• جمعہ 10 اپریل 2020   (17 شعبان 1441)

کنوار گندل (ایلوویرا) کے حیرت انگیز فوائد

کنوار گندل تقریباً 6ہزار سال سے طب میں استعمال ہوتی چلی آ رہی ہے۔یہ داخلی اور خارجی ہر دو لحاظ سے استعمال کی جاتی ہے۔

داخلی استعمال

یہ معدے کو طاقت دیتی ہے اور ورموں کو تحلیل کرتی ہے سوزش کو رفع کرتی ہے۔ ہاضم ہے بھوک لگاتی ہے۔ اور انتڑ یوں کی راہ سے زہریلے مادوں کو خارج کرتی ہے۔ جراثیم کش ہے نیز باہ کو طاقت دیتی ہے مفیدِ عام دوا (مصبرّ) (Cape Aloes) اس سے اخذکیاجاتا ہے۔ جو قبض کے ازالہ اور ریاحی مادوں کو جسم سے خارج کرنے کے لیے بکثرت استعمال ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ کنوار گندل کے گودے کا سالن نہ صرف لذیذ ہوتا بلکہ مفید بھی ہے۔ آج کل جلد کے مختلف مسائل کے حل کیلئے کنوار گندل (Aloe Vera) کو بہت مؤثر پایا گیا ہے۔ اس کا گودا چہرے کی جلد کو ملائم، نرم اور خوبصورت بناتا ہے۔

کنوار گندل کا رس (Aloe Vera) یا اس کی جیل (Aloe Vera Gel) چہرے کے دانوں کیل، مہاسوں (Acnes) اور جُھریوں، شکنوں (Wrinkles) کو دور کرتی ہے۔ مگر اس کیلئے اس کا عرصہ دراز تک استعمال ضروری ہے ورنہ کوئی نمایاں اور واضح فرق نہیں پڑے گا۔

یہ جلد کو اضافی طور پر چکنا رکھتی ہے اور اس کی یہ خوبی اس کے اندر موجود وٹامن (E) اور (C) کی وجہ سے ہے۔ یہ داغ، دھبوں اور چھائیوں (Freckles) کو دور کرتی ہے اور اس طرح دھوپ کے بداثرات سے بچاتی ہے اور آنکھوں کے گرد سیاہ حلقوں کو دور کرتی ہے۔یہ بالوں کو گھنا، مضبوط اور چمکدار بنانے میں مدد دیتی ہے اور سر کی خشکی دور کرتی ہے۔

کنوار گندل کے مجربات

کنوار گندل کا رس 100 گرام یا 100 ایم ایل نوشادر 100 گرام (Ammonium Chloride) باہم ملا کر فریج میں رکھ لیں اور ایک تا دو چمچ صبح شام پئیں۔

مقدار خوراک

اس میں کمی بیشی حسبِ حالات کی جاسکتی ہے۔ اس سے پیشاب و پاخانہ کھل کر ہوتا ہے ۔ بازار سے ایلو ویرا جوس مل سکتا ہے استعمال کر سکتے ہیں۔

فوائد

معدہ و جگر و تلی (Spleen) کے تمام امراض میں بفضلِ خدا بہت مفید ہے۔ معدے کی جلن، سوزش ورم اسی طرح جگر کے ورم وسوزش اور ورم نیز تلی کے سوج (Splenitis) جانے اور بڑھ جانے میں نافع ہے۔ پیٹ میں پانی پڑ جانےمیں سریع الاثر ہے۔

اسی طرح جوڑوں کے درد، کمر درد، قبض اور بواسیر میں نفع بخش ہے۔ بلڈ پریشر و کولیسٹرول کی زیادتی میں بھی یہ نسخہ فائدہ بخش ہے۔

(ہومیو ڈاکٹر نذیر احمد مظہر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 فروری 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ