• 23 نومبر, 2020

اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہوگا

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام 1895ء کی اپنی تصنیف آریہ دھرم میں فرماتے ہیں:
’’ہمارے مذہبی مخالف (یعنی اسلام کے مخالف) صرف بے اصل روایات اور بے بنیاد قصوں پر بھروسہ کر کے جو ہماری کتب مسلّمہ اور مقبولہ کی رُو سے ہرگز ثابت نہیں ہیں بلکہ منافقوں کے مفتریات ہیں ہمارا دل دکھاتے ہیں اور ایسی باتوں سے ہمارے سید و مولی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی ہتک کرتے ہیں اور گالیوں تک نوبت پہنچاتے ہیں جن کا ہماری معتبر کتابوں میں نام و نشان نہیں۔ اس سے زیادہ ہمارے دل دکھانے کا اور کیا موجب ہوگا کہ چند بے بنیاد افتراؤں کو پیش کر کے ہمارے اس سید و مولیٰ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر (نعوذ باللہ) زنا اور بدکاری کا الزام لگانا چاہتے ہیں جس کو ہم اپنی پوری تحقیق کی رو سے سید المعصومین اور ان تمام پاکوں کا سردار سمجھتے ہیں جو عورت کے پیٹ سے نکلے اور اس کو خاتم الانبیاء جانتے ہیں کیونکہ اس پر تمام نبوتیں اور تمام پاکیزگیاں اور تمام کمالات ختم ہو گئے۔‘‘

(آریہ دھرم۔ روحانی خزائن جلد 10 صفحہ 84)

پھر 1897ء کی آپ کی تصنیف ہے ’’سراج منیر‘‘۔ اس میں آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ:
’’ہم جب انصاف کی نظر سے دیکھتے ہیں تو تمام سلسلہ نبوت میں سے اعلیٰ درجہ کا جوانمرد نبیؐ اور زندہ نبیؐ اور خدا کا اعلیٰ درجہ کا پیارا نبیؐ صرف ایک مرد کو جانتے ہیں یعنی وہی نبیوں کا سردار، رسولوں کا فخر، تمام مُرسَلوں کا سرتاج جس کا نام محمد مصطفی و احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ و سلم ہے جس کے زیر سایہ دس دن چلنے سے وہ روشنی ملتی ہے جو پہلے اس سے ہزار برس تک نہیں مل سکتی تھی‘‘۔

(سراج منیر۔ روحانی خزائن جلد12 صفحہ 82)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2020