• 23 نومبر, 2020

عفو و درگزر کی حسین راہیں

الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

(آل عمران 135)

وہ لوگ جو آسائش میں بھی خرچ کرتے ہیں اور تنگی میں بھی اور غصہ کو دباجانے والے اور لوگوں سے درگزرکرنے والے ہیں اور اللہ احسان کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

عفوودرگزر صفات حسنہ میں سے ایک عظیم صفت ہے۔ اس کی اہمیت کا اندازہ اسی بات سے ہو جاتا ہے کہ قرآن کریم، احادیث رسولﷺ اور تصانیف سیدنا احمد ؑ میں اس صفت حسنہ کا ذکر کثرت سے پایا جاتا ہے۔

عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃ ؓ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا نَقَصَتْ صَدَقَۃٌ مِنْ مَالٍ وَمَا زَادَ اللّٰہُ عَبْدًا بِعَفْوٍ اِلَّا عِزًّا

(مسلم باب استحباب العفو)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺنے فرمایا کہ صدقہ سے مال میں کمی نہیں ہوتی اور جو شخص دوسرے کے قصور معاف کر دیتا ہے اللہ تعالیٰ اسے اور عزت دیتا ہے اور کسی کے قصور معاف کردینے سے کوئی بے عزتی نہیں ہوتی۔

عَنْ مُعَاذِ بْنِ اَنَسٍ عَنْ اَبِیہِ عَنْ رَّسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَنَّہٗ قَالَ اَفْضَلُ الْفَضَاءِلِ اَنْ تَصِلَ مَنْ قَطَعَکَ وَتُعْطِیَ مَنْ مَنَعَکَ وَتَصْفَحَ عَمَّنْ شَتَمَکَ

(مسند احمد بن حنبل)

حضرت معاذبن انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا: سب سے بڑی فضیلت یہ ہے کہ تو قطع تعلق کرنے والے سے تعلق قائم رکھے اور جو تجھے نہیں دیتا اُسے بھی دے اور جو تجھے برا بھلا کہتا ہے اس سے تو درگزر کر۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں انسانی اخلاق پر روشنی ڈالتے ہوئے صفت ِعفو کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’دوسری قسم اُن اَخلاق کی جو ایصالِ خیر سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلا خُلق ان میں سے عفو ہے یعنی کسی کے گناہ کو بخش دینا۔ اس میں ایصالِ خیر یہ ہے کہ جو گناہ کرتا ہے وہ ایک ضرر پہنچاتا ہے اور اس لائق ہوتا ہے کہ اس کو بھی ضرر پہنچایا جائے، سزا دی جائے،قید کرایا جائے، جرمانہ کرایا جائے یا آپ ہی اس پر ہاتھ اٹھایا جائے۔ پس اس کو بخش دینا اگر بخش دینا مناسب ہو تو اس کے حق میں ایصال خیر ہے اس میں قرآن شریف کی تعلیم یہ ہے۔ الَّذِينَ يُنْفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ (آل عمران:135) وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ (الشورى 41) نیک آدمی وہ ہیں جو غصہ کھانے کے محل پر اپنا غصہ کھا جاتے ہیں اور بخشنے کے محل پر گناہ کو بخشتے ہیں۔ بدی کی سزا اسی قدر بدی ہے جو کی گئی ہو۔لیکن جو شخص گناہ کو بخش دے اور ایسے موقعہ پر بخش دے کہ اس سے کوئی اصلاح ہوتی ہو کوئی شر پیدا نہ ہوتا ہو۔ یعنی عین عفو کے محل پر ہو۔نہ غیر محل پر تو اس کا بدلہ پائے گا۔ اس آیت سے ظاہر ہے کہ قرآنی تعلیم یہ نہیں کہ خواہ نخواہ اور ہر جگہ شر کا مقابلہ نہ کیا جائے اور شریروں اور ظالموں کو سزا نہ دی جائے بلکہ یہ تعلیم ہے کہ دیکھنا چاہئے کہ وہ محل اور موقعہ گناہ بخشنے کا ہے یا سزا دینے کا۔پس مجرم کے حق میں اور نیز عامہ خلائق کے حق میں جو کچھ فی الواقعہ بہتر ہو وہی صورت اختیار کی جائے۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد 10صفحہ351)

عفوو درگزر آنحضرت ﷺ کے اُسوہ کا ایک حسین پہلو تھا۔ حضرت ہند ابی ہالہ ؓآپؐ کے بارے میں فرماتے ہیں۔ لاَ تُغْضِبُہُ الدُّنْیَا وَلاَ مَاکَانَ لَھَا فَاِذَا تَعَدَّی الْحَقَّ لَمْ یَقُمْ لِغَضَبِہٖ شَیْءٌ حَتّٰی یَنْتَصِرَ لَہٗ لَا یَغْضَبُ لِنَفْسِہِ وَلَا یَنْتَصِرُ لَھِا۔

یعنی حضور اکرم ﷺ کسی دنیوی معاملہ کی وجہ سے نہ غصہ ہوتے نہ برا مناتے۔ لیکن اگر کی حق کی بے حرمتی ہوتی یا حق غضب کر لیا جاتا تو آپ کے غصہ کے سامنے کوئی نہیں ٹھہر سکتا تھا جب تک اس کی تلافی نہ ہو جاتی آپ کو چین نہیں آتا تھا۔ اپنی ذات کے لئے کبھی غصہ نہ ہوتے اور اس کے لئے بدلہ لیتے۔

(شرح السنۃ للبغوی باب جامع صفاتہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم)

حضرت عبداللہ بن ابوبکر بیان کرتے ہیں کہ ایک عرب نے ان سے ذکر کیا کہ جنگ حنین میں بھیڑ کی وجہ سے اس کا پاؤں آنحضرت کے پاؤں پر جا پڑا۔سخت قسم کی چپل جو میں نے پہن رکھی تھی اس کی وجہ سے آنحضرتﷺ کا پاؤں بری طرح زخمی ہوگیا حضورﷺ نے تکلیف کی وجہ سے ہلکا سا کوڑا مارتے ہوئے فرمایا: عبد اللہ! تم نے میرا پاؤں زخمی کردیا ہے اس سے مجھے بڑی ندامت ہوئی ہے ساری رات میں سخت بے چین رہا کہ ہائے مجھ سے یہ غلطی کیوں ہوئی۔ صبح ہوئی توکسی نے مجھے آواز دی کہ حضور ﷺ تمہیں بلاتے ہیں۔ مجھے اور گھبراہٹ ہوئی کہ کل کی غلطی کی وجہ سے شاید میری شامت آئی ہے۔ بہر حال میں حاضر ہوا تو حضورﷺ نے بڑی شفقت سے فرمایا:کل تم نے میرا پاؤں کچل دیا تھا اور اس پر میں نے تم کوایک کوڑا ہلکا سامارا تھا اس کا مجھے افسوس ہے۔ یہ 80بکریاں تمہیں دے رہا ہوں یہ لو اور جو تکلیف تمہیں مجھ سے پہنچی ہے اس کو دل سے نکال دو۔

(مسند دارمی باب فی سخاء النبیﷺ)

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام احبابِ جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’خدا چاہتا ہے کہ تمہاری ہستی پر پورا پورا انقلاب آوے اور وہ تم سے ایک موت مانگتا ہے جس کے بعد وہ تمہیں زندہ کرے گا تم آپس میں جلد صلح کرو اور اپنے بھائیوں کے گناہ بخشو۔ کیونکہ شریر ہے وہ انسان کہ جو اپنے بھائی کے ساتھ صلح پر راضی نہیں وہ کاٹا جائے گا کیونکہ وہ تفرقہ ڈالتا ہے تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضگی جانے دو اور سچے ہو کر جھوٹوں کی طرح تذلل اختیار کرو تا تم بخشے جاؤ۔نفسانیت کی فربہی چھوڑ دو کہ جس دروازہ سے تم بلائے گئے ہو اس میں سے ایک فربہ انسان داخل نہیں ہوسکتا۔کیا ہی بد قسمت ہے وہ شخص جو ان باتوں کو نہیں مانتا جو خدا کے منہ سے نکلیں اور میں نے بیان کیں۔تم اگر چاہتے ہو کہ آسمان پر تم سے خدا راضی ہو تو تم باہم ایسے ہو جاؤ جیسے ایک پیٹ سے دو بھائی۔تم میں سے زیادہ بزرگ وہی ہے جو زیادہ اپنے بھائی کے گناہ بخشتا ہے اور بد بخت ہے وہ جو ضد کرتا ہے اور نہیں بخشتا۔سو اس کا مجھ میں حصہ نہیں۔‘‘

(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد 19صفحہ 12)

نیز فرمایا: ’’میری نصیحت یہی ہے کہ دو باتوں کو یاد رکھو۔ایک خدا تعالیٰ سے ڈرو،دوسرے اپنے بھائیوں سے ایسی ہمدردی کرو جیسی اپنے نفس سے کرتے ہو۔ اگر کسی سے کوئی قصور اور غلطی سر زد ہو جاوے تو اسے معاف کرنا چاہئے نہ یہ کہ اس پر زیادہ زور دیا جاوے اور کینہ کشی کی عادت بنالی جاوے۔‘‘

(ملفوظات جلد 5 صفحہ70)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیبہ میں بھی عفوودرگزرک کی روشن مثالیں نظر آتی ہیں جو کہ حقیقت میں ان کے آقا و مولیٰ ﷺؑ کی حسین راہوں میں سے ایک راہ تھی۔

حضرت مولوی عبدالکریم ؓ اخبار الحکم میں تحریر فرماتے ہیں۔ ’’محمود (حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ) چار ایک برس کا تھا۔ حضرت معمولاً اندر بیٹھے لکھ رہے تھے۔ میاں محمود دِیا سلائی لے کر وہاں تشریف لائے اور آپ کے ساتھ بچوں کا ایک غول بھی تھا۔ پہلے کچھ دیر آپس میں کھیلتے جھگڑتے رہے پھر جوکچھ دل میں آئی اُن مسوّدات کو آگ لگا دی اور آپ لگے خوش ہونے اور تالیاں بجانے اور حضرت لکھنے میں مشغول ہیں۔ سر اُٹھا کر دیکھتے ہی نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ اتنے میں آگ بجھ گئی اور قیمتی مسودے راکھ کا ڈھیر ہو گئے اور بچوں کو کسی اور مشغلہ نے اپنی طرف کھینچ لیا۔ حضرت کو سیاق و سباق عبارت کے ملانے کے لئے کسی گزشتہ کاغذ کے دیکھنے کی ضرورت پیش آئی۔ اِس سے پوچھتے ہیں خاموش ! ا ُس سے پوچھتے ہیں دَبکا جاتا ہے۔ آخر ایک بچہ بول اُٹھا کہ میاں صاحب نے کاغذ جلا دیئے۔ عورتیں، بچے اور گھر کے سب لوگ حیران اور اُنگشت بدنداں کہ اب کیا ہو گا اور دَرحقیقت عادتاً بُری حالت اور مکروہ نظارہ کے پیش آنے کا گمان اور انتظار تھا اور ہونا بھی چاہئے تھا ۔مگر حضرت مسکرا کر فرماتے ہیں ’’خوب ہوا۔ اس میں اللہ تعالیٰ کی کوئی بڑی مصلحت ہو گی اور اب خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ اِس سے بہتر مضمون ہمیں سمجھا دے۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از عرفانی صاحبؓ حصہ اول صفحہ 104)

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ تحریر فرماتے ہیں۔ ’’حافظ حامد علی ؓکے ساتھ اس قسم کا برتاؤ اور معاملہ کرتے تھے جیسا کسی عزیز سے کیا جاتا ہےاور یہ بات حافظ حامد علیؓ ہی پر موقوف نہ تھی ۔حضرت کا ہر ایک خادم اپنی نسبت یہی سمجھتا تھا کہ مجھ سے زیادہ اور کوئی عزیز آپ کو نہیں۔ بہرحال حافظ حامد علیؓ کو ایک دفعہ کچھ لفافے اور کارڈ آپ نے دیئے کہ ڈاک خانہ میں ڈال آؤ۔ حافظ حامد علیؓ کا حافظہ کچھ ایسا ہی تھا۔پس وہ کسی اور کام میں مصروف ہو گئے اور اپنے مفوّض کو بھول گئے۔ ایک ہفتہ کے بعد حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ (جو اُن دنوں میں میاں محمود اور ہنوز بچہ ہی تھے) کچھ لفافے اور کارڈ لئے دوڑتے ہوئے آئے کہ ابّا ہم نے کوڑے کے ڈھیر سے خط نکالے ہیں۔ آپؑ نے دیکھا تو وہی خطوط تھے جن میں سے بعض رجسٹرڈ خط بھی تھے اور آپؑ اُن کے جواب کے منتظر تھے۔ حامد علیؓ کو بلوایا اور خط دکھا کر بڑی نرمی سے صرف اتنا کہا۔ ‘‘حامد علی! تمہیں نسیان بہت ہو گیا ہے ذرا فکر سے کام کیا کرو۔‘‘

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از عرفانی صاحبؓ حصہ اول صفحہ 104)

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔ ’’اللہ تعالیٰ دوسری جگہ فرماتا ہے خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَأَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِينَ (الاعراف: 200) یعنی عفو اختیار کر،معروف کا حکم دے اور جاہلوں سے کنارہ کشی اختیار کر۔ یہاں فرمایا معاف کرنے کا خُلق اختیار کرو اور اچھی باتوں کا حکم دو، اگر کسی سے زیادتی کی بات دیکھو تو درگزر کرو۔ فورًا غُصّہ چڑھا کر لڑنے بھڑنے پر تیار نہ ہو جایا کرو۔اور ساتھ یہ بھی کہ جو زیادتی کرنے والا ہے اُس کو بھی آرام سے سمجھاؤکہ دیکھو تم نے ابھی جو باتیں کی ہیں مناسب نہیں ہیں اور اگر وہ باز نہ آئے تو وہ جاہل شخص ہے، تمہارے لئے یہی مناسب ہے کہ پھر ایک طرف ہو جاؤ، چھوڑ دو اُس جگہ کو اور اس کو بھی اس کے حال پر چھوڑ دو۔ دیکھیں یہ کتنا پیارا حکم ہے اگر اس طرح عفو اختیار کیا جائے تو سوال ہی نہیں ہے کہ معاشرے میں کوئی فتنہ و فساد کی صورت پیدا ہو …… چھوٹی موٹی غلطیوں سے درگزر کر دینا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ معاشرے میں صلح جوئی کی بنیاد پڑے،صلح کی فضا پیدا ہو۔ عمومًا جو عادی مُجرم نہیں ہوتے وہ درگزر کے سلوک سے عام طور پر شرمندہ ہو جاتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کرتے ہیں اور معافی بھی مانگ لیتے ہیں …… یاد رکھو کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کی خاطر کسی کومعاف کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس دنیا میں بھی تمہاری عزت پہلے سے زیادہ قائم کرے گا کیونکہ عزت اور ذلت سب خُدا کے ہاتھ میں ہے۔’’

(خطباتِ مسرور جلد2 صفحہ140تا143)

(مرسلہ: فراز یاسین ربانی ۔ جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2020