار نے پاکستان میں زلزلہ سے متاثرہ افراد کے لئے، پاکستان اور امریکہ میں رہنے والے احباب کو دل کھول کر چندہ اور مالی معاونت کی اپیل کی ہے اور رمضان المبارک کے حوالہ سے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی سخاوت ان دنوں میں تیز آندھی سے بھی زیادہ ہو جاتی تھی اور آنحضرت ﷺ کی یہ حدیث بھی درج کی ہےکہ رحم کرنے والوں پر رحمان خدا بھی رحم کرے گا۔

خاکسار نے اپیل کی کہ سب کو متحد ہو کر اور اختلافات بھلا کر اس سانحہ کے وقت متاثرین کی مدد کرنی چاہئے۔ خاکسار نے آخر میں یہ بھی لکھا :
’’اسی طرح گزشتہ سال اور پیوستہ سالوں میں بھی رمضان المبارک کے مہینہ میں ہی سنی، شیعہ مساجد میں ایک دوسرے کا قتل عام ہوا۔ اس قبیح فعل سے اسلام کی کون سی خدمت ہوئی؟

مضمون کو خاکسار نے احادیث نبویہ ﷺ بیان کرنے کے بعد درود شریف اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّ عَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ وَّ بَارِکْ وَسَلِّمَ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مَجِیْدٌ پر ختم کیا ہے۔ اور نام کے ساتھ فون نمبر بھی درج کیا ہے۔

انڈیا ویسٹ 14 اکتوبر 2005ء کی اشاعت صفحہ B24 پر مذہب کے سیکشن میں جماعت احمدیہ کی خبر شائع کرتے ہوئے عنوان لکھتا ہے کہ
رمضان کے مہینہ میں زلزلہ سے متاثر لوگوں کی فوری مدد کی جائے
اخبار نے اپنے سٹاف رپورٹر کے حوالہ سے لکھا کہ مسلمانوں کو اس وقت خاص طور پر یہ بتایا جارہا ہے کہ وہ قطرینہ اور ریٹا کے آفت زدگان کے لئے دل کھول کر مدد کریں۔ ان خیالات کا اظہار جماعت احمدیہ مسجد بیت الحمید کے امام شمشاد ناصر نے کیا کہ اس وقت بہت ضروری ہے کہ مسلمان فراخدلانہ سخاوت کریں اور سیلاب زدگان اور طوفانوں سے تباہ شدگان اور متاثر لوگوں کی مدد کریں۔ اس سلسلہ میں اخبار نے ہیومینیٹی فرسٹ کا تعارف بھی دیا ہے۔

ہفت روزہ پاکستان پوسٹ نے 20 اکتوبر 2005ء کی اشاعت میں ’’اسلامی صفحہ‘‘ خاکسار کا ایک مضمون اردو میں شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ’’رمضان کا بابرکت مہینہ‘‘ یہ پورے صفحہ کا مضمون ہے جس میں روزہ کی تعریف، روزہ کب رکھا جاتا ہے، روزہ سے متعلق آنحضرت ﷺ کے ارشادات، مثلاً جو شخص جھوٹ بولنے اور جھوٹ پر عمل کرنےسے اجتناب نہیں کرتا اللہ تعالیٰ کو اس کے بھوکا پیاسارہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یعنی اس کا روزہ رکھنا بے کار ہے۔ پھر یہ بیان کیا گیا ہے کہ روزہ کا مقصد نفس کی اصلاح ہے۔ جس سے روحانی واخلاقی تبدیلی پیدا ہوتی ہے کیونکہ قرآن شریف میں ہے اَنْ تَصُوْمُوْا خَیْرٌ لَّکُمْ (2:185) اگر تم روزہ رکھا لیا کرو تو اس میں تمہارے لئے بڑی خیر ہے۔ اور فرمان نبوی ﷺ صُوْمُوْا تَصِحُّوْا۔ پھر روزہ رکھنے کی فضیلت، روزہ کے مسائل، سحری و افطاری کے اوقات اور آخر میں رمضان کا پیغام بیان کیا گیا ہے مضمون کے آخر میں مسجد بیت الحمید کا ایڈریس اور فون نمبر ہے تا جولوگ مزید معلومات حاصل کرنا چاہیں وہ کال کر سکیں۔

الانتشار العربی نے اپنی 20 اکتوبر 2005 صفحہ 30 کی اشاعت پر حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خطبہ جمعہ کا خلاصہ نصف صفحہ پر شائع کیا ہے۔

یہ خطبہ جمعہ رمضان المبارک کی برکات سے متعلق ہے۔ حضورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے سورۃ البقرہ کی آیت 184 کی تلاوت و ترجمہ کے بعد فرمایا کہ مومنوں پر اللہ تعالیٰ نے روزے اس لئے فرض کئے ہیں تا تم تقویٰ اختیار کرو اور پھر روحانی و اخلاقی کمزوریوں سے بھی بچو اور تا تمہارے اندر خدا کا خوف پیدا ہو۔ یہ حقوق اللہ ہیں جن کے حاصل کرنے کے لئے ہمیں رمضان کا انتظار کرنا چاہئے۔ تبھی ہم گزشتہ سال میں جو رمضان گزرا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، اس میں جو ہم نے نیکیاں کی تھیں جو تقویٰ اختیار کیا تھا جو منزلیں حاصل کی تھیں ان کا فیض پا سکتے ہیں۔

اس ضمن میں حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے آنحضرتﷺ کی بہت سی احادیث بھی بیان فرمائیں۔ جن میں رمضان کی برکات کا ذکر ہے۔ اخبار نے اس حدیث کا ذکر کیا ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا اگر لوگوں کو رمضان کی فضیلت کا علم ہوتا تو میری امت اس بات کی خواہش کرتی کہ سارا سال ہی رمضان ہو۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا جنت کو رمضان کے لئے سال کے آغاز سے آخر تک مزین کیا جاتا ہے پس جب رمضان کا پہلا دن ہوتا ہے تو عرشِ الٰہی کے نیچے ہوائیں چلتی ہیں۔ حضور انور کے خطبہ جمعہ میں سے اخبار نے یہ حدیث بھی لکھی کہ اے لوگو! تم پر ایک عظیم اور مبارک مہینہ سایہ فگن ہوا ہے، ایسا بابرکت مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی ہے جو ہزار مہینے سے بہتر ہے……

حضرت ابوہریرہ ؓ کی اس روایت کا ذکر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص نے رمضان کے روزے ایمان کی حالت میں اور اپنا محاسبہ نفس کرتے ہوئے رکھے اس کے گزشتہ گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں۔

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: اس بات کو اس حدیث میں کھول دیا کہ صرف روزے رکھنا کافی نہیں ہیں بلکہ روزے ان تمام لوازمات کےساتھ رکھنے ضروری ہیں جن کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ اپنے روزوں کے معیار کو دیکھنا اور تقویٰ کی طرف قدم بڑھنے کا تبھی پتہ چلے گا جب ہم اپنا محاسبہ کر رہے ہوں گے، دوسرے کا عیب تلاش نہں کر رہے ہوں گے بلکہ اپنے عیب اور کمزوریاں تلاش کر رہے ہوں گے، یہ دیکھ رہے ہوں گے کہ آج میں نے کتنی نیکیاں کی ہیں یا کرنے کی کوشش کی ہے اور کتنی برائیاں ترک کی ہیں۔

حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس رمضان میں حقیقی تزکیہ نفس عطا کرے اور ہماری روحانی حالت میں بہتری پیدا ہو اور ہمارا ہر فعل خدا کی رضا کے لئے ہو۔

اخبار نے خطبہ کے آخر میں لکھا کہ:
امام (حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) نے مزید بتایا کہ آج ایک افسوسناک خبر آئی ہے TV پر آپ نےسن لی ہو گی کہ منڈی بہاؤالدین کے نزدیک مونگ رسول ایک جگہ ہے کہ وہاں پر احمدی فجر کی نماز پڑھ رہے تھے۔ دو مخالفین احمدیت ہماری مسجد احمدیہ میں آئے اور نمازیوں پر فائرنگ شروع کر دی اور پھر فرار ہو گئے۔ جس سے 8 احمدی شہید ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ ان شہداء کو جنت الفردوس میں جگہ دے اور اللہ تعالیٰ ان مجرموں کو پکڑنے کا بھی خود سامان پیدا فرمائے۔ رمضان میں جہاں احمدی نیکیوں کے حصول اور خداتعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے یہ ملاؤں کے تربیت یافتہ نام نہاد مسلمان ٹولہ، سارے مسلمان تو ایسے نہیں ہیں ان میں سے ایک مخصوص ٹولہ ہے، یہ لوگ اپنی طرف سے یہ کوشش کر رہے ہوتے ہیں کہ احمدیوں کو قتل کر کے شاید ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنےو الے بن رہے ہیں۔ حالانکہ ان حرکات سے وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو آواز دے رہے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں۔ امام مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دعا کی اللہ تعالیٰ ہر جگہ ہر احمدی کو ہر قسم کے شر سے محفوظ رکھے اور دشمنوں کو کیفرِ کردار تک پہنچائے۔

الانتشار العربی نے اپنی اشاعت 20 اکتوبر 2005ء میں صفحہ 28 پر خاکسار کا ایک مضمون عربی زبان میں شائع کیا۔ عنوان تھا ’’کیف یمکن ان نستفید من شہر رمضان المبارک‘‘ کہ ہم رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ سے کس طرح فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس میں خاکسار نے درج ذیل باتیں بیان کیں۔ پانچ نمازوں کے باجماعت قیام سے، نماز تہجد سے، نماز تراویح پڑھ کر، روزانہ تلاوت قرآن کریم سے، بہت دعا کریں یعنی بہت زیادہ دعاؤں کے ذریعہ سے، ذکر الٰہی، استغفار اور درود شریف کے ذریعہ سے۔ اخبار نے خاکسار کی تصویر بھی مضمون کےساتھ شائع کی۔

اردو لنک 20 اکتوبر 2005ء صفحہ6 پر خاکسار کا ایک مضمون تصویر کے ساتھ شائع کرتا ہے جس کا عنوان ہے

رمضان المبارک سے کس طرح فائدہ اٹھایا جائے۔

یہ پورے صفحہ کا مضمون ہے جس میں خاکسار نے نماز باجماعت، قیام اللیل (تہجد و تراویح)، تلاوت قران کریم، دعائیں کریں دعائیں کریں دعائیں کریں، ذکر الٰہی، توبہ استغفار، درود شریف کا ورد، صدقہ و خیرات، فطرانہ کی بروقت ادائیگی اور اہمیت، رمضان کا آخری عشرہ، لیلۃ القدر ، اعتکاف اور عیدالفطر، امور کی قرآن اور حدیث سے اہمیت و برکات اور فضائل بیان کئے ہیں۔ آخر میں مسجد بیت الحمید کا فون اور ایڈریس بھی ہے۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مرسلہ: (مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جنوری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جنوری 2021