• 20 مئی, 2024

جامع المناھج والاسالیب (قسط 2)

جامع المناھج والاسالیب
حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی شہرہ آفاق تصنیف تفسیر کبیر کا ایک اختصاصی مطالعہ
قسط 2

صرفی نحوی و لغوی منہج

جس تفسیر میں قرآن کی صرفی و نحوی تراکیب سےیا قرآنی لغت جو ذو المعارف ہے سے قرآنی مطالب و معانی سمجھنے کی کوشش کی جائے اس خاص منہج کو صرفی و نحوی یا لغوی منہج سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ویسے تو عام طور پر قریباً ہر قسم کی تفسیر میں لغت پر کچھ نہ کچھ بحث ہوتی ہی ہےمگر خاص طور پر اس طرح کے منہج کی تفاسیر میں مفردات قرآن، آیات کی تراکیب، صرف و نحو، اشتقاق و معانی اور لغت وغیرہ کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔

اس منہج پر لکھی جانے والی یا اس منہج کو خاص طور پر استعمال کرنے والی تفاسیر میں مندرجہ ذیل معروف ہیں۔

  • التبیان فی تفسیر القرآن محمد بن حسن طوسی (385ھ تا 460ھ) (شیعہ تفسیر)
  • المفردات فی غریب القرآن لامام راغب الاصفھانی (المتوفیٰ 502ھ)
  • املاء ما من بہ الرحمن من وجوہ الاعراب والقراءات فی جمیع القرآن لابی البقاء العکبری (538ھ تا 616ھ)
  • التبیان فی اعراب القرآن لابی البقاء العکبری (538ھ تا 616ھ)
  • البحر المحیط از ابو حیان غرناطی (654 ھ تا 745ھ)
  • اعراب القرآن وبيا نہ لمحي الدين بن احمد مصطفى درويش (1908ء تا 1982ء)
  • ایسر التفاسیر لکلام لعلی الکبیر لابی بکر جابر الجزائری (1921ء تا 2018ء)
  • اوربرصغیر پاک و ہند میں اسی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر میں مندرجہ ذیل مشہور ہیں۔
  • لغات القرآن۔۔۔مفہوم القرآن از غلام احمد پرویز (1903ء تا 1985ء)
  • مترادفات القرآن از مولانا عبدالرحمٰن کیلانی (1923ء تا 1995ء)

تفسیر کبیر از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ میں صرفی و نحوی/لغوی منہج کی چند مثالیں

آپ سورت طٰہٰ کی آیت 16 اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا لِتُجۡزٰی کُلُّ نَفۡسٍۭ بِمَا تَسۡعٰی کی تفسیر میں لکھتے ہیں۔
’’اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی کہ عذاب کی گھڑی آنے والی ہے، قریب ہے کہ میں اسے چھپا دوں اور یہ بھی کہ عذاب کی گھڑی آنیوالی ہے قریب ہے کہ میں اسے ظاہر کر دوں۔ اَخْفَی الشیئَ کے ایک معنے یہ بھی ہوتے ہیں کہ اَزَالَ خِفآءہٗ اس کے پردہ کو دور کر دیا، یعنی اسے ظاہر کر دیا۔ عربی زبان کا یہ قاعدہ ہے کہ جب کسی مجرد فعل کو باب افعال میں لے آئیں تو اس میں سلب کے معنے پیدا ہو جاتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں، شَکَانی فَاَشْکَیْتُہٗ کہ اس نے شکایت کی تو میں نے اس کی شکایت کا ازلہ کر دیا۔ پس اِنَّ السَّاعَۃَ اٰتِیَۃٌ اَکَادُ اُخۡفِیۡہَا کے دونوں معنے ہو سکتے ہیں۔ یہ بھی کہ اسے چھپائے رکھوں اور یہ بھی کہ اسے ظاہر کر دوں۔ اگر اس کے معنے چھپائے رکھوں کے کئے جائیں تو اس آیت کا یہ مفہوم ہو گا کہ یہ مخالف اتنے گندے لوگ ہیں کہ میں چاہتا ہوں کہ ان سے اس عذاب کی گھڑی کو پوشیدہ رکھوں تا کہ عذاب ان پر اچانک آ جائے اور انہیں اس کے ازالہ کا کو ئی موقع نہ مل سکے۔اور اگر اس کے معنے ظاہر کرنے کے ہوں تو مراد یہ ہو گی کہ وہ گھڑی جو تیری ترقی اور تیرے دشمنوں کی تباہی کے لئے مقدر ہے وہ آ رہی ہے اور قریب ہے کہ میں اس کو ظاہر کر دوں۔ یعنی عنقریب ایسے حالات پیدا ہونے والے ہیں کہ تیرے دشمنوں کی تباہی کے آثار ظاہر ہونے لگ جائیں گے اور میری ان آثار کو ظاہر کرنے سے غرض یہ ہو گی کہ ہر شخص اپنے اعمال کے مطابق جزا پا لے۔ جو ماننے والے ہیں وہ انعام حاصل کرلیں اور جو منکر ہیں وہ سزا پا لیں۔ بِمَا تَسْعَى میں باء کے معنے مطابق کے ہیں اور ما مصدریہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ تا ہر نفس اپنے عمل کے مطابق جزا پا لے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد پنجم صفحہ 411 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

سورت النحل کی آیت 6 وَالۡاَنۡعَامَ خَلَقَہَا ۚ لَکُمۡ فِیۡہَا دِفۡءٌ وَّمَنَافِعُ وَمِنۡہَا تَاۡکُلُوۡنَ کی تفسیر میں آپ لکھتے ہیں۔
’’یہ جو فرمایا مِنْهَا تَأْكُلُونَ اس میں مِنْهَا کو پہلے رکھا گیا ہےجو تخصیص کے معنے دیتا ہے۔ اس پر یہ اعتراض پڑ سکتا ہے کہ کیا انسان أَنْعَام کے سوا دوسری چیزوں کے گوشت نہیں کھاتے یا سبزیاں نہیں کھاتے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ تخصیص کبھی حصر کے مضمون کے اظہار کے لئے آتی ہے اور کبھی یہ بتانے کے لئے کہ اس قسم کی چیزوں میں سے یہ اہم ہے اور اس جگہ پر اس کے یہی معنے ہیں۔ اور مراد یہ ہے کہ تمہاری بڑی غذا أَنْعَام کا گوشت یا دودھ گھی ہے۔ بے شک مرغی شکار وغیرہ بھی انسان کھاتے ہیں۔ لیکن اہم غذا أَنْعَام کا گوشت یا دودھ گھی ہےیا جو بمنزلہ اَنْعَام کے ہیں۔ جیسے نیل گائے یا ہرن وغیرہ۔ یہ چیزیں انسانی غذا کا اہم جزو ہیں اور دوسری اشیاء ان سے اتر کر ہیں۔ اس آیت میں انْعَام کے دو استعمال تو کھول کر بیان فرما دیئے۔ اوّل گرمی سردی کے اثرات سے بچاتے ہیں یعنی ان کی کھالیں اور اون وغیرہ کو تم استعمال کرتے ہو۔ دوسرے یہ کہ تم ان کا گوشت کھاتے ہو اور دودھ پیتے ہو۔ تیسرا لفظ مَنَافِع کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس سے مراد جانوروں کی تجارت بھی ہو سکتی ہے اور نسل کشی بھی۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ130 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

سورت البقرہ کی آیت 130 رَبَّنَا وَابۡعَثۡ فِیۡہِمۡ رَسُوۡلًا مِّنۡہُمۡ کی تفسیر میں آپ لکھتے ہیں۔
’’اے ہمارے ربّ ! ان میں ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرما۔ تنوین تحقیر کے لئے بھی آتی ہے اور تعظیم کے لئے بھی۔یہاں تعظیم کے لئے آئی ہے اور مطلب یہ ہے کہ ایک عظیم الشان رسول مبعوث فرما۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 187 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

سورت البقرہ کی آیت 215 کی تفسیر میں ’’حَتّٰی‘‘ اور ’’متیٰ‘‘ کا عربی زبان میں استعمال پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’مَسَّتۡہُمُ الۡبَاۡسَآءُ وَالضَّرَّآءُ وَزُلۡزِلُوۡا حَتّٰی یَقُوۡلَ الرَّسُوۡلُ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مَعَہٗ مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ۔ انہیں مالی مشکلات بھی پیش آئیں اور جانی بھی اور وہ سرسے پاؤں تک ہلا دیئے گئے اور ان پر اس قدر ابتلاء آئے کہ آخر اس وقت کے رسول اور مومنوں کو دُعا کی تحریک پیدا ہو گئی اور وہ پکار اُٹھے کہ اے خدا تیری مدد کہاں ہے۔ اس آیت کے متعلق سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے انبیاء اور اس کے پاک بندے بھی کسی وقت اللہ تعالیٰ کی مدد سے ایسے مایوس ہو جاتے ہیں کہ انہیں مَتٰی نَصۡرُ اللّٰہِ کہنا پڑتا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ جس مایوسی کا تصور بادی النظر میں پیدا ہوتا ہے اس سے انبیاء اور ان پر ایمان لانے والے کلیۃً پاک ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّہٗ لَا یَایۡـَٔسُ مِنۡ رَّوۡحِ اللّٰہِ اِلَّا الۡقَوۡمُ الۡکٰفِرُوۡنَ ﴿۸۸﴾ (یوسف آیت 88) کہ صرف کافر ہی خداتعالیٰ کی رحمت سے ناامید ہوتے ہیں۔ بات یہ ہے کہ عربی زبان کا قاعدہ ہے کہ جب مَتٰی کا لفظ بولیں تو اس سے مراد مایوسی نہیں ہوتی بلکہ تعیین کے لئے ایک درخواست ہوتی ہے اور مقصد یہ ہوتا ہے کہ فلاں بات کے لئے ایک وقت مقرر فرماد یا جائے۔ ایسا ہی اس جگہ مَتٰی نَصْرُ اللّٰہِ کے یہ معنے نہیں کہ وہ مایوسی کا شکار ہو کر ایسا کہتے ہیں بلکہ درحقیقت ان الفاظ میں وہ یہ درخواست کرتے ہیں کہ الہٰی اس بات کی تعیین فرمادی جائے کہ وہ مدد کب آئے گی۔ گویا مزید اطمینان کے لئے وہ آنے والی نصرت سے وقت کی تعیین کروانا چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مدد جلد نازل ہو۔ یہ دُعا کا ایک موثر طریق ہے اور اس میں یہ اشارہ مخفی ہے کہ ان پر اس قدر ابتلاء آئے کہ وہ ہلادیئے گئے اور ان میں دُعا کی تحریک پیدا ہو گئی۔ اور ابتلاؤں کی بڑی غرض بھی یہی ہوتی ہے۔ کہ خداتعالیٰ سے تعلق مضبوط ہو جب مومنوں کو دعا کی تحریک ہوتی ہے تو خداتعالیٰ آسمان سے اپنی نصرتِ نازل فرما دیتا ہے۔ اور ان کے مصائب کا خاتمہ کر دیتا ہے۔

مگر اس کے علاوہ ’’حتی‘‘ کے معنے ’’کَیْ‘‘ کے بھی ہوتے ہیں اور یہ معنے کُتب نحو اور قرآن کریم سے ثابت ہیں۔ مغنی اللبیب میں لکھا ہے۔ وَمُرَاوِفَۃُ کَیِ التعلیلیة ’’حَتّٰی‘‘ یعنی ’’حَتّٰی‘‘ کے معنے اس ’’کَیْ‘‘ کے مترادف بھی ہوتے ہیں جو کسی بات کی وجہ بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے یعنی اس ’’حَتّٰی‘‘ سے پہلے جو بات ہوتی ہے وہ بعد میں آنے والی بات کے لئے بطور سبب کے ہوتی ہے۔ قرآن کریم میں دوسری جگہ بھی ’’حَتّٰی‘‘ ان معنوں میں آیا ہے۔ چنانچہ سورۃ منافقون میں آتا ہے۔ ہُمُ الَّذِیۡنَ یَقُوۡلُوۡنَ لَا تُنۡفِقُوۡا عَلٰی مَنۡ عِنۡدَ رَسُوۡلِ اللّٰہِ حَتّٰی یَنۡفَضُّوۡا (المنٰفقون: 8) یعنی جو لوگ رسول کریمؐ کے پاس جمع ہیں ان پر خرچ نہ کرو۔ تاکہ وہ بھاگ جائیں۔ نحوی اس کی یہ مثال بھی دیتے ہیں کہ اَسْلِمْ حَتّٰی تَدْخُلَ الْجَنَّۃَ یعنی فرمانبرداری کرتا کہ تو جنت میں داخل ہو جائے۔ ان معنوں کے لحاظ سے اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ یہ زلزلہ جو کفار کے ہاتھوں سے ہم نے پیدا کیا اس کی غرض ہی یہ تھی کہ ہمارے بندے ہم سے مانگیں اور ہم ان کو دیں۔ پس مانگنے کی طرف توجہ پھیرنے اور اپنی قوتِ فضل کو ظاہر کرنے کے لئے اس وقت تک ہم چُپ رہے جب تک کہ ان کے دل میں دعا کی زور سے تحریک پیدا نہ ہوئی۔ اور یہ تحریک ہم نے خود کروائی تاکہ ایک طرف ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی محبت بڑھے اور دوسری طرف جب اللہ تعالیٰ کی نصرت معجزانہ طور پر آئے تو ان کے ایمان بڑھیں اور کفار میں سے جو غور کرنے والے ہوں انہیں ہدایت حاصل ہو۔ چنانچہ فرماتا ہے کہ جب یہ غرض پوری ہو جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرمادیتا ہے کہ لو اب ہماری مدد آگئی۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ467۔ 468 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

فقہی/قانونی منہج / فقیہانہ رجحان

جس تفسیر میں قرآن کریم سے فقہی احکام و مسائل کا استخراج کیا گیا ہو تو ایسی تفسیر کو فقہی منہج کہا جاتا ہے۔اس منہج میں مقلدین اور غیر مقلدین مسلمانوں کی طرز تفسیر میں قدرے اختلاف ہے۔ مقلدین اپنے فقہی مذاہب کے علماء و فقہاء کی آراء بتاتے ہیں پھر اس سے استنباط کرتے ہیں جبکہ غیر مقلدین اپنے اپنے مخصوص نظریات کے مطابق تفسیر پیش کرتے ہیں۔ اس منہج کی ایک قسم ایسی بھی ہے جس میں قانون اسلامی کو بحث میں لایا جاتا ہے۔ ذیل میں دونوں طرح کی تفاسیر کی مثالیں پیش کی جائینگی۔

فقہی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر

  • احکام القرآن لامام ابی بکر الجصاص (المتوفیٰ: 370ھ) (فقہ حنفی)
  • احکام القرآن للکیا الھراسی لعماد الدین ابو الحسن علی بن محمد (المتوفیٰ: 504ھ) (فقہ شافعی)
  • احکام القرآن لابن العربی (المتوفیٰ: 543ھ) (فقہ مالکی)
  • کز العرفان فی فقہ القرآن لمقداد السیوری
  • (المتوفیٰ: 826ھ) (فقہ امامی اثنا عشری)

قانونی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر

  • نکت القرآن الدالۃ علی البیان لمحمد بن علی الکرجی القصاب (المتوفیٰ :360ھ) (اطلاقی قوانین اسلامی)
  • الجامع لاحكام القرآن لامام ابو عبداللہ محمد بن احمدالقرطبی (المتوفیٰ:671ھ)

برصغیر پاک و ہند میں فقہی منہج پر لکھی جانے والی تفاسیر میں مندرجہ ذیل مشہور ہیں۔

  • معارف القرآن از مفتی محمد شفیع دیوبندی (1897ء- 1976ء) (مقلد حنفی مکتبہ فکر)
  • تفسیر القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی (1923-1995ء) (غیرمقلداہلحدیث مکتبہ فکر)

تفسیر کبیر از حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ میں فقہی/قانونی منہج کی چند مثالیں

حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ المصلح الموعود قرآن کریم کی آیت قصاص کو اسلامی فقہ قصاص کی بنیاد قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’بنی نوع انسان کو جو تعلیم دی گئی ہے یہ یہودیوں کی اتباع میں نہیں دی گئی بلکہ ان احکام کے سلسلہ میں دی گئی ہے جو اکیسویں رکوع سے دئیے جا رہے ہیں۔ چنانچہ دیکھ لو پچھلی آیات میں بتلایا گیاتھا کہ کامل الایمان لوگوں کی علامات یہ ہوتی ہیں کہ وہ بَاْسَآءَ میں بھی صبر کرتے ہیں اور ضَرَّآء میں بھی صبر کرتے ہیں اور حِیْنَ البَاْس بھی صبر کرتے ہیں یعنی خواہ ان پر مالی مشکلات آئیں اور فقروفاقہ تک ان کی نوبت پہنچ جائے تب بھی وہ جادہ استقامت پر قائم رہتے ہیں اور خواہ جسمانی مشکلات آئیں اور بیماریاں ان کو گھیر لیں تب بھی وہ صبر کرتے ہیں۔ اور خواہ لڑائیوں میں مارے جائیں تب بھی وہ دشمن سے مرعوب نہیں ہوتے۔ اس پر سوال پیدا ہوتا تھا کہ آخر یہ صبر کا سلسلہ کب تک چلے گا۔ کیا لوگ ہمیں مارتے ہی چلے جائیں اور ہم خاموش بیٹھے رہیں اور اگر ایسا ہو تو ہماری زندگی کی کیا صورت ہو گئی؟ اس لئے فرمایا کہ تمہارا کام تو یہی ہے کہ تم صبر کرو۔ لیکن کچھ اور لوگ جن کے سپرد حکومت کا نظام کیا گیا ہے۔ ان کا فرض ہے کہ وہ ایسے ظالموں سے بدلہ لیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں چنانچہ کُتِبَ عَلَیۡکُمُ الۡقِصَاصُ فِی الۡقَتۡلٰی میں انہی لوگوں کو مخاطب کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ تم پر قصاص فرض کیا گیا ہے اس جگہ ’’تم‘‘ سے صرف حکام مراد ہیں جو لاء اینڈ آرڈر یعنی نظم و ضبط کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ عام لوگ مراد نہیں۔ اور کُتِبَ کہہ کر بتایا ہے کہ حکام کا فرض ہے کہ وہ قصاص لیں۔ حکام کو یہ اختیار نہیں کہ وہ معاف کر دیں۔ اَلصّٰبِرِیۡنَ فِی الۡبَاۡسَآءِ وَالضَّرَّآءِ وَحِیۡنَ الۡبَاۡسِِ میں تو عوام مخاطب تھے مگر کُتِبَ عَلَیْکُمْ میں صرف حکام سے خطاب کیا گیا ہے کہ وہ قصاص لیں۔ اور فِی الْقَتْلٰی کہہ کر تصریح کر دی گئی ہے کہ اس میں جروح شامل نہیں۔ اور درحقیقت یہی وہ آیت ہے جس میں قتل کی سزا کے متعلق اسلامی تعلیم بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ قتل کی سزا قتل ہے۔ اور یہ عام حکم ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فِی الْقَتْلیٰ فرمایا ہے کہ مقتولوں کے متعلق یہ حکم ہے یہ کوئی سوال نہیں کہ وہ مقتول کون ہو۔ اور کس قوم سے تعلق رکھتا ہو۔ اس آیت کے سوا قتلِ عمد کی دنیوی سزا کا ذکر قرآن کریم کی کسی اور آیت میں نہیں ہے پس یہی آیت ہے جس پر اسلامی فقہ کی بنیاد ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم صفحہ 358 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

آپؓ وَاِذَا الۡمَوۡءٗدَۃُ سُئِلَتۡ ﴿۹﴾ سورة التکویر آیت 9 کی تفسیر میں فرماتے ہیں،
’’آپؐ سے عزل کے متعلق پوچھا کہ اس بارہ میں آپ کا کیا حکم ہے فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَالِکَ الْوَأدُ الْخَفِیُّ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا یہ بھی ایک وأدخفی ہے۔ یہ روایت مسلم سعید بن ابی ایوب سے اور مالک بن انس سے بھی نقل کی ہے اور ابو داؤد اور الترمذی اور النسائی نے یہ روایت ابی الاسود سے روایت کی ہے۔ اس روایت سے بعض لوگ یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ جب عزل بھی وأدخفی ہے تو یہ فعل بھی کسی سزا کا مستحق ہونا چاہئے لیکن یہ بات روایت سے درست معلوم نہیں ہوتی۔ اوّل تو اگر عزل منع ہے اس وجہ سے کہ عزل وأدخفی ہے تو پھر حاملہ سے جماع بھی منع ہونا چاہئے مگر حمل کے ایام میں جماع کی حرمت کہیں سے ثابت نہیں حالانکہ وہ واوٴقطعی اور یقینی عمل ہے۔ دوسرےعزل کے جائز ہونے کے متعلق بھی احادیث آتی ہیں مثلاً ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریمؐ سے عزل کے متعلق سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا بے شک کرو جس متنفّس کو خدا نے پیدا کرنا ہے وہ تو اُسے بہرحال پیدا کر کے رہے گا (بخاری کتاب القدر باب کان امراللہ قدراً مقدوراً) پس چونکہ عزل کا جواز بعض دوسری احادیث سے ثابت ہے اس لئے گویا یہ حدیث بڑے بلند پایہ کی ہے مگر میرے نزدیک اس کے یہی معنے ہیں کہ بلاضرورت ایسا کرنا ٹھیک نہیں۔ اگر کوئی شخص بلاضرورت ایسا کرتا ہے تو وہ وأدخفی سے کام لیتا ہے یعنی وہ شخص جس کی عزل سے غرض نسل انسانی کا انقطاع ہو وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مجرم اور گنہگار ہے ورنہ اور کئی صورتیں ایسی ہو سکتی ہیں جن میں عزل ہو سکتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کی بیوی بیمار ہے۔ وُہ دوسری شادی کی توفیق نہیں رکھتا لیکن خود اُس میں خدا نے قوائے شہوانیہ پیدا کئے ہیں۔ دوسری طرف ڈاکٹر کہتا ہے کہ اگر عورت کو حمل ہو گیا تو اس کی جان کو خطرہ ہو گا ایسی حالت میں نہ صرف عزل جائز ہو گا بلکہ اگر حمل ہو جائے تو اُس کا نکلوا دینا بھی جائز ہو گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے میں نے خود سنا ہے کہ ایسی حالت میں اگر کوئی عورت حمل نہیں نکلواتی اور وہ مر جاتی ہے تو ہمارے نزدیک وہ خودکشی کرنے والی ہے۔ آپ نے فرمایا ایسی حالت میں ضروری ہے کہ بچہ کو نکلوا دیا جائے کیونکہ بچہ کے متعلق تو ہمیں کچھ علم نہیں کہ اُس نے کیسا بننا ہے مگر ایک زندہ وجود ہمارے سامنے ہوتا ہے اور اُ س کی جان کی حفاظت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ اس کو بچایا جائے اور اس کے بچہ کو تلف ہونے دیا جائے۔ لیکن اگر کوئی خشیتہ املاق کی وجہ سے عزل کرتا یا حمل نکلواتا ہے تو وہ ایک ناجائز فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔ بہرحال عزل کے جواز یا عدم جواز کا فتویٰ عورت کے حالات کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اگر ضرورت کے موقع پر ایسا کیاجاتا ہے تو یہ جائز ہے۔ اگر بلاضرورت کیا جاتا ہے تو ناپسندیدہ ہے اور اگر نسل انسانی کے انقطاع کے لئے ایسا کیا جاتا ہے تو حرام ہے۔ مثلاً یورپ والے صرف نسل انسانی کے انقطاع کے لئے ایسے کرتے ہیں اور چونکہ اس کے نتیجہ میں قوم تباہ ہو جاتی ہے اس لئے یہ فعل یقینا ناجائز اور حرام ہو گا۔ اور اگر کوئی بلاضرورت کرتا ہے تو وہ ایک مکروہ کام کرتا ہے اور اگر ضرورت حقہ پر کوئی شخص ایسا کرتا ہے تو وہ ایک جائز کام کرتا ہے۔ بہرحال اس مسئلہ کے تینوں پہلو ہیں۔ جب عزل کو قومی تباہی کا موجب بنا دیا جائے تو یہ حرام ہو جاتا ہے۔ جب عزل قومی تباہی کا موجب نہ ہو لیکن اس کی کوئی ضرورت بھی نہ ہو تو یہ مکروہ ہوتا ہے۔ اور جب کسی عورت کی جان بچانے کے لئے یا کسی ایسی ہی ضرورت کے لئے جسے شریعت جائز قرار دیتی ہو ایسا کیا جائے تو یہ جائز ہوتا ہے۔ پس عزل وأدلخفی کے ماتحت نہیں آسکتا۔ وہی عزل اس جرم کا مرتکب بناتا ہے جو قومی تباہی کا موجب بن جائے جیسے فرانس وغیرہ ممالک میں اس کا رواج ہو رہا ہے اور جس کا نتیجہ یہ ہو ر ہا ہے کہ وہاں کی آبادی خطرناک حد تک کم ہو گئی ہے اور وہ قوم دوسروں کے مقابلہ میں بالکل مقہور اور ذلیل ہو گئی ہے اسی لئے رسول کریمؐ نے فرمایا: تَزَوَّجُوا لْوَلُوْدَ الْوَدُوْدَ (نسائی جلد دوم کتاب النکاح) کہ جو عورتیں کثرت سے بچے جننے والی ہوں اُن سے شادی کیا کرو کیونکہ اس طرح قوم کی ترقی ہوتی ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدہشتم صفحہ 223۔ 224 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

آپ رَسُوۡلٌ مِّنَ اللّٰہِ یَتۡلُوۡا صُحُفًا مُّطَہَّرَۃً ۙ﴿۳﴾ سورة البینۃ آیت 3 کی تفسیر کرتے ہوئے مُطَهَّرَةً کے مختلف معانی بیان کرتے ہوئے اسلامی علم فقہ اور اس کے یہودی و عیسائی فقہ کی اصلاح کرنے کی بے نظیر خوبی کو بیان کرتے ہیں۔
’’تیسرے معنے مُّطَہَّرَۃً کے دھلے ہوئے کے ہیں۔ دھلی ہوئی چیز اصل چیز سے علیحدہ نہیں ہوتی صرف اصل چیز پر جو خارجی اثرات ہوتے ہیں ان میں تبدیلی پیدا کر دی جاتی ہے۔ ان معنوں کے لحاظ سے مُطَھَّرَۃً کا مفہوم یہ ہو گا کہ وہ فقہی پیچیدگیاں جو یہودیوں یا عیسائیوں نے پیدا کر دی تھیں ان سے قرآن کریم نے نجات دلائی ہے۔ یہ ایک قدرتی بات ہے کہ جب بھی کسی مذہب پر لمبا زمانہ گزر جاتا ہے اُس کے ساتھ فقہی پیچیدگیاں شامل ہو جاتی ہیں۔ فقہ کی اصل غرض تو یہ ہوتی ہے کہ جو مسائل الہی کتاب میں نص کے طور پر نہیں آئے ان کا استخراج کیا جائے۔ لیکن آہستہ آہستہ جب فقہ میں ضعف آتا ہے خود اصل مسائل میں تصرّف شروع ہو جاتا ہے۔ اسی قسم کی نقائص کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلمانوں میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو اباحت کی طرف لے جاتے ہیں اورکچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں جو ظاہر کی طرف انتہا درجہ کی شدت کے ساتھ بلاتے ہیں یہی حال رسول کریمؐ کے زمانہ میں یہودیوں اور عیسائیوں کا تھا اگر یہودیوں نےسزاکی تعلیم پر بے انتہا زور دیا تھا۔ تو عیسائیت نے نرمی کی تعلیم پر بے انتہا زور دے دیا۔ اب یہ دونوں مسائل ہی ضروری تھے لیکن یہودی فقہ اور عیسائی فقہ نے ان دونوں کو الگ الگ احکام کی شکل میں بدل دیا۔ جب اسلام آیا تو اس نے اس پیچیدگی کو بالکل دور کر دیا اور غلط فقہ کا تعلیم پر جو اثر تھا اس کو دھودیا مثلاً اسلام نے بھی کہا ہے کہ دانت کے بدلے دانت آنکھ کے بدلے آنکھ اور کان کے بدلے کان۔ مگر اسلام نے اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہا عفو بڑی اچھی چیز ہے تمہیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہیے اسی طرح اسلام نے بھی یہی کہا کہ نرمی اور عفو بڑی اچھی چیز ہے مگر ساتھ ہی کہا کہ فَمَنۡ عَفَا وَاَصۡلَحَ فَاَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ (الشوریٰ: 41) اُسی وقت عفو جائز ہے جب عفوکے نتیجہ میں مجرم کی اصلاح کی امید ہو۔ اگر یہ خیال ہو کہ عفو مجرم کو اور بھی بگاڑ دے گا اور اُسے بُرے اعمال پر اور زیادہ جرأ ت دلا دے گا تو اس وقت عفو سے کام لینا تمہارے لیے جائز نہیں۔ غرض یہودی تعلیم میں یہ زور کہ ضرور دانت کے بدلہ میں دانت توڑو۔ آنکھ کے بدلہ میں آنکھ پھوڑواور کان کے بدلہ میں کان کاٹو، فقہ کا ہی نتیجہ تھا ورنہ موسیٰؑ کی تعلیم میں یہ بات نہ تھی۔ اسی طرح عیسائیت کی تعلیم میں یہ بات کہ تم ضرور معاف کرو اور اگر کوئی تمہارے ایک گال پر تھپڑ مارے تو تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو فقہ کی وجہ سے ہی تھی ور نہ حضرت مسیحؑ تو صاف کہتے ہیں کہ میں تورات کو بدلنے کے لیے نہیں آیا۔ جب وہ تورات کو بدلنے کے لیے نہیں آئے تو اُس کے قانون سزا کو وہ کلیتہً کس طرح مٹا سکتے تھے۔

غرض وہ فقہی پیچیدگیاں جو یہودیوں اور عیسائیوں نے پیدا کر دی تھیں اور غلط فقہ کی وجہ سے جو نقائص رونما ہو گئے تھے قرآن کریم نے ان سب کو دُور کر دیا ہے اور یہی قرآن کریم کا مطہر یعنی دُھلا دُھلایا ہونا ہے۔کہ اُس نے ایسی تعلیم دی جو ہر قسم کی پیچیدگیوں سے پاک ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدنہم صفحہ 363-364 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

اسلامی قانون کی خوبی بیان کرتے ہوئے آپ سورت بنی اسرائیل کی آیت 35 وَلَا تَقۡرَبُوۡا مَالَ الۡیَتِیۡمِ اِلَّا بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ حَتّٰی یَبۡلُغَ اَشُدَّہٗ ۪ وَاَوۡفُوۡا بِالۡعَہۡدِ ۚ اِنَّ الۡعَہۡدَ کَانَ مَسۡـُٔوۡلًا ﴿۳۵﴾ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔

’’بچے زیادہ طور پر اتفاقی حادثات کے نتیجہ میں یتیم ہوتے ہیں جن میں قتل،وبائیں وغیرہ شامل ہیں۔ پس قتل کے حکم کے بعد جس سے دوگھروں میں بچے یتیم رہ جائیں گے مقتول کے گھر میں بھی اورقاتل کے گھر میں بھی۔ جب وہ قتل کی سزامیں قتل کیاجائے گا۔یتامیٰ کے حقوق کو بیان کیا۔

اس بارہ میں فرماتاہے کہ یتامیٰ کے مال کے قریب بھی نہ جاؤ۔ اِلَّا بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَن یعنی صرف ایک طریق ایک کے مال پر تصرف کرنے کاہے کہ اس سے بہتر سے بہتر نتیجہ پیداکیا جائے۔یعنی صرف یہی نہیں کہ ان کے مال کو ناجائز طورپر استعمال نہ کرو بلکہ ان کو اس طرح استعمال کرو کہ وہ مال بڑھیں اوریتیموں کافائدہ ہو اس آیت میں اسلامی نظام کا ایک اورایساحکم بیان کیاگیا ہے جس میں اسلام دوسرے مذاہب سے ممتاز اورمنفردہے یتیموں سے حسن سلوک کاحکم توسب مذاہب میں ملتاہے۔ لیکن یہ حکم کہ ان کے اموال کی حفاظت کرواوران کو بڑھانے کی کوشش کرو۔ کسی اورمذہب میں نہیں ملتا۔ گویا اس آیت میں ایک عام کورٹ آف وارڈز مقرر کیا گیا ہے یعنی نابالغوں کی جائداد کی حفاظت کرنے والا محکمہ۔ آج کل مغربی حکومتوں کے ماتحت اس حکم پر عمل ہو رہاہے۔ مگر اس خیال کی بنیاد اسلام ہی نے آج سے تیرہ سوسال پہلے قائم کی ہے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلدچہارم صفحہ332 پرنٹ ویل امرتسر 2010ء)

(باقی آئندہ بروز منگل ان شاءاللہ)

(خواجہ عبدالعظیم احمد۔ مبلغ سلسلہ نائیجیریا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 ستمبر 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ