• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے ارشادات کی روشنی میں نظام شوریٰ اور ڈیموکریسی میں فرق

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے:

وَ الَّذِیۡنَ اسۡتَجَابُوۡا لِرَبِّہِمۡ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوۃَ وَ اَمۡرُہُمۡ شُوۡرٰی بَیۡنَہُمۡ وَ مِمَّا رَزَقۡنٰہُمۡ یُنۡفِقُوۡنَ

ترجمہ: اور جو اپنے رب کی آواز پر لبیک کہتے ہیں نماز قائم کرتے ہیں اور ان کا امر باہمی مشورہ سے طے ہوتا ہے اور اس میں سے جو ہم نے انہیں عطا کیا خرچ کرتے ہیں۔

(الشوریٰ :39)

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ جب شَاوِرۡھُمۡ فِی الۡاَمۡرِ کی آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگرچہ اللہ اور اس کا رسول اس سے مستغنی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے میری امت کے لئے رحمت کا باعث بنایا ہے پس ان میں سے جو مشورہ کرے گا وہ رشدو ہدایت سے محروم نہیں رہے گا۔ اور جو مشورہ ترک کرے گا وہ ذلت سے نہ بچ سکے گا۔

(شعب الایمان۔لام ابی بکر احمد بن الحسین البیہقی۔ ص77-76روایت نمبر7542)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ سے زیادہ اپنے اصحاب سے کسی کو مشورہ کرنے والا نہیں پایا۔

(سنن الترمذی ابواب فضائل الجہاد۔باب ماجاء فی المشورۃ)

حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ لَاخِلَافَۃَ اِلَّاعَنۡ مَشۡوَرَۃٍ خلافت کا انعقاد مشورہ اور رائے لینے کے بغیر درست نہیں نیز خلافت کے نظام کا ایک اہم ستون مشاورت ہے۔

(کنزالعمال کتاب الخلافۃ مع الامارۃ صفحہ139/3)

سمجھدار اور عبادت گزار لوگوں سے مشورہ کرواور مخصوص افراد کی رائے پر نہ چلو۔

(کنزالعمال جلد3 حدیث نمبر7191)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع فرماتے ہیں:۔

شوریٰ کا نظام، نظام خلافت کے بعد سب سے زیادہ اہم نظام ہے یہ وہ نظام ہے جس کا نبوت سے بھی تعلق ہے اور نبوت کے بعد خلافت سے بھی تعلق ہے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ12نومبر1993ء)

’’نظام شوریٰ جو اہمیت رکھتا ہے یاد رکھیں یہ نظام خلافت کے ساتھ وابستہ رہ کر اہمیت رکھتا ہے اگر اس نظام کو آپ نے خلافت کے نظام سے الگ کر دیا اور بے تعلق کر کے اس سے استفادے کی کوشش کی تو یہ فائدے کی بجائے آپ کی ہلاکت کا موجب بھی بن سکتا ہے۔ یہ شوریٰ پھر جماعت میں انتشار پیدا کر دے گی اور طرح طرح کے وساوس جماعت کے نظام میں داخل ہونا شروع ہو جائیں گے۔پس خدام الاحمدیہ پاکستان کی شوریٰ ہو یا دنیا میں کہیں اور شوریٰ منعقد ہو رہی ہو یا آئندہ ہو ان سب کو میری ایک ہی نصیحت ہے کہ شوریٰ کی روح کو سمجھیں اور یاد رکھیں کہ اگر آپ مجالس شوریٰ کو نظام خلافت سے وابستہ رکھیں گے اور ایک ہی وجود کے دو اجزاء کے طور پر ان سے استفادہ کریں گے تو اس آیت کریمہ کی برکت ابد تک آپ کے ساتھ رہے گی اور آپ کی حفاظت کرے گی۔اور فیصلہ کرنے والے کا توکل ساری جماعت کا توکل بن جائے گا اور اللہ تعالیٰ ساری جماعت کو اس توکل کی جزاء دے گا اور غلطیوں سے ان کو محفوظ فرمائے گا۔اور تمام فیصلوں میں برکت رکھے گا اور ان پر صحیح معنوں میں عمل در آمد کی توفیق بخشے کا۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ12نومبر1993ء)

’’شوریٰ کوئی ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوشن نہیں ہے بلکہ آسمان سے اترنے والا ایک نظام ہے شوریٰ کو ابتداء میں جب مغرب میں رائج کیا گیا تو بہت سے مسائل سامنے آئے۔

اول۔ناواقفیت کے مسائل :بہت سے اہل مغرب اور اسی طرح افریقہ کے باشندے شوریٰ کو مغربی طرز کی جمہوریت سمجھتے تھے۔ حالانکہ مغربی طرز جمہوریت شوریٰ کے پاسنگ کو بھی نہیں پہنچتی۔ ان کے مقاصد اوران کے طریق کار اور، ان کے انداز گفتگو اور خا لصۃً اللہ کو مد نظر رکھتے ہوئے تقویٰ کے ساتھ مشورہ دینے کا کوئی تصور بھی وہاں موجود نہیں۔تو شوریٰ ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوشن نہیں ہے۔ بلکہ آسمان سے اترنے والا ایک نظام ہے جو اوپر سے نیچے اترتا ہے۔ نیچے سے اوپر نہیں چلتا۔

ڈیموکریٹک نیچے سے Roots سے اٹھتے ہیں اور پھر Roots سے اپنا تعلق توڑ لیتی ہے یعنی جن عوام کے نام پر حکومتیں آتی ہیں۔ حکومت میں آنے کے بعد پھر عوام سے کوئی رابطے نہیں رہتے۔نہ ان کی حس رہتی ہے بلکہ جب تک فساد اور شور شر کے ذریعہ عوام اپنے حقوق نہ مانگیں اس وقت تک حکومتوں سے جہاں تک ممکن ہو،مختلف دھوکوں سے عوام کو لوٹتی چلی جاتی ہیں۔

مغربی ڈیموکریسی میں جب ووٹ دیا جاتا ہے تقویٰ پر ووٹ نہیں ہے ووٹ طاقت اور پارٹی پر دیا جاتا ہے۔ اور اکثر ووٹ دینے والوں کو پتہ ہی نہیں کہ جس کو ہم منتخب کر رہے ہیں اس کی ذاتی دیانت کی حالت کیا ہے۔ کس قسم کا وہ شخص ہو۔اگر وہ پارٹی کا نمائندہ ہے تو پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں اس لئےاسلام میں پارٹی کا کوئی تصور ہی نہیں ہے۔‘‘

(مجلس شوریٰ بیلجئیم 3ستمبر 1992ء)

’’…ہر ملک میں ہر سال شوریٰ ہو اور ساری جماعت کو شرکت کا احساس دلایا جائے۔حقوق اور ذمہ داریوں کے بارہ میں تربیت کی جائے۔ کارروائی خلیفۃ المسیح کو منظوری کیلئے بھیجی جائے۔ ہماری شوریٰ جمہوری اداروں سے مختلف ہے۔ جمہوریت میں اختیار عوام کے ہاتھ میں ہے۔ مگر اسلام میں خدا کے ہاتھ میں ہے۔شوریٰ دنیوی اداروں سے ہر لحاظ سے بہتر اور نمایاں ہے۔ تقویٰ اس کی نمایاں خصوصیت ہے۔خلیفۃ المسیح کا ویٹو بابرکت ہے۔جماعت کی بلوغت کے لئے شوریٰ ضروری ہے۔‘‘

(مجلس شوریٰ سپین 11ستمبر 1982ء)

’’ایک اس نظام کی خاصیت یہ ہے کہ اس میں پارٹی بازی نہیں ہوتی۔جماعت میں جتنے بھی سوچنے والے فکر والے لوگ ہیں،ان کو وقتاً فوقتاً نمائندگی کا موقع ملتا رہتاہے۔اور صرف اس خیال سے چنے جاتے ہیں کہ ان کی سوچ اچھی ہے ان کی فکر اچھی ہے ان کا دل نیک ہے اور اللہ کے خوف اور تقویٰ کے ذریعہ بات پوچھیں گے اور غور کریں گے۔تو تقویٰ تو کوئی پارٹی پیدا کر ہی نہیں سکتی۔ایک ہی پارٹی بنتی ہے اللہ والوں کی پارٹی۔تو جب ایک ہی پارٹی بن کر پہنچتی ہے تو ان میں کسی جھگڑے کا کسی جانب داری کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ ہم نے دیکھا ہے بار ہا کہ بعض لوگ بڑے جوش کے ساتھ ایک خیال لے کر آتے ہیں اور جماعت ان کی وہی رائے رکھتی ہے اور انہوں نے ان کو خوب سمجھایا ہوا ہوتا ہے کہ تم نے یہی رائے جا کر دینی ہے۔ مجلس شوریٰ میں آنے کے بعد جب لوگوں کی رائے سنتے ہیں تو بالکل اپنی رائے بدل لیتے ہیں اس میں کوئی شرم محسوس نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے تو حق کی بات کرنی ہے اور حق کی بات قبول کرنی ہے۔ تو بہت پیارا یکجہتی کا ماحول ہے اور توحید کا ماحول ہے یہاں۔ جیسی وحدت خدا کی آسمان پر ہے ویسی زمین پر بھی قائم ہوتی ہے اور ایک جماعت وجود بن کر بیٹھتی ہے۔ جس طرح گھر والے بیٹھ کر مشورہ کر رہے ہوتے ہیں۔ اس پہلو کو بھی آپ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے۔اور اس کی حفاظت کرنی چاہئے۔پارٹی بازی اسلام میں نہیں چل سکتی۔جہاں داخل ہوگی وہاں تباہ ہو جائے گا سب کچھ۔

پارٹی بازی کے اور بھی بہت سے نقصانات ہیں جن سے مجلس شوریٰ بچی ہوئی ہے مثلاً ایک پارٹی ہے حکومت میں ایک باہر ہے۔باہر والی پارٹی کے جو اچھے خیالات ہیں اچھی ترکیبیں ہیں وہ اپنے پاس چھپا کر رکھے گی اور حکومت کو Criticise کرے گی۔ بغیر وجہ کے ان کی اچھی باتوں کو برا کہے گی ……ان کی اچھی باتیں حکومت کے علم میں آجائیں اور وہ ساری قبول کر لے اور اگر وہ پیش بھی کریں تو حکومت اس لئے قبول نہیں کرے گی کہ دشمن کی کہی ہوئی بات ہے۔ وہاں یہ چلتا ہے نظام۔پارٹی بازی میں کہ اچھی بات خواہ دشمن کی طرف سے آئے اسے قبول نہ کیا جائے اور دشمن میں اچھی بات بھی ہو تو اسے رد کیا جائے اور اس کے خلاف باتیں کی جائیں۔یہ پارٹی بازی کا خلاصہ ہے دنیا کی۔تو مجلس شوریٰ اس نظام سے بالکل بچی ہوئی ہے تو ہمارے لئے محمد رسول اللہ ﷺ کے اصول ہی راہنمائی کرتے ہیں۔اور آپ نے ہمیں یہ بتایا کہ اَلۡحِکۡمَۃُ ضَآلَّۃُ الۡمُؤۡمِنِ۔

اچھی بات مومن کی ملکیت ہے اور اس کی ایسی ہی مثال ہے جیسے کہ کسی کی اونٹنی گم ہوگئی ہو جنگل میں۔ضالۃ کہتے ہیں گم ہوئی اونٹنی ہو۔اونٹنی گم ہوگئی ہو وہ اگر کہیں سے اسے مل جائے خواہ کسی اور نے ہی پکڑی ہو تو وہ لیتے ہوئے شرم تو محسوس نہیں کرے گاکہ میں کس سے لے رہا ہوں۔کسی چوڑے چمار نے پکڑی ہو۔ کسی جنگلی نے پکڑی ہو۔کسی شخص کے ہاتھ میں اونٹنی ہو جو اس کی ہے وہ اس کی ہے۔وہ اس طرح قبول کرتا ہے کہ الحمدللہ مجھے میری چیز واپس مل گئی۔ تو محمدرسول اللہ ﷺ نے کیسا حکمت کا راز بتایا ہمیشہ کے لئے کہ جب تم غور کیا کرو یا حکمت کی باتیں تلاش کیا کرو تو یوں سمجھا کرو کہ تمہاری اپنی چیز تھی خواہ دشمن سے ملے اسے قبول کرو۔ تو جب یہ روح ہو تو پارٹی بازی کا سوال ہی باقی نہیں رہتا۔ اس طرح مجلس شوریٰ کو ایک اور فوقیت حاصل ہوجاتی ہے دوسری دنیا کی مجالس پر۔

تیسرے مجلس شوریٰ کی ایک یہ خاص اہمیت ہے کہ اس کا نام نہ پارلیمنٹ ہے نہ اکثریت کے یہاں کوئی حصے ہیں کہ لازماً اکثریت کی بات مانی جائے گی بسا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ اکثریت کی بات اچھی ہوتی ہے، قابل قبول ہوتی ہے۔بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ قابل قبول نہیں ہوتی۔ تو مرکزیت دے دی اللہ تعالیٰ نے مجلس شوریٰ کو۔ اس کا نام ہے مشاورت یا شوریٰ۔ یعنی غور کرو اور مشورہ دو۔ فیصلے کا لفظ کہیں قرآن کریم میں نہیں آیا۔ ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے مشورے دینے ہیں۔ سارے قرآن کریم میں فیصلے کا نہیں آیا۔ فیصلے کا لفظ صرف آنحضرت ﷺ یا آپ کے نمائندوں کے متعلق آتا ہے۔ بعض اوقات ہم نے ایسے دیکھا ہے کہ قادیان کے زمانہ میں بچپن کے واقعات مجھے یاد ہیں کہ مجلس شوریٰ کا مشورہ اور تھا بالکل اکثریت کا مشورہ تھا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے اکثریت کے مشورہ کو قبول نہیں کیا اور اپنا فیصلہ اور لکھوادیا۔‘‘

(مجلس شوریٰ فجی20ستمبر1983ء)

’’…اس کا نام پارلیمنٹ نہیں ہے مجلس شوریٰ ہے۔مشورہ دینا ہے اور ضروری نہیں کہ اکثریت کی بات لازماً مانی جائے۔بعض دفعہ اکثریت ایک بات پر غلط فیصلہ کر لیتی ہے عوام الناس کو حالات کا پورا علم نہیں ہوتا اور بعض موقعوں پر ایسا کرنا پڑتا ہے کہ وہاں ان کی اکثریت کی رائے کو بھی رد کیا جائے۔ اگر پارلیمنٹ ہو تو یہ نہیں ہو سکتا۔ ڈیمو کریسی میں یہ ناممکن ہے لیکن اسلامی نظام میں نبوت اور خلافت کے نظام میں خدا تعالیٰ نے یہ گنجائش رکھی ہوئی ہے اس لئے اس کا نام مجلس شوریٰ ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا ’’شاورھم فی الامر‘‘ تو ان سے مشورہ مانگ کر مشورہ لینا ضروری ہے لیکن فیصلہ تیرا ہوگا۔ ’’فَاِذَا عَزَمۡتَ فَتَوَکَّلۡ عَلَی اللّٰہِ‘‘ تیرا عوام پر توکل نہیں۔تیرا خدا پر توکل ہے تو نے آخری فیصلہ خدا کو پیش نظر رکھ کر کرنا ہے اس لئے مشورہ لے۔لیکن اگر مشورہ تو ردکر دیتا ہے اور تو خود فیصلہ کرتا ہے پھر اللہ پر توکل رکھ جس کی خاطر فیصلہ کیا وہ تجھے مدد دے گا۔‘‘

اب اس نظام کی کوئی مثال غیر مذہبی نظام میں کہیں دور سے بھی دکھائی نہیں دے سکتی اس کاشائبہ تک کہیں دکھائی نہیں دے گا۔یہ وہ نظام ہے جو پختہ ہے جو خدا سے تعلق رکھتا ہے جو تقویٰ رکھتا ہے جو تقویٰ پر مبنی ہے اس لئے مشورہ دینے والا اس بات پر بھی زور نہیں دیتا کہ میری بات ضرور قبول کی جائے۔وہ سمجھتا ہے کہ میں نے حق ادا کر دیا ہے۔ جس چیز کو میں دیانتداری سے اچھا سمجھتا تھا میں نے پیش کردی جس نے مشورہ سنا وہ بھی دیانتداری سے اللہ کے حضور حاضر ناظر سمجھتے ہوئے جو فیصلہ کرتا ہے اس میں برکت ہوگی۔

پس جماعت احمدیہ کی مجلس شوریٰ کی تاریخ میں ہزاروں فیصلے ہوئے ہیں لیکن چند گنتی کے ایسے فیصلے ہیں جن کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے رد کر دیا اور شاید ایک آدھ میں نے بھی کیا ہو مجھے آج تک یاد نہیں مگر ایک آدھ کیا ہوگا۔میں یہ بات آپ کوسمجھاتا ہوں کہ جن کو رد کیا گیا ساری جماعت نے ایک ذرہ سا بھی دل میں تنگی محسوس کئے بغیر بڑی بشاشت سے ان سارے فیصلوں کو اپنایا کہ یہ فیصلے درست ہیں۔تو بڑا محفوظ نظام ہے۔یہ مشورے کا نظام ہے۔ یہ کوئی ڈیموکریسی نہیں ہے۔اس لئے جماعت احمدیہ کی تربیت کے لئے مجلس شوریٰ بہت ہی اہم کردار ادا کرتی ہے۔‘‘

(مجلس شوریٰ بیلجئم 9ستمبر1992ء)

مجلس شوریٰ ہالینڈ میں فرمایا:
’’آپ جانتے ہیں کہ جماعت احمدیہ کی مجلس شوریٰ مشورہ کے لحاظ سے دنیا کی بہترین مجلس ہے کیونکہ یہاں حاضرین کی رائے ذاتی منفعت، نقصان یا پارٹی بازی یا کسی مخصوص لابی کے مفاد کا لحاظ بالکل نہیں ہوتا بلکہ نہایت اعلیٰ پائے کی رائے دیانتداری سے پیش کی جاتی ہے۔ تمام دنیا میں اس کے مقابلہ کی کوئی بھی مجلس نہیں۔ یہاں کوئی لابنگ نہیں ہوتی اور صرف وہ لوگ اس کے ممبر ہوتے ہیں جو قربانی کے میدان میں صف اول میں ہوتے ہیں۔‘‘

(مجلس شوریٰ ہالینڈ 1982ء)

’’یہ غلط فہمی ہو سکتی ہے کہ شوریٰ بھی سنگل پارٹی نظام ہے۔ یہ درست نہیں۔سنگل پارٹی اسمبلیاں کئی کیمونسٹ ممالک میں نیز افریقی ملکوں میں قائم ہیں۔لیکن شوریٰ کا نظام (No party) نظام ہے۔ سو یہ امتیاز ہے جو پیش نظر رہنا چاہئے۔ اگر یہ پارٹی ہے تو ہر کوئی پارٹی ممبر ہے۔چنانچہ یہNo party ہاؤس ہے سب کے حقوق برابر ہیں اسی طرح سے سب کی ذمہ داری بھی۔ اس نظام کے حسن کا اظہار اس کی چوٹی پر ہوتا ہے جب مجلس شوریٰ میں خلیفہ وقت خود موجود ہوتا ہے۔نظم و ضبط عمدہ ہوتا ہے ہر کوئی احتیاط برتتا ہے کہ اس کی بات سے کسی دوسرے کا دل نہ دکھے۔اپنے الفاظ کے انتخاب میں محتاط ہوتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔‘‘

(ترجمہ:مجلس شوریٰ لنڈن1989ء)

حضرت خلیفۃ الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتےہیں:
’’جماعت میں مجلس شوریٰ کا ادارہ نظام جماعت اور نظام خلافت کے کاموں کی مدد کے لئے انتہائی اہم ادارہ ہے۔اور حضرت عمرؓ کا یہ قول اس سلسلہ میں بڑا اہم ہے کہ لَاخِلَافَۃَ اِلَّا بِالۡمَشۡوَرَۃِ بغیر مشورے کے خلافت نہیں۔ اور یہ قول قرآن کریم کی ہدایت اور آنحضرت ﷺ کے اسوہ کے عین مطابق ہے۔ آپ ﷺ صحابہ سے ہر اہم کام میں مشورہ لیا کرتے تھے۔ لیکن جیسا کہ آیت سے واضح ہے مشورہ لینے کا حکم تو ہے لیکن یہ حکم نہیں کہ جو اکثریت رائے کا مشورہ ہو اسے قبول بھی کرنا ہے۔ اس لئے وضاحت فرمادی کہ مشورہ کے مطابق یا اسے رد کرتے ہوئے، اقلیت کا فیصلہ مانتے ہوئے یا اکثریت کا فیصلہ مانتے ہوئے جب ایک فیصلہ کر لو،کیونکہ بعض دفعہ حالات کا ہر ایک کو پتہ نہیں ہوتا اس لئے مشورہ ردّ بھی کرنا پڑتا ہے تو پھریہ ڈرنے یا سوچنے کی ضرورت نہیں کہ ایسا نہ ہو جائے،ویسا نہ ہوجائے۔پھر اللہ پر توکل کرو اور جس بات کا فیصلہ کر لیا،اس پر عمل کرو۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 24مارچ 2006ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 مارچ 2020

مقبول ترین