• 30 نومبر, 2020

مادرعلمی جامعہ احمدیہ ربوہ

گاہے گاہے باز خوان ایں دفتر پارینہ را
تازہ خواہی داشتن گر داغ ہائے سینہ را

کہتے ہیں،جوں جوں انسان بڑھاپے کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔اسے اپنی پرانی یادیں،پرانی اشیاء اور پرانے رشتے بہت یاد آتے ہیں۔آج میں بھی،جامعہ احمدیہ ربوہ کےزمانہ طالبعلمی کی حسین یادوں میں میں کھویا ہوا تھا۔سارے منظر بند آنکھوں سے بڑے ہی صاف و شفاف نظر آرہے تھے۔جامعہ احمدیہ میں روز اوّل سے شاہد کی ڈگری کے حصول تک کا ایک طویل سفر ایک فلم کی طرح نظروں کے سامنے دوڑتا چلا گیا۔ سوچا کیوں نہ ان یادوں کو صفحہ قرطاس کی زینت بنادیا جائے۔شاید میری طرح کسی اور دوست کی یادیں بھی تازہ ہوجائیں اور عین ممکن ہے دور حاضرکی جامعات کے طلبہ کے لئے بھی سابقہ اور موجودہ ادوار میں حصول علم کے میدان میں پیش آنے والی سہولتوں اور صعوبتوں کا موازنہ اور تقابلی جائزہ،کسی بھی رنگ میں ان کے لئے مہمیز بن جائے۔یاد رہے کہ یہ چندیاد داشتیں 1967ء سے 1975ء تک کی ہیں۔اس دور سے قبل کے حالات کا جائزہ آپ خود لےسکتے ہیں۔

جامعہ احمدیہ کا آغاز

یہ وہ مقدس ادارہ ہے جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے رکھی ۔اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ جب جماعت احمدیہ کے دوجید اور متبحر عالم حضرت مولانا عبدالکریم سیالکوٹی صاحب اور مولوی برھان الدین جہلمی صاحب یکے بعد دیگرے اس جہان فانی سے کوچ کرگئے۔جس کی وجہ سے جماعت میں ایک علمی خلا پیدا ہونے کا امکان نظر آنے لگا۔

اس صورت حال کے پیش نظر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے 1906ء میں اس مادر علمی کی بنیاد دینیات کلاس کے نام سے جاری کی۔ اب اس کے شیریں ثمرات سے اکناف عالم میں ہر قوم و ملت اور رنگ و نسل کے لوگ فیض یاب ہورہے ہیں اور ان شاء اللہ تاقیامت یہ چشمہ معرفت رواں دواں ہی رہے گا۔

جامعہ احمدیہ میں داخلہ

یہ 1967ء کی بات ہے ، میں نے میٹرک پاس کرنے کے بعد جامعہ احمدیہ میں داخلہ کی تیاری کی۔ انٹرویو کے لئے ربوہ کا رخ کیا۔ یہ میری زندگی کا کسی بزرگ کی نگرانی کے بغیر پہلا آزادانہ سفر تھا۔ اس سفر میں مجھے چار مقامات پر اس دور کی میسرہ سفری سہولیات کو تبدیل کرنا تھا۔جس میں پیش آمدہ مشکلات کا ذکر کرنا خاصا مشکل امر ہے ۔کیونکہ کچھ حصہ پیدل،کچھ بس کے اندر اور کچھ حصہ بس کی چھت پر طے کیا۔آج کا نوجوان تو یہی کہے گا۔ اللہ معاف ،بابا کیسی کیسی گپ مارتا ہے۔

بخیریت ربوہ پہنچ گئے۔رات دارالضیافت میں گزاری،اس دور کے دارلضیافت کا نقشہ صرف ہمیں ہی سمجھ میں آسکتا ہے۔آج تو اللہ کے فضل سے ایک نئی دنیا آباد ہو چکی ہے۔دارلضیافت میں میرے کمرے میں میری طرح اور بہت سے دیہاتی نوجوان جامعہ میں داخلہ کے لئے آئے ہوئے تھے۔اس طرح ادھر ہی ان سب سے علیک سلیک ہوگئی۔پھر امتداد زمانہ کے ساتھ یہ علیک سلیک ان میں سے بعض کے ساتھ چھ دہائیوں پر محیط ہو گئی ہے۔لیکن ان میں سے ایک بڑی تعداد بھولی بسری یاد بن چکے ہیں۔

جامعہ میں داخلہ کے لئے انٹرویو

جامعہ احمدیہ میں پرنسپل صاحب کے دفتر کے سامنے برآمدہ میں جملہ امیدوار ڈرے ڈرے اور سہمے ہوئے بیٹھے ہوئے ہیں۔بڑی بے چینی سے اپنی باری اور قسمت کے فیصلے کا انتظار کررہے ہیں۔بالآخر میری باری آتی ہے۔لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ پرنسپل صاحب کے دفتر میں داخل ہوا۔پرنسپل صاحب کرسی صدارت پر براجمان ہیں اور بقیہ بزرگ اساتذہ اطراف میں تشریف فرما ہیں۔ان اساتذہ کی شخصیات کا یک ایسا سحر تھا کہ ایک دیہاتی نوجوان کی اس صور ت حال میں کیا کیفیت ہو سکتی ہے۔اس کا اندازہ آپ خود ہی بخوبی لگا سکتے ہیں۔چند ایک سوال پوچھے گئے۔میری نروس شدہ صورت حال کے پیش نظر معزز کمیٹی نے مجھے جلد ہی رخصت سے نواز دیا۔بعد میں علم ہو کہ مجھے داخلہ مل گیا ہے۔الحمدللہ

جامعہ میں آمد

پھر واپس اپنے گاؤں پہنچا۔والدین کو نوید مسرت سنائی۔پھر مجوزہ تاریخ پر دوبارہ عازم ربوہ ہوا۔اس دفعہ تو میرے پاس ایک چارپائی بھی تھی۔جسے کھول کر باندھ لیا گیا تھا۔ ایک بکسہ اور کچھ متفرق سامان بھی تھا۔اس وقت مجھے جہاں بھی بس بدلنی ہوتی،اپنا سامان بس کی چھت پر چڑھانا ہوتا تھا۔جو ایک نیا تجربہ تھا۔ابتدا میں خاصا دشورا کام تھا۔لیکن بعد ازاں اس میں ماہر ہوگئے۔کہتے ہیں ایک دفعہ ساحل سمندر پر کسی نے ایک گول پتھر دیکھا۔اس نے پتھر سے پوچھا بھئی تم اس قدر گول کیسے ہوگئے ہو۔اس نے جواب دیا ٹھوکریں کھا کھا کر۔یہی کیفیت اس دنیا میں ہم سب کی ہے۔

پرنسپل صاحبان

جب ہم جامعہ میں داخل ہوئے،ان دنوں مکرم سید میر داود احمد صاحب پرنسپل تھے۔ بہت ہی بارعب شخصیت تھے۔ بہت ہی زبردست منتظم ہونے کے علاوہ علم حدیث میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ جملہ طلبہ کی ہر قسم کی تربیت اور فلا ح و بہبود کی خاطر شب وروز کوشاں رہتے۔ لیکن مع الاسف زندگی نے وفا نہ کی اور محض انچاس برس کی میں اس عالم فانی سے رخصت ہوگئے۔

ان کے بعد مکرم ملک سیف الرحمان صاحب نے جامعہ کی کمان سنبھالی۔ پھر کما حقہ اپنے فرائض کو خوب نباہا۔کیا ہی خوبصورت درویش صفت بزرگ تھے۔

جامعہ احمدیہ کا تدریسی پروگرام

جامعہ احمدیہ میں سات سالہ کورس ہوتا تھا۔کلاسز، ممہدہ،اولی،ثانیہ،ثالثہ،رابعہ،خامسہ اور شاہد کہلاتی تھیں۔غیر ملکی طلبہ کےلئے اردو سیکھنے کے لئےایک دو سال اضافی ہوتے تھے۔

مضامین، اردو، انگریزی، قرآن پاک ناظرہ، قراءت، قرآن پاک ترجمہ، تفسیر القرآن، کلام، حدیث، منطق، عربی، صرف و نحو اور فقہ اور کئی دیگر مضامین بھی ہوتے تھے۔

یہ ایک بہت ہی بھرپور تعلیمی پروگرام تھا۔سال بھر باقاعدگی سے پڑھائی کرنی پڑتی تھی۔

ہمارے بہت سے رفیق جامعہ احمدیہ کا طویل المیعاد سفر دیکھ کر یا کسی اور وجہ سے جامعہ کوالوداع کہہ گئے۔ مجھے یاد ہے کہ میری کلاس میں چھیالس طلبہ نے داخلہ لیا تھا۔آخر میں صرف آٹھ طالبعلم اپنی منزل مقصود تک پہنچے۔

لیکن جامعہ چھوڑنے والے طلبہ میں ایک بات قدرے مشترک ہے۔جب بھی وہ دوست زندگی میں کہیں ملتے ہیں ۔تو وہ جامعہ چھوڑنے پر اپنی پشیمانی کا اظہار ضرور کرتے ہیں۔بلکہ بعض دوست تو ایسے بھی ہیں جنہوں نے اپنے بچوں کو جامعہ بھجواکر تسکین خاطر حاصل کی ہےاور اپنی ناکامی کے درد کا مداوا کیا اور وہ اس کامیابی پر بہت خوش ہیں۔الحمدللہ

جامعہ کی لائبریری

جامعہ احمدیہ میں ایک مختصر سی لائبریری ہوتی تھی۔ہمارے دور میں مکرم حمید احمد خالدصاحب اس کےانچارج ہوا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ خلافت لائبریری کی نعمت میسر تھی۔تحقیقی امور کے لئے بسااوقات طلبہ کو لاہور یا دیگر شہروں میں بھی جانا پڑتا تھا۔دور حاضر میں توگھر بیٹھے دنیا جہان کی کتب کو کاپی اور پیسٹ کیا جاسکتا ہے۔

انٹر نیشنل طلبہ

اس دور میں کئی رنگ ونسل کے مختلف زبانیں بولنے والے طلبہ ایک ہی چھت کے تلے بہت ہی پیار محبت اور ایک ہی کنبےکے افراد کی طرح رہتے تھے۔بہت ہی خوبصورت ماحول تھا۔ ان طلبہ کا تعلق گھانا، کینیا، یوگنڈا، تنزانیہ، امریکہ، بنگلہ دیش، انڈو نیشیا، فجی اور ماریشس وغیرہ سے تھا۔

جامعہ کا اسمبلی ہال

جامعہ احمدیہ میں ایک اسمبلی ہال ہوتا تھا۔جس میں روزانہ اردو،عربی اور انگریزی تقاریر کا پروگرام ہوتا تھا۔نیز علمی مقابلہ جات اور امتحانات وغیرہ کے لئے بھی استعمال ہوتا تھا۔اس ہال نے ، کسی دور میں ، بڑے بڑے اسٹیجوں پر خطاب کرنے والوں کی ٹانگوں کوباقاعدہ کپکپاتے اورلرزتے دیکھا ہے۔کیونکہ ان مقررین کی ابتدائی تقاریر کا آغاز اسی ہال میں ہواکرتاتھا۔بہر حال کہتے ہیں۔

نہال اس گلستاں میں جتنے بڑھے ہیں
ہمیشہ وہ نیچے سے اوپر چڑھے ہیں

اس تاریخی ہال میں ہمیں حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ، حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ، حضرت سرچوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب، اور دیگر بہت سارے مشہور و معروف اور دیگر مشہور زمانہ ہستیوں کو سننے کا اعزاز حاصل ہے۔

ہمارے محسن اساتذہ

میں اپنے قابل قدراساتذہ کرام اور دیگر کارکنان جامعہ کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔ جنہوں نے کمال بے نفسی سے ہماری علمی، روحانی، جسمانی اور فکری صلاحیتوں کو جلا بخشی۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء

ہر گل را رنگ و بوئے دگر است

مکرم میر سید داود احمد صاحب ۔۔ پرنسپل جامعہ۔۔ماہر منتظم۔۔حدیث ۔۔افسر جلسہ سالانہ
مکرم ملک سیف الرحمان صاحب۔مفتی سلسلہ۔حدیث۔ فقہ۔ مصنف
مکرم محمد احمد جلیل صاحب ۔مفتی سلسلہ۔حدیث ۔
مکرم ملک مبارک احمد صاحب۔ عربی دان۔ ان کی جماعتی کتب کے عربی تراجم کی خدمات لازوال ہیں۔
مکرم محمد احمد ثاقب صاحب فقہ۔شفیق اور ہمدرد وجود
مکرم نورالحق انور صاحب ۔قرآن کریم۔۔سابق مبلغ امریکہ
مکرم نورالحق تنویر صاحب ۔عربی ادب۔شیریں زبان
مکرم محمد دین ناز صاحب۔ صرف ونحو۔ اعلیٰ منتظم
مکرم لئیق احمد طاہر صاحب۔۔ موازنہ مذاھب۔۔مبلغ انگلستان
مکرم میاں رفیع احمد صاحب ۔۔تصوف۔۔مبلغ سلسلہ
مکرم میر محمود احمد صاحب منطق۔۔تحقیق و تدقیق کے ماہر
مولانا غلام باری سیف صاحب علم کلام۔۔پُرجوش خطیب
مکرم قاری محمد عاشق صاحب۔۔قراءت

دیگر کارکنان جامعہ

شریک ہم بھی تھے اس گلشن کی آبیاری میں

میجر نذیر احمد صاحب سدا بہار وجود تھے۔انہیں میجر پیار سے کہتے تھے۔ان کا کام ڈاک وغیرہ لانا ہوتا تھا۔جب کبھی ہماراخط آتا تھا۔تو نظر آنے پر بےاختیار ان کے لبوں پر ایک خوبصورت مسکراھٹ کھیلا کرتی تھی۔جس کا مطلب یہ ہوتا تھا کہ آج ہمارا خط آیا ہے۔ قریشی سعید احمد صاحب ۔راجہ عزیز احمدصاحب ۔بابا سیلونی صاحب اور سلیم احمد صاحب وغیرہ کا ذکر نہ کرنا بھی ناانصافی ہوگی۔ کیونکہ اس گلشن کی آبیاری میں سب نے ہی اپنے اپنے رنگ میں ایک اہم حصہ ڈالا ہے۔ فجزاھم اللہ احسن الجزاء یہ سب ہی نگینے لوگ تھے۔ جنہوں نے پس پردہ رہ کر بھی ہماری علمی، روحانی اور جسمانی ،ذہنی نشوونما میں بے مثل کردار ادا کیا ہے۔یہ سب ہی سادگی اور پُروقار انسانیت کا مرقع تھے۔

مسجد حسن اقبال

مکرم میر داؤد احمد صاحب کے ایک دوست مکرم حسن اقبال صاحب لندن میں رہتے تھے۔ ایک دفعہ وہ ربوہ میں جامعہ احمدیہ میں تشریف لائے۔ انہوں نے جامعہ احمدیہ میں باقاعدہ مسجد بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جس کی انہیں اجازت مل گئی۔ اللہ کے فضل سے انہوں نے اپنے ذاتی خرچ پر ایک خوبصورت سی مسجد تعمیر کی۔

چند سال قبل مکرم حسن اقبال صاحب کا لندن میں وصال ہوا ہے۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس نے از راہ شفقت ان کا ذکر خیر فرمایا اور نماز جنازہ بھی ادا فرمائی۔

ناصر ہاسٹل جامعہ احمدیہ

ناصر ہاسٹل میں طلبہ کی عمومی نگرانی ،علمی ،جسمانی اور دیگر تربیتی ضروریات کے پیش نظر بزرگ اساتذہ کرام مکرم ملک مبارک احمد صاحب ،مکرم محمد احمد صاحب جلیل ،مکرم نورالحق صاحب تنویر اور مکرم محمد دین ناز صاحب جیسے بزرگ مقرر تھے۔جوکمال پیار محبت اور تندہی کے ساتھ اپنا فریضہ ادا فرمایا کرتے تھے۔ ان کی معاونت کے لئے پریفیکٹس ہوتے تھے۔

ناصر ہاسٹل میں میسرہ آسائشیں

جامعہ احمدیہ کے شمال مشرق میں ایک وسیع و عریض کمپاؤنڈ تھا۔جس کے مین انٹرنس پر سپرنٹنڈنٹ صاحب ہاسٹل کاایک سادہ سا آفس ہوتا تھا۔ اس بلڈنگ کے شمال مشرقی جانب شرقاً غرباً بڑے بڑےچھ کمرے ہوتے تھے۔ جن کی کھڑکیاں شمال کی جانب کھلتی تھیں۔جہاں سے طلبہ آتی جاتی ٹرینوں کا نظارہ کرلیا کیا کرتے تھے۔ان کمروں کے سامنےایک کوریڈور ہوتا تھا۔ کوریڈورکےعین سامنے چھوٹے کمرے تھے جن میں حسب ضرورت دو سے چار تک طلبہ کا قیام ہوتا تھا۔ان کمروں کے مابین ایک درمیانہ سا ہال نما کمرہ تھا جس میں نمازیں ہوتی تھیں۔موسم گرما میں شدت حرارت کے پیش نظر بیرونی گیٹ کے قریب صحن میں ہی مصلے بچھا کر نمازمغرب اور عشاء ادا کی جاتی تھیں ۔اس احاطہ کے مغربی جانب، شمال کی طرف مختصر سا کچن اور اس کے ساتھ ہی ڈائیننگ ہال ہوتا تھا۔ اس کی دوسری جانب سینئر طلبہ کے لئے کیوبیکلز بنے ہوئے تھے۔جن میں ہر ایک کمرہ میں ایک ایک طالب علم رہتا تھا۔

طہارت خانے، غسل خانے اور بیوت الخلاء

ناصرہاسٹل میں ڈائننگ ہال کے قریب ایک جانب چھ غسل خانے تھے۔جہاں گرمیوں میں سخت گرم اور موسم سرما میں یخ بستہ پانی ہوتا تھا۔موسم سرما میں نہانا جوئے شیر لانے کے برابر ہوتا تھا۔یہ پانی نمکین ہوتاتھا۔یہاں سوائے لائف بوائے صابون کے کسی اور کمپنی کے صابن کی دال نہ گلتی تھی۔ہاں دلچسپ اتفاق یہ بھی ہے کہ اس پانی میں عام دال بھی نہیں گلتی تھی۔

یادرہے پینے والا پانی دو ماشکی دوست میٹھے پانی کی مشکیزے اپنے کندھوں پر لاد کر نصرت گرلز کالج کے قریب ٹیوب ویل سے لایا کرتے تھے۔جسے کھانا پکانے اور پینے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔

اس دور کے حالات کو نئی نسل کے لئے بیان کرنا خاصا مشکل اور دشوار کام ہے۔اس زمانہ میں سہولیات کی کمی کے پیش نظر گھروں سے ہٹ کر کسی قدرے کھلی جگہ پر ٹائلٹ بنائی جاتی تھی۔جہاں صفائی کرنے والے افراد روزانہ گندگی اٹھایا کرتے تھے۔عام طور پر ٹائلٹس میں پانی کا انتظام نہیں ہوتا تھا۔اس لئے ہر کوئی اپنی بدنی صفائی کے لئے پانی بھرا لوٹا اٹھا کر ساتھ لے جاتا تھا۔

جامعہ ہاسٹل میں غالباً پانچ ٹائلٹس تھیں۔جو ہاسٹل کی عمارت کے باہر قدرے دور بنی ہوئی تھیں۔علی الصبح سب طلبہ قضائے ضروریہ کے لئے اپنے اپنے لوٹے اٹھائے ٹائلٹس کے قریب اپنی اپنی باری کے انتظار میں کھڑے رہتے۔یہ محض اس دور کی عکاسی کے پیش نظر لکھ دیاہے۔

ناصر ہاسٹل کی تعمیر نو

غالباً 1973 میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کی شفقت اور منظوری سے اس دور کے اعتبار سے ایک خوبصورت بلڈنگ تعمیر کی گئی۔ جس کے نتیجہ میں طلبہ کے لئے کافی جدید سہولیات میسر ہوگئیں۔

جن میں کچن، رہائشی کمرے، ڈائننگ ہال کے علاوہ بہت اچھے صاف ستھرے غسل خانے اور بیوت الخلاء وغیرہ بھی شامل تھیں۔

دیگر مہربان خدمت گزار

کچن میں چند دوست شب وروز ہماری میزبانی کے لئے مصروف کار رہتے۔جن میں بھائی محمد علی صاحب اس ٹیم کے نگران ہوتے تھے۔ایک مزدور پیشہ ہونے کے باوجود ایک بہت ہی بارعب اور قابل احترام شخصیت تھے۔ اپنے کام میں انہیں بڑی مہارت تھی۔وہ ہمارے لئے کھانا تیار کیاکرتے تھے۔۔اس ٹیم میں مولوی محمد دین صاحب اور بابا ستار صاحب نمایاں کارکنان تھے۔ باقی کئی ایک کارکن آتے جاتے رہتے تھے۔ہم سب کے لئے دعا گو اور ممنون احسان ہیں۔

طلبہ جامعہ کا ناشتہ

جامعہ ہاسٹل میں ہمیں ناشتہ میں ایک پراٹھا دیا جاتا تھا جو آٹے اور دہی کوباہم ملا کر تیارکیا جاتا تھا۔

اس کے ساتھ آدھ پاؤ دہی ملتی تھی۔دہی کو میٹھا کرنے کی خاطر بعض لاڈلے طلبہ اپنی ذاتی چینی لے آتے تھے۔جب کہ عام طلبہ ڈائیننگ ٹیبل پر موجود نمک مرچ کو دہی میں ڈال لیا کرتے تھے۔جس کا اپنی ہی ایک مزہ ہوتا تھا۔ اگر رات کا بچا ہوا سالن بھی مل جاتا تو پھر دہی میں ڈال کر کھانے کا ایک اور ہی لطف ہوتا تھا۔اس دور کی یاد تازہ کرنے کے لئے،میں تو آج بھی بسا اوقات ایسا ہی ناشتہ کرتا ہوں۔

جامعہ ہاسٹل میں ناشتہ کے اوقات میں چائے پینےکا کوئی تصور نہیں تھا۔ہم لوگوں نے جامعہ کے سات سالہ دور میں کبھی بھی ناشتہ میں چائے نہیں پی تھی۔

لنچ اور ڈنر

اس دور میں ملک بھر میں اکثر لوگ بہت ہی سادہ کھانا کھایا کرتے تھے۔ دستورزمانہ کے موافق جامعہ احمدیہ میں بھی بہت سادہ کھانا ملا کرتا تھا۔اس دور میں بڑا گوشت قدرے سستا ہوتا تھا۔ اس کے مقابل پر چھوٹے گوشت کی قیمت دوگنی ہوتی تھی جبکہ مرغی اس سے بھی مہنگی ہوتی تھی۔اس دور میں صرف دیسی مرغی میسر ہوتی تھی۔اس لئے مرغی کا گوشت لوگ بہت ہی کم کھایا کرتے تھے۔بقول شخصے ہم مرغی اس وقت کھایا کرتے تھے جب کبھی ہم بیمار ہوں یا مرغی بیمار ہو۔اس لئے جامعہ ہاسٹل میں عام طور پر دال گوشت،سبزی گوشت یا سادہ دال بنتی تھی۔دو دن گوشت کا سرکاری ناغہ ہوتا تھا اس لئے ان دو دنوں میں دال یا سبزی وغیرہ تیا ر کی جاتی تھی۔ایک پلیٹ میں عموماً اکلوتی بوٹی ہوتی تھی۔ہفتہ میں ایک بار بڑی لذیذ کھیر تیار کی جاتی تھی جسے ہم ’’ڈش‘‘ کہتے تھے۔ اس کا طلبہ کو بڑی شدت سے انتظار ہوتا تھا۔

جامعہ احمدیہ کی ٹک شاپ

جامعہ احاطہ کے داخلی گیٹ کے پاس ہی ایک چھوٹا سا کمرہ ہوتا تھا جسے سب ٹک شاپ کہتے تھے۔ اس کے باہر دور تک لکڑی کی کرسیاں اور بنچ لگے ہوتے تھےجہاں پر طلبہ فارغ اوقات میں بیٹھ کر گپ شپ لگاتے اور چائے،دہی اوردیگر لوازمات کے ساتھ اپنے دل بہلاتے۔ہماری ٹک شاپ کی دودھ پتی،دودھ،دہی اور گاجر کا حلوہ ربوہ بھر میں مشہور و مقبول تھا۔ جب ہم لوگ جامعہ میں داخل ہوئے تو اس وقت ایک دوست مکرم ارشاد صاحب اس کے مالک تھے۔کچھ عرصہ کے بعد وہ ایک میرو نامی بچے کو بطور مددگارلے کرآگئے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ میرو اپنی شبانہ روز محنت اور جانفشانی سے ترقی کرتے کرتے ٹک شاپ کامالک بن کر امیر خان بن گیا۔

ربوہ کے پاک ماحول کا طلبہ جامعہ احمدیہ کی تربیت میں اہم کردار

یہ وہ روحانی بستی ہے جس کی سرزمین کو خلفائےکرام کی قدم بوسی کا شرف نصیب ہوا ہے۔اس کا روحانی ماحول بذات خود ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتا ہے۔ اس شہر کے باسی سو فیصد تعلیم یافتہ ہیں۔ ہر امیر وغریب کے لئے یکساں تعلیمی سہولیات میسر ہیں وہ بھی اس کی دہلیز پر۔پاکستان بھر میں ربوہ ایسا شہر ہے جس میں سب سے زیادہ زبانیں بولی جاتی ہیں کیونکہ دنیا بھر میں تبلیغ کے لئے جانے والے ہمارے مبلغین میں سے ہر ایک کسی نہ کسی ملک کی قومی اور مقامی زبان جانتا ہے۔

پاکستان بھر میں اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی ادھر ہوا کرتے تھے لیکن ان کو بھٹو صاحب کی نظر لگ گئی۔

اس بات کا اندازہ آپ ربوہ اور اس کی مضافاتی بستیوں سے لگا سکتے ہیں۔ اگر ان کا ربوہ سے موازنہ کیا جائے تو ستر سالہ ہمسائیگی کے باوجود ان کی زبان،کلچر،بودوباش اور تہذیب وتمدن میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔

یہ وہ دور تھا جب ربوہ بھر کے گلی کوچوں میں اطفال اور خدام کی ٹولیاں علی الصبح صَلِّ عَلیٰ کی آوازیں بلند کیا کرتی تھیں جس کی گونج سحر کے سناٹے میں دور دور تک سنائی دیتی اورگونجتی تھی۔جامعہ میں بھی یہ روح پرور روایت جاری تھی۔

ہم بلا مبالغہ کہہ سکتے ہیں کہ دنیا بھر میں ربوہ ہی ایسی بستی ہےجو روحانی اعتبار سے ایک خاص مقام حاصل رہاہے۔امام الزمان کے خلیفہ کا مسکن اور مرکز احمدیت ہونے کے ناطے اسے ایک فقید المثال مقام حاصل تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک دفعہ پنجابی پروگرام کرنے والےمکرم نظام دین صاحب کسی دوست کے ہمراہ ربوہ دیکھنے کے لئے تشریف لائے۔ ربوہ کا ماحول دیکھا،بہت متاثر ہوئے۔بعد میں کسی نے ان سے پوچھاکہ نظام دین صاحب! بتائیں کہ آپ نے ربوہ میں کیا کچھ دیکھا ہے؟اپنے مخصوص انداز میں کہنے لگے کہ ربوہ میں ہر کوئی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ایک دوسرے کو سلام کہنے میں پہل کرتا ہے۔

ربوہ کی مساجد

ایک عزیز لندن سے ربوہ گئے۔ واپس تشریف لائے تو ایک روز کہنے لگے کہ میں نےربوہ ہی صرف ایسا شہر دیکھا ہے جہاں پر ہر نماز آپ مسجد میں باجماعت ادا کرسکتے ہیں کیونکہ ہر محلہ میں مسجد ہے جہاں اوقات مقررہ پر باجماعت نماز کا اہتمام ہوتا ہے۔ الغرض یہ مسجدوں کا شہر کہلا سکتا ہے۔

بہشتی مقبرہ میں بزرگان کی قبروں کی زیارت

ایک دفعہ ایک غیر ملکی مہمان ربوہ تشریف لائے۔ میزبان نے انہیں ربوہ کا تعارفی وزٹ کرایا۔ اس دوران وہ بہشتی مقبرہ بھی گئے۔بہشتی مقبرہ کے صاف اور پُر سکون ماحول اور قبروں کی ترتیب و تزئین دیکھ کر بے اختیار کہنے لگےکہ جس قوم کے وفات شدگان اس ترتیب میں ہیں تو ان کے زندہ کس قدر منظم ہونگے۔

جلسہ سالانہ کے روح پرور نظارے

خدام اور انصار کے اجتماعات، علمی اور جسمانی مقابلے، صحابہ کرام، بزرگان اور علماء سے ملاقات اور انکی نصائح نیز مسجد مبارک میں علمائے کرام کے ماہ صیام میں درس القرآن اور مجالس عرفان کے روح پرور نظارے آنکھوں کے سامنے ہیں۔

جامعہ احمدیہ کے طلبہ کی خدمات پرایک طائرانہ نظر

؎خنجر چلے کسی پہ، تڑپتے ہیں ہم، امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے

سیلابوں میں خدام کی جانثاری فقیدالمثال تھی۔ سیلاب کی تباہ کاریوں میں خدام ہتھیلی پر جان رکھ کر متاثرین کی مدد میں جاپہنچتے تھے۔ کہیں دوائیاں تقسیم کی جارہی ہیں تو کہیں متاثرہ لوگوں کو کھانا کھلایا جارہا ہے۔

پاک وہند کی جنگ میں مہاجرین کی داد رسی میں خدام شب و روز انسانیت کی خدمت میں سرگرم ہیں۔

جامعہ احمدیہ کےدرجہ شاہد کے طلبہ جان کا نذرانہ ہتھیلیوں پر سجائے وطن عزیزکی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر مجاہد فورس میں شامل ہوجاتے تھے۔

موسم برسات میں وبائیں پھیلنے پر خدام سائیکلوں پر قریبی دیہاتوں میں جاکر بنی نوع انسان کی خدمت میں لگ جاتے تھے۔

دامن خلافت سے وابستہ یہ شیدائی مرکز کی حفاظت کے سلسلہ میں ہر دم تازہ اور تیار رہتے۔

غمی یا خوشی کے انتظامات کے موقع پر طلبہ جامعہ احمدیہ سر فہرست ہوتے اور خدمت کے لئے ہمیشہ مستعد رہتے۔

جلسہ سالانہ کے موقعہ پر سب طلبہ اپنے کمرے مہمانوں کو پیش کرکے خود اپنی ڈیوٹی پر پہنچ جاتے تھے اور ہر قسم کی چھوٹی اور بڑی خدمت کے لئے دل و جان سے حاضر رہتے۔

اَلْمُؤْمِنُ الْقَوِیُّ خَیْرٌ مِّنَ الْمُؤْمِنِ الضَّعِیْفِ

جامعہ احمدیہ میں طلبہ کی صحت کا خاص خیال رکھا جاتا تھا۔ان کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ان کی جسمانی صحت کا بھی خیال رکھا جاتا تھا۔ہر طالب علم کے لئے کسی نہ کسی کھیل میں شامل ہونا لازمی ہوتا تھاجس کے لئے روزانہ نماز عصر کے بعد کھیلوں کے اوقات مقرر ہوتے تھے۔ ان کھیلوں میں ہر ایک طالب علم کی شمولیت لازمی ہوتی تھی۔ عدم شمولیت قابل مؤاخذہ ہوا کرتی تھی۔

؎جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ

جامعہ احمدیہ میں طلبہ کی تعلیمی،تربیتی اور جسمانی نشوونما اور ترقی اور ان میں مقابلہ کی روح پیدا کرنے کے لئے انہیں پانچ گروپس میں تقسیم کررکھا تھا۔ یہ گروپس صداقت،شجاعت،امانت،رفاقت اور دیانت کہلاتے تھے۔ان گروپس کے مابین سال بھر علمی اور جسمانی مقابلوں کا دور چلتا رہتا تھا۔ کھیلوں کے سالانہ مقابلہ جات منعقد ہوتے تھے۔پھر جیتنے والوں کومہمان خصوصی انعامات دیا کرتے تھے۔یہ سال بھر کے اہم دنوں میں سے ایک یادگار دن ہوتا تھا۔

جامعہ احمدیہ کے طلبہ کے لئے دوران تعلیم ایک سو بیس میل کا پیدل سفر کرنا لازمی ہوتا تھا۔

اسی طرح پچیس میل کی دوڑ فیصل آباد سے ربوہ تک بھی ہواکرتی تھی۔

ربوہ سے سرگودھا اور پھر واپس ربوہ تک کا سائیکل ریس کا مقابلہ بھی جامعہ کےاہم مقابلہ جات میں سےایک تھا۔

صحت جسمانی کے متفرق دلچسپ مقابلہ جات

جامعہ کی کھیلوں کے مقابلہ جات کے علاوہ ربوہ میںبھی دیگر اس نوع کے مقابلے بڑے پیمانے پر منعقد ہوتے تھےجن میں جامعہ کے طلبہ کو شرکت یا کوئی اور خدمت کرنے کی توفیق ملتی تھی۔

طاہر کبڈی ٹورنامنٹ کےلئےپاکستان بھر سےکبڈی کی ٹیمیں ربوہ آتی تھیں۔ تعلیم الاسلام کالج کے قریب کبھی باسکٹ بال کا میلہ سج جاتا تھا تو کبھی کشتی رانی کے مقابلہ جات منعقد ہوتے تھےجو شائقین کو دریائے چناب پر لے جاتے تھے۔ کبھی گھوڑ دوڑ کے شائقین ربوہ چلے آرہے ہوتےتھےجہاںحضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کے گھوڑے اشقر اور گھوڑی لُبنیٰ کا خوب چرچا ہوتا تھا۔

جامعہ کے ایام کی متفرق یادیں

٭…حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے کامیاب دورۂ افریقہ سے واپسی پر جامعہ احمدیہ کے احاطہ میں یادگار اور تاریخی دعوت
٭…برج نہر پر سالانہ پکنک
٭…یکو والا بنگلےپرسالانہ پکنک
٭…مبلغین کی آمد ورفت ربوہ سٹیشن پر اور وہاں نعرہ ہائے تکبیر کی صدائیں
٭…مسجد اقصیٰ کا افتتاح اورپہلے جمعہ کی روح پروریادیں
٭…1974ء کا پُر آشوب دور اور خدام کی ڈیوٹیاں
٭…دریا ئے چناب پر پکنک اور کشتی رانی کے مقابلے

جمیل صاحب (دھوبی) کا حافظہ

جامعہ احمدیہ کے ہاسٹل میں ایک دھوبی جمیل لالیاں سے آیا کرتا تھا۔ بہت ہی محنتی اور جفا کش انسان تھا۔ وہ جامعہ کے طلبہ کے علاوہ ربوہ میں دیگر کئی لوگوں کے بھی کپڑے دھویا کرتا تھا۔حیرانگی کی بات یہ تھی کہ سینکڑوں کپڑے بڑی ترتیب کے ساتھ ہر کسی کو دیتا تھا۔آپ کی شکل دیکھ کر فورا ًآپ کو آپ کے کپڑے دے دیتا تھا۔اس کے پاس ایک چھوٹا سا سیاہ رنگ کا پتھر ہوتا تھا جسے وہ سوئی نما چیز کے ساتھ رگڑ کر ہر کسی کے کپڑے پر نشان لگا دیتا تھا۔پھر نہ جانے وہ کیسے ہر کسی کو اس کے کپڑے تھما دیتا تھا۔

چند دلچسپ اور ایمان افروز واقعات

جامعہ احمدیہ ربوہ کے بارے میں ایک نو مبائع کے تاثرات کچھ یوں تھےکہ جس دور میں خاکسار سینیگال کے دارالحکومت ڈاکار میں بطور مربی سلسلہ مقیم تھا تو وہاں ایک روز میرے پاس ایک احمدی دوست مکرم رفیق چانن صاحب تشریف لائے۔ان کا تعلق سوئٹزرلینڈ سے تھا۔یہ ایک عرب ملک میں کسی این جی او کے لئے خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

میں نے اس معزز مہمان کے اعزاز میں احباب جماعت کے ساتھ ایک میٹنگ کا اہتمام کیاجس میں ڈاکار شہر میں مقیم احمدی دوست تشریف لائے۔ میں نے مکرم رفیق چانن صاحب سے درخواست کی کہ وہ اپنے قبول احمدیت کا واقعہ بیان فرمائیں نیز اپنے سفراحمدیت کےبارہ میںچند ایمان افروز واقعات بھی بتائیں۔

مکرم چانن صاحب نےبہت ہی خوبصورت اور روح پرور واقعات بیان فرمائے۔

ایک واقعہ کچھ یوں بتایا کہ جب میں پہلی بار ربوہ گیاتھاتواس وقت تک میں نے بیعت نہیںکی تھی۔یہ میرا ایک تحقیقی دورہ تھا۔مجھےجماعتی نظام کے تحت ربوہ کے اہم مقامات پر لے جایا گیا اور ان مقامات کی تاریخی اہمیت کے بارےمیں بتایا گیا۔اسی سلسلہ میں جامعہ احمدیہ میں بھی جانے کا موقع ملا۔مجھے بتایا گیاکہ یہ ہمارا دینی تعلیمی ادارہ ہے جہاں کے فارغ التحصیل نوجوان انشاءاللہ تعالیٰ دنیا بھر میں غلبۂ اسلام کی مہم سر کریں گے۔

میں نے دیکھا کہ ان طلبہ کا معیا زندگی، بودو باش اور وضع قطع بہت ہی سادہ تھی۔بظاہر لگتا تھا کہ ان کو تو مناسب بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں ہیں۔جامعہ میں موجود سہولیات دنیا میں موجود معروف تعلیمی اداروں کے مقابل پر نہ ہونے کے برابر تھیں۔

کہنے لگے کہ میزبان کے کلمات سن کر اس کی باتوں پر یقین نہیں آرہاتھا۔ان کی خوش فہمی جان کر خاموشی میں ہی مصلحت جانی۔ لیکن قبول احمدیت کے بعد اللہ کے فضل سے کسب معاش کے سلسلہ میں مجھے بہت سے ممالک میں جانے کی توفیق مل رہی ہے۔ جہاں کہیں بھی جاتا ہوں تو میں دیکھ رہا ہوں کہ اس ادارہ کے فارغ التحصیل طلبہ بفضل ایزدی ایسے ایسے کارنامے سرانجام دے رہے ہیں کہ ان کے سامنے عالمی شہرت یافتہ اداروں سے فارغ التحصیل طلبہ بھی علمی اور تبلیغی میدان میں بے بس اور لاچار نظر آتے ہیں۔

فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ

چار آنے عیاشی

آج کے دور کااس دور سے مقابلہ ظاہری طور پر تو ممکن نہیں ہے۔ہاں ہم اس دور میںاللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا شکر تو ادا کرسکتے ہیں۔ وہ بہت سادہ زمانہ تھا ۔ہم میں سےبیشتر طلبہ کی مالی کشائش نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی۔سفید پوشی اور بھرم رکھنے کے لئے بہت کچھ کرنا پڑتا تھا۔ ہمیں جامعہ کی طرف سے ماہانہ وظیفہ تیس روپے ملتا تھا جس میں سے ہاسٹل کے کھانے کا بل بھی دینا ہوتا تھا۔ ہمارے ایک دوست تھے جو اللہ کے فضل سے بقید حیات ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں درازیٔ عمر سے نوازے۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنا ہفتہ وار بجٹ تیار کیا۔اس میں بنیادی ضروریات لکھیں اور درمیان میں لکھا۔ چار آنے عیاشی۔ بریکٹ میں لکھا ’’مونگ پھلی‘‘۔ اس واقعہ سے اس دور کی معاشی صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے نیز اس دور میں روپے کی قدرو قیمت کا بھی علم ہوجاتا ہے۔

جذبۂ خدمت دین

یہ ایک بہت سرد رات کا واقعہ ہےجب تعلیم الاسلام کالج میں ایک مشاعرہ ہو رہا تھا۔ میں بھی ادھر چلا گیا۔تقریباً رات گیارہ بجے میں نے کالج کی گری ہوئی دیوار کراس کی پھر ہائی سکول سے گزر کر جامعہ احمدیہ کے احاطہ میں داخل ہوگیا اور چلتے چلتے میں جامعہ کی بلڈنگ کے قریب فوارے کے پاس پہنچ گیا۔

اچانک دائیں طرف سے سائیکل چلنے کی آواز قریب آنی شروع ہوئی۔ میں حیران ہو رہا تھا کہ اس وقت اتنی رات گئے کون سائیکل پر ادھر آسکتا ہے؟ اتنے میں ایک بارعب مانوس آواز فضا میں گونجی۔ ’’السلام علیکم‘‘۔ یہ آواز مکرم سید میر داؤداحمد صاحب مرحوم پرنسپل جامعہ احمدیہ کی تھی۔ میرے تو خوف سے اوسان خطا ہوگئے کیونکہ میر صاحب مرحوم کا، باوجود محبت اور شفقت کے طلبہ پر رعب بھی بہت تھا۔

خاکسار نے وعلیکم السلام کہا۔ اب میر صاحب نے فرمایا کہ میرے دفتر میں آؤ۔ اب تو اور زیادہ پریشانی ہوئی کہ نہ معلوم میر صاحب کیا کہیں گے۔

خیر!میر صاحب نے سائیکل ایک طرف کھڑی کی۔ اپنے دفتر کا دروازہ کھولا اور اندر تشریف لے گئے۔ تھوڑی دیر بعد میں بھی اندر چلا گیا۔ میر صاحب نے استفسار فرمایا کہ اس وقت کہاں سے آئے ہو؟ میں نے عرض کی کہ کالج میں مشاعرہ ہو رہا تھا میں ادھر مشاعرہ سننے گیا تھا۔ آپ مسکرائے اور فرمانے لگے کہ آپ کو بھی مشاعرہ سننے کا شوق ہے؟ میں نے اثبات میں سر ہلایا تو فرمانے لگے کہ بیٹھ جاؤ۔ میں سامنے کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس وقت میر صاحب پینٹ شرٹ میں ملبوس تھے۔ سر پر ایک سفید رنگ کی پٹی باندھی ہوئی تھی اور آنکھوں میں تکلیف کے آثار نمایاں نظر آتے تھے۔ آپ نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری لکھائی کیسی ہے؟ میں نے عرض کی کہ کوئی خاص نہیں۔ فرمانے لگے کہ آپ کی رہائش کدھر ہے؟ میں نے عرض کی کہ دارالبرکات میں کچھ طلبہ کرایہ کے کمرے میں رہ رہے ہیں، وہاں رہتا ہوں۔ اس زمانہ میں ناصر ہاسٹل کی نئی بلڈنگ زیر تعمیر تھی۔

آپ نے فرمایا کہ جاؤ اور اپنے ساتھ مزید پانچ طلبہ کو بلا کرلاؤ۔ ان میں سے کم از کم تین خوش خط ہوں ۔

تعمیل ارشاد میں مَیں ہاسٹل میں گیا اور مکرم عبدالباسط صاحب طارق، مکرم مقصود احمد صاحب قمر، مکرم محمد اکرم باجوہ صاحب اور باقی دو دوستوں کے نام یاد نہیں رہے، ان کے ہمراہ مکرم میر صاحب کے دفتر میں حاضر ہوگیا۔

مکرم میر صاحب نے کچھ کاغذات ہمیں دیئے اور فرمایا کہ آپ میں سے تین یہ صفحات پڑھیں اور دیگر تین اسے لکھتے جائیں۔ دراصل یہ کوئی بہت ہی اہم مسودہ تھا جس کی حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کو فوری ضرورت تھی۔ حضور رحمہ اللہ نے یہ کام مکرم میر صاحب کو تفویض فرمایا ہوا تھا۔ اس وجہ سے میر صاحب اس سرد رات میں دیر تک باوجود بیماری کے کام میں مشغول تھے۔

مکرم میر صاحب نے فرمایا کہ جاکر مکرم عبدالرزاق صاحب پی ٹی آئی کو بلا لائیں۔ اس زمانہ میں فون کی ایسی سہولت تو میسر نہ تھی کہ فون کرتے اور وہ آجاتے۔ جامعہ کے احاطہ میں ہی ان کا کوارٹر ہوا کرتا تھا۔ رات گئے انہیں جاکر اٹھایا اور میر صاحب کا پیغام دیا۔ وہ فوراً تشریف لے آئے۔ میر صاحب نے فرمایا: رزاق صاحب! انہیں چائے تو پلادیں۔ رزاق صاحب نے چائے بنائی۔ چینی الگ پیش کی گئی۔ عبدالباسط طارق صاحب نے چینی کے چمچہ کو غور سے دیکھنا شروع کردیا۔ میر صاحب نے فرمایا:‘‘باسط!آپ چینی کو ایسے کیوں دیکھ رہے ہیں؟’’ باسط صاحب کہنے لگے:بڑے عرصہ کے بعد چینی کی زیارت ہوئی ہے پھر نہ جانے کب دوبارہ دیکھنے کو ملے۔ دراصل اس دور میں چینی بازار میں نہیں ملتی تھی۔ بلکہ کوٹہ سسٹم کے تحت کارڈ پر ملتی تھی۔ میر صاحب اس بات پر بہت محظوظ ہوئے اور فرمایا کہ کل سب کو ایک ایک کلو چینی دی جائے۔ خیر رات گئے کام ختم ہوا اور ہم اپنے گھروں کو چل دئے۔

اندوہناک سا نحہ

جس رات مکرم میر صاحب کے لئے ہم کام کررہے تھے۔ مکرم میر صاحب نے اپنے سر پر ایک رومال نما پٹی باندھ رکھی تھی،جو اس بات کی غماز تھی کہ آپ کو شدید سر درد ہے۔ لیکن اس کے باوجود اطاعت خلافت میں رات بھر کام کرتے رہے۔

اگلے روز جامعہ کی سالانہ کھیلوں کا آخری دن تھا۔ جس کے بعد تقسیم انعامات کی تقریب تھی۔ ربوہ بھر سے مہمان اور شائقین آئے ہوئے تھے۔ پھر ایک واقعہ پیش آیا جس کا مکرم میر صاحب کی طبیعت پر بہت ہی ناخوشگوار اثر ہوا۔ میر صاحب نے سائیکل پکڑی اور گھر تشریف لے گئے۔ اس سے اگلے روز مکرم میر صاحب شدید بیمار ہوگئے ۔ آپ کو راولپنڈی لے جایا گیا۔ جہاں کچھ دنوں بعد آپ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون

احباب جماعت کے دلوں میں واقفین کے لئے محبت اور احترام

خاکسار جب جامعہ احمدیہ درجہ ثانیہ کا طالب علم تھا تو ایک دفعہ شدید بیمار ہوگیا۔ پہلے تو ربوہ سے مختلف ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج کروایا،مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ مکرم پرنسپل صاحب جامعہ احمدیہ سے رخصت حاصل کی تاکہ اپنے آبائی گاؤں جا کر والدین کے پاس رہ کر علاج وغیرہ کراؤں۔

وہاں گجرات شہر کے بعض ڈاکٹر صاحبان سے علاج کرایا گیا مگر کوئی فرق نہ پڑا۔ بیماری کےباعث بدن بہت لاغر ہوگیا۔ جس کی وجہ سے ہم سب بہت پریشان تھے۔

ایک روز مکرم محمد دین صاحب مربی سلسلہ جو ان دنوں گجرات شہر میں بطور مربی متعین تھے ہمارے گاؤں تشریف لائے۔ خاکسار کے پرانے ملنے والے تھے اور ان سےجامعہ کے حوالہ سے بھی ایک تعلق تھا۔ مجھے دیکھ کر بہت پریشان ہو گئے اور فرمانے لگے کہ تم ابھی تیار ہو جاؤ میں تمہیں جہلم بھجوا رہا ہوں ۔ان دنوں ایک بہت ہی مخلص احمدی ڈاکٹر سید غلام مجتبیٰ صاحب جہلم ہسپتال کے انچارج تھے آپ نے ایک رقعہ ان کے نام لکھا ۔ جس میں میرا تعارف کرایا اور جہلم بھجوانے کی غرض تحریر کی۔

اگلے روز میں جہلم کے سرکاری ہسپتال میں مکرم ڈاکٹر صاحب کے کلینک کاپتہ کرتے کراتے پہنچ گیا۔ دربان نے رش کی وجہ سےاندر جانے سے روک دیا۔ میں نے دربان کو وہ خط دیا اور استدعا کی کہ ازراہ کرم یہ خط مکرم ڈاکٹر صاحب کو پہنچادو۔

خط دیکھ کر ڈاکٹر صاحب نے فوراً اندر بلا لیا۔ بڑے ہی پیار اور شفقت سے پیش آئے، ایک نرس کو بلا یا اور اسے ہدایات دیں کہ فوری طورپر اس مریض کو اسپتال میں داخل کر لیں اور فلاں فلاں ٹیسٹ کرکے مجھے رپورٹ دیں۔ میں تو صرف چیک اپ کی غرض سے گیا تھا اور خیال تھا کہ ایک دو دن کے بعد گھر واپس آجاؤں گا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ اگراجازت دیں تو میں گھر جا کر کسی عزیز کو ساتھ لے آؤں جو میری دیکھ بھال کرے۔ نیز اپنے والدین کو بھی ساری صورت حال سے آگاہ کر دوں۔

ڈاکٹر صاحب نے کہاکسی ذریعہ سے اپنے گھر اطلاع کر دیں کہ میں ہسپتال میں داخل ہو گیا ہوں اور کسی کو ساتھ لانے کی ضرورت نہیں یہاں پر میں ہی آپ کاسب کچھ ہوں اور میں ہی آپ کی دیکھ بھال کروں گا اور آپ کا کھانا میرے گھر سے آئےگا۔ ہاں اگر دل چاہے تو گھر آ کر بھی کھانا کھا سکتے ہیں۔

خیر ڈاکٹر صاحب کے اس حسن سلوک اور پیار و محبت نے جس کی مثال دنیا میں کم ہی ملتی ہے مجھے وہاں روک لیا۔

دس روز تک خاکسار کا خصوصی علاج کیا گیا۔ روزانہ چیک اپ کیا جاتا۔ کئی بار ٹیسٹ کئے گئے۔ ہر ممکنہ خیال رکھا گیا۔ خوراک بہت اچھی مل رہی تھیں جو ڈاکٹر صاحب کے گھر سے آتی تھی۔ اس طرح خدا تعالیٰ نے اپنے فضل اور ڈاکٹر صاحب کی محنت اور کوشش سے بیماری سے بہت جلد شفاء عطا فرمائی۔

ایک دن ایک اور ڈاکٹر صاحب مجھے کہنے لگے۔ کیا ڈاکٹر سید غلام مجتبیٰ صاحب آپ کے کوئی قریبی عزیز ہیںجو اس قدر آپ کا خیال رکھتے ہیں ۔میں نے جواب دیا۔ ہاں بہت بڑا رشتہ ہے جو عام خونی رشتوں سے بہت بالا ہے ۔

خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را

چینی سفیر کی حب الوطنی

اپریل 1974ءکی بات ہے۔ ربوہ میں ایک چینی سفیر تشریف لائے۔ شہر بھر کے اہم مقامات کو پاکستان اور چین کی خوشنما جھنڈیوں سے سجایا گیا تھا۔ زیارت ربوہ کے متفرق پروگراموں میں جامعہ احمدیہ کاوزٹ بھی شامل تھا۔ جملہ طلبہ،جامعہ احمدیہ کی عمارت کے سامنے مہمان کا استقبال کرنے کے لئے صف آراء تھے۔

جب سفیر صاحب تشریف لائے اور ہمارے قریب پہنچے تو اتفاق سے ایک جھنڈی کسی طرح زمین پر گرگئی۔انہوں نے آگے بڑھ کر اس جھنڈی کو اٹھایا، اسے جھاڑا اور پھر تہہ کرکے اپنی جیب میں ڈال لیا۔ چینی سفیر کی حب الوطنی کا یہ نظارہ آج بھی میرے دل و دماغ میں نقش ہے۔

شاہ فیصل آف سعودیہ کا قتل

1973ء میں بھٹو صاحب کے دور حکومت میں لاہور پاکستان میں اسلامی سربراہی کانفرس کا انعقاد ہوا۔جس میں عالم اسلام کے جملہ سربراہان تشریف لائے۔ جس میں عالم اسلام کے اہم مسائل پر بحث وتمحیث ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ اسی اجلاس میں شاہ فیصل کو خلیفہ اسلام بنانے کا بھی پروگرام بنایا گیا۔ واللہ اعلم۔ جس کے بعد 1974ء میں پاکستان بھر میں اینٹی احمدیہ خونی تحریک شروع کی گئی۔ جس میں بہت سارے احمدیوں کو شہید کر دیا گیا، جائیدادیں لوٹی گئیں، مکان جلائے گئے۔

ملک بھر میں منظم طورپر چلنے والی ایک تحریک کے نتیجہ میں احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کردیا گیا۔لیکن تقدیر الہی دیکھیں اسی سال میں عین عید کے دن شاہ فیصل کے اپنے ہی ایک بھتیجے نے اسے گولی مار کر قتل کردیا۔

امداد الرحمان بنگالی صاحب کا ثبات قدم

پاک وہند جنگ کے بعد بنگلہ دیش نے جنم لیا۔مغربی پاکستان کی افواج مشرقی پاکستان میں مصروف عمل تھیں ،اسی طرح مشرقی پاکستان کے کئی ایک فوجی جوان اور افسران کی تعیناتی مغربی پاکستان میں تھی۔ جب مشرقی پاکستان نے اپنی آزادی کا اعلان کردیا،تو مغربی پاکستان میں مقیم بنگالی فوجیوں کو بنگلہ دیش جانے کی اجازت مل گئی،جس پروہ اپنے ملک جانے کی تیاری میں مصروف تھے۔

بنگلہ دیش کے معرض وجود میں آنے سے چند سال قبل ایک نوجوان مکرم امدادالرحمان صاحب کو بیعت کرکےاحمدیت میں شامل ہونے کی توفیق ملی۔ انہوں نے اپنےآپ کو وقف کردیا اور حصول تعلیم کے لئے جامعہ احمدیہ ربوہ میں تشریف لے آئے۔ لیکن جلد ہی تقسیم ملک کی وجہ سے آگ کے شعلے بلند ہونے شروع ہوئے۔

انہی ایام میں، ایک دن شام کے وقت ایک فوجی جیپ جامعہ احمدیہ کے ہاسٹل کے گیٹ پر آئی،جس میں دو نوجوان فوجی افسر تھے،یہ دونوں نوجوان افسر مکرم امداد صاحب کے بھائی تھے۔انہوں نے بتایا کہ اب انہیں واپس بنگلہ دیش جانے کا ارشاد ہو گیا ہے،اس لیے آپ بھی ہمارے ساتھ واپس چلیں۔ یہاں رہ کر آپ کیا کریں گے۔ مولوی بن کر کیا کریں گے۔ ہم آپ کو فوج میں بھرتی کرادیں گے۔ کافی تگ ودو اور منت و سماجت کے باوجود بھی جب امداد صاحب نہ مانے تو بالآخر دونوں بھائی مایوس ہوکر واپس چلے گئے۔ یاد رہے مکرم امداد الرحمان صاحب اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے۔ اللہ کے فضل سے امداد صاحب نے کمال استقامت کے ساتھ دین کو دنیا پر مقدم رکھا۔ آپ آجکل جامعہ احمدیہ بنگلہ دیش میں بطور پرنسپل خدمت کی توفیق پارہے ہیں۔

مبارک احمد صاحب بھٹی شہید

1971ء کی بات ہے۔ پاک و ہند جنگ ہورہی تھی۔ جماعت احمدیہ کا ہر فرد حب الوطنی کے جذبہ کے تحت مادر وطن کی حفاظت کے لئے تن من دھن کو قربان کرنےکے لئے تیار تھا۔ جامعہ احمدیہ کی شاہد کلاس کو حضور رحمہ اللہ کے ارشاد کے تحت مجاھد فورس میں بھرتی ہونے کا ارشاد ہوا۔ جس پر پوری کلاس مجاہد فورس میں شامل ہوگئی۔ باقاعدہ ٹریننگ کے بعد انہیں وطن عزیز کی حفاظت پر متعین کردیا گیا، یہاں تک کہ ایک نوجوان مکرم مبارک احمد بھٹی صاحب کو اس خدمت کے دوران اپنی جان کا نذرانہ بھی پیش کرنے کی سعاد ت نصیب ہوئی۔اللہ تعالی اس شہید کو اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ آمین۔

اللہ تعالیٰ اس ادارہ (جامعہ احمدیہ) کو دن دگنی رات چگنی ترقیات سے نوازے اور یہاں ایسے مربیان و مبلغین تیار ہوں حضرت مسیح الزمان علیہ السلام کے مشن کی تکمیل کی خاطر جا ن ودل سے فدا ہوں۔ اللھم آمین

(مرسلہ: منور احمد خورشید مربی سلسلہ انگلستان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 نومبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 نومبر 2020