• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

انٹرویو صاحبزادی ناصرہ بیگم بنت حضرت مصلح موعودؓ، والدہ ماجدہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ

انٹرویو صاحبزادی ناصرہ بیگم بنت حضرت مصلح موعودؓ، والدہ ماجدہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ
حضرت مصلح موعودؓ کی یادیں، بچپن کاپاکیزہ ماحول، آپ کی جماعتی خدمات اور خادموں سے حسن سلوک کا تذکرہ

حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت سیدہ محمودہ بیگم (امّ ناصر) کی بڑی اولاد میں سے تھیں۔ ایم ٹی اے کے لئے ایک انٹرویو کے دوران آپ نے اپنے عظیم والد بزرگوار حضرت مصلح موعودؓ کے گھر میں انداز تربیت کے متعلق بیان فرمایا کہ۔

حضرت مصلح موعودؓ کا بچوں سے تربیت کا انداز ناصحانہ تھا۔ نصیحت کرتے ہوئے کبھی چہرے پر مسکراہٹ بھی آجاتی مگر نظروں سے نصیحت زبان کی نسبت زیادہ ہوتی۔ نظر اٹھا کر دیکھنا ہمیں اپنی غلطی سے آگاہ کر دیتا تھا۔

بچوں کو دینی آداب سکھاتے۔ ایک ہی دسترخوان پر بچے آپ کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ اس لئے پہلے آہستہ سے کھانا شروع کرتے ہوئے بسم اللہ اور بعد میں الحمد للّٰہ پڑھتے تا کہ بچے بھی سن لیں اور اس پر عمل کریں۔ کھانے پر تاکید ہوتی کہ ہاتھ دھو کر، دائیں ہاتھ سے اور اپنے سامنے سے کھاؤ۔ دوسروں کی پلیٹوں سے ہاتھ گزار کر کھانا نہ ڈالو۔ زیادہ کھانا پلیٹ میں ڈالنے سے روکتے۔ فرماتے اتنا ہی ڈالو جتنا کھا سکو اس طرح کھانا ضائع ہوجاتا ہے۔ اس لئے ہم لوگوں کو اتنا ہی کھانا ڈالنے کی عادت ہے جتنا کھایا جاسکے اور پلیٹ صاف ہو۔ اس تربیت کا یہ گہرا اثر ہے کہ ہم لوگ اپنی پلیٹوں میں کھانا نہیں چھوڑتے۔ بڑوں کے احترام کی خاص توجہ دلواتے۔ کبھی بڑوں کے سامنے ننگے سر یا آستین چڑھا کر جانا پسند نہیں کرتے تھے۔ بڑوں کی مجلس میں بیٹھ کر اور پھر اُٹھ کرجانے سے منع فرماتے کہ یہ تعظیم کے خلاف ہے۔ لڑکیوں کو مغرب کے بعد اپنے گھر سے نکلنے کی اجازت نہ تھی۔ اوروں کا تو میں کہہ نہیں سکتی لیکن مجھے یہ حکم تھا کہ مغرب کے بعد گھر سے نہیں جانا یعنی اپنے ماؤں کے گھر بھی۔ حضرت اماّں جان کے گھر جانے کی اس صورت میں اجازت تھی کہ اپنی اُمّی کو اطلاع کرو کہ میں وہاں جارہی ہوں۔ حضرت عموں صاحب (حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ) کا گھر ہمارے گھروں کو سیڑھیوں سے ملواتا تھا۔ وہاں بھی دن کے وقت اگر عموں صاحب سے ملنے جانا ہو تو اجازت لے کر جانے کا حکم تھا۔

آپ اکثر صبح کے ناشتے یا دوپہر کے کھانے پر بچوں کے سامنے حضرت مسیح موعودؑ کا ذکر کرتے۔ چھوٹے چھوٹے واقعات سناتے اور آپ کے مقام کا بھی آسان الفاظ میں جو بچوں کو سمجھ آجائے ذکر کرتے۔ اسی طرح حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا بہت ذکر کرتے۔ اُستاد ہونے کے لحاظ سے بھی اور خلیفہ ہونے کے لحاظ سے بھی بہت احترام اور محبت سے یاد کرتے۔ اس سے یہ مطلوب تھا کہ بچوں کے دل میں حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کی محبت اور احترام ان کے مقام کی وجہ سے پیدا ہو۔

لڑکوں کی نگرانی رکھتے کہ وہ نماز باجماعت کے لئے گئے ہیں یا نہیں۔ اگر کسی سے غفلت ہو جاتی تو اس کی سرزنش ہوتی۔ لڑکیوں کی بروقت نماز پڑھنے کی نگرانی کرتے۔ آپ کا یہ معمول تھا کہ نماز مغرب کے بعد سارے گھروں کا چکر لگاتے۔ اس کا یہ مقصد تھا کہ دیکھیں کہ لڑکوں نے نماز پڑھی ہے یا نہیں، بچے گھر پرہیں یا باہر ہیں۔ لڑکوں کو بھی بعد نماز مغرب سوائے عشاء کی نماز اور مجلس عرفان کے باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔
لڑکیوں کو بہت اکرام سے باتوں باتوں میں ان کی غلطیوں پر سمجھاتے۔ لڑکے اگر بڑے ہو جاتے تو ان کو لکھ کر یا ماؤں کے ذریعے سے غلطیوں سے آگاہ کرتے اور آئندہ محتاط رہنے کی تلقین کرتے۔

ضمناً ایک بات اور کہنا چاہتی ہوں جس کا تربیت سے تو نہیں لیکن میرے دل سے گہرا تعلق ہے۔ جب اباّ جان درس دیتے وقت قرآن مجید کی تلاوت کرتے تو میرا دل چاہتا کہ اباّ جان تلاوت کرتے چلے جائیں اور میں روتی جاؤں۔ ایسا معلوم ہوتا کہ قرآن مجید کے الفاظ میرے دل میں دھنستے چلے جارہے ہیں۔

حضرت اباّ جان پردے کی بڑی نگرانی کرتے تھے۔ میری ایک بہن بُرقعہ اُوپر کرکے سڑک پار کررہی تھی کہ اباّ جان سیر کرکے موڑ سے مڑے اور دیکھ لیا اور دوسرے دن کہنے لگے کہ تم اگر ایک قدم اُٹھاؤ گی، دوسرے دس قدم اُٹھائیں گے۔ تمہیں اس طرح نہیں جانا چاہئے تھا۔ حالانکہ اس زمانے میں وہ سڑک بالکل سنسان ہوتی تھی۔ نمازوں کے وقت کوئی اِکّا دُکّا نمازی اُدھر سے گزرتا تھا۔

مجھے اباّ جان نے تیراکی، گھوڑے کی سواری اور نشانہ بازی سکھائی۔ پارٹیشن کے وقت رتن باغ کی بات ہے کہ چھوٹی آپا بیمار ہو کرہسپتال میں داخل تھیں۔ عزیزہ متین اور امۃ النصیر بھی آپ کے ساتھ ہوتی تھیں۔ اُن دنوں آپ خود بھی بیمار تھے۔ ڈاکٹر نے آپ کو پاؤں دھونے سے منع کیا تھا مگر آپ وضو کرکے پاؤں دھوتے رہے۔ پاؤں دھونے کی وجہ سے تکلیف بڑھ گئی۔ بچیوں کو بتلایا کہ مجھے ڈاکٹر نے پاؤں دھونے سے منع کیا تھا مگر میں اس خیال سے دھوتا رہا کہ کہیں تم کو پاؤں دھوئے بغیر وضو کرنے کی عادت نہ پڑ جائے۔

اباّ جان کے سامنے اگر کوئی بچہ چھوٹی موٹی شرارت کرتا تو کن اَکھّیوں سے دیکھ کرمُسکراتے رہتے۔ نقصان پر کبھی نہیں ڈانٹا بلکہ یہ کہہ دیتے کہ بچہ ہے نقصان ہو بھی گیا تو کیا بات ہے۔

’’امّ ناصر‘‘ حضرت صاحبزادی محمودہ بیگم صاحبہ جنہیں سب ’’امیّ جان‘‘ کہتے تھے، کا ذکر خیر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ۔

’’امیّ جان بچپن ہی سے صاف رہنے، سلیقہ سے کام کرنے، جس جگہ سے چیز اُٹھائی وہیں رکھنے کا کہتی تھیں۔ حضرت اباّ جان کی باری کے دن کھانا پکانے میں صفائی کا جو خاص اہتمام ہوتا وہ بھی ہمارے سامنے تھا۔ اس طرح یہ تربیت بھی کی کہ کپڑے دُھل کر آئیں تو پہلے مرمت کرو پھر بکسوں میں بٹن وغیرہ لگا کر رکھو۔ رفو کرنا اور پیوند لگانا بھی میں نے امی جان سے ہی سیکھا تھا۔ سوئی میں لمبا دھاگا نہ ڈالنا اور گول گرہ دینا یہ بھی سکھایا۔ حضرت اباّ جان ہر ہفتے قرآن مجید کا جو درس دیتے اس میں امیّ جان مجھے ساتھ لے کر جاتیں کیونکہ ان کو یہ خیال تھا کہ اگر میں ساتھ لے کر نہ گئی تو یہ جو عورتوں میں جانے سے گھبراتی ہے درس نہیں سنے گی‘‘۔

محترمہ استانی زینب نے قرآن مجید ختم کروایا اور اُردو کی ابتدائی تعلیم دی۔ اس کے بعد لڑکیوں کا سکول جس کی ہیڈ مسٹریس محترمہ استانی سکینۃ النساء اہلیہ مکرم قاضی اکرم تھیں۔ ان کے سکول میں داخل ہو کر پانچویں تک پڑھا۔ اس کے بعد گھر میں پڑھائی ہوتی رہی۔

اپنی جماعتی خدمات اور کاموں کی ابتداء کے متعلق آپ نے بتایا۔ جلسہ سالانہ کے موقع پر دارالمسیح میں سب سے پہلے تقریباً دس سال کی عمر میں مَیں نے اور سیدہ نصیرہ بیگم نے ایک کمرہ کی مہماننوازی کی۔ مہمان نواز کا کام تھا، مہمان کی ہر ضرورت کا خیال رکھنا۔ کھانے کا، پانی کا، روشنی کا یا اگر کوئی اور ضرورت ہوتی تو اسے پورا کرنا۔ پھر اس کے بعد تین چار کمروں کی مہمان نوازی سپرد کر دی گئی۔ تین چار برس یہ کام کیا۔ پھر منتظمہ روشنی، منتظمہ تقسیم کھانا، منتظمہ صفائی وغیرہ جو بھی کام سپرد کر دیا جاتا خوشی سے کرنے کو تیار تھی۔

سب سے مشکل کام صفائی کا تھا یعنی گندگی کی صفائی کروانا۔ خاص طور سے میری جیسی طبیعت کے لئے کراہت والا کام تھا۔ مگر جب کام سپرد کیا گیا تو کرنا ہی پڑا۔ میں صبح کی نماز پڑھ کر اپنے آپ کو گرم کپڑوں میں لپیٹ کر نیچے اُتر جاتی مگر وہاں جا کر جو صحن کی حالت دیکھتی تو ابکائیاں آنا شروع ہو جاتیں۔ جگہ جگہ بچوں کی غلاظت اور کھانس کر تھوکی ہوئی گندگی پڑی ہوتی۔ اس وقت کراہت کی وجہ سے میری آنکھوں میں پانی آجاتا مگر قہر درویش پر برجان درویش، ذمہ داریاں تو ادا کرنی تھیں۔ مہمانوں کو بہت سمجھاتی کہ اس طرح گند نہ کریں اتنی بڑی جگہ رفع حاجت کے لئے موجود ہے بچوں کو وہاں لے جائیں مگر کہاں سنتے ہیں خاص طور سے ایک لڑکی کی۔ اس کے بعد شادی تک منتظمہ دارالمسیح رہی۔ شادی کے بعد پہلے سال نائبہ منتظمہ جلسہ گاہ کام کیا۔ پھر منتظمہ نمائش، نائبہ منتظمہ سٹیج کا بھی لمبا عرصہ کام کیا۔

معلوم نہیں منتظمہ سٹیج کے طور پر نگران کی نظر مجھ پر ہی کیوں پڑتی تھی۔ لجنہ مرکزیہ کے بھی جلسے ہوتے رہے کوئی نہ کوئی ڈیوٹی میرے سپرد کی جاتی رہی۔

جماعت احمدیہ عالمگیر کی خواتین کی تنظیم ’’لجنہ اماء اللہ‘‘ کے کام کی ابتداء کے متعلق فرماتی ہیں۔

لجنہ اماء اللہ کے عہدہ کی حیثیت سے کام شادی کے بعد کیا۔ شادی کے بعد مجھے حلقہ دارالفضل قادیان کی صدر لجنہ اماء اللہ منتخب کیا گیا۔ اپنے علم اور استطاعت کے مطابق جتنا کام کرسکتی تھی کیا پھر پارٹیشن ہو گئی۔ لاہور آکر ماڈل ٹاؤن تقریباً تین چار ماہ بطور صدر کام کیا۔ اجلاس مکرمی عبدالمجید خان صاحب کے گھر ہوتا تھا۔ پھر میں کراچی چلی گئی۔ وہاں تقریباً چھ ماہ رہی۔ ماہ رمضان میں 10 روز تک درس قرآن بھی دیا۔

پھر میں حضرت سیدی اباّ جان کے پاس ایک ماہ کے لئے کوئٹہ چلی گئی۔ پاکستان ہجرت کے بعد ابتداء میں جس وقت ہمارے خاندان والے ربوہ کی کچی بیرکوں میں رہتے تھے میں نے اباّ جان کو لکھا کہ میرا کراچی جی نہیں لگتا ہے بلوالیں آپ نے بلا لیا۔ کچی بیرکوں میں مجھے وہ سکون اور خوشی ہوئی جو کوٹھیوں میں نہیں ملتی۔ اپنے پیارے کچے کمروں میں سکون اور خوشی کی زندگی بسر کر رہے تھے وہ دن اب بھی شدت سے یاد آتے ہیں کاش وہ لوٹ کر آسکیں۔

جب لجنہ مقامی مرکزیہ سے علیحدہ نہیں ہوئی تھی اس وقت لجنہ مرکزیہ کی طرف سے منتظمہ صفائی حلقہ دارالصدر بھی نامزد کیا۔ لوگوں کے گھروں میں جا کر صفائی کی تلقین کرتی۔ سلیقے سے چیز رکھنے کا طریقہ بتاتی۔

آپ نے ایک لمبا عرصہ بحیثیت صدر لجنہ کام کیا اور تمام عہدیداران جنہوں نے اس عرصہ میں آپ کے ساتھ کام کیا ہے آپ سے خوش تھیں۔ حسن و خوبی سے جماعتی فرائض سرانجام دینے کے متعلق آپ نے فرمایا۔

’’میں نے جتنا عرصہ لجنہ مقامی کا کام کیا ہے اپنے آپ کو آنحضرت ﷺ کی اس حدیث کے مطابق سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُہُمْ سمجھا ہے اور خدا کے فضل سے سب ممبرات نے تعاون کیا ہے۔ یہ تعاون صرف کام کا نہ تھا بلکہ اس میں وہ محبت بھی شامل تھی جو ان کو حضرت مسیح موعود ؑاورحضرت مصلح موعودؓ سے تھی۔ اُصول بھی بیشک ضروری چیز ہے مگر میں اُصولوں میں لچک پیدا کرنے کی قائل ہوں۔ اپنے ساتھ کام کرنے والی اپنی کُنبہ کی لگتی تھیں ان میں بیٹھ کر مشورے وغیرہ کرنے یا ان کو کام کی ہدایات دینے میں دُونا مسرت ہوتی تھی۔ کبھی کوئی حلقہ کی صدر یا شعبہ کی سیکرٹری کام میں سُست ہوتی جیسا میں چاہتی ویسا کام نہ کرتی تو میں اُس کے متعلق اُن سے بھی مشورہ مانگتی کہ آپ مجھے بتائیں کہ کس طرح آپ سے کام لیا جائے کہ جس سے کام کا معیار بلند ہو جس سے اُن کو شرمندگی بھی ہوتی اور خوشی بھی کہ اُن سے مشورہ لیا جارہا ہے اور کام بھی ٹھیک ہو جاتا۔ سب سے زیادہ ضروری ہے کہ کارکنات سے مُسکراتے چہرے اور ہونٹوں سے بات کرکے اُن کے دلوں کو کام کے لئے تیار کیا جائے۔ میرے خیال میں غالباً یہی میرا طریقہ رہا ہے، صدر کا لہجہ تھکا ہوا نہیں ہونا چاہئے‘‘۔

لجنہ کے کام کے دوران مختلف شخصیات سے رہنمائی حاصل کرنے کا شرف حاصل رہا ان کے متعلق آپ نے فرمایا۔

’’لجنہ کے کاموں میں بوقت ضرورت حضرت سیدہ چھوٹی آپا سے رہنمائی حاصل کرتی رہی۔ اس کے علاوہ لجنہ کی ابتدائی ممبرات میں سب سے زیادہ رہنمائی سیدہ ممانی جان (حضرت سیدہ صالحہ بیگم حرم حضرت میر محمد اسحاقؓ ) سے ملی انہوں نے مجھے اُبھارا اور کام کرنے کے لئے بلاتی رہیں۔ سب سے زیادہ میں اُن سے بھی متاثر رہی۔ اُن میں انانیت بالکل نہ تھی۔ جس کی بناء پر میں اُن کی ہمیشہ مداح رہی۔ دوسروں کوکام سکھانا ہرمشکل کام میں رہنمائی کرنا اور جب نتیجہ کا وقت آئے تو سکھلانے والے کاکوئی نام نہیں اور سیکھنے والے کے نام آگے کر دیئے جاتے۔ دن رات انتھک محنت کرنے والی خاتون تھیں۔ باوجود دائمی مریضہ ہونے کے سلسلہ کے کاموں میں اُن کی تکلیف حائل نہ ہوتی تھی۔ آپ قادیان میں عمومی ماحول کا ذکرکرتے ہوئے بیان کرتی ہیں۔ قادیان میں عمومی ماحول بہت سادہ تھا۔ کپڑوں میں، رہن سہن میں، غریب سے غریب عورتیں گھر بہت صاف ستھرا رکھتی تھیں۔ سبزیاں وغیرہ لگا لیتی تھیں۔ چونکہ اکثر آبادی واقفین کی تھی اس لئے تھوڑی تنخواہ میں بہت اچھا رکھ رکھاؤ رکھتی تھیں۔

قادیان میں حضرت مصلح موعودؓ نے خواتین کی دنیوی اور دینی تعلیم کا خصوصی انتظام فرمایا تھا۔ اس کی تفصیلات، کورس اور اساتذہ کے متعلق بیان کرتے ہوئے فرمایا۔

حضرت مصلح موعودؓ نے قادیان میں خواتین کی دینی اور دنیوی تعلیم کا خصوصی انتظام کروایا تھا۔ میں اس میں شامل تھی اس میں لڑکیوں کے سکول کا نام ’’مدرسۃ الخواتین‘‘ رکھا گیا تھا اس میں گئی۔ پڑھنے والی خواتین میں حضرت آپا سارہ بیگم، مکرمہ اُستانی میمونہ صوفیہ، اُستانی مکرمہ ہاجرہ بیگم اہلیہ مکرم فتح محمد سیال، مکرمہ استانی مریم بیگم اہلیہ حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ، محمدی بیگم ہمشیرہ اُستانی مریم ، مکرمہ مسعودہ بیگم بدوملہی، مکرمہ صاحبزادی امۃ السلام بیگم، مکرمہ مہرالنسا، اہلیہ حضرت ولی اللہ شاہ صاحبؓ، لڑکیوں میں سے امۃ العزیز بنت عبدالرحیم بھٹی، مبارکہ بیگم بنت نیّر، آمنہ بیگم بنت فتح محمد سیال، آمنہ بیگم بنت بھائی محمود اور خاکسارہ ۔ مدرسۃ الخواتین میں پڑھانے والے اساتذہ کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ جو قرآن مجید اور تاریخ پڑھاتے تھے۔ حضرت سید ولی اللہ شاہ عربی، حضرت مولوی شیر علی صاحبؓ عربی ادب، اس کے علاوہ باقی اساتذہ کے نام یاد نہیں رہے۔ مدرسۃ الخواتین کلاس بند ہوکر کچھ عرصے بعد مولوی کلاس شروع کروائی گئی جن میں چند پڑھنے والیاں تھیں۔ صاحبزادی امۃ السلام بیگم بنت حضرت مرزا بشیر احمدؓ بھی ہمارے ساتھ شامل تھیں اور وہ اس امتحان میں پنجاب میں فرسٹ آئی تھیں‘‘۔

حضرت صاحبزادی ناصرہ بیگم کو حضرت اماّں جان سیدہ نصرت جہاں بیگمؓ، حضرت امیّ جان (امّ ناصر حضرت صاحبزادی محمودہ بیگم حرم حضرت مصلح موعودؓ) اور حضرت ممانی جان (حضرت سیدہ صالحہ بیگم حرم میر محمد اسحاق ؓ) کو بہت قریب سے دیکھنے کا شرف حاصل رہا۔ ان بزرگ خواتین کے بارے میں آپ نے بتایا کہ۔

’’حضرت اماں جان کی عادت تھی کہ صبح کی نماز و تلاوت اور ناشتہ کرنے کے بعد سیر کونکل جاتیں۔ بعض واقف اور غریب خواتین کے گھروں میں جا کر سوٹی سے دروازہ کھٹکھٹاتی۔ جواب ملنے پر اندر تشریف لے جاتیں۔ حالات معلوم کرنے پرمشکلات اورپریشانیاں دُور کرنے کی کوشش کرتیں۔ گھر میں زیادہ وقت تسبیح و تحمید میں گزرتا یا نمازوں میں کبھی دن میں ایک دوبار باورچی خانے میں جا کرکھانے کی نگرانی کرتیں۔ کبھی خود بھی پکا لیتیں۔ ہم لڑکیوں سے اصلاحی ناولیں سنتیں جس سے ہماری اُردو کی اصلاح کرتیں مثلاً گودڑی کے لعل۔

حضرت امیّ جان بڑی صابرہ و شاکرہ تھیں۔ تہجدگزار نمازوں کو قائم کرنے والی قرآن مجید کی تلاوت کا شغف رکھتی تھیں۔ کئی مستورات کو انہوں نے قرآن مجید با ترجمہ ختم کروایا۔ حضرت ممانی جان جن کا ذکر میں پہلے کرچکی ہوں وہ اپنے نام کے مطابق صالحہ بزرگ تھیں‘‘۔

آپ کو سلائی و دستکاری میں خاص ملکہ حاصل ہے۔ آپ کی ہنرمندی کی بدولت لجنہ کے شعبہ دستکاری نے خاص ترقی کی۔ آپ اس سلسلے میں سلیقے کی اہمیت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ۔ سلائیو دستکاری میں مجھے خاص ملکہ حاصل تو نہیں مگر یہ ہے کہ سلائی و دستکاری کا شوق رہا ہے۔ شادی سے پہلے کلیوں والے کپڑے اور فراکس بھی خود سیتی تھیں۔ امیّ جان میرے سامنے لٹھے کے تھان رکھ دیا کرتی تھیں کہ اپنے بھائیوں کے پاجامے کاٹو اور سیو۔ اس سے ایک تو میرا ہاتھ صاف ہو گیا تھا۔ دوسرے سلائی کرنے سے پیسوں کی بچت ہوتی تھی۔

سلیقے کی کئی قسمیں ہیں مثلاً سلائی کا سلیقہ، کھانا پکانے کا سلیقہ جس طرح کھانا پکانے کے لئے سبزی کاٹی جائے تو کدّو اور شلجم کے چھلکے بھی کھانا پکانے کے کام آتے ہیں۔ اسی طرح پیاز کو سلیقے سے کاٹا جائے، اسی طرح سلائی کے سلیقے میں کترنوں کو ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے ہمیں دومہینوں کے اندر 8 ہزار روئی کی صدری تیار کرنے کا حکم دیا ۔اس میں سب سے پہلا مرحلہ کٹائی کا تھا کیونکہ تھانوں کے تھان کٹ رہے تھے اس لئے بچا ہوا کپڑا کٹائی سے نکلا ہوا تقریباً من ڈیڑھ من ہو گیا تھا۔ میں نے کام کرنے والیوں سے کہا کہ جو اس کترنوں سے کام لے سکتی ہیں وہ ان کو لے جاسکتی ہیں پھر مجھے بتائیں کہ انہوں نے اس سے کیا کام لیا ہے۔ انہوں نے بڑی کترنوں کوجوڑ کر بڑی چادریں بنائیں بعض نے لحاف بنوائے۔ بعض نے روئی شامل کرکے دریاں بنوائیں۔ جب حضرت مصلح موعودؓ نے تحریک جدید کا اعلان فرمایا اور احمدیت کی ترقی کے لئے مطالبات رکھے تو ان مطالبات کے نتیجے میں قادیان کے احمدی گھرانوں میں جو معاشرتی تبدیلیاں آپ نے دیکھیں مثلاً سادہ لباس، سادہ رہن سہن وغیرہ اس کے متعلق بتاتے ہوئے فرماتی ہیں کہ۔

’’لباس فوراً سادہ کر دیا گیا۔ گوٹاکناری وغیرہ بند ہو گیا سوائے پرانے گوٹا کناری وغیرہ والے کپڑے جو ہوتے وہ پہنے جاتے تھے لیکن نئے کپڑے گوٹا کناری والے نہیں بنتے تھے۔ لیکن گھر سادہ اور صاف ہوتے تھے۔ صفائی میں کچھ خرچ نہ ہوتا تھا بلکہ صفائی گھر والے کے سلیقے کا اظہار کرتی تھی‘‘۔

قادیان کے ماحول میں شادی کی سادہ رسوم کے بارے میں فرمایا۔ میں نے اپنے گھروں میں شادیاں دیکھیں اُن میں رسم نہ دیکھی۔ سادہ ہی شادی ہوتی تھی۔ رونقیں وغیرہ نہیں ہوتی تھی جن میں خرچ ہومثلاً کھانا یا چائے وغیرہ کا خاص اہتمام ہو۔ ہاں بچی کو تیار کرکے دُلہن ضرور بنایا جاتا۔

بارات خاموشی سے دُعا پڑھتے ہوئے آتی اور دُلہن کو لے کر رخصت ہو جاتی۔ آپ اللہ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ آپ نے اپنی وصیت کے متعلق بیان کرتے نیز خواتین کے لئے وصیّت کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا۔

’’میں نے غالباً خدا کے فضل سے 12 سال کی عمر میں وصیّت کی ہے۔ حضرت اباّ جان 10 روپے جیب خرچ دیتے تھے جس میں سے ایک روپیہ نکل جاتا تھا۔ کچھ زمین دے دی تھی اس کی بھی وصیّت دیتی تھی۔ وصیّت کرنے کا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ خدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کی عادت ہو جاتی ہے اور یہ خواہش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ اللہ کی راہ میں خرچ کریں‘‘۔

آپ کے دور صدارت میں لجنہ نے بہت ترقی کی۔ آپ نے لجنہ کے کام میں بہت وقت دیا۔ اس کے ساتھ گھر کی ذمہ داری بھی باحسن ادا کرتی تھیں۔

اس توازن کے متعلق بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا۔

لجنہ کے کام میں وقت تو دیا مگر گھر کا کام بھی اسی طرح کیا جس طرح گھر کی مالکہ کافرض ہے۔ گھر کے کاموں میں کچھ نہ کچھ وقت تو خرچ ہوتا ہے مگر میں نے لجنہ کے کاموں کومتاثر نہ ہونے دیا۔ میری عادت ہمیشہ سے رہی کہ رات سونے سے پہلے اگلے دن کی کھانے کی پرچی لکھنا اور دن کے کاموں کے پروگرام بنا لیتی تھی۔ کبھی اس معمول میں فرق آجاتا لیکن عمومی طور پر یہ عادت تھی اس سے کام کا بوجھ ہلکا ہو جاتا اور سوچنے کے لئے وقت دینے کی ضرورت نہ پڑتی۔

(’’النساء کینیڈا‘‘ مئی تا اگست 2011ء)

(روزنامہ الفضل 5مارچ 2012ء)

(شکیلہ طاہرہ۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ