• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

ایک ماں کی ذمہ داری

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ برطانیہ 2018ء کے موقع پر مستورات کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:

’’ہم جو اس دعوے کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں کہ آخری زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہونا تھا تا کہ دنیا کو اللہ تعالیٰ کے قریب کرے تا کہ دنیا کو دین اسلام کی خوبیوں سے آگاہ کرے، تو ہمیں تو بہت زیادہ اور محنت سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے دنیا کی لغویات اور برائیوں سے نہ صرف اپنے آپ کو بچانا ہے بلکہ جیسا کہ میں نے کہا اگلی نسلوں کو بھی بچانا ہے اور ان کی ایسے طریق پر تربیت کرنی ہے کہ یہ جاگ آگے پھر لگتی چلی جائے اور ایک نسل کے بعد دوسری نسل اللہ تعالیٰ کے انعامات سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والی بھی ہو۔ اس کی عبادت کرنے والی بھی ہو۔ اور اس کے احکامات پر عمل کرنے والی بھی بنتی چلی جائے۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا صرف کھڑے ہو کر زبانی عہد کرنے سے گزارا نہیں ہو گا۔ ہم صرف زبانی عہد کرنے والے نہ ہوں بلکہ اس کی عملی تصویر ہوں اور یہ چیز نہ ہم، نہ ہماری نسلیں اپنے زور بازو سے کر سکتی ہیں بلکہ اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا فضل چاہئے اور اللہ تعالیٰ کا فضل چاہنے کے لئے اس کے آگے جھکنے کی ضرورت ہے۔ اس سے دعا کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے احکامات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ اپنی عملی حالتوں کو ٹھیک کرنے کی ضرور ت ہے۔ اپنے عقائد کو ٹھیک کرنے کی ضرورت ہے۔

پس ہر عورت جو ماں ہے اور ہر لڑکی جس نے انشاء اللہ تعالیٰ ماں بننا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرے کہ اللہ تعالیٰ اس ماحول میں محض اور محض اپنے فضل سے بچوں کی ایسی تربیت فرمائے کہ ان میں سے ہر ایک دین کو دنیا پر مقدم کرنے والا ہو۔‘‘

(خطاب مورخہ 4۔اگست2018ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ