• 6 اگست, 2021

حلال و طیب اشیاء کے بارے میں قرآنی آیات (قسط اوّل)

حلال و طیب اشیاء کے بارے میں قرآنی آیات
قسط اوّل

اللہ تبارک تعالیٰ نےاپنے کلام پاک میں ’’حَلٰلًا طَیِّبًا‘‘ کا لفظ کئی جگہ پر اور متعدد معنوں میں استعمال کیا ہے۔ طیب وپاک رزق اور حلال و طیب کھانوں کے لئے توکثرت سے ’’کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ‘‘ ’’رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ‘‘ اور ’’رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ‘‘ کہہ کراستعمال ہوا ہے۔ لیکن اِس کے علاوہ ’’ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً‘‘ پاکیزہ ذریّت کے معنوں میں بھی آتاہے۔ خبیث کوطیب مال کے ساتھ نہ ملانے کے لئے بھی اس لفظ کو ’’لَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِیۡثَ بِالطَّیِّبِ‘‘ کہہ کر استعمال میں لایا گیا ہے۔ ’’فَتَیَمَّمُوۡا صَعِیۡدًا طَیِّبًا‘‘ میں یہی لفظ طیب و پاک مٹی سے تیمم کرنے کے لیے قرآن کریم میں آیا ہے۔ پاک مُلک کو ’’اَلۡبَلَدُ الطَّیِّبُ‘‘ کہہ کر بھی پکارا گیا ہے۔ ’’مَثَلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ‘‘ میں کلمہ طیّبہ کی مثال، شجرہء طیّبہ سے دی گئی ہے ۔مومن کو حیاتِ طیّبہ کی صورت میں دوبارہ زندہ کرنے کے معنوں میں بھی یہ لفظ قرآن کریم میں ’’فَلَنُحۡیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً‘‘ کے ساتھ استعمال ہوا ہے۔ جہاں جنّتیوں کو پاک قول کی طرف راہنمائی کا ذکر ہے وہاں پر ’’ہُدُوۡۤا اِلٰی الطَّیِّبِ مِنَ الۡقَوۡلِ‘‘ کے الفاظ آتے ہیں۔ ’’اَلطَّیِّبٰتُ لِلطَّیِّبِیۡنَ وَ الطَّیِّبُوۡنَ لِلطَّیِّبٰتِ‘‘ میں مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی یہ الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ گھروں میں داخل ہوتے ہوئے ایک دوسرے کو سلام کرنے کے عمل کو ’’مُبٰرَکَۃً طَیِّبَۃً‘‘ کے الفاظ میں ایک طیب تحفہ قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سبا قوم کے مسکن کو ’’بَلۡدَۃٌ طَیِّبَۃٌ‘‘ اور پاک کلمہ کو ’’اَلۡکَلِمُ الطَّیِّبُ‘‘ کہا گیا ہے۔ ’’اَذۡہَبۡتُمۡ طَیِّبٰتِکُمۡ‘‘ میں جہاں اچھی چیزوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہاں ’’مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً‘‘ میں جنتیوں کے گھروں کی پاکیزگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ کشتیوں کو چلانے والی خوشگوار ہواؤں کو ’’بِرِیۡحٍ طَیِّبَۃٍ‘‘ اور نیت لوگ جو جنّتی ہوتے ہیں اُن کو ’’طَیِّبِیۡنَ‘‘ کہا گیا ہے۔ اِن سطور میں اُن آیاتِ قرآنیہ کو اکٹھا کیا گیا ہے۔

لوگوں کو حلال و طیب اشیاء کھانے کا حکم

یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ کُلُوۡا مِمَّا فِی الۡاَرۡضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ لَا تَتَّبِعُوۡا خُطُوٰتِ الشَّیۡطٰنِ ؕ اِنَّہٗ لَکُمۡ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ۔

(البقرہ: 169)

اے لوگو! اُس میں سے حَلال اور طیّب کھاؤ جو زمین میں ہے اور شیطان کے قدموں کے پیچھے نہ چلو۔ یقیناً وہ تمہارا کھلا کھلا دشمن ہے۔

فَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اشۡکُرُوۡا نِعۡمَتَ اللّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ۔

(النحل: 115)

پس جو کچھ تمہیں اللہ نے رزق عطا کیا ہے اس میں سے حلال (اور) طیّب کھاؤ اور اللہ کی نعمت کا شکرادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

رسولوں کو طیب چیزوں میں سے کھانے کی تاکید

یٰۤاَیُّہَا الرُّسُلُ کُلُوۡا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعۡمَلُوۡا صَالِحًا ؕ اِنِّیۡ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ عَلِیۡمٌ۔

(المؤمنون:52)

اے رسولو! پاکیزہ چیزوں میں سے کھایا کرو اور نیک اعمال بجا لاؤ۔ جو کچھ تم کرتے ہو اُس کا میں یقیناً دائماً علم رکھتا ہوں۔

اہل کتاب کو طیب رزق کھانے کا ارشاد

وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ

(البقرۃ :58)

اور ہم نے تم پر بادلوں کو سایہ فگن کیا اور تم پر ہم نے مَن اور سلو ٰی اُتارے۔ جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ اور انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ خود اپنے اوپر ہی ظلم کرنے والے تھے۔

بنی اسرائیل کو رزق میں سے طیب چیزیں کھانے کی ہدایت

یٰبَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ قَدۡ اَنۡجَیۡنٰکُمۡ مِّنۡ عَدُوِّکُمۡ وَ وٰعَدۡنٰکُمۡ جَانِبَ الطُّوۡرِ الۡاَیۡمَنَ وَ نَزَّلۡنَا عَلَیۡکُمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی۔ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ لَا تَطۡغَوۡا فِیۡہِ فَیَحِلَّ عَلَیۡکُمۡ غَضَبِیۡ ۚ وَ مَنۡ یَّحۡلِلۡ عَلَیۡہِ غَضَبِیۡ فَقَدۡ ہَوٰی۔

(طٰہٰ:81تا82)

اے بنی اسرائیل! یقیناً ہم نے تمہیں تمہارے دشمن سے نجات بخشی اور تم سے طُور کے دائیں جانب ایک معاہدہ کیا اور تم پر مَنّ اور سَلوٰی اُتارے۔ جو رزق ہم نے تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے طیّب چیزیں کھاؤ اور اس بارہ میں حد سے تجاوز نہ کرو ورنہ تم پر میرا غضب نازل ہوگا اور جس پر میرا غضب نازل ہو تو وہ یقیناً ہلاک ہوگیا۔

حضرت موسیٰ ؑ کی قوم کو طیب چیزیں کھانے کی تاکید

وَ قَطَّعۡنٰہُمُ اثۡنَتَیۡ عَشۡرَۃَ اَسۡبَاطًا اُمَمًا ؕ وَ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلٰی مُوۡسٰۤی اِذِ اسۡتَسۡقٰٮہُ قَوۡمُہٗۤ اَنِ اضۡرِبۡ بِّعَصَاکَ الۡحَجَرَ ۚ فَانۡۢبَجَسَتۡ مِنۡہُ اثۡنَتَا عَشۡرَۃَ عَیۡنًا ؕ قَدۡ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشۡرَبَہُمۡ ؕ وَ ظَلَّلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡغَمَامَ وَ اَنۡزَلۡنَا عَلَیۡہِمُ الۡمَنَّ وَ السَّلۡوٰی ؕ کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ ؕ وَ مَا ظَلَمُوۡنَا وَ لٰکِنۡ کَانُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ یَظۡلِمُوۡنَ۔

(الاعراف:161)

اور ہم نے ان کو بارہ قبیلوں یعنی قوموں میں تقسیم کر دیا اور ہم نے موسیٰ کی طرف جب اس سے اس کی قوم نے پانی مانگا وحی کی کہ چٹان پر اپنے عصا سے ضرب لگا تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے اور سب لوگوں نے اپنے اپنے پینے کی جگہ معلوم کر لی اور ہم نے ان پر بادلوں کا سایہ کیا اور اُن پر مَن اور سَلوٰی اتارے۔ (اور کہا کہ) جو کچھ ہم نے تمہیں رزق عطا کیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ۔ اور انہوں نے ظلم ہم پر نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے۔

مومنین کو رزق میں سے طیب چیزیں کھانے کا حکم

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا کُلُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقۡنٰکُمۡ وَ اشۡکُرُوۡا لِلّٰہِ اِنۡ کُنۡتُمۡ اِیَّاہُ تَعۡبُدُوۡنَ۔

(البقرہ:173)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو اگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

بنی آدم کو طیب چیزوں میں سے رزق دینے کا بیان

وَ لَقَدۡ کَرَّمۡنَا بَنِیۡۤ اٰدَمَ وَ حَمَلۡنٰہُمۡ فِی الۡبَرِّ وَ الۡبَحۡرِ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلٰی کَثِیۡرٍ مِّمَّنۡ خَلَقۡنَا تَفۡضِیۡلًا۔

(بنی اسرا ئیل: 71)

اور یقیناً ہم نے ابنائے آدم کو عزت دی اور انہیں خشکی اورتری میں سواری عطا کی اور انہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا اور اکثر چیزوں پر جو ہم نے پیدا کیں انہیں بہت فضیلت بخشی۔

بنی اسرائیل کو طیب چیزوں میں سے رزق دینے کا ذکر

وَ لَقَدۡ اٰتَیۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ الۡکِتٰبَ وَ الۡحُکۡمَ وَ النُّبُوَّۃَ وَ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ وَ فَضَّلۡنٰہُمۡ عَلَی الۡعٰلَمِیۡنَ۔

(الجاثیہ:17)

اور یقیناً ہم نے بنی اسرائیل کو کتاب اور حکمت اور نبوت عطا کی اور پاک چیزوں میں سے انہیں رزق عطا کیا اور ان کو تمام جہانوں پر فضیلت دی۔

وَ لَقَدۡ بَوَّاۡنَا بَنِیۡۤ اِسۡرَآءِیۡلَ مُبَوَّاَ صِدۡقٍ وَّ رَزَقۡنٰہُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ۚ فَمَا اخۡتَلَفُوۡا حَتّٰی جَآءَہُمُ الۡعِلۡمُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ یَقۡضِیۡ بَیۡنَہُمۡ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ فِیۡمَا کَانُوۡا فِیۡہِ یَخۡتَلِفُوۡنَ۔

(یونس: 94)

اور ہم نے بنی اسرائیل کو ایک سچائی کا ٹھکانا عطا کیا اور انہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا۔ پس انہوں نے اختلاف نہیں کیا یہاں تک کہ علم اُن کے پاس آگیا۔ یقیناً تیرا ربّ قیامت کے دن ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں وہ اختلاف کیا کرتے تھے۔

اللہ تعالیٰ نے طیب چیزوں میں سے عالمین کو رزق عطا کیا

اَللّٰہُ الَّذِیۡ جَعَلَ لَکُمُ الۡاَرۡضَ قَرَارًا وَّ السَّمَآءَ بِنَآءً وَّ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ ذٰلِکُمُ اللّٰہُ رَبُّکُمۡ ۚۖ فَتَبٰرَکَ اللّٰہُ رَبُّ الۡعٰلَمِیۡنَ۔

(المؤمن:65)

اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو قرار کی جگہ بنایا اور آسمان کو (تمہاری) بقا کا موجب بنایا اور اُس نے تمہیں صورت بخشی اور تمہاری صورتوں کو بہت اچھا بنایا اور تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق عطا کیا۔ یہ ہے اللہ، تمہارا ربّ۔ پس ایک وہی اللہ برکت والا ثابت ہوا جو تمام جہانوں کا ربّ ہے۔

تمام طیب چیزیں اور اہلِ کتاب کے (پاکیزہ) کھانے کوحلال قرار دیا گیا

اَلۡیَوۡمَ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ؕ وَ طَعَامُ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ حِلٌّ لَّکُمۡ ۪ وَ طَعَامُکُمۡ حِلٌّ لَّہُمۡ ۫ وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الۡمُؤۡمِنٰتِ وَ الۡمُحۡصَنٰتُ مِنَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ مِنۡ قَبۡلِکُمۡ اِذَاۤ اٰتَیۡتُمُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ مُحۡصِنِیۡنَ غَیۡرَ مُسٰفِحِیۡنَ وَ لَا مُتَّخِذِیۡۤ اَخۡدَانٍ ؕ وَ مَنۡ یَّکۡفُرۡ بِالۡاِیۡمَانِ فَقَدۡ حَبِطَ عَمَلُہٗ ۫ وَ ہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ۔

(المائدۃ:6)

آج کے دن تمہارے لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال قرار دی گئی ہیں اور اہلِ کتاب کا (پاکیزہ) کھانا بھی تمہارے لئے حلال ہے جبکہ تمہارا کھانا ان کے لئے حلال ہے اور پاکباز مومن عورتیں اور ان لوگوں میں سے پاکباز عورتیں بھی جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تمہارے لئے حلال ہیں جبکہ تم انہیں نکاح میں لاتے ہوئے ان کے حق مہر ادا کرو، نہ کہ بدکاری کے مرتکب بنتے ہوئے اور نہ ہی پوشیدہ دوست بناتے ہوئے۔ اور جو ایمان ہی کا انکار کر دے اس کا عمل یقیناً ساقط ہو جاتا ہے اور وہ آخرت میں گھاٹا پانے والوں میں سے ہوگا۔

طیب چیزوں کو اور شکاری جانورکے روکےہوئےشکار کو حلال کہا ہے

یَسۡـَٔلُوۡنَکَ مَاذَاۤ اُحِلَّ لَہُمۡ ؕ قُلۡ اُحِلَّ لَکُمُ الطَّیِّبٰتُ ۙ وَ مَا عَلَّمۡتُمۡ مِّنَ الۡجَوَارِحِ مُکَلِّبِیۡنَ تُعَلِّمُوۡنَہُنَّ مِمَّا عَلَّمَکُمُ اللّٰہُ ۫ فَکُلُوۡا مِمَّاۤ اَمۡسَکۡنَ عَلَیۡکُمۡ وَ اذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلَیۡہِ ۪ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَرِیۡعُ الۡحِسَابِ۔

(المائدۃ: 5)

وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ اُن کے لئے کیا حلال کیا گیا ہے۔ تُو کہہ دے کہ تمہارے لئے تمام پاکیزہ چیزیں حلال کی گئی ہیں۔ اور شکاری جانوروں میں سے بعض کو سِدھاتے ہوئے جو تم تعلیم دیتے ہو تو (یاد رکھو کہ) تم انہیں اس میں سے سکھاتے ہو جو اللہ نے تمہیں سکھایا ہے۔ پس تم اس (شکار) میں سے کھاؤ جو وہ تمہارے لئے روک رکھیں اور اس پر اللہ کا نام پڑھ لیا کرو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یقیناً اللہ حساب (لینے) میں بہت تیز ہے۔

(جاری ہے۔ دو اور اقساط کے ساتھ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ)

(جاوید اقبال ناصر۔مربی سلسلہ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2021