• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

بے پردگی کا بڑھتا ہوا رحجان اور ہماری ذمہ داری

لجنہ کالم

ہمیں معلوم ہے کہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اس دنیا میں عورت کے احترام کو قائم فرمایا جو اسلام سے پہلے اس کو حاصل نہیں تھا۔ اور آج اگر ہم نے یہ معلوم کرنا ہو کہ عورت کی عزت و احترام اور اُس کا وقار معاشرے میں کس طرح بڑھایا جاسکتا ہے تو میرے خیال میں اگر ہم بہنیں اپنے پردے کی حفاظت کریں ، اپنے پردہ کا اُسی طرح خاص خیال رکھیں جس طرح پردے کا حکم اسلامی تعلیمات میں ملتا ہے، قرآن کریم کی تعلیمات، احادیث نبویہ ، حضرت مسیح موعودؑ اور آپؑ کے خلفاء کرام کے ارشادات میں پردے کا طریق اور اس کو پوری طرح کرنے کے فوائد ملتے ہیں ، الغرض اگر ہم پردے کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس پر کاربند ہو جائیں تو یقیناً ہم ایک پُر وقار، بارعب، پُراعتماداور باعزت مقام حاصل کر لیں گی اور معاشرہ کی کامیاب خاتون گنی جائیں گی اور عزت کی نگاہ سے دیکھی جائیں گی۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے: قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَ یَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصۡنَعُوۡنَ

(النور:31)

ترجمہ: تُو مومنوں سے کہہ دے کہ وہ اپنی آنکھیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں۔ یہ اُن کے لئے بہت پاکیزگی کا موجب ہوگا ، جو کچھ وہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اُس سے اچھی طرح باخبر ہے جو وہ کرتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے موجودہ زمانہ میں بے پردگی کے بڑھتے ہوئے رحجانات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’یورپ کی طرح بے پردگی پر بھی لوگ زور دے رہے ہیں لیکن یہ ہرگز مناسب نہیں یہی عورتوں کی آزادی فسق و فجور کی جڑ ہے۔ جن ممالک نے اس قسم کی آزادی کو روا رکھا ہے، ذرا ان کی اخلاقی حالت کا اندازہ کرو، اگر اس آزادی اور بے پردگی سے ان کی عفت اور پاکدامنی بڑھ گئی ہے تو ہم مان لیں گے کہ ہم غلطی پر ہیں لیکن یہ بہت ہی صاف ہے کہ جب مرد اور عورت جوان ہوں اور آزادی اور بے پردگی بھی ہو تو ان کے تعلقات کس قدر خطرناک ہوں گے۔ بد نظری ڈالنی اور نفس کے جذبات سے مغلوب ہو جانا انسانی خاصہ ہے۔ پھر جس حالت میں کہ پردہ میں بے اعتدالیاں ہوتی ہیں اور فسق و فجور کے مرتکب ہوجاتے ہیں تو آزادی میں کیا کچھ نہ ہوگا مردوں کی حالت کا اندازہ کرو کہ وہ کس طرح بے لگام گھوڑے کی طرح ہوگئے ہیں، نہ خدا کا خوف رہا ہے نہ آخرت کا یقین ہے۔ دنیا وی لذات کو اپنا معبود بنا رکھا ہے۔ پس سب سے اول ضروری ہے کہ اس آزادی اور بے پردگی سے پہلے مردوں کی اخلاقی حالت درست کرو….ورنہ موجودہ حالت میں اس بات پر زور دینا کہ آزادی اور بے پردگی ہو ، گویا بکریوں کو شیروں کے آگے رکھ دینا ہے ان لوگوں کو کیا ہوگیا کہ کسی بات کے نتیجہ پر غور نہیں کرتے ۔ کم ازکم اپنے کانشنس سے ہی کام لیں کہ آیا مردوں کی حالت ایسی اصلاح شدہ ہے کہ عورت کو بے پردہ ان کے سامنے رکھا جاوے۔ قرآن شریف نے جو کہ انسان کی فطرت کے تقاضوں اور کمزوریوں کو مدنظر رکھ کر حسبِ حال تعلیم دیتا ہے کیا عمدہ مسلک اختیار کیا ہے۔ قُلۡ لِّلۡمُؤۡمِنِیۡنَ یَغُضُّوۡا مِنۡ اَبۡصَارِہِمۡ وَ یَحۡفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمۡ ؕ ذٰلِکَ اَزۡکٰی لَہُمۡ
یہ وہ عمل ہے جس سے ان نفوس کا تزکیہ ہوگا۔‘‘

(ملفوظات جلد ہفتم ص 134)

بےپردگی کے اس رحجان کو ختم کرنا لجنہ اماءاللہ کا کام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(سلمہ شمس)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ