• 9 اگست, 2022

چوہدری رشیدالدین مرحوم

چوہدری رشیدالدین مرحوم
سابق امیر جماعت احمدیہ ضلع گجرات

آج میں اپنے ایک عزیز دوست مکرم چوہدری رشیدالدین صاحب کا ذکر خیر کرنا چاہتا ہوں۔ ان سے پہلی ملاقات اس وقت ہوئی۔ جب میری تقرری بطور مربی کھاریاں جماعت میں ہوئی۔ پھر میل ملاقات کا سلسلہ کئی دہائیوں تک جاری رہا۔ یہاں تک کے وہ مہربان دوست اگلی دنیا میں جا بسا۔ ان کے ساتھ بیتا ہوا وقت ایک بڑا سرمایہ ہے۔ ان کی انسانی ہمدردی،جماعتی خدمت کا جوش وجنون، سادگی اور عاجزی وانکساری کی ان گنت داستانیں میرے دل ودماغ میں مستحضر ہیں۔ تو آئیے اس مرحوم دوست کا کچھ ذکر خیر ہوجائے۔ آپ کا تعلق کھاریاں سے تھا۔

کھاریاں کا تعارف

کھاریاں ضلع گجرات کی تحصیل ہے۔یہ شہرپاکستان کی معروف شاہراہ، جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔اس کی اہمیت وشہرت میں اس وقت اضافہ ہوا، جب یہاں آرمی کی چھاؤنی بنی۔

کھاریاں میں نفوذ احمدیت

کھاریاں میں جماعت احمدیہ کا پودا حضرت مولوی فضل دین صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے لگا۔کھاریاں شہر اور اس کے مضافات میں زیادہ تر بیعتیں اس وقت ہوئیں جب سال 1903ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام، ایک معاند احمدیت کرم دین جہلمی کےمقدمہ کے سلسلہ میں جہلم تشریف لائے تھے۔

کھاریاں جماعت

خداتعالیٰ کے فضل سے کھاریاں شہر میں خاصی بڑی اور مخلص جماعت ہے۔جس کو صحابہ کرام،درویشان اور شہداء،مبلغین کرام اور دیگر شعبہ حیات میں خدمت کی توفیق پانے والے نادر وجود رکھنے کی سعادت ملی ہے۔

آپ کو اس بات سے اندازہ ہوگا کہ اس شہر میں ایک محلہ احمدیہ بھی ہے۔ایک زمانہ میں یہاں جماعت کا ایک تعلیم الاسلام پرائمری سکول اور تعلیم الاسلام ہائی سکول بھی تھا۔

جماعت کی ایک بڑی خوبصورت اور وسیع وعریض مسجد بھی ہے۔جو غالباًٍ پنجاب بھر کی چند بڑی مساجد میں شمار ہوتی ہے۔یہ مسجد مخلصینِ جماعت کی مالی قربانی کی عکاسی کرتی ہے۔

چوہدری رشیدالدین صاحب

مکرم چوہدری صاحب کےوالد محترم مکرم چوہدری فضل الہی صاحب مرحوم کا شمار بھی ابتدائی احمدیوں میں ہوتا ہے۔جو اپنے علاقہ کے ایک بااثر زمیندار تھے۔

کھاریاں شہر کے مضافات میں اکثر زرعی زمینیں احمدی احباب کی ملکیت تھیں۔گاؤں کے نمبردار بھی احمدی تھے۔بازار میں کافی ساری دکانیں بھی چوہدری رشید الدین صاحب اورمکرم میاں عبدالرحمان صاحب نمبردار کے خاندان کی تھیں۔جن سے ماہانہ خاصی معقول آمد ہوتی تھی۔

اگرچہ جائداد کے لحاظ سے ایک بڑی خاصی جائداد کے مالک تھے۔زرعی زمین جن کی قیمت کھاریاں چھاؤنی اور کھاریاں شہر کے قریب ہونے کی وجہ سے اس زمانہ میں بھی لاکھوں روپے مالیت کی تھی۔اب تو کروڑوں میں ہوگی۔

درویش منش بزرگ

چوہدری صاحب ایک درویش صفت ایک درویش منش بزرگ تھے۔ سب کچھ ہونے کے باوجود آپ کا طرز حیات بہت ہی سادہ تھا۔اوائل میں لباس میں تہبند استعمال کیاکرتے تھے۔سر پر ہمیشہ ایک سادہ سی پگڑی رہتی۔ یہ سادگی محض ان کی ذات تک ہی محدود نہ تھی بلکہ ان کے اہل و عیال میں بھی یہ جھلک خوب نمایاں تھی۔

ایں سعادت بزور بازو نیست

کھاریاں جماعت میں،بیعت کرنے والے ابتدائی خوش نصیبوں میں چوہدری صاحب کے والد مکرم چوہدری فضل الہی صاحب بھی تھے۔جنہیں کافی عرصہ بطورامیر جماعت کھاریاں خدمت کی توفیق ملی۔پھر چوہدری رشید الدین صاحب کو بھی بطور امیر مقامی بعدازاں امیر ضلع گجرات کے عہدہ پر خدمت کی سعادت ملی اور آجکل ان کے صاحبزادے مکرم چوہدری نسیم احمد صاحب بطور امیر خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔چوہدری صاحب کے برادر اصغر چوہدری سعیدالدین صاحب کو جرمنی میں بطور ریجنل امیر خدمت کی توفیق ملی ہے۔اللہ کے فضل سے ان کے خانوادہ میں خدمات دینیہ کا سلسلہ اب بھی جاری وساری ہے۔

ان کے قریبی عزیز جنہیں خدمت دین کی نمایاں توفیق ملی۔

  • چوہدری صاحب کے ایک بھائی مکرم عطاء الحی صاحب مربی سلسلہ تھے۔لیکن اوائل جوانی میں ہی اللہ کو پیارے ہوگئےتھے۔
  • چوہدری صاحب کے بہنوئی مکرم چوہدری اشرف ناصر صاحب مرحوم مربی سلسلہ
  • آپ کے ہم زلف۔مولانا سلطان محمودانور صاحب مربی سلسلہ
  • آپ کے برادر نسبتی مکرم ڈاکٹر ضیاء الدین صاحب مرحوم واقف زندگی (افریقہ)
  • آپ کے بھانجے چوہدری منیر احمد صاحب مربی سلسلہ امریکہ
  • آپ کے داماد مکرم محمود احمد ناصر صاحب امیر ومشنری انچارج برکینا فاسو۔
  • آپ کے ایک بھانجے طاہر احمدانور صاحب مربی سلسلہ

اس خاندان میں کتنے ہی افراد دنیا کے کئی دیگر ممالک میں خدمت دین کی سعادت پارہے ہیں۔

کھاریاں میں جماعت احمدیہ کی قدیم مسجد مکرم چوہدری صاحب کے گھر کے ساتھ ہی ملحق تھی۔ان کے گھر کاایک دروازہ بھی مسجد میں ہی کھلتا تھا۔

قدیم مسجد احمدیہ کھاریاں

پرانی مسجد احمدیہ چوہدری صاحب کے ہمسایہ میں تھی۔ان کے گھر کا ایک دروازہ مسجد میں کھلتا تھا۔ اس مسجد میں احمدی اور غیر احمدی نماز ادا کیا کرتے تھے۔ بعدازاں اس مسجد میں مسقف ایریا کے دو حصے کردئے گئے۔ان میں دائیں طرف والے حصہ میں غیراز جماعت احباب نمازیں ادا کرتے تھے اور بائیں جانب احمدی نماز ادا کرتے تھے۔

گرمیوں میں نماز مغرب اور عشاء مسجد کے صحن میں اپنے اپنے مسقف حصہ کے سامنے ادا کرتے تھے۔غیراز جماعت احباب کی تعداد محض چند افراد ہوتی تھی۔بہت ہی پیار کا ماحول ہوا کرتا تھا۔ہم لوگ ہی اذان دیا کرتے تھے۔نماز جمعہ صرف ہم احمدی ہی یہاں ادا کرتے تھے۔

مسجد کی صفائی اوردیکھ بھال،خاص طور جمعہ کے روز مسجد کی اندرونی اور بیرونی صفائی چوہدری صاب خود اور ان کے اہل خانہ ہی کرتے تھے۔

نئی مسجد احمدیہ کھاریاں

جماعت احمدیہ کھاریاں کو پاکستان میں ایک اہم اورتاریخی مقام حاصل تھا۔یہاں ہمارے محلہ کا نام محلہ احمدیہ مشہور تھا۔مخالفین اسے مِنی ربوہ بھی کہتے تھے۔

وقت کے ساتھ ملک بھر میں جماعتی مخالفت شروع ہوگئی۔ جس کا زہر آلود اثر ملک کے طول وعرض میں ہوگیا۔ مساجد مسمار ہونا شروع ہوگئیں، مساجد پر قبضے ہونے شروع ہوگئے۔ بعض مقامات پر مساجد تالہ بند ہوگئیں۔بد قسمتی سےاذانیں بند کردی گئیں۔

ان حالات اور دیگر ضروریات کے پیش نظر ایک بڑی مسجد کی ضرورت تھی۔اتفاق سے جماعت کے پاس ایک رقبہ تھا۔جس میں مسجد تعمیر کرنے کا پروگرام بنایا گیا۔

اس پروگرام کے سرخیل مکرم چوہدری رشیدالدین صاحب اور چند دیگر بزرگ تھے۔ان کی رہنمائی اور سب احباب جماعت کے تعاون اورمالی قربانی سے اس قدر وسیع وعریض اور خوبصورت مسجد تعمیر ہوگئی۔ جو پنجاب بھر کی بڑی احمدیہ مساجد میں سے ایک ہے۔اس کارخیر میں ساری جماعت نے یک جان ہوکر یہ عظیم الشان کارنامہ سرانجام دیا۔میں ان سب کی عظمت کو سلام کرتاہوں۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلیٰ ذَالِکَ۔

اطاعت نظام

جب کھاریاں میں میری بطور مربی تقرری ہوئی۔ ان دنوں مکرم کرنل اکبر صاحب امیر مقامی ہوا کرتے تھے۔بڑے مخلص اوردعا گو وجود تھے۔مکرم چوہدری صاحب ان کی عاملہ میں تھے۔مکرم چوہدری صاحب کا مکرم کرنل صاحب کے ساتھ تعاون مثالی ہوا کرتا تھا۔ہر قسم کی خدمت کے لئےہردم تیار ومستعد رہتے تھے۔

پھر اگلے انتخابات میں مکرم چوہدری صاحب کا انتخاب بطور امیر مقامی ہوگیا۔ آپ نے اپنے فرائض بہت ہی ایمانداری سے سرانجام دئے۔

میرے قیام کھاریاں کے دوران آپ کا ہر لحاظ سے تعاون مثالی رہا۔ اس عرصہ میں خدا تعالیٰ کے فضل سے کبھی کسی مسئلہ میں اختلا ف نہیں ہوا۔انہوں نے ہمیشہ ہی مشفقانہ،مخلصانہ اور ہمدردانہ سلوک روا رکھا۔

جماعتی پروگرام ہوں یاکسی بھی احمدی خاندان کا کوئی غمی یا خوشی کا پروگرام ہو۔انتظامی ذمہ داری آپ کی ہوا کرتی تھی۔جسے آپ کمال خوبی سے سرانجام دیا کرتے تھے۔

مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا

آپ کا گھر پرانی احمدیہ مسجد کی ہمسائیگی میں تھا۔ان کے گھر کا ایک دروازہ مسجد میں کھلتا تھا۔میں اکثر دیکھا کرتا تھا کہ مسجد کی صفائی کرتے رہتے۔خاص طور پر جمعہ کے روز مسجد کی اندرونی اور بیرونی صفائی کرتے۔اس کار خیر میں ان کی فیملی بھی بہت مدد کرتی تھی۔نیزمسجد سے ملحقہ نالی کی صفائی بھی خود ہی کیا کرتے تھے۔ایک دفعہ کسی دوست نے کہا۔چوہدری صاحب کسی آدمی کو کہہ دیں کہ وہ صفائی کردیا کرے۔چوہدری صاحب کہنے لگے مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔کوئی کیا کہتا ہے۔

تیری عاجزانہ راہیں اس کو پسند آئیں

میں نے قیام کھاریاں کے دوران شہر سے کافی دور ایک چھوٹا سا پلاٹ خریدا۔اس علاقہ میں آبادی بہت کم تھی۔ایک روز میرے ساتھ والے پلاٹ کے مالک کا مجھے پیغام آیا۔کہ آپ کل عصر کے قریب پلاٹ میں پہنچ جائیں۔ ایک ضروری سیٹنگ کرنی ہے۔

میں نے سوچا شاید کوئی ترقیاتی منصوبہ کی بات ہوگی۔میں نے ایک احمدی خادم مکرم اشتیاق احمد صاحب حال فرانس کو ساتھ لیا اور اپنے پلاٹ کے قریب پہنچ گئے۔جب ہم قریب پہنچے تو میں نے دیکھا کہ دس پندرہ لوگ زمین پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ایک آدمی پولیس کی وردی میں چارپائی پر براجمان ہے۔میں قدرے پریشان ہوا۔پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے۔

خیر ہم جب قریب پہنچے۔اتفاق سے چارپائی پر جو پولیس آفیسر تھا۔میں اس کو جانتا تھا۔وہ ایک احمد ی جج مکرم بشیر احمد صاحب کے پاس اکثر آیا کرتا تھا۔وہیں اس سے میل ملاقات رہتی تھی۔

جب ہم لوگ وہاں پہنچے۔پولیس آفیسر نے مجھےبڑے ادب واحترام سے خوش آمدید کہا اور اپنے ساتھ بٹھالیا۔اور کہنے لگا،آپ یہاں کیسے آئے ہیں۔اس پر ان لوگوں نے بتایا یہی وہ آدمی ہے جو ہمارے پلاٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔ پولیس آفیسر نے انہیں بتایا کہ میں اس آدمی کو خوب جانتا ہوں۔یہ کسی کی زمین پر نا جائز قبضہ نہیں کرسکتا اور کہنے لگا۔اگر کسی آدمی نے اسے تنگ کیا تو مجھ سےزیاد ہ کوئی برا نہ ہوگا۔ اس پر وہ لوگ شرمندگی سےواپس چلے گئے۔

اس کے بعد میں اور اشتیاق صاحب واپس گھر آگئے۔ نماز مغرب کے وقت میں نے بر سبیل تذکرہ چوہدری رشیدالدین صاحب سے اس واقعہ کا ذکرکیا۔

چوہدری صاحب کہنے لگے۔کل صبح ہم لوگ اس جگہ پر جائیں گے۔اگلے روز ہم تین دوست چوہدری صاحب کے ہمراہ وہاں گئے۔ چوہدری صاحب اپنے گھر سے ایک کَسی بھی ساتھ لے آئے تھے۔چوہدری صاحب نے کہا۔ ابھی ہم یہاں پلاٹ کی اطراف میں بنیادیں کھود کر حد بندی کریں گے تاکہ کسی کو قبضہ کرنے کی جرأت نہ ہو۔چوہدری صاحب نے زیادہ تر کام خود اور خدام کے ساتھ مل کرمکمل کیا۔میں نے بھی کام کرنے کی کوشش کی مگر آپ نےمجھے کام کرنے سے روک دیا۔ اس طرح باقاعد ہ پلاٹ کی حد بندی کردی گئی۔ کیا عظیم، منکسر مزاج اور ہمدرد انسان تھا۔

عظمت، نمود میں نہیں، کردار میں ہے

آپ کاگھر بہت سادہ تھا۔ایک کافی وسیع احاطہ میں سب بھائیوں کی رہائشیں تھیں۔اسی صحن میں ایک مہمان خانہ بھی بنا ہواتھا۔جس کا دروازہ جماعتی اور غیر جماعتی مہمانوں کے لئے ہمیشہ وا رہتا۔مضافاتی جماعتوں کے احباب جب کھاریاں آتے تو اکثر یہاں آتے۔ان کے گھر میں ہمیشہ ہی انہیں خوش آمدید کہا جاتا اور ان کے لئے حسب توفیق سادہ سے لنگر کا دور چلتا رہتا۔

مکرم چوہدری صاحب کے گھر اور دل کادروازہ ہر چھوٹے بڑے کے لئے بلا امتیاز کھلا رہتا۔کسی بھی دوست کو کوئی مشکل ہو مسئلہ درپیش ہو،فوری طور پر ساتھ چل پڑتے اور حتی المقدور اسے حل کرنے کی کوشش کرتے۔

جماعتی خدمات

آپ کی جماعتی خدمات کا سلسسلہ تو آپ کے بزرگوں سے ورثہ میں ہی ملا تھا۔ضلع بھر میں کہیں بھی کوئی مسئلہ ہوتا۔آپ بلاخوف وخطر چلے جاتے۔دینی غیرت کے بہت سے واقعات ہیں۔کسی بھی مشکل میں نہیں گھبراتے تھے۔

اس دور میں ایک مربی کے پاس پوری تحصیل کی ذمہ داری ہوتی تھی۔جب کبھی کسی مضافاتی جماعت میں انہیں کسی غمی خوشی کی تقریب میں جانے کے لئے درخواست کی فوری چل پڑتے۔میں نے جماعتی کاموں کے سلسلہ میں،بہت دفعہ ان کے ساتھ بس یا پیدل سفر کئے ہیں۔اللہ تعالیٰ انہیں اس کی جزا عطافرمائے۔

تربیت اولاد

میں نے دیکھا ہے۔ان کے بچوں میں کوئی دنیاوی نمود ونمائش نہ تھی۔سب بچے ہمیشہ ہی جماعتی عہدیداران کا احترام اور ان کی اطاعت کرتے تھے۔ کوئی بھی جماعتی کام ہو۔خواہ وہ وقار عمل ہو، اجتماعا ت اور جلسوں میں کسی قسم کی ذمہ داری ہو۔ ان کے بچے اللہ کے فضل سے ہمیشہ ہی آگے ہوتے تھے جس کے نتیجہ میں آج بھی ان کی اولاد جہاں کہیں بھی ہے خلافت کے بابرکت وجود سے وابستہ و پیوستہ ہے۔

ایک دلچسپ ایمان افروز واقعہ

اَلْفَضْلُ مَا شَھِدَتْ بِہِ الْاَعْدَآءُ۔ فضیلت وہ ہوتی جس کا دشمن بھی اقرار کرے۔

عزیزم نعیم احمد صاحب ابن مکرم چوہدری رشیدالدین صاحب نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ کھاریاں جماعت کے چند خدام جن میں ان کے علاوہ،وحید احمد ابن مکرم کرنل اکبر علی صاحب، منیر شہزاد ابن مکرم شفیع سلیم صاحب اور ایک خادم محمد ارشد بھٹی صاحب نے کھاریاں سے میٹرک پاس کرنے کے بعد زمیندارہ کالج گجرات میں داخلہ لیا۔ ان دنوں ربوہ میں خدام الاحمدیہ کا مرکزی اجتماع منعقد ہونا تھا۔ یہ سب طلبہ باری باری پرنسپل صاحب کے پاس رخصت کی درخواست لے کر حاضر ہوئے۔پرنسپل صاحب نے یہ سب درخواستیں دیکھ کر کہا۔ آپ سب لوگ کہاں جارہے ہیں۔ان طلبہ نے بتایا کہ ہم احمدی ہیں اور ہم ربوہ اپنے اجتماع میں شرکت کے لئے جارہے ہیں۔پرنسپل صاحب نے فوری طور پر سب طلبہ کی رخصت منظور کرلی۔

یہ پرنسپل صاحب جن کا نام محمد یعقوب صاحب (معین الدین پور گجرات) تھا۔ اس سے قبل کچھ عرصہ تک تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے پرنسپل رہ چکے تھے۔

اگلے روز محترم پرنسپل صاحب اسمبلی کے لئے سٹیج پر تشریف لائے۔کسی طالب علم کو تلاوت کے لئے پکارا۔مگر ہر سو خاموشی رہی اور سب طلبہ نے لیت ولعل سے کام لیا۔اس پر پرنسپل صاحب کہنے لگے۔ میں تعلیم الاسلام کالج ربوہ کے طلبہ کو سلام پیش کرتا ہوں، اگر اس طرح تلاوت کے لئے بلایا جاتا تو سب طلبہ تلاوت کرنے کے لئے سٹیج پر آجاتے۔

یہ چند سطور بطور صدقہ جاریہ لکھ دی ہیں۔ ان کے پیار، محبت اور احسانات کا بدلہ تو ہم لوگ ادا نہیں کرسکتے۔ شاید ان کا یہ ذکر خیر ہی ان کی محبتوں کا کسی حد تک صلہ ہو۔

اللھم اغفر لہ وارحمہ وادخلہ فی جنۃ النعیم۔آمین

(منور احمد خورشید۔ مبلغ سلسلہ انگلستان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 مئی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ