• 23 نومبر, 2020

اور جب کتابیں پھیلا دی جائیں گی

وَاِذَاالصُّحُفُ نُشِرَت (التکویر: 11)
اور جب کتابیں پھیلا دی جائیں گی

جس طرح ہر مذہب کے لوگ اپنے اندر کچھ ایسی خصوصیتیں رکھتے ہیں جو دیگر انسانوں، خاندانوں کا اقوام، ممالک اور مذاہب کے ماننے والوں میں نہیں ہوتیں اسی طرح زمانے بھی ایک دوسرے سے مختلف طور پر چلتے ہیں۔ ہر زمانہ جو متغیر ہوتا ہے اس کے ساتھ ایسی خصوصیتیں ہوتی ہیں جو دوسرے زمانہ کے لوگوں میں نہیں ہوتیں۔ ان امتیازات کی وجہ سے اور بھی کئی ایک اختلاف پائے جاتے ہیں مثلاً صرف جسمانی طور پر ہی دیکھا جائے تو مختلف انسانوں کے علاجوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ ڈاکٹر ایک ہی مرض کے کئی مریضوں کو ان کے حالات کے لحاظ سے مختلف دوائی دیتا ہے۔

یہی حال قوموں کا ہے بعض اقوام میں بعض امراض ہوتی ہیں جو دوسری قوموں میں نہیں پائی جاتیں یا کم ہوتی ہیں۔ بعض بیماریاں آب وہوا سے تعلق رکھتی ہیں۔ غرض جس طرح انسانوں میں اختلاف، خاندانوں میں اختلاف، قوموں میں اختلاف اور ملکوں میں اختلاف ہوتا ہے اسی طرح زمانوں میں بھی اختلاف ہوتا ہے۔ بعض خاص امراض ایک وقت میں بہت پھیلتے ہیں مگر دوسرے زمانہ میں نہیں ہوتے۔

تمام انبیاء کی غرض تو ایک ہی ہے لیکن خدا کا پیغام پہنچانے کے ذرائع میں فرق ہے

جس طرح یہ سلسلہ ظاہر میں نظر آتا ہے اسی طرح باطن میں بھی ہے۔ جس طرح ظاہری امراض کے علاج میں تغیر ہوتا رہتا ہے اسی طرح باطنی امراض کے لئے بھی ہر زمانہ کے لئے علیحدہ علاج ہیں۔ تمام انبیاء کی غرض تو ایک ہی ہوتی ہے یعنی یہ کہ ا س کے بندوں کوخدا تعالیٰ تک پہنچائیں اور اس کے مقرب بنائیں۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ظاہر ہو تے ہیں تو اور ہی رنگ میں اپنی قوم کو نصیحت کرتے ہیں۔ باتیں تو وہی بیان کرتے ہیں جو رسول کریم ﷺ نے بیان کیں لیکن وہ اپنے زمانہ کی زبان میں بولتے ہیں۔ وہ فطرت کے میلانوں کو اپیل کرتے ہیں۔ وہ اپنی قوم کے باریک قومی جذبات کے ذریعہ لوگوں کو اپنی طرف نہیں کھنچتے بلکہ کہتے ہیں وہ خدا وند خدا جو بجلیوں سے ظاہر ہوتا ہے گویا اسے مادی شکل میں لوگوں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

وہ اسے بجلیوں، آندھیوں اور طوفانوں میں دکھاتے ہیں لیکن حضرت داؤدؑ اور حضرت سلیمانؑ کے زمانہ میں انہی باتوں کو اور طرز میں پیش کیا جاتا ہے۔ وہ بھی لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف بلاتے ہیں لیکن حضرت موسیٰ ؑ کی زبان میں نہیں کیونکہ ان لوگوں کے لئے اور زبان کی ضرورت تھی۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ ؑ کا زمانہ آتا ہے۔ تو بات بدل جاتی ہے جہاں خدا تعالیٰ کو بجلیوں اور آندھیوں میں دکھایا جاتا تھا وہاں اب اسے محبت کے رنگ میں پیش کیا جاتا ہے وہ ہمیں پیار کرتا ہے، ہماری مصیبتوں پر کڑھتا ہے۔ گویا حضرت عیسیٰ ؑ اسے بجلیوں میں نہیں بلکہ ماں کے پستانوں اور اس کی شفقت آمیز تھپکیوں میں ظاہر کرتے ہیں۔ یہاں بھی بات وہی ہے کہ خدا کی طرف متوجہ کیا جاتا ہے لیکن زبان بدل گئی چیز میں کوئی فرق نہیں آیا۔ لیکن اس کے لئے جو ذرائع استعمال کئے جاتے ہیں ان میں فرق آگیا۔ ان سب کے بعد رسول کریم ﷺ ظاہر ہوتے ہیں۔ اس وقت انسانی دماغ کمالات کی انتہا کو پہنچ جاتا ہے، وہ مختلف زمانوں میں سے گذرتے ہوئے رشد حاصل کر لیتا ہے، جوانی کو پہنچ جاتا ہے، بچپن کی کیفیات پیچھے چھوڑ آتا ہے، وہ اپنے اندر امتیاز کی طاقت پیدا کر لیتا ہے، اس کے پرکھنے کی طاقت مضبوط ہو جاتی ہے اس وقت طرز کلام بالکل بدل جاتا ہے۔ اگرچہ اب بھی اسے باپ اور اس کی محبت کی طرح دکھایا جاتا ہے لیکن باپ کی صورت میں نہیں بلکہ باپ کی محبت بتا کر اسے پیش کیا جاتا ہے۔ حضرت داؤدّ ؑکی شاعری اب بھی استعمال کی جاتی ہے حضرت سلمان ؑکی دانائی اور حضرت موسیٰ ؑ کی تلوار سے اب بھی کام لیا جاتا ہے حضرت عیسیٰ ؑ کی شفقت اب بھی استعمال کی جاتی ہے حضرت نوح ؑکی پیشگوئیوں والی کڑک اب بھی موجود ہے حضرت ابراہیم ؑ کے حلم کی شان اب بھی نمایاں ہے لیکن یہ سب چیزیں اپنے اپنے مقام پر ہیں اور ان سب میں سے گذار کر انسان کو خدا تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جو تعلیم حضرت نوح ؑ نے دی وہی حضرت ابراہیم ؑ نے پیش کی۔ حضرت داؤد ؑ اور حضرت سلیمان ؑ نے بھی اسے ہی پیش کیا۔ وہی حضرت موسیٰ ؑ، حضرت عیسیٰ ؑ اور رسول کریمﷺ دنیا میں لائے لیکن ہر ایک نے اپنے اپنے زمانہ کی زبان کو استعمال کیا۔ فطرت انسانی کے پیدا کرنے والے خدا نے ہر زمانہ میں ترقی پانے اور نشونما حاصل کرنے والی فطرت انسانی کو پڑھا اور اس کے دماغ کو ٹٹولا اور جو حس اس کے دل کی باریک تاروں کو ہلانے والی تھی اس کو لیااور اسی آلہ سے اس کے دل میں حرکت پیدا کی۔ جس طرح ایک اچھا گوّیا پیانوبجاتے وقت وہی آلہ استعمال نہیں کرتا جس سے سارنگی بجاتا ہے۔ سارنگی وہ تار سے بجاتا ہے اور پیانوانگلیوں سے۔ اسی طرح خداتعالیٰ نے جو قانون ِ قدرت کے گیت دنیامیں پیدا کرتا ہے جو اپنی پیدا کی ہوئی نیچر کی سریلی آوازیں نکالتا ہے اسی آلہ سے جو اپنے اپنے زمانہ میں دلوں کے باجے بہتر سے بہتر صورت میں بجانے کی قابلیت رکھتا تھا کام لیا۔

پس ہماری جماعت کو جو تبلیغی جماعت ہے جو دنیا کے اندر روح، زندگی، نہ مٹنے والی طاقت اور نہ دبنے والا جوش اور نہ پست ہونے والے ارادے پیدا کرنے کے لئے مبعوث کی گئی ہے محسوس کرنا چاہئے کہ یہ زمانہ کس قسم کا ہے۔ جب تک وہ اس زمانہ کے مطابق اور مناسب حال ذرائع استعمال نہیں کرتی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یاد رکھو تم جال میں پانی نہیں ٹھہرا سکتے، تم لوہے کی چادروں میں سے سیال چیزوں کو نہیں چھان سکتے، تم آگ کے ذریعہ ٹھنڈک پیدا نہیں کر سکتے خداتعالیٰ نے جو قانون بنایا ہے اسی کے مطابق کام ہو گا اور جو انسان ان ذرائع کو استعمال نہیں کرتا جو کسی کام کے لئے خداتعالیٰ نے مقرر کئے ہیں وہ کامیاب بھی نہیں ہو سکتا۔ بہت سے نادان ہیں جن کی نادانیوں کا شکار بعض عقلمند بھی ہوجاتے ہیں فلاں رسول کے زمانہ میں یوں ہوتا تھا، فلاں نبی کی جماعت یوں کرتی تھی، تم نبی کی جماعت ہو کر یوں کیوں کرتے ہو۔ بے شک تمام انبیاء ؑ کی جماعتوں کا مقصد ایک ہی ہے لیکن اپنے اپنے زمانہ کے لحاظ سے اس کے حصول کے ذرائع میں تغیر ہوتا رہا ہے۔ اگر آج ہو بہو وہی ذرائع استعمال کئے جائیں جو پہلے کئے جاتے تھے تو یقینا ناکامی ہوگی۔

انبیاء کی تعلیم میں تضاد کیوں؟

خداتعالیٰ نے ہی حضرت بدھ سے کہا اپنے مریدوں سے کہو گلے میں جھولی ڈال لو اور جاؤ دنیا میں بھیک مانگو۔ تمہارے لئے وہی رزق طیب ہے جو بھیک مانگ کر مہیا کیا جائے اپنے پاس کوئی پیسہ نہ رکھو۔ پھر حضرت عیسیٰ ؑ کو بھی اسی خدا نے پیدا کیا لیکن انہیں حکم دیا جا کر مریدوں سے کہو کھاؤ، پیو لیکن کل کے لئے خزانہ جمع نہ کرو۔ کسی سے مانگو نہیں اپنے گھر سے کھاؤ لیکن خدا سے ہر روز کی روٹی روز مانگو۔ پھر رسول اللہ محمد ﷺ کو اسی خدا نے مبعوث کیا لیکن یہ نہیں کہا کہ بھیک مانگ بلکہ فرمایا بھیک مانگنا ٹھیک نہیں بھیک مت مانگ۔ حضرت بدھ ؑ کو خدا نے کہا بھیک مانگ لیکن محمدرسول اللہ ﷺ کو اسی خدا نے کہا مت مانگ اس لئے کہ بدھ ؑ کے زمانہ میں دنیا کے ارتقاء اور ترقی کے لئے بھیک مانگنا ہی ضروری تھا اور محمد رسول اللہ ؐ کے زمانہ میں دنیا کے ارتقاء اور ترقی کے لئے بھیک چھڑانا ہی ضروری تھا۔ نادان کہتا ہے ایک خدا کی طرف سے دو متضادتعلیمیں کس طرح ہو سکتی ہیں لیکن وہ ایک ڈاکٹر کے دو نسخے دیکھ کر سبق حاصل نہیں کرتا۔ ایک وقت ڈاکٹر مریض کو دیکھ کر کہتا ہے اسے فاقہ کرایا جائے۔ لیکن دوسرے وقت آتا ہے تو کہتا ہے تم نے اسے بھوکا مار دیا اسے یخنی دینی چاہئے یہ دینا چاہئے۔

اگر کوئی کہے یہ اچھا ڈاکٹر ہے پرسوں کہتا تھا کھانے کو کچھ مت دو اور آج کہتا ہے اسے کھانے کو کیوں نہیں دیتے تو وہ نادان ہے کیونکہ مریض کی صحت کے لئے پرسوں فاقہ ہی ضروری تھا اور آج اس کے لئے کھانا مفید ہے یہی حال قوموں کے علاج کاہے۔

یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے

یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے۔ رسول کریمﷺ کا زمانہ اور تھا حضرت عیسیٰ ؑ، حضرت موسیٰ ؑ، حضرت سلیمان ؑ، حضرت داؤد ؑ اور حضرت نوح ؑ کے زمانے اور تھے۔ اور ہم نہیں جانتے کہ قیامت تک امتِ محمدیہ پر ابھی اور کتنے زمانے آئیں گے۔ بے شک قرآن کریم وہی رہے گا، احکام سنت تبدیل نہیں ہونگے، حدیث نہیں بدلے گی لیکن قرآن و حدیث کے پھیلانے کے ذرائع بدلتے جائیں گے۔ ایک زمانہ میں قرآن کریم کی تعلیم کا صرف پیش کرنا ہی کافی تھا اور یہ بتانا ہی اس کی برتری کی دلیل تھی کہ اس میں توحید کی تعلیم ہے، یہ اخلاقی حالت کو درست کرتا ہے لیکن آج اتنا کہنے سے کچھ اثر نہیں ہوتا۔آج سوال ہوتا ہے فلسفہ نے جو شبہات ہمارے اندر پیدا کر دئیے ہیں، سائنس نے جو شکوک ہمارے دلوں میں ڈال دئیے ہیں ان کو قرآن حل کرتا ہے یا نہیں؟ آج زمانہ کے اندر غلامی اور آزادی، گورے اور کالے، سرمایہ دار اور مزدور کی جو تمیزیں پیدا ہوگئی ہیں کیا قرآن میں ان کا علاج موجود ہے؟ اگر نہیں تو قطع نظر اس کے کہ یہ سوال غلط ہیں یا صحیح۔ اسے ماننے کو کوئی تیار نہ ہوگا۔

پروپیگنڈا اسی کامیابی کا ذریعہ ہے

ایک وہ زمانہ تھا جب فتح کے لئے اور ہتھیار استعمال ہوتے تھے لیکن آج وَاِذَاالصُّحُفُ نُشِرَت (التکویر: آیت 11) کے ماتحت پروپیگنڈا ہی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ یہ نشر صحف کا زمانہ ہے اور جب تک ہم یہ طریق اختیار نہ کریں گے ترقی نہیں کر سکتے ایک زمانہ میں لوگ اس قدر مصروف نہیں ہوتے تھے اور فارغ بیٹھ کر باتیں کر سکتے تھے۔ وہ زبانی تبلیغ کا زمانہ تھالیکن ایک یہ زمانہ ہے جب کام زیادہ ہے اور لوگ ملنے سے گھبراتے ہیں دن کے وقت انہیں تبلیغ کرنی مشکل ہے۔ لیکن اگر ایک چھوٹا سا ٹریکٹ یا اخبار کی کاپی ہو تو اسے ایک مصروف و مشغول انسان بھی بستر پر لیٹے ہوئے نیند کے انتظار میں مطالعہ کر سکتا ہے اور وہ کام جو ہم نہیں کر سکتے وہ ایک اخبار یا ٹریکٹ نہایت آسانی سے سرانجام دے سکتا ہے۔ رات کے گیارہ بجے جب کوئی ہمیں اپنے مکان کے اندر نہیں گھسنے دیگا ایک ٹریکٹ یا اخبار کو خود تلاش کرکے لائے گا تا نیند کے انتظار کا وقت اچھی طرح گذرجائے۔ بسا اوقات نیند اس پر غالب آجائے گی اور وہ اس تحریک کو ختم نہ کر سکے گا لیکن وہ اونگھ کی گھڑیاں اس تحریر کو اس کے دماغ پر مکرر سہ۔ کرر مختلف رنگوں میں نقش ہو رہی ہو نگی اور وہ صبح کو ایک خاص اثر لے کر اٹھے گا۔

اخبارات

جس طرح خاص دائرہ میں کتابیں بہت اثر کرتی ہیں اسی طرح ایک دائرہ میں اخبارات بھی بہت اثر کرتے ہیں۔ ہمارے کئی ایک اخبارہیں الفضل، سن رائز، ریویو انگریزی، اردو، مصباح، احمدیہ گزٹ،الحکم یہ تو صدر انجمن کے اخبار ہیں۔ ان کے علاوہ فاروق اور نور بھی ہیں۔ پھر دیگر ممالک سے بھی ہمارے اخبارات شائع ہوتے ہیں۔ بعض جماعتیں ٹریکٹ شائع کرتی ہیں۔ ان اخبارات سے سلسلہ کی تبلیغ میں بھی مدد ملتی ہے اور جماعت کی تربیت بھی ہوتی ہے۔ الفضل تو خیر ہے ہی اشاعت و تبلیغ کا اخبار

(الفضل مارچ 1929ء بحوالہ خطبات محمود (خطبہ فرمودہ 22مارچ 1929ء) جلد12 صفحہ69 تا 76)

(مرسلہ: لطف المنان خان، درثمین خان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2020