• پیر 30 مارچ 2020   (6 شعبان 1441)

اسلامی پردہ

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:
’’قرآن مسلمان مردوں اور عورتوں کو ہدایت کرتا ہے کہ وہ غضِ بصر کر یں۔ جب ایک دوسرے کو دیکھیں گے ہی نہیں تو محفوظ رہیں گے۔ یہ نہیں کہ انجیل کی طرح یہ حکم دے دیتا کہ شہوت کی نظر سے نہ دیکھے۔ افسوس کی بات ہے کہ انجیل کے مصنف کو یہ بھی معلوم نہیں ہوا کہ شہوت کی نظر کیا ؟ نظر ہی تو ایک ایسی چیز ہے جو شہوت انگیز خیالات کو پیدا کرتی ہے۔ اس تعلیم کا جونتیجہ ہوا ہے وہ ان لوگوں سے مخفی نہیں ہے جو اخبارات پڑھتے ہیں ان کو معلوم ہوگا کہ لندن کے پارکوں اور پیرس کے ہوٹلوں کے کیسے شرمناک نظارے بیان کیے جاتے ہیں۔

اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانہ کی طرح بندرکھی جاوے۔ قرآنشریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں۔ وہ غیر مردکو نہ دیکھیں۔ جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لیے پڑےان کو گھر سے باہر نکلنامنع نہیں ہے، وہ بیشک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔

مساوات کے لیے عورتوں کے نیکی کرنے میں کوئی تفریق نہیں رکھی گئی ہے اور نہ ان کو منع کیا گیا ہے کہ وہ نیکی میں مشابہت نہ کریں۔ اسلام نے یہ کب بتایا ہے کہ زنجیر ڈال کر رکھو۔ اسلام شہوات کی بناء کوکاٹتا ہے۔ یورپ کو دیکھو کیا ہورہا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ کتوں اور کتیوں کی طرح زنا ہوتا ہے اور شراب کی اس قدر کثرت ہے کہ تین میل تک شراب کی دکانیں چلی گئی ہیں ۔ یہ تعلیم کا نتیجہ ہے؟ کیا پردہ داری کا یا پرده دری کا۔

اسلام کی بات کو بگاڑنا اور اندھادھند اعتراض کرنا ظلم ہے۔ اسلام تقویٰ سکھانے کے واسطے دنیا میں آیا ہے۔ میں یہ بیان کر رہا تھا کہ لوگ ملوک کے دین پر ہوتے ہیں اور میں نے مختلف مثالوںکے ذریعہ اس امر کو بیان کر دیا ہے۔ اب دیکھ لو کہ جو حالات ابتر اس ملک میں ہوتے ہیں وہ کسی اور ملک میں نہیں ہیں ۔ یہاں تک کہ مکہ مدینہ میں بھی نہیں ہوئے ۔ ایسی آزادی اور اباحت جو یہاں ہے۔ اس کی نظیر کسی دوسرےملک میں نہ ملے گی اور ان ملکوں میں چونکہ اس قسم کے محرکات پیش نہیں آئے اس لیے وہاں خیالات بھی بہت ابتر نہیں ہوئے۔‘‘

(ملفوظات جلداوّل صفحہ405)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ