• 3 اگست, 2020

چائے بہت سی موذی بیماریوں سے بچاتی ہے

ہم سب کو معلوم ہے کہ چائے کے کیا فوائد ہوتے ہیں۔دماغ کو چست اور ہوشیار رکھنے اور نیند سے چھٹکارہ پانے کے لئے ہم اکثر چائے کی پیالی پینا پسند کرتے ہیں۔پھیکی چائے پینا تو اور بھی مفید ہے کیونکہ یہ اینٹی آکسیڈینٹس سے بھر پور ہوتی ہے ۔جو آپ کو کرانک یعنی مزمن بیماریوں سے بچاتی ہے اور آپ کے جسمانی خلیات کی مرمت کرتی ہے ۔
چائے ایک پودے کمیلیا سائنسس سے حاصل ہوتی ہے جن میں کیٹے چن (catechins)نامی انٹی آکسیڈینٹس بکثرت پائے جاتے ہیں۔ اسی طرح چائے میں کیٹے چن کا ہی ایک ذیلی کیمیکل ایپی گیلوکیٹی چن گیلیٹ (ای جی سی جی )بھی بکثرت ہوتا ہے۔آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر انتھونی کوری ایم ڈی کا کہنا ہے کہ یہ کیمیکل ہمارےجسم سے فری ریڈیکل کو ختم کرتا ہےاورسوجن کو گھٹاتا ہے۔
چائے میں پائے جانے والے اینٹی آکسیڈینٹس اور کمپاؤنڈز سے بعض اقسام کے کینسر ہونے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔ میسا چسٹس جنرل ہسپتال میں ڈائریکٹر آف نیوٹریشنل اینڈ لائف سٹائل سائیکیٹری اور ہارورڈ میڈیکل سکول کی فیکلٹی میں شامل اومانائیڈ و ایم ڈی کہتی ہیں کہ چائے کے جلد،پروسٹیٹ،پھیپھڑوں اور بریسٹ کینسر کے حوالہ سے مفید اثرات ہوتے ہیں اور کینسر کے لاحق ہونے کا خدشہ کم ہوجاتا ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ مختلف اقسام کی چائے مختلف اقسام کے کینسر پر اثر انداز ہوتی ہے۔
باقاعدگی سے چائے پینا جلد کے کینسر ہونے کےخطرے کو قابل ذکر حد تک کم کرتا ہے ۔دلچسپی کا امر یہ ہے کہ اس سلسلہ میں یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ چائے کو کیسے بنایا گیا ہے۔گرم چائے کولڈٹی کے مقابلہ میں زیادہ مفید ہوتی ہے اور اس میں بھی یہ بات اہم ہوتی ہے کہ کالی چائے کو کیسے پکایا گیا ہے ۔
روزانہ تیز چائے پینا کھانے کے بعد آپ کی بلڈ شوگر کو کنٹرول کرتا ہے اور اس کے نتیجہ میں آپ کو ٹائپ ٹو ذیابیطس ہونے کا خدشہ قابل ذکر حد تک کم ہوجاتا ہے ۔ایشیا پیسفک جرنل آف کلینیکل نیوٹریشن میں شائع ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق جب آپ کوئی ایسی چیز کھاتے ہیں جس میں قدرتی مٹھاس ہوتی ہے تو اس کے بعد تیز چائے پینے سے خون میں شوگر کی سطح کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
سارا دن چائے پینے سے آپ کے دانت داغدار ہوسکتے ہیں تاہم اس کے باوجود چائے کا فائدہ ہے ۔جرنل آف اورل اینڈ میکسیلو فیشل پتھالوجی میں شائع ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق سبز چائے میں دافع جراثیم اثرات ہوتے ہیں جو کہ آپ کے منہ میں ان بیکٹیریا کی روک تھام کرتا ہے جو کہ آپ کے دانتوں میں کیویٹی پیدا کرتے ہیں جبکہ روازانہ سبزچائے پینے سے یہ بھی فائدہ ہوتا ہے کہ یہ کیویٹی کو شدید کم بنانے میں مددکرتے ہیں۔
چائے کی دافع سوجن خصوصیات آپ کے خون کی شریانوں کو پُرسکون اور صاف رکھتی ہیں اور اس کا فائدہ آپ کے دل کو ہوتا ہے۔ جس پر کم دباؤ پڑتا ہے۔ماہرین امراض قلب، ڈاکٹر انتھونی کوری کے مطابق چائے میں موجود کیمیکل کیٹے چن سوجن کو کم کرتا ہے اور بنیادی نوعیت کی حامل شریانوں میں پلیک یا میل جمع ہونے سے روکتا ہے۔ڈاکٹر اومانائیڈو کہتی ہیں کہ دل کی صحت کو حاصل کرنے کے لئے روزانہ کم از کم تین کپ چائے پینی چاہئے۔
آپ کو یا آپ کے کسی پیارے کو الزائمر Alzheimer کی بیماری ہوجائے،اس کا تصور بھی خوفزدہ کرنے کے لئے کافی ہے ۔ آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ الزائمر کی بیماری کے لئے خبردار کرنے والے ابتدائی اشارے کیا ہیں اور آپ اس بیماری کو کس طرح روک سکتے ہیں۔ ڈاکٹر اومانائیڈو کے مطابق سبز چائے میں ایسی خصوصیات ہیں جو آپ کو دباؤ سے بچاتی ہیں اور یوں آپ کو الزائمز کی بیماری سے محفوظ رکھتی ہے۔ڈاکٹر نائیڈو کے مطابق چائے میں موجود کیمیکل پولی فینول خلیوں کو نقصان سے بچاتا ہے۔
اگر آپ کی راتیں کروٹیں بدل بدل کر گذرتی ہیں اور کسی صورت نیند نہیں آتی ،تو سونے سے پہلے ایک کپ چائے پئیں ۔ڈاکٹر اومانائیڈو کہتی ہیں کہ مشرقی ایشیائی ادویاتی چائے نیندنہ آنے کی بیماری انسومنیا کودور کرتی ہے۔انٹگریٹو میڈیسن ریسرچ میں شائع ہونے والی ایک سٹڈی کے مطابق کم تر سے شدیدتر انسومنیا میں چائے نیند اور معیارِ زندگی کو بہتر بناسکتی ہے۔
چائے میں موجود کیفین آپ کی توجہ اور ہوشیار رہنے کی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ڈاکٹر نائیدو کے مطابق تھیا نائن ایک امائینو ایسڈ ہے جو صرف چائے میں پایا جاتا ہے ۔یہ دماغ کو سکون پہنچا کر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے اور دماغ کو اس وقت متحرک کرتا ہے جب فوکس کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی توجہ مرکوزکرنے یا فوکس کرنے کی صلاحیت کمزور ہے تو کام سے پہلے ایک کپ چائے کو آزمائیں۔
اپنے کچن کی کرسی پر بیٹھے ہوئے اپنے میٹا بولیزم کی رفتار کو تیز کرنے کے لئے تیار ہوجائیں ۔لیکن کیسے؟ڈاکٹر انتھونی کوری کے مطابق چائے میں موجود کیفین نہ صرف دماغ کو متحرک اور چوکنا کرتی ہے بلکہ میٹا بولزم اور چربی پگھلانے کے عمل (100کیلوریز فی دن)کوبھی تیز کرتی ہے۔تاہم دن میں چائے پیتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ کیفین کی مقدار زیادہ نہ ہو۔سبز چائے کے ایک کپ میں لگ بھگ چالیس ملی گرام کیفین ہوتی ہے اور ڈاکٹر کوری کا کہنا ہے کہ کیفین کے انٹیک کو 300 سے 400 ملی گرام سے زیادہ نہ ہونے دیں۔
چائے کی پتی کا انتخاب کرتے ہوئے یہ بات یقینی بنائیں کہ وہ میٹھی نہ ہو۔اگرچہ کچھ پتیاں ایسی ملتی ہیں جو فلیورڈ ہوتی ہیں اور ان کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ کیلوریز کے بغیر ہیں لیکن اس کے باوجود ان میں مصنوعی مٹھاس اور حفاظتی شاملات موجود ہوتے ہیں اور اس طرح دعوے کے برعکس ان میں کیلوریز بھی ہوتی ہیں ۔لہٰذا چائے وہی لیں جس میں آپ اپنے ہاتھ سے چینی ڈالیں ،بجائے یہ کہ اس میں چینی پہلے سے شامل ہو۔ڈاکٹر کوری کے مطابق چائے کی پتی جتنی زیادہ پراسس شدہ ہوگی ،اس میں موجود کیٹے چن اتنا ہی بے اثر ہوجائے گا۔ان کے مطابق سبز چائے کم سے کم پراسیس شدہ ہوتی ہے اور یوں دوسری چائے کے مقابلہ میں اس کے فوائد بھی زیادہ ہوتے ہیں۔

(بشکریہ92میگزین 22ستمبر2019ء)

پچھلا پڑھیں

جلسہ سالانہ قادیان کا انعقاد

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 دسمبر2019