• 6 اگست, 2021

کتاب، تعلیم کی تیاری (قسط 3)

کتاب، تعلیم کی تیاری
قسط 3

گزشتہ قسط نمبر 1 میں کتاب کی تیاری کے سلسلہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے درج ذیل تین امور پر لکھنے کی خواہش کا اظہار فرمایا ہے۔

  1. اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارے کیا فرائض ہیں۔
  2. نفس کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں۔
  3. بنی نوع کے ہم پر کیا کیا حقوق ہیں۔

ان عناوین کے تحت ادارہ الفضل سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اکٹھے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سلسلہ میں تیسری قسط پیش ہے۔

اللہ تعالیٰ کے حضور ہمارے فرائض

• حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’نماز سے بڑھ کر اور کوئی وظیفہ نہیں ہے کیونکہ اس میں حمد الٰہی ہے استغفار ہے اور درود شریف، تمام وظائف اور اَوراد کا مجموعہ یہی نماز ہے اور اس سے ہر ایک قسم کے غم وہم دور ہو تے ہیں اور مشکلات حل ہوتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کو اگر ذرا بھی غم پہنچتا تو آپ نماز کے لیے کھڑے ہوجاتے اور اس لیے فرمایا ہے اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ (الرعد:29) اطمینان، سکینتِ قلب کے لیے نماز سے بڑھ کر اور کوئی ذریعہ نہیں۔ لوگوں نے قسمِ قسمِ کے ورد اور وظیفے اپنی طرف سے بنا کر لوگوں کو گمراہی میں ڈال رکھا ہے اور ایک نئی شریعت آنحضرت ﷺ کی شریعت کے مقابلہ میں بنادی ہوئی ہے۔ مجھ پر تو الزام لگایا جاتا ہے کہ میَں نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے مگر میَں دیکھتا ہوں اور حیرت سے دیکھتا ہوں کہ انہوں نے خود شریعت بنائی ہے اور نبی بنے ہوئے ہیں اور دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں ان وظائف اور اَوراد میں دنیا کو ایسا ڈالا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی شریعت اور احکام کو بھی چھوڑ بیٹھے ہیں۔ بعض لوگ دیکھتے جاتے ہیں کہ اپنے معمول اور اَوراد میں ایسے منہمک ہو تے ہیں کہ نمازوں کا بھی لحاظ نہیں رکھتے۔ میَں نے مولوی صاحب سے سُنا ہے کہ بعض گدی نشین شاکت مت والوں کے منتر اپنے وظیفوں میں پڑھتے ہیں میرے نزدیک سب وظیفوں سے بہتر وظیفہ نماز ہی ہے۔ نماز ہی کو سنوار سنوار کر پڑھنا چاہیئے اور سمجھ سمجھ کر پڑ ھو اور مسنون دُعاؤں کے بعد اپنے لیے اپنی زبان میں بھی دعائیں کرو اس سے تمہیں اطمینان قلب حاصل ہو گا اور سب مشکلات خدا چاہے گا تو اسی سے حل ہو جائیں گی۔ نماز یاد الٰہی کا ذریعہ ہے۔ اس لیے فرمایا ہے اَقِمِ الصَّلٰوۃَ لِذِکۡرِیۡ (طٰہٰ:15)‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ133تا134 ایڈیشن 2016ء)

• فرمایا:
’’اب تم لو گ جو بیعت میں داخل ہو ئے ہو تو سمجھ لینا چا ہیئے کہ تم نے عہد کیا ہے ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے سو یاد رکھنا چا ہیئے کہ یہ عہد تمہارا اللہ کے ساتھ ہے جہاں تک ممکن ہو اس عہد پرمضبوط رہنا چا ہیئے نماز و روزہ، حج و زکوٰۃ امور شرعی کا پا بند رہنا چاہیئے۔ اور ہر ایک برائی اور شائبہ گناہ سے اجتناب کر نا چا ہیئے۔ ہماری جماعت کو ایک پاک نمونہ بن کر دکھانا چاہیئے زبانی لاف وگزاف سے کچھ نہیں بنتا جب تک انسان کچھ کرکے نہ دکھائے تم دیکھتے ہو کہ طاعون سے کس قدر لوگ ہلاک ہورہے ہیں گھروں کے گھر برباد ہو رہے ہیں اور ابھی تک معلوم نہیں کہ یہ تباہی کب تک جاری رہے طاعون لوگوں کی بداعمالی کے سبب غضب الٰہی کی صورت میں بھیجی جاتی ہے یہ بھی ایک طرح کی رسول ہے۔ جو اس کام کو کر رہی ہے ہزاروں ہیں جو اپنے سامنے ہلاک شدہ لوگوں کے پشتے پر پشتے دیکھتے ہیں۔ خاندان کے خاندان تباہ ہوگئے ہزاروں لاکھوں بچے بےپدر، لاکھوں خاندان بے ٹھکانہ ہوگئے جہاں یہ پڑی ہے بے نام ونشان اس جگہ کو کر دیا بعض گھروں میں کیا محلوں اور گاؤں میں کوئی آباد ہونے والا نہیں رہا۔ انسانوں سے گذر کر حیوانوں کو تباہ کیا۔ گویا یہ بات کہ انسان کے گناہ سے تمام زمین لعنتی ہوگئی۔ اب گویا اہل زمین کیا چرند، کیا پرند انسان کی بدکاری کے بدلے پکڑے جارہے ہے۔ لوگوں میں باوجود اس کے کہ سخت سے سخت عذاب میں مبتلا ہیں۔ مگر ویسے ہی رعونت و کبر سے مخمور پھرتے ہیں موت کا خوف دل سے اٹھ گیا ہے اللہ تعالیٰ کی عزت کا پا س دل میں نہیں رہا عوام تو عوام خواص کا یہ حا ل ہے کہ دنیا پرستی میں سخت جکڑے ہوئے ہیں خدا کا نام فقط زبان پر ہی ہے۔ اندرونہ بالکل اللہ تعالیٰ کی محبت وخشیت سے خالی ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ153تا154 ایڈیشن 2016ء)

• فرمایا:
’’غرض اپنے اعمال کو صاف کرو اور خداتعالیٰ کا ہمیشہ ذکر کرو اور غفلت نہ کرو۔ جس طرح بھاگنے والا شکار جب ذرا سُست ہو جا وے تو شکاری کے قابو میں آجاتا ہے۔ اسی طرح خداتعالیٰ کے ذکر سے غفلت کرنے والاشیطان کا شکا ر ہو جا تا ہے۔ توبہ کو ہمیشہ زندہ رکھو اور کبھی مردہ نہ ہو نے دو۔ کیو نکہ جس عضو سے کا م لیا جاتا ہے وہی کا م دے سکتا ہے اور جس کو بیکار چھوڑ دیا جا وے پھر وہ ہمیشہ کے واسطے ناکارہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح تو بہ کو بھی متحرک رکھو تاکہ وہ بیکار نہ ہوجاوے۔ اگر تم نے سچی تو بہ نہیں کی تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو پتھر پر بویا جاتا ہے اور اگر وہ سچی تو بہ ہے تو وہ اس بیج کی طرح ہے جو عمدہ زمین میں بویا گیا ہے اور اپنے وقت پر پھل لاتا ہے۔ آج کل اس توبہ میں بڑے بڑے مشکلات ہیں۔ اب یہاں سے جا کر تم کو بہت کچھ سننا پڑیگا اور لوگ کیا کیا با تیں بنائیں گے کہ تم نے ایک مجذوم، کا فر، دجال وغیرہ کی بیعت کی۔ ایسا کہنے والوں کے سامنے جو ش ہرگز مت دکھانا۔ ہم تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صبر کے واسطے مامور کئے گئے ہیں۔ اس لیے چاہیئے کہ تم ان کے لیے دعا کرو کہ خدا ان کو بھی ہدایت دے اور جیسے کہ تم کو امید ہے کہ وہ تمہاری با توں کو ہرگز قبول نہ کریں گے تم بھی ان سے منہ پھیر لو۔ ہمارے غالب آنے کے ہتھیار استغفار، توبہ، دینی علوم کی واقفیت، خدا تعالیٰ کی عظمت کو مدنظر رکھنا اور پا نچوں وقت کی نمازوں کو ادا کرنا۔ نماز دعا کی قبولیت کی کنجی ہے جب نماز پڑھو تو اس میں دعا کرو اور غفلت نہ کرو۔ اور ہر ایک بدی سے خواہ وہ حقوق الٰہی کے متعلق ہو خواہ حقوق العباد کے متعلق ہو بچو۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ25تا26 ایڈیشن 2016ء)

نفس کے حقوق

• حضرت مسیح موعود علیہ السلام اصلاح نفس کا ذریعہ صحبت صالحین کو قرار دیتےہوئے فرماتے ہیں:
’’یاد رکھو۔ اصلاحِ نفس کے لیے نری تجویزوں اور تدبیروں سے کچھ نہیں ہو تا ہے جو شخص نری تدبیروں پر رہتا ہے وہ نامراد اور ناکام رہتا ہے کیو نکہ وہ اپنی تد بیروں اور تجویزوں ہی کو خدا سمجھتا ہے اس واسطے وہ فضل اور فیض جو گناہ کی طاقتوں پر موت وارد کرتا ہے اور بدیوں سے بچنے اور ان کا مقابلہ کر نے کی قوت بخشتا ہے وہ انہیں نہیں ملتا کیونکہ وہ خدا تعالیٰ سے آتا ہے جو تربیروں کا غلام نہیں تھا۔ انسانی تد بیروں اور تجویزوں کی ناکامی کی مثال خود خداتعالیٰ نے دکھائی ہے یہودیوں کو توریت کے لیے کہا کہ اس میں تحریف و تبدیل نہ کر نا اور بڑی بڑی تا کیدیں اس کی حفاظت کی ان کو کی گئیں لیکن کم بخت یہودیوں نے تحریف کردی۔ اس کے بالمقابل مسلمانوں کو کہا۔ اِنَّا نَحۡنُ نَزَّلۡنَا الذِّکۡرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوۡنَ (الحجر:10) یعنی ہم نے اس قرآن مجید کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کر نے والے ہیں پھر دیکھ لو کہ اس نےکیسی حفاظت فر مائی ایک لفظ اور نقطہ تک پس وپیش نہ ہوا اور کو ئی ایسا نہ کر سکا کہ اس میں تحریف تبدیل کر تا صاف ظاہر ہے کہ جو کام خدا کے ہا تھ سے ہو تا ہے وہ بڑا ہی بابرکت ہوتا ہے اور جو انسان کے اپنے ہاتھ سے ہو وہ بابرکت نہیں ہو سکتا۔ اس سے صاف پایا جاتا ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور اسی کے ہاتھ سے نہ ہو تو کچھ نہیں ہو تا۔ پس محض اپنی سعی اور کو شش سے طہارت ِنفس پیدا ہو جاوے یہ خیال باطل ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ پھر انسان کو شش نہ کرے اور مجاہدہ نہ کرے۔ نہیں بلکہ کو شش اورمجاہدہ ضروری ہے اور سعی کر نا فرض ہے خداتعالیٰ کا فضل سچی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اس واسطے ان تمام تدابیر اور مساعی کو چھوڑنا نہیں چاہیئے جو اصلاح نفس کے لیے ضروری ہیں مگر یہ تجاویز اور تدابیر اپنے نفس اور خیال سے پیدا کی ہوئی نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان تدابیر کو اختیار کرنا چاہیئے جن کو خود اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے اور جو ہمارے نبی ﷺ نے کر کے دکھائی ہیں آپ کے قدم پر قدم مارو اور پھر دعاؤں سے کام لو۔ تم ناپاکی کے کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہو مگر خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر صرف تدبیروں سے صاف چشمہ تک نہیں پہنچ سکتے جو طہارت کا موجب بنے۔

بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور اپنی تدبیروں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ احتیاطیں کرتے کرتے خود مبتلا ہوجاتے ہیں اور پھنس جاتے ہیں۔ اس واسطے کہ خدا تعالیٰ کا فضل ان کے ساتھ نہیں ہوتا اور ان کی دستگیری نہیں کی جاتی۔ خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر اپنی تجویز اور خیال سے اگر کوئی اصلاحِ نفس کرنے کا مدعی ہو وہ جھوٹا ہے۔

اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے۔ کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ (التوبہ:119) یعنی جو لوگ قولی، فعلی، عملی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو اس سے پہلے فرمایا یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ (التوبہ:119) یعنی ایمان والو! تقویٰ اللہ اختیار کرو اس سے یہ مراد ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوڑ دے اور صادقوں کی صحبت میں رہے صحبت کا بہت بڑا اثر ہو تا ہے جو اندر ہی اندر ہوتا چلا جاتا ہے اگر کوئی شخص ہر روز کنجریوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا مَیں زناکرتا ہو؟ اس سے کہنا چاہیئے کہ ہاں تو کرے گا اور وہ ایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے گا کیونکہ صحبت میں تا ثیر ہو تی ہے اسی طرح پر جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کتنا ہی پرہیز کرے اور کہے کہ میں نہیں پیتا ہوں لیکن ایک دن آئے گا کہ وہ ضرور پئے گا۔

پس اس سے کبھی بےخبر نہیں رہنا چاہیئے کہ صحبت میں بہت بڑی تاثیر ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ نفس کے لیے کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ کا حکم دیا ہے جو شخص نیک صحبت میں جاتا ہے خواہ وہ مخالفت ہی کے رنگ میں ہو لیکن وہ صحبت اپنا اثر کئے بغیر نہ رہے گی اور ایک نہ ایک دن وہ اس مخالفت سے باز آجا ئے گا۔ ہم افسوس سے کہتے ہیں کہ ہمارے مخالفت اسی صحبت کے نہ ہو نے کی وجہ سے محروم رہ گئے اگر وہ ہمارے پاس آکر رہتے ہماری باتیں سنتے تو ایک وقت آجاتا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کی غلطیوں ہر متنبہ کر دیتا اور وہ حق کو پالیتے اب چو نکہ اس صحبت سے محروم ہیں اور انہوں نے ہماری باتیں سننے کا موقعہ کھو دیا ہے اس لیے کبھی کہتے ہیں کہ نعوذباللہ یہ دہریئے ہیں شراب پیتے ہیں زائی ہیں اور کبھی یہ اتہام لگا تے ہیں کہ نعوذباللہ پیغمبرِ خدا ﷺ کی توہین کرتے ہیں اور گالیاں دیتے ہیں ایسا کیوں کہتے ہیں؟ صحبت نہیں اور یہ قہرالٰہی ہے کہ صحبت نہ ہو۔

لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جب صلح حدیبیہ کی ہے تو صلح حدیبیہ کے مبارک ثمرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ لوگوں کو آپ کے پاس آنے کا موقعہ ملا۔ اور انہوں نے آنحضرت ﷺ کی باتیں سنیں تو ان میں صدہا مسلمان ہوگئے جب تک انہوں نے آپ ﷺکی باتیں نہ سنی تھیں ان میں اور آنحضرت ﷺ کے درمیان ایک دیوار حائل تھی جو آپ کے حسن وجمال پر ان کو اطلاع نہ پانے دیتی تھی اور جیسا دوسرے لوگ کذاب کہتے تھے (معاذاللہ) وہ بھی کہہ دیتے تھے اور ان فیوض وبرکات سے بے نصیب تھے جو آپ لے کر آئے تھے اس لیے کہ دور تھے لیکن جب وہ حجاب اٹھ گیا اور پاس آکر دیکھا اور سنا تو وہ محرومی نہ رہی اور سعیدوں کے گروہ میں داخل ہو گئے۔ اسی طرح پر بہتوں کی بدنصیبی کا اب بھی یہی باعث ہے۔ جب ان سے پو چھا جاوے کہ تم ان کے دعویٰ اور دلائل کو کہاں تک سمجھا تو بجز چند بہتانوں اور افتراؤں کے کچھ نہیں کہتے جو بعض مفتری سنادیتے ہیں اور وہ ان کو سچ مان لیتے ہیں اور خود کوشش نہیں کرتے کہ یہاں آکرخود تحقیق کریں اور ہماری صحبت میں آکر دیکھیں۔ اس سے ان کے دل سیاہ ہو جاتے ہیں اور وہ حق کو نہیں پاسکتے لیکن اگر وہ تقویٰ سے کام لیتے تو کوئی گناہ نہ تھا کہ وہ آکر ہم سے ملتے جلتے رہتے اور ہماری باتیں سنتے رہتے حالانکہ عیسائیوں اور ہندوؤں سے بھی ملتے ہیں اور ان کی باتیں سنتے ہیں ان کی مجلسوں میں جاتے ہیں پھر کونسا امر مانع تھا جو ہمارے پاس آنے سے انہوں نے پرہیز کیا۔

غرض یہ بڑی ہی بدنصیبی ہے اور انسان اس کے سبب محروم ہو جاتا ہے اسی واسطے اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دیا تھا کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ (التوبہ:119) اس میں بڑانکتہ معرفت یہی ہے کہ چونکہ صحبت کا اثر ضرور ہوتا ہے اس لیے ایک راستباز کی صحبت میں رہ کر انسان راستبازی سیکھتا ہے اور اس کے پاس انفاس کا اندر ہی اندر اثر ہونے لگتا ہے جو اس کو خدا تعالیٰ پر ایک سچا یقین اور بصیرت عطا کرتا ہے اس صحبت میں صدق دل سے رہ کر وہ خداتعالیٰ کی آیات اور نشانات کو دیکھتا ہے جو ایمان کو بڑھانے کے ذریعے ہیں۔

جب انسان ایک راستباز اور صادق کے پاس بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے لیکن جو استبازوں کی صحبت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صحبت کو اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کرتی جاتی ہے۔ اسی لیے احادیث اور قرآن شریف میں صحبتِ بد سے پرہیز کرنے کی تا کید اور تہدید پائی جاتی ہے اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اہانت ہو تی ہو اس مجلس سے فی الفور اٹھ جاؤ ورنہ جو اہانت سنکر نہیں اٹھتا اس کا شمار بھی ان میں ہی ہوگا۔

صادقوں اور استبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے اس لیے کس قدر ضرورت ہے اس امر کی کہ انسان کُوۡنُوۡا مَعَ الصّٰدِقِیۡنَ کے پاک ارشاد پر عمل کرے۔ حدیث شریف میں آیاہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذکر کر رہے تھے مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نہیں وہ بھی ان میں ہی سے ہے کیونکہ اِنَّھُمْ قَوْمٌ لَّا یَشْقٰی جَلِیْسُھُمْ۔ اس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ صادقوں کی صحبت سے کس قدر فائدہ ہیں سخت بدنصیب ہے وہ شخص جو صحبت سے دور رہے۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ369-373 ایڈیشن 2016ء)

بنی نوع کے ہم پر حقوق

• فرمایا:
’’تقویٰ کے معنیٰ ہیں بدی کی باریک راہوں سے پرہیز کرنا۔ مگر یاد رکھو نیکی اتنی نہیں ہے کہ ایک شخص کہے کہ مَیں نیک ہوں اس لیے کہ میں نے کسی کا مال نہیں لیا، نقب زنی نہیں کی، چوری نہیں کرتا۔ بد نظری اور زنا نہیں کرتا۔ ایسی نیکی عارف کے نزدیک ہنسی کے قابل ہے کیونکہ اگر وہ ان بدیوں کا ارتکاب کرے اور چوری یا ڈاکہ زنی کرے تو وہ سزا پائے گا۔ پس یہ کوئی نیکی نہیں کہ جو عارف کی نگاہ میں قابل قدر ہو بلکہ اصلی اور حقیقی نیکی یہ ہے کہ نوعِ انسان کی خدمت کرے اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں کامل صدق اور وفا داری دکھلائے اور اس کی راہ میں جان تک دے دینے کو تیار ہو۔ اسی لیے یہاں فرمایا ہے اِنَّ اللّٰہَ مَعَ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا وَّ الَّذِیۡنَ ہُمۡ مُّحۡسِنُوۡنَ معنیٰ اللہ تعالیٰ اُن کے ساتھ ہے جو بدی سے پر ہیز کرتے ہیں اور ساتھ ہی نیکیاں بھی کرتے ہیں۔

یہ خوب یاد رکھو کہ نرِا بدی سے پرہیز کرنا کوئی خوبی کی بات نہیں جب تک اُس کے ساتھ نیکیاں نہ کرے۔ بہت سے لوگ ایسے موجود ہوں گے جنہوں نے کبھی زنا نہیں کیا، خون نہیں کیا، چوری نہیں کی، ڈاکہ نہیں مارا اور باوجود اس کے اللہ تعالیٰ کی راہ میں کوئی صدق ووفا کا نمونہ انہوں نے نہیں دکھایا یا نوعِ انسان کی کو ئی خدمت نہیں کی اور اس طرح پر کوئی نیکی نہیں کی۔ پس جاہل ہو گا وہ شخص جو ان باتوں کو پیش کر کے اسے نیکو کاروں میں داخل کرے کیونکہ یہ تو بدچلنیاں ہیں صرف اتنے خیال سے اولیاء اللہ میں داخل نہیں ہو جاتا بد چلنی کر نے والے چوری یا خیانت کرنے والے، رشوت لینے والے کے لیے عادت اللہ میں ہے کہ اسے یہاں سزا دی جاتی ہے وہ نہیں مرتا جب تک سزا نہیں پالیتا۔ یادرکھو کہ صرف اتنی ہی بات کا نام نیکی نہیں ہے۔

تقویٰ ادنیٰ مرتبہ ہے اس کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی برتن کو اچھی طرح سے صاف کیا جاوے تا کہ اس میں اعلیٰ درجہ کا لطیف کھا نا ڈالا جائے اب اگر کسی برتن کو خوب صاف کر کے رکھدیا جائے لیکن اس میں کھانا نہ ڈالا جائے تو کیا اس سے پیٹ بھر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں ۔کیا وہ خالی برتن طعام سے سیر کردے گا؟ ہر گز نہیں اسی طرح پر تقویٰ کو سمجو۔ تقویٰ کیا ہے نفسِ امّارہ کے برتن کو صاف کرنا۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ366تا367 ایڈیشن 2016ء)

• بیمار پُرسی اور کسی میّت کی تجہیز وتکفین کی نسبت ذکر ہوا۔ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ:
’’ہماری جماعت کو اس بات کا بہت خیال چاہیئے کہ اگر ایک شخص فوت ہو جاوے تو حتی الوسع سب جماعت کو اس کے جنازہ میں شامل ہونا چاہیئے اور ہمسایہ کی ہمدردی کرنی چاہیئے۔ یہ تمام باتیں حقوق العباد میں داخل ہیں۔ میَں دیکھتا ہوں کہ جس تعلیم اور درجہ تک خداتعالیٰ پہنچانا چاہتا ہے اس میں ابھی بہت کمزوری ہے صرف دعویٰ ہی دعویٰ نہ ہونا چاہیئے کہ ہم ایمان دار ہیں بلکہ اس ایمان کو طلب کرنا چاہیئے جسے خدا چاہتا ہے۔ بھائیوں کے حقوق اور ہمسایوں کے حقوق کو شناخت کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔ زبان سے کہہ لینا کہ ہم جانتے ہیں بیشک آسان ہے مگر سچی ہمدردی اور اخوت کو برت کر دکھلانا مشکل ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تمام حرکات اعمال افعال کے لیے ایمان مثل ایک انجن کے ہے۔ جب ایمان ہو تا ہے تو سب حقوق خود بخود نظر آتے جاتے ہیں اور بڑے بڑت اعمال اور ہمدردی خود ہی انسان کرنے لگتا ہے۔ ایمان کا تخم آہستہ آہستہ ترقی کرتا ہے لیکن یہ ہر ایک کے نصیب میں نہیں ہوتا۔‘‘

(ملفوظات جلد5 صفحہ248 ایڈیشن 2016ء)

اللہ تعالیٰ ان تینوں عناوین کے تحت ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام پرعمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

(ابوسعید)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2021