• 23 نومبر, 2020

جو اعلیٰ درجہ کا نور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
یہ بھی براہینِ احمدیہ کا حوالہ ہے۔ پھر جو اعلیٰ درجہ کا نور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا، اُس کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’وہ اعلیٰ درجہ کا نور جو انسان کو دیا گیا یعنی انسان کامل کو۔ وہ ملائک میں نہیں تھا۔ نجوم میں نہیں تھا۔ قمر میں نہیں تھا۔ آفتاب میں بھی نہیں تھا۔ وہ زمین کے سمندروں اور دریاؤں میں بھی نہیں تھا۔ وہ لعل اور یاقوت اور زمرد اور الماس اور موتی میں بھی نہیں تھا۔ غرض وہ کسی چیز اَرضی اور سماوی میں نہیں تھا۔ صرف انسان میں تھا۔ یعنی انسان کامل میں جس کا اتم اور اکمل اور اعلیٰ اور ارفع فرد ہمارے سید و مولیٰ سید الانبیاء سید الاحیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ سو وہ نور اس انسان کو دیا گیا اور حسب مراتب اس کے تمام ہم رنگوں کو بھی یعنی ان لوگوں کو بھی جو کسی قدر وہی رنگ رکھتے ہیں۔ …اور یہ شان اعلیٰ اور اکمل اور اتم طور پر ہمارے سیّد، ہمارے مولیٰ، ہمارے ہادی، نبی اُمّی صادق مصدوق محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں پائی جاتی تھی۔ جیسا کہ خود خدا تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔ قُلْ اِنَّ صَلَاتِیْ وَنُسُکِیْ وَمَحْیَایَ وَمَمَاتِیْ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ۔ لَا شَرِیْکَ لَہٗ۔ وَبِذٰلِکَ اُمِرْتُ وَاَنَا اَوَّلُ الْمُسْلِمِیْنَ (الانعام: 164-163) وَاَنَّ ھٰذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْمًا فَاتَّبِعُوْہُ۔ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَنْ سَبیْلِہٖ (الانعام: 154)۔ قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ وَیَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ۔ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (آل عمران: 32)۔ فَقُلْ اَسْلَمْتُ وَجْھِیَ لِلّٰہِ (آل عمران: 21)۔ وَاُمِرْتُ اَنْ اُسْلِمَ لِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (المومن: 67)

یعنی ان کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری پرستش میں جدوجہد اور میری قربانیاں اور میرا زندہ رہنا اور میرا مرنا سب خدا کے لئے اور اس کی راہ میں ہے۔ وہی خدا جو تمام عالموں کا ربّ ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ اور مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے۔ اور مَیں اوّل المسلمین ہوں۔ یعنی دنیا کی ابتدا سے اس کے اخیر تک میرے جیسا اور کوئی کامل انسان نہیں جو ایسا اعلیٰ درجہ کا فنا فی اللہ ہو۔ جو خدا تعالیٰ کی ساری امانتیں اس کو واپس دینے والا ہو‘‘۔ ’’خدا تعالیٰ کی ساری امانتیں اُس کو واپس دینے والا‘‘، اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے سپرد جتنے بھی کام کئے ہیں، جو ذمہ داریاں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد جو فرائض و حقوق تھے، اُن کی ادائیگی کی جو انتہا ہو سکتی تھی وہ آپؐ نے فرمائی۔

فرمایا: ’’اس آیت میں اُن نادان موحّدوں کا ردّ ہے جو یہ اعتقاد رکھتے ہیں جو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسرے انبیاء پر فضیلت کلّی ثابت نہیں اور ضعیف حدیثوں کو پیش کر کے کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ مجھ کو یونس بن متّٰی سے بھی زیادہ فضیلت دی جائے۔ یہ نادان نہیں سمجھتے کہ اگر وہ حدیث صحیح بھی ہو‘‘ (اول تو حدیث کا پتہ نہیں صحیح ہے کہ نہیں۔ لیکن اگر مان لیا جائے کہ صحیح بھی ہو) ’’تب بھی وہ بطور انکسار اور تذلّل ہے جو ہمیشہ ہمارے سیّد صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت تھی۔ ہر ایک بات کا ایک موقع اور محل ہوتا ہے۔ اگر کوئی صالح اپنے خط میں احقر عباد اللہ لکھے تو اس سے یہ نتیجہ نکالنا کہ یہ شخص درحقیقت تمام دنیا یہاں تک کہ بت پرستوں اور تمام فاسقوں سے بدتر ہے اور خود اقرار کرتا ہے کہ وہ احقر عباد اللہ ہے کس قدر نادانی اور شرارت نفس ہے۔ غور سے دیکھنا چاہئے کہ جس حالت میں اللہ جلّ شانہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام اوّل المسلمین رکھتا ہے اور تمام مطیعوں اور فرمانبرداروں کا سردار ٹھہراتا ہے اور سب سے پہلے امانت کو واپس دینے والا آنحضرت صلعم (صلی اللہ علیہ وسلم) کو قرار دیتا ہے تو پھر کیا بعد اس کے کسی قرآن کریم کے ماننے والے کو گنجائش ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اعلیٰ میں کسی طرح کا جرح کرسکے۔ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ بالا میں اسلام کے لئے کئی مراتب رکھ کر سب مدارج سے اعلیٰ درجہ وہی ٹھہرایا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فطرت کو عنایت فرمایا۔ سُبْحَانَ اللّٰہِ مَااَعْظَمَ شَانَکَ یَا رَسُوْلَ اللہ۔‘‘ فرماتے ہیں، فارسی شعر ہے کہ ؎

’’موسیٰ و عیسیٰ ہمہ خیلِ تُواَند
جملہ درین راہ طفیلِ تُواَند‘‘

(یعنی موسیٰ اور عیسیٰ سب تیرے ہی گروہ میں سے ہیں اور سب اس راہ میں تیرے ہی طفیل سے ہیں۔)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’پھر بقیہ ترجمہ یہ ہے کہ اللہ جلّشانہٗ اپنے ر سول کو فرماتا ہے کہ ان کو کہہ دے کہ میری راہ جو ہے وہی راہ سیدھی ہے سو تم اس کی پیروی کرو اور اَور راہوں پر مت چلو کہ وہ تمہیں خدا تعالیٰ سے دور ڈال دیں گی۔ ان کو کہہ دے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو آؤ۔ میرے پیچھے چلنا اختیار کرو۔ یعنی میرے طریق پر جو اسلام کی اعلیٰ حقیقت ہے قدم مارو۔ تب خدا تعالیٰ تم سے بھی پیار کرے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا۔ ان کو کہہ دے کہ میری راہ یہ ہے کہ مجھے حکم ہوا ہے کہ اپنا تمام وجود خدا تعالیٰ کو سونپ دوں اور اپنے تئیں ربّ العالَمین کے لئے خالص کر لوں۔ یعنی اس میں فنا ہو کر جیسا کہ وہ ربّ العالَمین ہے مَیں خادم العالَمین بنوں اور ہمہ تن اُسی کا اور اُسی کی راہ کا ہو جاؤں۔ سو مَیں نے اپنا تمام وجود اور جو کچھ میرا تھا خدا تعالیٰ کا کردیا ہے۔ اب کچھ بھی میرا نہیں جو کچھ میرا ہے وہ سب اس کا ہے‘‘۔ (آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن جلد 5صفحہ165-160) یہ حوالہ جو مَیں نے پڑھا ہے یہ آئینہ کمالاتِ اسلام کا ہے۔

پس یہ تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام ہے اور یہ اُسوہ ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا۔ اب دیکھیں ہمارے مخالفین کا یہ اُسوہ ہے کہ وہ تو رحمت لے کر آئے تھے اور یہ لوگ کلمہ گوؤں کو بھی اذیتیں پہنچانے والے ہیں۔

(خطبہ جمعہ یکم فروری 2013ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2020