• 20 جون, 2021

چہرے کے کیل، مہاسے اور چھائیاں

س: کیل مہاسے کیا ہیں؟

ج:کیل مہاسے نوجوان نسل کے چہرے، گردن، کندھوں، اور چھاتی پر پائے جانے والے چھوٹے چھوٹے پھنسی پھوڑے ہیں جو جلد پر بے حد بد نما داغ چھوڑ جا تے ہیں اور اچھی بھلی خوبصورت شکلوں کو بگاڑ کر رکھ دیتے ہیں۔عموماًیہ بارہ سال سے چوبیس سال تک کی عمر کے لڑکے لڑکیوں کی جلد پر ہوتے ہیں اور ختم ہو جانے کے بعد بھی انکے اثرات پیچھا نہیں چھوڑتے۔ اس کے بیشتر مریض عموماً 20 اور 30سال کی درمیانی عمر میں صحت یاب ہو جاتے ہیں لیکن بعض افراد 30سال سے زائد عمر میں بھی اس کا شکار رہتے ہیں۔ خواتین کو جس زمانے میں کیل مہاسے ہوتے ہیں اس عرصہ میں ایام ماہواری کے ابتدائی دنوں میں یہ زیادہ شدت سے ہوتے ہیں۔ یہ عمر کے اُس حصے میں باعث پریشانی ہوتے ہیں جب نوجوان اپنی شخصیت کو زیادہ سے زیادہ دیدہ زیب بنانے کے لیے کوشاں رہتے ہیں کیونکہ عمر کے اسی حصہ میں نوجوان لڑکے لڑکیاں رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوتے ہیں۔

س: کیا چہرہ پر نمودار ہونے والی چھوٹے یا بڑے امراض دیگر اندورنی امراض پر دلالت کرتے ہیں؟

ج: جی ہاں! بلاشبہ چہرے پر جب بھی کسی چھوٹے یا بڑے مرض کا اظہار ہوتا ہے تو یہ کسی اندورنی مرض یا خرابی پر دلالت کرتا ہے۔ اس لئے چہرے کے امراض میں ظاہری علاجوں کی نسبت باطنی علاجوں کی طرف زیادہ فکر سے رجوع کرنا چاہیے۔ عالمی شہرت یافتہ جرمن نیچر وپیتھک ڈاکٹر مسٹرلوئی کوہنی نے ایک کتاب بعنوان علمِ چہرہ شناسی تحریر کی۔ The Science of Facial Expression

اس کتاب میں انہوں نے دلائل سے ثابت کیا کہ چہرہ اور گردن پر رونما ہونے والی تبدیلیاں جسمانی نظاموں میں واقع ہونے والی تبدیلیوں اور خرابیوں پر دلالت کرتی ہیں اور مزید یہ کہ امراض کا اظہار چہرہ سے ہوتا ہے یا چہرے سے دیگر امراض کی شناخت ہو سکتی ہے ۔

س: پھنسیاں اور کیل مہاسے پیدا ہونے کے عام اسباب کیا ہیں؟

ج: پھنسیاں اور کیل مہاسے عام طورپر غلط غذائی عادات، کھانے پینے کے اوقات میں بے قاعدگی،نامناسب خوراک، نشاستہ دار اشیاء، شوگر اور مرغن غذاؤں کی زیادتی سے پیدا ہوتے ہیں۔پرانی قبض بھی کیل مہاسے پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے۔اگر آنتوں کی حرکت میں با قاعدگی نہ ہو تو وہ فاضل مادوں کو اتنی جلدی خارج نہیں کرسکتیں جتنی جلدی میں انہیں ایسا کردینا چاہیے۔اس وجہ سے خون میں زہریلے اور فاسد مادوں کا اجتماع بڑھ جاتا ہے۔ چنانچہ جسم کو ان سے نجات دلانے کے لیے جلد کو زائد کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ مادے کیل مہاسوں اور دیگر جلدی بیماریوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔

س: کن چیزوں کا استعمال جلد کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہیں؟

ج: بے تحاشا چائے، کافی،سگریٹ نوشی اور شراب نوشی جلد کو متاثر کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ان بیماریوں کا ایک اور سبب بودوباش کی غلط عادتیں اور غیر صحت مند ماحول ہوتا ہے۔ علا وہ ازیں بہت زیادہ پڑھائی لکھائی، غلط جنسی حرکات بھی معدے کی کارکردگی پر اثر انداز ہوتی ہیں جن سے بد ہضمی اور عام کمزوری پیدا ہو جا تی ہے۔ ان چیزوں سے جلد متاثر ہوئے نہیں رہ سکتی۔

س: کیا جلد کے پھوڑے پھنسیوں اور کیل مہاسوں کو مختلف قسم کی کاسمیٹکس (مرہموں اور کریموں و کیمیائی ادویات) سے دور کیا جا سکتا ہے؟

ج: جلد کے پھوڑے پھنسیوں اور کیل مہاسوں کو مختلف قسم کی مرہموں اور کریموں سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ یہ مرہمیں وغیر ہ تو صرف چربیلے غدودوں کے ایکشن کو عارضی طور پر دبا سکتی ہیں۔

س: قدرتی طریقۂ علاج والے معالجین کیل مہاسوں کا کیا علا ج تجویز کرتے ہیں؟

ج: قدرتی طریقۂ علاج والے معالجین اس سلسلے میں خوراک کی اصلاح کرنے اور پانی کو موثر استعمال کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اس طریق علاج میں مریض کو سب سے پہلے ہفتہ بھر صرف پھلوں پر مشتمل غذا استعمال کرنی چاہیے۔ دن میں تین بار تازہ رس والے سیب، ناشپاتی، انگور، چکوترا، انناس اور آ لو بخارے کھانے چاہئیں۔ ٹین کے ڈبوں میں بند فروٹ نہیں کھانے چاہئیں۔ جبکہ تازہ پھل استعمال کرنے چاہئیں۔ کیل مہاسے کے مریض کو لیموں ملا نمکین پانی (چینی کے بغیر) یا سادہ پانی ٹھنڈا یا نیم گرم پینا چاہیے۔ اگر وہ قبض کا دائمی مریض ہوتو اسے چھلکا اسپغول ہمیشہ استعمال کرنا چاہیے۔

س: کیل مہاسے کے مریض کو کونسی متوازن غذائیں استعمال کرنی چاہئیں؟

ج:ہفتہ بھر صرف فروٹ والی خوراک کے استعمال کے بعد مریض کو رفتہ رفتہ اچھی متوازن غذائیں کھانا شروع کردینی چاہئیں۔ زیادہ تر کچی خوراک، بالخصوص تازہ پھل اور سبزیاں، کچے نٹس اور سالم دانے والے اناج اور خصوصاً جواور براؤن چاولوں کو اپنی غذا بنانا چاہیے۔

س: خون کی کمی اور خرابیٔ جگر کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے کیل،مہاسے اور چھائیوں کا مفرد طبّی علاج کیا ہے؟

ج: ہرڑ زرد، بلیلہ،آملہ جسے اطریفل کہا جاتا ہے، کا سفوف بقدر ایک چمچ پانی میں بھگو کر مسلسل استعمال کرنے سے ازحد فائدہ ہوتا ہے۔ مربّہ ہرڑ اس مقصد کے لیے مفید چیز ہے۔ اس میں کافی مقدار میں آئرن موجود ہوتا ہے۔قبض کا ازالہ کرتا ہے۔ خوش ذائقہ بھی ہے۔ انار کا رس حددرجہ نفع بخش ہے۔ پالک کا جوس، سیب کا جوس، گاجر کا جوس، کینوں کا جوس مفید و مجرب ہیں۔ ان تمام میں آئرن موجود ہوتا ہے۔ برگ یا تخم نیم یامغز تخم نیم یا روغن نیم یا عرق نیم یا عرق عشبہ چہرے کے کیل، مہاسوں اور پھوڑے، پھنسیوں کا خوردنی علاج ہے جو حد درجہ مفیدو مؤثر ہے۔

س: مرکب طبّی ادویات جو خرابیٔ جگر کے علاوہ کمیٔ خون وکیلشیم کا ازالہ کریں، کونسی ہیں؟

ج: مربّہ ہرڑ، مربّہ سیب، مربّہ گاجر، شربت فولاد، کشتہ فولاد، معجون خبث الحدید،سفوف اکسیرجگر، حبِ کبد نوشادری، معجون نیم،معجون عشبہ، صافی، ہمدرد قرشی یا اجمل یا کسی دیگر قابلِ اعتماد دواخانہ کی تیار کردہ خرید کر استعمال کریں۔

س: کیل مہاسے، چھائیوں کے لیے کونسی مقامی استعمال کی ادویات ہیں جن سے ان کا ازالہ ہوسکے؟

ج: اگرچہ ہم خارجاً ادویات کے استعمال کے خلاف ہیں کیونکہ ان کے ذریعہ عموماً فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا کرتا ہے۔ بالخصوص کیمیائی ادویات چہرہ کا ستیاناس کر کے رکھ دیتی ہے۔ ہم ذیل میں مقامی استعمال کی کچھ ادویات درج کر رہے ہیں۔ مولی کے بیج گرئینڈ کر کے Paste بنا کر چہرے پر لگانا یا ریٹھہ کو گرئینڈ کر کے Paste کرنا یامغز تخم کرنجوا کو گرئینڈ کر کے چہرہ پر Paste کرنا یاچنے سفید کو گرائینڈ کر کے Paste کرنایا تخم السی کو گرائینڈ کر کے انار کا چھلکا یا انجیرکا Paste بنا کر چہرے پر Paste کرنا (دودھ یا پانی میں ملاکر Paste لیپ کریں) یالیموں یا سنگترہ کے چھلکوں کا چہرہ پر ملنا مفید تدابیر ہیں۔ یا نسخہ ابٹن جس کے درج ذیل اجزاء ہیں مقامی طور پر استعمال کریں۔ تخم خشخاش، مغز خربوزہ یا چارمغز، مغز بادام ہم وزن سب کو گرائینڈکر کے دودھ ملا کر سوتے وقت چہرے پر لیپ کریں اور صبح نیم گرم پانی سے دھوئیں بے نظیر نسخہ ہے۔ (ابٹن ایک خوشبودار مسالہ جو جسم کو صاف اور ملائم بنانے کے لیے مَلا جاتا ہے)

س: چہرے کے امراض کا ہومیوپیتھی علاج کیا ہے؟
چہرے کے کیل، چھائیاں، دانے وغیرہ (Acne pimples on the face)

ج: جب لڑکا، لڑکی سن بلوغت میں داخل ہوتے ہیں اور ان کے چہرے پر کیل، چھائیاں یا دانے نکلیں توان کی ایک مخصوص دواء ’’اسٹیریس روبنس6‘‘ یا 30 طاقت میں دیں۔ یہ دوا کیل، چھائیوں اور دانوں کو ختم کردیتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے یہ دواء ناکام رہے تو ’’کالی بروم‘‘ اور ’’ریڈیم بروم‘‘ 30طاقت میں دینی چاہیے۔ جب کوئی کیس بگڑ جائے تو ’’ہائیڈروکوٹائل، آرسنک آیوڈائیڈ‘‘ اور ’’سلفر آیوڈائیڈ‘‘ استعمال کریں۔ اگر سن بلوغت میں نکلنے والی پھنسیوں میں پیپ پڑجائے اور تجویز کردہ دوائی سے شفانہ ہو رہی ہو تو ڈاکٹر رائے بہادر بشمبرداس ’’ہیپرسلف‘‘ استعمال کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ (طاقت: پہلی سے 200 تک، اونچی طاقت پیپ کا سدِباب کرتی ہے۔ جب کہ نچلی طاقتیں اسے پیدا کرتی ہیں۔ اگر پیپ لانی مقصود ہوتو 2x دیں) ویسے 2x سے سی ایم تک استعمال ہوسکتی ہے۔

ڈاکٹر کلارک کہتے ہیں کہ انہوں نے چہرے کے سیاہ رنگ کے دانوں کے لیے ’’کالی بروم‘‘ سے بہتر دواء کوئی نہیں سنی جبکہ ڈاکٹر گشنگ کہتے ہیں کہ ’’آرسنک بروم‘‘ سے مفید دواء کوئی نہیں۔ایسی پھنسیاں جو ضدی قسم کی ہوں اور ان میں پیپ بننے کا رجحان بھی پایا جاتا ہوتو وہ پھنسیاں ’’انٹی مونیم ٹارٹ‘‘ سے شفایاب ہوجاتی ہے۔ اگر جوانی کی عمر میں چہرے پر گہرے بدنماابھار بن جائیں اور ان میں خارش بھی ہوتو ’’کالی بروم‘‘ دیں اور پھنسیاں سرخ رنگ کی ہوں اور چہرے اور پیشانی پر ہوں تو ’’لیڈم‘‘ اچھی دواء ہے۔ اگر چہرے، ناک اور ہونٹوں پر پھنسیاں ہوں اور رخساروں پر سرخ رنگ کے ابھار ہوں جو ٹھوڑی کے گرد بھی ہوں تو ڈاکٹر بھانجا کے مطابق ’’بوریکس‘‘ 30طاقت میں دینے سے ختم ہوجاتے ہیں۔ اگر جسم کے مختلف حصوں پر مٹر کے دانے کے برابر پھنسیاں ہوں اور ان میں ہلکی خراش بھی ہوتی ہو اور چوٹ کا رجحان بھی پایا جائے کہ زخم بن جائیں تو صبح وشام ’’ہیپر سلف‘‘ دیں۔ چہرے کے دانے بلوغت کی عمر میں لڑکیوں کے چہروں پر دانے نکل آئیں تو انہیں ’’کلکیریا فاس‘‘ ہی ٹھیک کر سکتی ہے۔ چہرے کی رنگت کو درست کرنے کے لیے یہ مخصوص دواء ہے۔ اگر کسی مریض کا چہرہ بدنما ہےیا اس کی رنگت درست نہیں تو بدنمائی دور کرنے اور رنگت کو صحیح حالت میں لانے کے لیے ’’آیوڈیمIodium 1000‘‘ طاقت میں ہر پندرہ دنوں کے بعد تقریباً چھ ماہ تک دیتے رہنے سے چہرہ خوشنما اور رنگ درست ہوجاتا ہے۔ یہ بہت ہی کامیاب دواء ہے۔

اگر ’’آیوڈیم‘‘ کسی وجہ سے ناکام ہوجائے تو کاسٹیکم اور ’’لائیکوپوڈیم‘‘ 200طاقت میں ہر آٹھ دن بعد دیتے رہیں۔ اس لیے مریض کی شکایت دور ہوجائے گی۔

چہرے کی شکل بگڑ جائے: (Disfigurement of face)

اگر کسی کی شکل چیچک کے دانوں کی وجہ سے بگڑ جائے تو ’’ویری اولینم‘‘ Variolinum 1000 ہر چودہ دنوں کے بعد جبکہ ’’سیراسینیاپرپوریاSarracenia Purp ‘‘30 طاقت میں تین مرتبہ روزانہ کافی لمبے عرصہ تک دیتے رہنے سے مریض شفایاب ہوجاتا ہے۔اگر کیل، چھائیاں یا پھوڑے پھنسیاں جسم کے کسی حصہ پر نشان چھوڑ جائیں۔ جن کی وجہ سے چہرے کی رنگت خراب ہوجائے یا بگڑ جائے تو ’’سلیشیا‘‘ یا ’’کلکیریا فلور‘‘ ان نشانوں کو مٹا دیتی ہے۔

چہرے کے دانے: (Face acne)

اگرکسی کے چہرے پر دانے نکل آئے ہوں تو اسے ان دانوں کے لیے مخصوص ادویہ ’’کالی برومیٹم‘‘ اور ’’ایسٹریس روبنس‘‘ استعمال کرنی چاہیے۔ اگر مندرجہ بالا ادویہ ناکام ہوجائیں تو پھر ’’ریڈیم بروم‘‘ 30طاقت میں دیں۔ اگر دانوں کی حالت میں بگڑی ہوئی ہو تو ’’آرسنک آیوڈائیڈ‘‘ اور ’’سلفر آیوڈائیڈ‘‘ دینا مفید رہتا ہے۔

عورتوں میں چہرہ اور ٹھوڑی پر بال اگنا: (Face, hair on lips and chin of woman)

اگر عورتوں کے چہرہ اور ٹھوڑی پر بال اگ آئیں تو ’’تھوجا‘‘ 10M (دس ہزار) طاقت میں مہینہ میں ایک بار اور ’’اولیم جیکورس اِسلی‘‘ Oleum Jec 30 روزانہ تین مرتبہ دیں۔ جس دن تھوجا دیں اس دن ’’اولیم جیکوریس ایسلی‘‘ کا ناغہ کریں یعنی نہ دیں، غیر ضروری بال اگنا بند ہوجائیں گے۔

بچے کے چہرے پر بندر کے چہرے کی مانند جھریاں ہوں اور نشوونما نہ ہو: (Face-child creased like monkey and does not grow)

اگر بچہ دبلا پتلا کمزور ہو، ٹانگیں پتلی ہوں، چہرہ پچکا ہوا اور کمزور ہو، بچہ دیکھنے میں بوڑھا دکھائی دیتا ہو، اس کے چہرے پر بندر کے چہرے کی مانندجھریاں ہوں، بچہ کا پیٹ بڑا ہوتا جارہا ہو یا بچہ اپنی عمر کے لحاظ سے نشوونما نہ پارہا ہوتو اس کو ’’سلیشیا‘‘ دیں۔بچہ شفایاب ہوجائے گا۔

چہرے کے کیل چھائیاں: (Pimples)

بالغ لڑکیاں جن میں خون کی کمی پائی جائے اور چہرے پر کیل چھائیاں نکل آئیں جس میں خارش رہتی ہو اور ان کو کھرچنے سے سکون ملےنیزماہواری بھی آرہی ہو تو ’’سائیکلے من‘‘ عمدہ دوا ہے۔

نوٹ: اگر ایک سے زیادہ دواؤں میں علامات پائی جائیں تو ان سب کو مرکب کر کے استعمال کریں۔ اگرچہ یہ طریقہ ہومیوپیتھی کی فلاسفی کے عین مطابق نہیں۔ تاہم آج ہومیوپیتھی کی عالمی شہرت یافتہ فرمیں بھی یہی طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔

س: کیل، مہاسے اورچھائیوں کا بایوکیمک علاج کیا ہے؟

ج: چہرے پر تل نکلتے ہوں: تو سلیشیا، نیٹرم میور۔ چہرے پر کیل نکل آئیں توسلیشیا۔ نیٹرم میور، کلکیریا سلف، کالی میور، فیرم فاس۔ چہرے پرمہاسے نکل آئیں تو سلیشیا۔ چہرے پر خارش ہوتی ہوتو کلکیریا سلف۔چہرے پر کیل مہاسے نکل آئیں تونیٹرم میور۔چہرے پر کیل مہاسے ہوں اور ان کے اندر جلن ہوتی ہوتو نیٹرم سلفر۔ ماتھے پر کیل مہاسے نکل آئیںتوکلکیریا فاس، نیٹرم فاس، نیٹرم میور۔ ماتھے پر کیل مہاسے نکل آئیں اور ان کا رنگ سرخ ہو،کلکیریا فاس، نیٹرم میور۔ چہرے پر پیپ دار دانے نکل آئیں تو کلکیریا فاس، کلکیریا سلف، نیٹرم فاس۔ چہرے پر باریک باریک دانے نکل آئیں تونیٹرم میور۔چہرہ بوڑھوں کی طرح معلوم ہوتونیٹرم میور۔ چہرے پر چکنائی آتی ہوتونیٹرم میور۔چہرے پر بال نکل آئیں تونیٹرم میور۔ چہرے پر چھائیاں ہوں توسلیشیا۔ چہرے پر چھائیاں ہوجائیں توکلکیریا فاس، نیٹرم فاس، سلیشیا۔

نوٹ: مذکورہ ادویات کسی ہومیو سٹور سے 6x یا 12x میں خرید لیں۔

س: ہومیوپیتھی کا ایسا پیٹنٹ نسخہ بتائیں جو کسی فرم کا بنا بنایا ہو اور مؤثر بھی ہو؟

ج: ڈاکٹر ریکوک جرمنی کا R53 (پینے کے قطرے) استعمال کرائیں یا کسی ہومیو سٹور سے بنوالیں یا آن لائن منگوالیں۔ اس کا نسخہ درج ہے:

ammonium bromatum 12x, bromium 12x, hepar sulphuris calcareum 30x, juglans regia 30x, kali bromatum 12x, ledum palustre 30x, natrum bromatum 12x, natrum muriaticum 200x, placenta suis 12x, viola tricolor 12x liquid

(نذیر احمد مظہر (ڈاکٹر آلٹر نیٹو میڈیسن)، کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 مئی 2021