• 1 اکتوبر, 2020

تعارف سورۃ الحج (بائیسویں سورۃ)

(اس سورۃ کا کچھ حصہ مکی جبکہ باقی مدنی ہے، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی 79 آیات ہیں)
ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003
(مترجم: وقار احمد بھٹی)

وقت نزول اور سیاق و سباق

جمہور علماء کے نزدیک اس سورۃ کا ایک حصہ مکی ہے جبکہ ایک حصہ مدنی ہے۔ ضحاک کے نزدیک یہ مکمل سورۃ مدنی ہے۔ سورۃ الانبیاء میں یہ بتایا گیا تھا کہ الٰہی عذاب کفار کے تعاقب میں ہے کیونکہ انہوں نے حق کا انکار کیا۔ اس سورۃ (الانبیاء) کی آخری آیت میں آپﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ کفار پر انکے مستقل جارحانہ رویہ کی وجہ سے الٰہی عذاب کے نزول کی دعا کریں۔ اس سورۃ کی پہلی آیت میں آپﷺ کی دعا کا جواب دیا گیا ہے۔ یہ اس سورۃ (الحج) کا سابقہ سورۃ (الانبیاء) سے فوری تعلق ہے۔ مگر اس سے وسیع تعلق بھی ہے جو سابقہ سورتوں اور اس سورۃ میں پایا جاتا ہے۔ وہ مضمون جو سورۃ مریم سے شروع ہوا تھا اور بعد ازاں سورۃ طٰہٰ اور الانبیاء میں ممتد ہو گیا، وہ اس سورۃ میں تکمیل کو پہنچاہے۔ سورۃ مریم میں عیسائی عقائد کی تفصیل بیان کی گئی تھی اور مؤثر طور پر انکا رد کیا گیاتھا کیونکہ ان کا رد کئے بغیر نئے پیغام (قرآن) کی ضرورت کو واضح نہ کیا جا سکتا تھا۔ آنحضرتﷺ نے بنی نوع انسان کے لئے پیغام اور نئی شریعت لانے کا دعویٰ کیا۔ اگر عیسائیت اپنی اصلی (الہامی)حالت میں دنیا میں موجود ہوتی اور ایک حقیقی ایمان دنیا میں موجود ہوتا جو قابلِ عمل ہوتااور اس پر عمل جاری ہوتا تو ایک نئے عقیدہ کی ضرورت کیونکر پیش آتی۔ اس لئے عیسائیت کے بنیادی عقائد کا بطلان اور بے بنیاد ہونا ثابت کرنا ضروری تھا۔ یہ (بطلان) سورۃ مریم میں کیا گیا ہے جہاں حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے غیر معمولی ہونے کو کسی طرح بھی باقی انبیاء سے ممتاز یا الگ گرداننے کا رد کیا گیا ہے۔

سورۃ طٰہٰ میں عیسائی عقیدہ کہ شریعت ایک لعنت ہے، کا مکمل طور پر تدارک کیا گیا ہے جبکہ سورۃ الانبیاء میں اسی مضمون کو اور رنگ میں بیان کیا گیا ہےاور گناہ کے موروثی ہونے کی بابت عیسائی عقیدہ کو غیر مستحکم اور بے دلیل قرار دیا گیاہے۔ یہ بتایا گیاہے کہ اگر انسان کو گناہ وراثت میں ملا ہے اور خود مختاری نہ رکھنے کی وجہ سے وہ اس سے نجات حاصل نہیں کر سکتا تو خدا کے رسولوں کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی زائل ہو جاتا ہے اور انسان کا اپنے اعمال کے لئے جواب دہ ہونے کا تصور بھی باطل ہو جاتا ہے۔ اس سورۃ میں ہمیں بتایا گیاہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے روحانیت کا اعلیٰ مقام حاصل کر لیا تھا تو ایک نئی شریعت کی کوئی ضرورت نہ تھی اور نہ ہی ایک نئے نبی کی۔ مگر آنحضرتﷺ کا ایک نئی شریعت لانا اور نیا رسول ہونا اپنی ذات میں عیسائی عقائد کے مقابل پر ایک بڑا چیلنج ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ کے مضامین بنیادی طور پر پانچ مختلف حصوں میں تقسیم کئے جاسکتے ہیں۔

1۔ کفار کو عذاب الٰہی سے ڈرایا گیا ہے کیونکہ انہوں نے آنحضرتﷺ کے دعویٰ کو جھٹلایا ہے جو مندرجہ ذیل نہایت محکم نظریہ پر مبنی ہے۔ (الف) آپﷺ کی تعلیمات بنی نوع انسان کے لئے نہایت ضروری ہیں اور سچائی اور حکمت پر مبنی ہیں اور ایسے محکم دلائل پر مبنی ہے جو مستقل افادیت کی حامل اور کفار کے بودے اعتراضات کےتسلی بخش جوابات کی متحمل ہیں۔ (ب) الٰہی تائیدات آپﷺ کے شامل حال ہیں۔ آپﷺ کے متبعین دنیاوی اور روحانی لحاظ سے ترقی کر رہے ہیں اور سابقہ انبیاء کی طرح آپﷺ کے دشمن بھی آپﷺ کے ہاتھوں شکست کھا رہے ہیں۔ (ج)آپﷺ کو غیر معمولی طریق سے خدائی افضال حاصل ہوں گے۔ (د) آپﷺ کی تعلیمات کی ساخت ایسی ہے کہ اقوام عالم میں امن، سلامتی اور خیر سگالی کا باعث بنیں گی۔ (ح) جملہ ادیان باطلہ اور مذہبی نظام بشمول عیسائیت اسلام کے سامنے سرنگوں ہوں گے یہاں تک کہ ان کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا۔

2۔ جملہ انبیاء کی مخالفت کی گئ اور شیطانی لوگوں نے ان کے راستے میں ہر طرح کی روکیں اور مصائب کھڑے کئے مگر خدا نے ان تمام روکوں کو ہوا میں اڑا دیا اور سچائی کے پھیلنے کے سامان مہیا فرما دئے۔

3۔ آنحضرتﷺ کی بعثت کے ذریعہ ابو الانبیاء حضرت ابراھیم علیہ السلام کی دعا جو بارگاہ ایزدی میں آپ نے کی تھی پوری ہو ئی۔ وہ دعا جو آپ نے مکہ کی بے آب و گیاہ وادی میں اس وقت کی جب آپ حضرت اسماعیل اور حضرت ہاجرہ کو وہاں چھوڑ کر جا رہے تھے۔

4۔ آپﷺ نے طویل اور سخت مخالفت کا سامنا کیا ہےاور نہایت صبر و تحمل سے ناقابلِ بیان تکلیفوں کو برداشت کیا، اب وقت آگیا ہے کہ آپﷺ کو آپ کے مخالفین کے مقابل پر دفاعی جنگ کرنے کی اجازت دی جائے۔ دفاعی جنگ کی نہ صرف اجازت ہے بلکہ قابلِ ستائش ہے۔ جب حق خطرہ میں ہو اور خدائی مدد ان کے شامل حال ہوگی تو اس کے دفاع میں لڑیں گے۔ اگر حق کی خاطر لڑائی کی اجازت نہ دی جاتی تو انسان آزادی ضمیر کھو بیٹھتا جو اس کا نہایت قیمتی ورثہ ہے اور خدا کی عبادت روک دی جاتی اور دنیامیں برائی اور ظلم کی حکومت نافذ ہو جاتی۔

5۔ الٰہی تعلیمات تازہ بارش کی طرح روحانی طور پر مردہ دنیا کو نئی زندگی عطا کرتی ہے اس لئے کامیابی اس کا مقدر ہے۔ نئی وحی و الہام پرانے کی جگہ لیتی رہتی ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ جب ایک مخصوص تعلیم اپنا دورانیہ مکمل کرلیتی ہے اور مقصد پورا کرلیتی ہے تو ایک نئی تعلیم اس کی جگہ لے لیتی ہے اور خدائی تقدیر اور مقصد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ اس سورۃ کا اختتام اس الٰہی وعدہ پر ہوا ہے کہ خدائی مدد آپﷺ کے شامل حال ہوگی کیونکہ آپ ہی موعود نبی ہیں۔ لہٰذا آپ کے متبعین کو آپ کی کامل اور غیر مشروط فرمانبرداری کرنی چاہیئے۔ یہی کامیابی اور فتح کا راستہ ہے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اگست 2020