• 23 نومبر, 2020

باپ کی ایک غم زدہ بیٹی

باپ کی ایک غم زدہ بیٹی
دیر کے بعد مسکرائی ہے
آنکھ نمناک ہے مگر پھر بھی
مسکراہٹ لبوں پر آئی ہے

اس سے کہنے لگی کہ کیوں ابا
آپ اتنے اداس بیٹھے ہیں
سب کو غمگیں کر دیا ہے جو
آپ کے آس پاس بیٹھے ہیں

اپنے دل میں بسا کے میرا غم
کب تلک میرا درد پالیں گے
میرے دکھ کو لگا کے سینے سے
کیا مرا ہر ستم اٹھا لیں گے

آپ کی بیٹیاں ہیں اور بھی جو
اپنوں ، غیروں کے ظلم سہتی ہیں
اپنے ماں باپ سے بھی چھپ چھپ کر
راز دل آپ ہی سے کہتی ہیں

رات سجدوں میں اپنے رب کے حضور
ان کے غم میں بھی آپ روتے ہیں
جن کے ماں باپ اور کوئی نہ ہوں
ان کے ماں باپ آپ ہوتے ہیں

آپ نے زندگی گزارنی ہے
ساری دنیا کے بوجھ اٹھائے ہوئے
آپ سے مانگتے ہیں مرہم دل
سب کے ہاتھوں سے زخم کھائے ہوئے

ان کو سمجھائیں ان سے بھی زیادہ
ہیں ستم دیدہ لوگ دنیا میں
اپنوں کے ہاتھ مرنے والوں پر
روز ہوتے ہیں سوگ دنیا میں

(کلام طاہر ایڈیشن 2004 صفحہ134۔135)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2020