• 29 نومبر, 2020

خاندانی منصوبہ بندی

تبرکات حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ
(قسط اول)

ذیل میں اس مضمون کے متعلق چند متفرق اور غیر مرتّب نوٹ درج کئے جاتے ہیں جنہیں بعد میں مرتب کر کے اور پھیلا کر اور مدلّل صورت دے کر مضمون کی شکل میں لکھا جائے گا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ مضمون لکھتے وقت مجھے اپنے بعض استدلالات کو بدلنا پڑے یا بعض تشریحات کو نئی صورت دینی پڑے۔ اس لئے اگر کسی دوست کو ان نوٹوں کے متعلق کوئی مشورہ دیناہو تو خاکسار کو مطلع فرمائیں۔ مگر ضروری ہے کہ سارے نوٹوں کے پڑھنے کے بعد کوئی رائے قائم کی جائے ا ور درمیان میں رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کی جائے۔

(1) خاندانی منصوبہ بندی یا بالفاظِ دیگر ضبطِ تولید اور عزل کا سوال نہ صرف بہت پُرانا ہے بلکہ دنیا کے اکثر ممالک میں وقتاً فوقتاً اٹھتا رہا ہے۔ اس وقت یہ سوال پاکستان میں بھی اٹھا ہوا ہے اور بعض اصحاب اس کی تائید میں اور بعض اس کے خلاف اظہار رائے فرما رہے ہیں۔ اور گو ابھی تک حکومت کی طرف سے اس معاملہ میں کسی تفصیلی سکیم کا اعلان نہیں کیا گیا لیکن امید کی جاتی ہے کہ اگر حکومت نے اس بارے میں کوئی فیصلہ کُن قدم اٹھایا بھی تو ایک اسلامی حکومت ہونے کی وجہ سے وہ اس معاملے میں قرآن و حدیث کے ارشادات کو بھی ضرور ملحوظ رکھے گی۔ اور بہرحال اس کافیصلہ کسی جبری سکیم کی صورت میں نہیں ہوگا (اور غالباً ایسا ہونا ممکن بھی نہیں) بلکہ صرف ضروری اطلاعات مہیا کرنے اور تربیتی مراکز قائم کرنے اور بعض مخصوص ہسپتال جاری کرنے تک محدود رہے گا۔

(2) اس سوال کی تہہ میں جو مختلف وقتوں میں اور مختلف ملکوں میں اٹھتا رہا ہے عموماً کئی قسم کے خیالات کارفرما رہے ہیں۔ مثلاً:
(الف) ملک میں بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے جگہ کی کمی۔
(ب) ملک میں خوراک کی قلّت
(ج) ملک میں بسنے والوں کی عمومی غربت اور ان کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کا احساس۔
(د) اولاد کی بہتر پرورش کرنے اور انہیں اچھی تعلیم دلانے کی ضرورت۔
(ھ) عورتوں کی صحت کوبرقرار رکھنے کا احساس۔
(و) عورتوں کے حسن و جمال کو بصورتِ احسن قائم رکھنے کا خیال۔
(ز) عورتوں میں ملازمت اختیار کرنے او ر آزادانہ زندگی بسر کرنے کا رجحان۔

(3) ان حالات کا علاج مختلف حالات میں عموماً بصورت ذیل کیا جاتا رہا ہے :
(ا) خاندانی منصوبہ بندی یعنی برتھ کنٹرول جس کی مختلف صورتیں ہو سکتی ہیں۔
(ب) بڑی عمر میں نکاح کرنا۔
(ج) ملکی دولت اور خصوصاً خوراک کی پیداوار بڑھا کر عوام کے معیارِ زندگی کو بلند کرنا۔
(د) قومی صحت میں ترقی کے حالات پیدا کرنا۔
(ھ) بڑھتی ہوئی آبادی کے لئے مستعمرات کی تلاش یعنی دوسرے ملکوں میں اپنی آبادی کے لئے جگہ بنانا۔
(و) ملک کی اکانومی (Economy) کو صنعت و حرفت کی طرف منتقل کرنا۔

(4) برتھ کنٹرول کے لئے عموماً یہ طریقے استعمال کئے جاتے ہیں :
(الف) عَزل یعنی انزال سے قبل بیوی سے علیحدہ ہو جانا جو پرانا طریق تھا اور عارضی برتھ کنٹرول کا رنگ رکھتا ہے۔
(ب) بیوی کے ساتھ مجامعت کرنے میں کنٹرول اور اس کی تحدید اور روک تھام۔
(ج) بعض آلات کا استعمال جن سے وقتی طور پر حمل قرار پانے میں روک ہو جاتی ہے۔
(د) بعض مانع حمل ادویہ کا استعمال۔
(ھ) بعض عمل جراحی کے طریقے۔
(و) حمل قرار پانے کے بعد حمل گرانے کی تدابیر۔

(5) ان طریقوں میں سے :
(الف) بعض غیر یقینی ہیں۔ یعنی باوجود احتیاط کے بعض اوقات حمل قرار پا جاتا ہے۔ جیسے کہ عزل کا معروف اور دیرینہ طریق ہے۔
(ب) بعض جنسی تسکین میں روک بن جاتے ہیں۔
(ج) بعض صحت کے لئے مضر ہو سکتے ہیں۔
(د) بعض مستقل طور پر مانع حمل ہیں۔ اس لئے اگربعد میں خاوند بیوی کو مزید اولاد کی خواہش پیدا ہو یا خدا نخواستہ پہلی اولاد فوت ہوجائے تو ایک بھاری مصیبت اور بڑی حسرت کا موجب بن جاتے ہیں۔
(ھ) اور بعض ناجائز اور خلافِ قانون ہیں (جیسا کہ حمل کا گرانا) سوائے اس کے کہ باقاعدہ ڈاکٹری مشورہ کے ماتحت اختیار کئے جائیں۔

(6) اس لئے مستقل طور پر اولاد کا رستہ بند کرنا تو کسی طرح درست اور مناسب نہیں۔ سوائے اس کے کہ عورت کی زندگی یا صحت کو بچانے کے لئے بصورت مجبوری ڈاکٹری ہدایت کے ماتحت یہ رستہ اختیار کیا جائے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ (البقرہ:196)

یعنی اے مسلمانو! اپنے ہاتھوں سے اپنی ہلاکت کا سامان نہ پیدا کرو۔

(7) اصولی طور پر مقدس بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے اولاد کی کثرت کو پسند فرمایا ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں :

(الف) تَزَوَّجُو الْوَلُودَ الْوَدُوْدَ فَاِنِّیْ مُکَاثِرٌ بِکُمُ الْاُمَمَ

(ابوداؤد و نسائی۔ کتاب النکاح)

یعنی اے مسلمانو! تم ایسی بیویوں کے ساتھ شادی کیا کرو جو زیادہ اولاد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں اور خاوندوں کے ساتھ محبت کرنے والی ہوں (تاکہ خاوندوں کو ان کی طرف رغبت اور کشش پیدا ہو) کیونکہ میں دوسرے نبیوں کی امتوں کے مقابل پر قیامت کے دن اپنی امت کی کثرت پر فخر کروں گا۔

(ب) اور قرآن مجید فرماتا ہے : نِسَآؤُکُمۡ حَرۡثٌ لَّکُمۡ ۪ فَاۡتُوۡا حَرۡثَکُمۡ اَنّٰی شِئۡتُمۡ ۫ وَ قَدِّمُوۡا لِاَنۡفُسِکُمۡ ؕ (البقرۃ:224)

یعنی تمہاری بیویاں تمہاری کھیتیاں ہیں جن سے تمہاری نسل کی فصل پیدا ہوتی ہے۔ پس اپنی کھیتیوں کے پاس جب اور جس طرح پسند کرو آؤ اور اپنے مستقبل کے لئے اچھے حالات پیدا کرو۔

اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ بیویوں کے ساتھ مباشرت کرنے میں اس پہلو کو کبھی نظر انداز نہ کرو کہ انہی کے ذریعہ سے تمہاری نسل کا سلسلہ چلتا اور تمہارے مستقبل کی بنیاد قائم ہوتی ہے۔

(8) مگر صحت کی غرض سے یا سفر کی حالت میں جبکہ بعض اوقات مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے عزل یعنی عارضی برتھ کنٹرول کی اجازت بھی دی گئی ہے۔ چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :

(الف) سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ مَا مِنْ کُلِّ الْمَاءِ یَکُوْنُ الْوَلَدُ

(صحیح مسلم)

یعنی رسول پا ک صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل یعنی وقتی برتھ کنٹرول کے متعلق دریافت کیا گیا تو آپؐ نے فرمایا ہر نطفہ سے تو بچہ پیدا نہیں ہوا کرتا۔

اس سے یہ مراد ہے کہ اگر کسی خاص ضرورت کے وقت عزل کر لو تو اس پر حرج نہیں۔ مگر یاد رکھنا چاہئے کہ عزل کا لفظ جو حدیث میں آتا ہے اس کے معنی وقتی اور عارضی برتھ کنٹرول کے ہیں۔ مستقل طور پر سلسلہءولادت کو روکنے کے نہیں ہیں۔

(ب) اسی طرح ایک دوسری حدیث میں آپ فرماتے ہیں :

مَا عَلَیْکُمْ اَوَ لَا عَلَیْکُمْ اَنْ لَّا تَفْعَلُوْا مَا مِنْ نَسَمَۃٍ کَائِنَۃٍ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ اِلَّاھِیَ کَائِنَۃٌ۔

(صحیح بخاری کتاب العتق)

یعنی کیا حرج ہو گا اگر تم عزل یعنی برتھ کنٹرول نہ کرو۔ یا یہ کہ میں تمہیں عزل سے رکنے کا حکم نہیں دیتا (کیونکہ یہ اولاد کو روکنے کا کوئی قطعی اور یقینی ذریعہ نہیں ہے) خدا جس وجود کو پیدا کرنا چاہے اسے عزل کے باوجود پیدا کر سکتا ہے۔

اس حدیث سے حضرت ابنِ سیرِین ؓ اور علامہ قرطبی اور بہت سے دوسرے ائمہ نے استدلال کیا ہے کہ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدگی پر دلالت کرتے ہیں۔ گو جیسا کہ الفاظ سے ظاہر ہے غالباً یہ ناپسندیدگی زیادہ سخت قسم کی نہیں ہے۔

(ج) پھر ایک اور حدیث میں آپؐ فرماتے ہیں:

قَالَتِ الْیَھُوْدُ الْعَزْلِ الْمُوْءُودَۃُ الْصُغْریٰ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَذَبَتِ الْیَھُوْدُ اِنَّ اللّٰہَ لَو اَرَادَ اَنْ یَخْلُقُ شَیْئًا لَمْ یَسْتَطِیْعُ اَحَدٌ اَنْ یَّصْرِفَہ،

(سنن ابی داؤد، کتاب النکاح باب ما جاء فی العزل)

یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا گیا کہ یہودی لوگ کہتے ہیں کہ عزل یعنی برتھ کنٹرول تو گویا مخفی رنگ میں ایسا ہے کہ ایک زندہ رہنے والے بچہ کو خود اپنے ہاتھ سے دفن کر دیا جائے۔ آپؐ نے فرمایا یہود غلط کہتے ہیں (کیونکہ عزل ایک وقتی اور غیریقینی سا طریقہ ہے اور) اگر خدا عزل کے باوجود کوئی بچہ پیدا کرنا چاہے تو کوئی شخص اسے روک نہیں سکتا۔

(د) مگرا س کے ساتھ ہی آپ نے یہ خطرہ بھی ظاہر فرمایا ہے کہ اگر عزل کے طریق کو کامیاب صورت حاصل ہو جائے تو وہ قتلِ اولاد کا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں :

سَأَ لُوہُ عَنِ الْعَزْلِ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَالِکَ الْوَاْدُ الْخَفِیُّ وَھِیَ (وَ اِذَا الْمَوْءُ وْدَۃُ سُئِلَتْ)

(صحیح مسلم کتاب النکاح باب جواز الغیلۃ وھی وط ء المرضع و کراھۃ)

یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عزل یعنی برتھ کنٹرول کے متعلق پوچھا گیا جس پر آپ نے فرمایا یہ تو ایک مخفی قسم کا قتلِ اولاد ہے۔ اور قرآن مجید فرماتا ہے کہ قیامت کے دن قتلِ اولاد کے متعلق پرسش ہو گی۔

(9) (الف) اوپرکی دونوں حدیثیں بظاہر متضاد نظر آتی ہیں مگر حقیقتاً وہ متضاد نہیں۔ کیونکہ جہاں آپ نے یہود کے خیال کی تکذیب فرمائی ہے وہاں جیسا کہ حدیث کی عبارت سے ظاہر ہے یہ مراد ہے کہ بعض اوقات عزل کے باوجود بچہ پیدا ہو جاتا ہے۔ اور جہاں خود عزل کو قتلِ اولاد کے مترادف قرار دیا ہے وہاں یہ مراد ہے کہ اگر کوئی حمل قرار پانے والا ہو اور عزل کے نتیجہ میںوہ حمل رک جائے تو یہ بھی ایک رنگ ’’قتلِ اولاد‘‘ کا ہو گا۔

(ب) دوسری تشریح ان حدیثوں کے ظاہری تضاد کو دور کرنے کی یہ ہے کہ جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا ہے کہ یہودی لوگ جھوٹ کہتے ہیں کہ عزل ایک مخفی قسم کا قتلِ اولاد ہے۔ وہاں یہ مراد ہے کہ جو خاص ہسپتال دنیا کی اصلاح اور ترقی کے لئے خدا تعالیٰ پیدا کرنا چاہتا ہے خواہ وہ دین کے میدان میں ہوں یعنی انبیاء کرام اور دوسرے روحانی مصلحین جن کا وجود روحانیت کی بقا کے لئے ضروری ہے یا وہ دنیا کے میدان میں ہوں یعنی بڑے بڑے ڈاکٹر اور سائنسدان اور مصلح قسم کے سیاستدان وغیرہ۔ جن کا وجود نسلِ انسانی کے لئے خاص طور پر مفید ہے تو خواہ عزل کا طریق ہویا کچھ اور ہو خدا تعالیٰ ان کے پیدا کرنے کا کوئی نہ کوئی رستہ کھول دیتا ہے تاکہ دنیا کی ترقی میں روک نہ پیدا ہو۔ اور جہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود عزل کو مخفی قسم کا ’’قتلِ اولاد‘‘ قرار دیا ہے وہاں عام لوگوں کی ولادت مراد ہے جس میں عزل کے ذریعہ روک پیدا ہو جاتی ہے۔ گویا ایک حدیث میں تقدیرِ عام کا ذکر ہے اور دوسری میں تقدیرِ خاص کا ذکر ہے۔

(ج) یہ بات بھی نوٹ کرنے کے قابل ہے کہ امام ابن حزم (جو ایک بہت بلند پایہ امام ہیں) اور بعض دوسرے ائمہ نے ان دونوں حدیثوں میں سے اس حدیث کو ترجیح دی ہے اور اسے زیادہ صحیح قرار دیا ہے جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی طرف سے فرمایا ہے کہ عزل کا طریق ایک مخفی قسم کے ‘‘قتلِ اولاد ’’کا رنگ رکھتا ہے۔

(دیکھو نیل الاوطار ابواب العزل)

(10) اسی لئے یہ روایت آتی ہے کہ :

قَدْکَرِہَ الْعَزْلَ قَوْمٌ مِّنْ اَھْلَ الْعِلْمِ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِییِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَغَیْرِھِمْ

(ترمذی کتاب النکاح)

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی ایک جماعت اور اسی طرح کئی دوسرے علماء اسلام نے عزل کو ناپسند کیا ہے۔

(11) مگر جائز اور حقیقی ضرورت کے وقت اس سے روکا بھی نہیں گیا چنانچہ حضرت جابر ؓ روایت کرتے ہیں کہ :

کُنَّا نَعْزِلُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْقُرْاٰنُ یَنْزِلُ۔

(بخاری و مسلم کتاب النکاح)

یعنی ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں بعض اوقات عزل یعنی برتھ کنٹرول کا طریق اختیار کرتے تھے اور اس زمانہ میں قرآنی شریعت نازل ہو رہی تھی۔ (مگر ہمیں اس سے قرآن میں روکا نہیں گیا)

(12) لیکن بہرحال قرآن مجید غربت اور رزق کی تنگی کی بناء پر برتھ کنٹرول کی اجازت نہیں دیتا۔ چنانچہ فرماتا ہے :

(الف) وَلَا تَقْتُلُوْۤا اَوْلَادَکُمْ خَشْیَۃَ اِمْلَا قٍ ط نَحْنُ نَرْزُقُھُمْ وَاِیَّاکُمْ ط اِنَّ قَتْلَھُمْ کَانَ خِطْاً کَبِیْرًا۔

(بنی اسرائیل:32)

یعنی اے مسلمانو! اپنی اولاد کو غربت اور تنگی کے ڈر سے قتل نہ کیا کرو۔ تمہیں اور تمہاری اولاد کو رزق دینے والے ہم ہیں۔ اور یاد رکھو کہ اولاد کو قتل کرنا خدا کی نظر میں ایک بہت بڑی خطا کاری ہے۔

(ب) پھر فرماتا ہے :

وَ لَا تَقۡتُلُوۡۤا اَوۡلَادَکُمۡ مِّنۡ اِمۡلَاقٍ ؕ نَحۡنُ نَرۡزُقُکُمۡ وَ اِیَّاہُمۡ ۚ وَ لَا تَقۡرَبُوا الۡفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنۡہَا وَ مَا بَطَنَ ۚ

(الانعام: 152)

یعنی اپنی اولاد کو غربت اور رزق کی تنگی کی وجہ سے قتل نہ کرو۔ تمہیں اور تمہاری اولاد کو رزق دینے والے ہم ہیں۔ اور دیکھو اس ذریعہ سے بے حیائی پیدا ہونے کا بھی خطرہ ہے اور تمہیں بے حیائی کے قریب تک نہیں جانا چاہئے۔ خواہ کوئی بے حیائی ظاہر میں نظر آنے والی ہو یا یہ کہ پوشیدہ ہو۔

اس لطیف آیت میں رزق کی تنگی والی دلیل کو ردّ کرنے کے علاوہ اس گہری حقیقت کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ برتھ کنٹرول کا طریق بعض صورتوں میں عیاشی اور بے حیائی کی طرف لے جاتا ہے اور مسلمانوں کو اس معاملہ میں بہت محتاط اور چوکس رہنا چاہئے۔

(ج) نیز فرماتا ہے :

قَدْ خَسِرَالَّذِیْنَ قَتَلُوْۤا اَوْلَادَھُمْ سَفَھًام بِغَیْرِعِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَارَزَقَھُمُ اللّٰہُ افْتِرَآئً عَلَی اللّٰہِط

(الانعام:141)

یعنی وہ لوگ یقینا گھاٹے اور نقصان میں ہیں جو اپنی اولاد کو صحیح علم رکھنے کے بغیر جہالت سے قتل کرتے ہیں اور اس نعمت (یعنی اولاد) کو اپنے اوپر حرام کر لیتے ہیں جو خدا نے ان کے لئے مقدر کی ہے۔ یہ خدا کے نزدیک ایک جھوٹا طریق ہے اور خدائی منشاء کے خلاف ہے۔

(د) اسی طرح فرماتا ہے :

وَکَذٰلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ اَوْلَادِھِمْ شُرَکَآؤُھُمْ

(الانعام:138)

یعنی جو لوگ مشرک ہیں اور خدا کی طاقتوں پر ایمان نہیں لاتے ہیں اور اس کے مقابل پر خیالی بُت کھڑے کرتے رہتے ہیں ان میں سے بہت سے لوگوں کو ان کے فرضی خدا ان کی اولادوں کا قتل کیا جانا اچھے رنگ میں ظاہر کر کے دکھاتے ہیں اور وہ اس کے حق میں دلیلیں گھڑ گھڑ کے خوش ہوتے ہیں۔

(13) اوپر کی درج شدہ احادیث اور قرآنی آیات سے اس شبہ کا بھی ازالہ ہو جاتا ہے جو اس موقع پر بعض لوگ کیا کرتے ہیں کہ کسی پیدا شدہ بچے کو مارنے اور پیدا ہونے سے پہلے برتھ کنٹرول کے ذریعہ کسی بچہ کی پیدائش کو روکنے میں فرق ہے۔ کیونکہ پیدائش کو روکنا قتل نہیں کہلا سکتا۔ مگر یہ شبہ درست نہیں کیونکہ قرآنی آیات اور احادیثِ رسولؐ نے ان دونوں کو عملاً ایک ہی چیز قرار دیا ہے۔ بے شک درجہ میں فرق ہے مگر عملاً اور نتائج کے لحاظ سے وہ دراصل ایک ہی چیز ہیں۔ کیونکہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل کو اَلْوَأ دُ الْخَفِیّ (یعنی خفیہ رنگ میں زندہ درگور کرنا) قرار دیا ہے۔ اور قرآن مجید نے اسے بعض حالات میں بے حیائی کا موجب گردانا ہے۔ حالانکہ ظاہر ہے کہ بے حیائی کا امکانی تعلق صرف برتھ کنٹرول کے ساتھ ہے ظاہری قتل کے ساتھ ہرگز نہیں جو کہ ظلم ہے نہ کہ موجبِ بے حیائی۔ مگر باوجود اس کے قرآن نے اس کے متعلق قتل کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اور پھر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ نطفہ میں بھی جان ہوتی ہے اور اسے دیدہ و دانستہ ڈاکٹری ہدایت کے بغیر ضائع کرنا بھی ایک رنگ کا قتل ہے۔ مفصل مضمون لکھتے ہوئے اس کے متعلق انشاء اللہ حسبِ ضرورت مزید تشریح کر دی جائے گی۔

نوٹ : اس جگہ ضمناً یہ ذکر کر دینا بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیوں میں رومن کیتھولک فرقہ جو عیسائیوں کے دوسرے فرقوں کے مقابل پر اکثریت میں ہے برتھ کنٹرول کے خلاف ہے اور اسے مذہبی رنگ میں گناہ خیال کرتا ہے۔

(14) پھر اللہ تعالیٰ اپنے رازق ہونے کی صفت کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم چونکہ خالق ہیں اس لئے مخلوق کا رزق بھی ہمارے ذمہ ہے۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے:

(الف) وَ مَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرۡضِ اِلَّا عَلَی اللّٰہِ رِزۡقُہَا وَ یَعۡلَمُ مُسۡتَقَرَّہَاوَمُسۡتَوۡدَعَہَاؕکُلٌّ فِیۡ کِتٰبٍ مُّبِیۡنٍ (ھود:7)

یعنی انسان تو انسان زمین پر کوئی رینگنے والا جانور بھی ایسا نہیں جس کا رزق خدا کے ذمہ نہ ہو۔ وہی اس کی زندگی کی قرار گاہ اور آخری انجام کو جانتا ہے اور ہر چیز اس کی ازلی ابدی قانون میں محفوظ ہے۔

(ب) نیز فرماتا ہے:

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ دَآبَّۃٍ لَّا تَحۡمِلُ رِزۡقَہَا ٭ۖ اَللّٰہُ یَرۡزُقُہَا وَ اِیَّاکُمۡ ۫ۖ

(العنکبوت:61)

یعنی دنیا میں کتنے جانور ہیں جو اپنے رزق کو ذخیرہ کر کے نہیں رکھ سکتے۔ مگر اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور اے انسانو! وہی آسمانی آقا تمہارے رزق کا سامان مہیا کرتا ہے۔

(15) ان آیات سے یہ مراد نہیں کہ خدا انسانوں کے لئے آسمان سے روٹی گراتا ہے کہ بیٹھے رہو اور کھاؤ۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ خدا نے نیچر میں ایسے وسیع سامان اور ایسے کثیرالتعداد ذرائع ودیعت کر رکھے ہیں کہ اگر لوگ غور اور دانشمندی اور محنت سے کام لیں تو وہ یقینا رزق کی تنگی سے بچ سکتے ہیں۔

(16) چنانچہ مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ اَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنْبُلَۃٍ مِّائَۃُ حَبَّۃٍ ط وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ

(البقرۃ:262)

یعنی جو لوگ خدا کے رستہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایسے بیج کی سی ہے جو بوئے جانے پر سات بالیاں نکالتا ہے اور ہر بالی میں ایک سو دانے ہوتے ہیں۔ اور خدا تعالیٰ چاہے تو ایک دانے کی پیداوار کو اس سے بھی بڑھا سکتا ہے۔

اس لطیف آیت میں خدا کے رستہ میں خرچ کرنے کی فضیلت بیان کرنے کے علاوہ یہ بات بھی وضاحت کے ساتھ بیان کی گئی ہے کہ اگر انسان کوشش اور سمجھ سے کام لے اور خدا کے پیدا کردہ سامانوں سے پوری طرح فائدہ اٹھائے تو ایک دانے سے سات سو دانے تک پیدا ہو سکتے ہیں۔ بلکہ خدا فرماتا ہے کہ اللہ قادر ہے کہ غلّہ کی پیداوار کو اس سے بھی بڑھا دے۔ پس اگر مثلاً گندم کا بیج کسی جگہ فی ایکڑ بیس سیر ڈالا جاتا ہے تو خدائی قانون کے ماتحت اس سے امکانی حد تک ساڑھے تین سو من فی ایکڑ غلّہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں کم از کم خوراک کی کمی کا سوال ختم ہو جاتا ہے۔ بے شک اس وقت یہ ایک خیالی آئیڈیل سمجھا جائے گا مگر آئیڈیلوں یعنی منتہائے نظریات کے ذریعہ ہی انسان ترقی کیا کرتا ہے۔ کاش دنیا اس مخفی قسم کے ‘›قتلِ اولاد ‘› کی طرف مائل ہو نے کی بجائے اس آئیڈیل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے جس کے لئے خدا ئی ارشاد کے مطابق نیچر کے غیر محدود خزانوں میں وسیع سامان موجود ہے۔ صرف مزید کوشش اور مزید ریسرچ اور مزید تگ و دو کی ضرورت ہے ورنہ قرآن نے تو رستہ دکھانے میں کمی نہیں کی۔

(17) اوپر والا قرآنی آئیڈیل تو شائدابھی بہت دور کی بات ہے (گو مسلمانوں کے لئے بہرحال یہی آئیڈیل ہے) پاکستانی تو فی الحال اپنی زرعی پیداوار میں اکثر دوسرے ملکوں سے بہت پیچھے ہے۔ حالانکہ کوئی وجہ نہیں کہ اپنی آنکھوں کے سامنے نمونہ موجود ہونے کے باوجود اور پھر اپنی زمین کی بنیادی زرخیزی کے باوجود پاکستان دوسرے ملکوں سے پیچھے رہے۔ موجودہ اعدادو شمار کے مطابق پاکستان اور بعض دوسرے ملکوں کی فی ایکڑ اوسط پیداوار کا موازنہ ذیل کے مختصر نقشہ سے ہو سکتا ہے :
ان اعدادو شمار سے ظاہر ہے کہ قرآنی آئیڈیل تو بہت دور کی بات ہے ابھی پاکستان کے لئے بعض دوسرے ممالک کے مقابل پر بھی بڑی ترقی کی گنجائش ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ اعلیٰ قلبہ رانی اور بہتر بیج اور پانی کی بہتر سپلائی اور کھاد کے بہتر انتظام سے وہ دوسرے ملکوں سے پیچھے رہے جبکہ اس کی زمین مسلّمہ طور پر زرخیز مانی گئی ہے۔ اور خصوصاً جبکہ پنجاب کے زراعتی فار م کے بعض تجربات میں جو چھوٹے رقبوں میں کئے گئے ہیں گندم کی پیداوار 56-1/2 من فی ایکڑ تک پہنچی ہے۔

(پنجاب ایگریکلچر)

(18) خوراک کے معاملہ میں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان تو خدا کے فضل سے بنیادی طور پر خوراک کے معاملہ میں خود مکتفی ہے صرف ایک وقتی اور عارضی کمی آگئی ہے جو بنجر زمینوں کو آباد کرنے اور سیم اور تھور کا ازالہ کرنے اور نہروں کو درست کرنے اور ٹیوب ویل وغیرہ لگانے سے بآسانی دور ہو سکتی ہے۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ دنیا کے کئی ممالک بنیادی طور پر کمی خوراک کے علاقے ہیں جن کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ دوسرے ملکوں سے اپنی خوراک خریدیں اور اپنی خام اور پختہ پیداوار ان کو دیں۔ تو جب تبادلہئ اجناس کا یہ نظام دنیا میں وسیع طور پر قائم ہے اور کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے تو پاکستان کو کیا فکر ہو سکتا ہے؟ البتہ غالباً اس بات کی ضرورت ہے کہ اس کی اکانومی میں صنعت کے عنصر کو کسی قدر مزید بلند کیا جائے۔

(19) دنیا کے وسیع منظر پر بھی غذا کا مسئلہ ماہرین کے نزدیک کم از کم فی الحال چنداں قابلِ فکر نہیں۔ چنانچہ نیشنل برتھ ریٹ کمیشن جو آبادی کے مسئلہ پر غور کرنے کے لئے مقرر کیا گیا تھا اس کی رپورٹ میں صراحتاً مذکور تھا کہ

اس بات کی کوئی شہادت نہیں کہ دنیا کی موجودہ آبادی کی ضروریات کے لئے اس کے قدرتی خزائن مکتفی نہیں ہیں۔ بلکہ اس کے الٹ ان قدرتی ذرائع اور وسائل سے پورا پورا فائدہ اٹھانے کے لئے دنیا کی موجودہ آبادی سے زیادہ آبادی کی ضرورت ہے جس کا معیارِ زندگی بھی اونچا رکھا جاسکتا ہے۔

(انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا ایڈیشن 14 جلد 3 صفحہ 647 کالم 2)

درحقیقت اب وسائل رسل و رسائل کی وسعت اور ملکوں کے باہمی روابط کے نتیجہ میں دنیا دراصل ایک ملک کے حکم میں آچکی ہے۔ اس لئے اس کے مسائل کو بھی اسی وسیع نقطہئ نظر سے دیکھنا ضروری ہے۔ اگر ایک ملک ایک چیز زیادہ پیدا کرتا ہے تو دوسرا ملک کوئی دوسری چیز زیادہ پیدا کرتا ہے اور اسی طرح باہم تبادلہ سے سب کا کام چلتا چلا جاتا ہے ورنہ حقیقتاً دنیا کا کوئی ملک بھی ایسا نہیں جو اپنی ضرورت کی ہر چیز خود پوری مقدار میں پیدا کر رہا ہو۔

نام فصل مغربی پاکستان جرمنی انگلستان ڈنمارک امریکہ جاپان حوالہ کتاب
گندم 9 من سے 10 من 2/1-22 من 24 من 31 من     پنجاب ایگریکلچر مصنفہ سر ولیم رابرٹس
چاول 10 من       27 من 40 من ایکونامک پرابلمز مصنفہ ایس عنایت حسین
مکئی 10 من       21 من   پنجاب ایگریکلچر
گنّا 325 سوا تین سو من       540 من جاوا 1500 من ایکونامک پرابلمز

(20) مگر باوجود اس کے قرآن مجید نے سارے حالات کو دیکھتے ہوئے پیدائش نسل کے متعلق بعض قدرتی کنٹرول خود بھی قائم کئے ہیں۔ چنانچہ فرماتا ہے:

وَحَمْلُہ، وَفِصٰلُہ، ثَلٰثُوْنَ شَھْرًا

(الاحقاف:16)

یعنی بچہ کے حمل میں رہنے اور اور دودھ پینے کا زمانہ تیس (30) مہینے یعنی اڑھائی سال ہونا چاہئے۔

اس آیت میں یہ اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر کسی عورت کی سُو (یعنی اس کے دو بچوں کے درمیان کا وقفہ) کم ہو اور وہ جلد جلد بچہ جنتی ہو جیسا کہ بعض عورتیں ہر سال بچہ جنتی ہیں جس کے نتیجہ میں عورت کی صحت پر بھی اثر پڑتا ہے اور بچے بھی لازماً کمزور رہتے ہیںتو اس صورت میں وقتی برتھ کنٹرول کے ذریعہ دو بچوں کی ولادت کے درمیانی عرصہ کو مناسب طور پر لمبا کیا جاسکتا ہے۔

(21) ایک او رجہت سے بھی اسلام نے اس معاملہ میں ایک حکیمانہ کنٹرول قائم کیا ہے جو میاں بیوی کی صحتوں پر خراب اثر پڑنے سے روکتا ہے۔ وہ یہ کہ گو خاص حالات میں اسلام نے چھوٹی عمر کی شادی کی اجازت دی ہے مگر عام حالات میں اسے پسند نہیں کیا۔ تاکہ نہ تو نسل کی صحت پر کوئی خراب اثر پڑے اور نہ بعد میں امکانی جھگڑے اٹھ کر باہمی تعلقات میں تلخی پیدا کرنے کا موجب بنیں۔ چنانچہ اگر استثنائی حالات میں کسی جوڑے کی چھوٹی عمر میں شادی ہو جائے تو اسلام نے لڑکی کو اس کے بڑا ہونے پر خیارِ بلوغ کا حق دیا ہے۔ خود ہمارے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی شادی بھی پچیس سال کی عمر میں ہوئی تھی۔ البتہ اگر کوئی خاص خاندانی یا قومی فوائد متوقع ہوں تو استثنائی صورت میں چھوٹی عمر میں بھی شادی ہو سکتی ہے۔

(22) یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے طبی ضرورت کے علاوہ جس میں مرد عورت کی زندگی اور صحت کا سوال ہوتا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عزل یعنی عارضی برتھ کنٹرول کی استثنائی اجازت دراصل زیادہ سفر کی حالت میں یا لونڈیوں کے متعلق دی ہے جو اس زمانہ کے حالات کا ایک وقتی اور ناگزیر نتیجہ تھیں۔ چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ :

عَنْ اَبِی سَعِیْدٍؓ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُوْ لَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ غَزْوَۃِ بَنِیْ الْمَصْطَلَق فَاَصَبْنَا سَبْیاً مِّنَ الْعَرَبِ فَاشْتَھَیْنَا النِّسَاءَ وَاشْتَدَّتْ عَلَیْناَ الْعَزْبَۃُ وَاَحْبَبْنَا الْعَزْلَ فَسَاَلْنَارَسُوْ لَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَلَیْکُمْ اَنْ لَّا تَفْعَلُوْافَاِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَ جَلَّ قَدْ کَتَبَ مَا ھُوَ خَالِقٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ۔

(بخاری و مسلم)

یعنی حضرت ابو سعیدؓ روایت کرتے ہیں کہ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ بنی مصطلق کے سفر میں نکلے اور بعض غلام عورتیں ہمارے ہاتھ آئیں اور ہمیں اپنے گھروں سے دوری کی وجہ سے عورتوں کی طرف طبعاً رغبت پیدا ہوئی مگر ہم یہ بھی نہیں چاہتے تھے کہ ہماری ان لونڈیوں کو حمل قرار پائے تو ہم نے اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا آپؐ نے فرمایا کہ تمہیں ان حالات میں حکم نہیں دیتا کہ ضرور عزل سے رُکو مگر جس بچہ کا پیدا ہونا مقدر ہو وہ تو پیدا ہو ہی جاتا ہے۔

(ب) اور دوسری حدیث میں آتا ہے کہ :

عَنْ جَابِرٍؓ اَنَّ رَجُلاً اَتَی النَّبِیْیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اِنَّ لِیْ جَارِیَۃً ھِیَ خَادِمَتُنَا وَاَنَا اَطُوْفُ عَلَیْھَا وَ اَکْرَہُ اَنْ تَحْمِلَ فَقَالَ اعْزَلْ عَنْھَا اِنْ شِئْتَ فَاِنَّہ، سَیَاتِھَا مَا قَدِّرَلَھَا۔

(ابو داؤد و مسند احمد کتاب النکاح باب ما جاء فی العزل)

یعنی حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! میری ایک لونڈی ہے جو ہماری خدمت کرتی ہے اور میں اس سے مباشرت کا تعلق رکھتا ہوں مگر میں پسند نہیں کرتا کہ اس سے بچہ پیدا ہو۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم ضروری خیال کرتے ہو تو اس سے عزل کر سکتے ہو مگر مقدر بچہ تو پیدا ہو کر ہی رہتا ہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2020