• 6 دسمبر, 2022

کچن گارڈننگ

باغ کا ذکر آتے ہی ذہن میں پھلوں ،پھولوں سے لدے ہوئے درختوں اور پودو ں سے بھری ہوئی جگہ کا نقشہ ابھرتا ہے۔ باغات کا ہمیشہ ہی انسانی تاریخ میں ایک خاص تذکرہ رہا ہے۔ سب سے قدیم باغ جس کا ذکر تاریخ میں ملتا ہے وہ باغ عدن ہے جہاں بائیبل کے مطابق پہلے انسان آدم اور حوا کو رکھا گیا اور یوں انسان کے ساتھ باغ کا ایک رشتہ جوڑ دیا گیا۔ اس کے علاوہ بابل کے معلق باغات کا بھی تاریخ میں ذکر ملتا ہے جو سات قدیم عجائبات میں سے دوسرے نمبر پر ہیں۔ روایتی باغات کی نسبت کچن گارڈن ایسے باغیچے ہیں جہاں گھر کے ساتھ ہی چھوٹی سی جگہ پر یا عقبی آنگن میں باورچی خانہ کی ضروریات پوری کرنے کے لئے سبزیاں اور دیگر پودے لگائے جاتے ہیں ۔

گارڈننگ کی ابتدائی تاریخ

اگرچہ پہلا باغبان ہونے کا سہرا عام طور پر مشرق وسطی میں ’’زرخیز ہلال‘‘ کے لوگوں کو جاتا ہے، ’’زرخیز ہلال‘‘ مشرق وسطی کا ایک ہلال نما خطہ ہے، جو جدید دور کے عراق، اسرائیل، فلسطین، شام، لبنان، مصر، اور اردن کے ساتھ ساتھ ترکی اور ایران کے مغربی کنارے پر پھیلا ہوا ہے۔ کچھ تاریخ دانوں کے مطابق اس میں قبرص بھی شامل ہے۔اس خطے کو ’’تہذیب کا گہوارہ‘‘ کہا جاتا ہے، کیونکہ دجلہ، فرات اور نیل کی زرخیز وادیوں کی وجہ سے یہیں سے ہی آباد شدہ کاشتکاری کی تہذیب ابھرنا شروع ہوگئی۔ جب لوگوں نے نئے پودوں کو فصلوں کی طرح اگانے کے لئے قدرتی پودوں کی صفائی اور تبدیلی کا عمل شروع کیا۔ ابتدائی انسانی تہذیب اسی کے نتیجے میں تشکیل پائی – دنیا میں کئی مقامات پر پودوں کی کاشت اور پالتو جانوروں کی پرورش 10000 سال قبل مسیح سے 7000 سال قبل مسیح کے درمیان ہوئی۔ اس وقت سے جنوب مغربی ایشیاء ، چین ، جنوبی امریکہ ، افریقہ اور ہندوستان میں ابتدائی سبزیوں کی باغبانی کے ثبوت موجود ہیں۔

کھیت سے باغ تک

شروع میں کھیتی باڑی اور باغبانی کے مابین فرق قائم کرنا مشکل تھا کیونکہ شاید یہ صرف ایک ہی خاندان کی ضروریات پوری کرنے کے لئے چھوٹے پیمانے پر ہوتا۔ باغات تیار ہونے سے پہلے چھوٹے اور انفرادی پیمانے پر کھیتی باڑی کئی صدیوں تک جاری رہی ، خاص طور پر شہروں کےارد گرد جہاں ان شہریوں کو خوراک کی فراہمی کی ضرورت تھی جن کے پاس اپنی پیداوار کو اگانے کے لئے جگہ نہیں تھی-

کچن گارڈننگ کا آغاز

ابتدائی طور پر کچن گارڈننگ کا آغاز قرون وسطیٰ کے دور میں ملتا ہے ۔ خانقاہوں کے راہب ضروریات پوری کرنے کے لئے خانقاہ کے ساتھ خالی زمین پر سبزیاں وغیرہ کاشت کرتے تھے۔ اس کے علاوہ محلات اور قلعوں کے شاہی باورچی خانوں کی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لئے بھی اندرہی باغات موجود ہوتے تھے-۔یوں باغبانی کی مہارتیں ترقی کرتی گئی-

17 ویں صدی عیسوی میں جب نئی دنیا دریافت کرنے کے جنون میں نو آبادیاتی دور کا آغاز ہوا تو آبادگار اپنے ساتھ نئی نئی سبزیوں کے بیج اور تکنیک لائے۔جنوبی امریکہ کی سبزیاں یورپ اور ایشیا میں پھیلیں اور ایشیا و یورپ کی براعظم امریکہ میں گئیں۔ نوآبادیاتی دور میں کچن گارڈن کم از کم تقریباً ایک ایکڑ رقبہ میں لگایا جاتا تھا ۔ اس جگہ کو سبزیوں کے ساتھ ساتھ مویشیوں کو پالنے اور مرغبانی وغیرہ کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا-

18 ویں صدی کے دوران ایک عام کچن گارڈن میں اگائی جانے والی چیزوں کا انحصار گھروں کی دولت پر تھا اور کاشت کی جانے والی اشیاء سے معاشرتی طبقاتی درجہ کا بھی اندازہ لگایا جاتا تھا۔

برطانیہ میں کچن گارڈننگ

پھر جنگ عظیم اول اور دوم ہوئیں جو سبزیوں کی باغبانی کی تاریخ میں ایک اہم باب ہے۔ جنگیں افراد کے ساتھ ساتھ وسائل کو بھی ہڑپ کر لیتی ہیں۔ چنانچہ خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لئے برطانیہ میں الاٹمنٹ گارڈن کے کلچر کا آغاز ہوا۔ اس اسکیم کے تحت ہر شہر میں مخصوص جگہوں پر چھوٹے چھوٹے پلاٹ بنا کر لوگوں کو سبزیاں اور پھل وغیرہ اگانے کے لئے دئے گئے تاکہ متوسط اور مزدور طبقہ وہاں سے اپنے کچن کی کچھ ضروریات پوری کرسکے۔ اس دور میں اس اسکیم نے بہت کامیابی حاصل کی۔ خورا ک کی کمی ہونے کی وجہ سے ہر ایک سے اپنی غذا کی تکمیل کے لئے سبزیاں وغیرہ اُگانے کی توقع کی جاتی تھی۔ حکومت کے زیر اہتمام اشتہاری مہم نے خاص طور پر سبزیوں اور پھلوں کی کاشت کی خوبیاں بیان کیں۔

اس وقت سے ہی یہ کمیونٹی گارڈن برطانوی معا شرے کا ایک اہم حصہ تصور کئے جاتے ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ یہ صرف معمر اور ریٹائرڈ افراد کی مصروفیت کا ذریعہ سمجھا جانے لگا لیکن کچھ عرصہ اس شوق میں کمی آنے کے بعد اب دوبارہ لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور نوجوان نئی نسل بھی اس طرف راغب ہو رہی ہے۔باغبانی میں جدت آنے اور گرین ہاؤس ، پولی ٹنل ،عمودی باغبانی جیسے طریقے متعارف ہونے کی وجہ سے چھوٹی جگہوں پر بھی سبزیوں کی کاشت کو آسان بنا دیا ہے اور نہیں لگتا کہ مستقبل قریب میں برطانوی قوم میں یہ شوق کم ہونے والا ہے۔

کچن گارڈن میں لگائے جانے والی سبزیاں اور پھل

یوں تو ہرملک کی آب و ہوا مختلف قسم کے پودوں کے لئے موزوں ہوتی ہے لیکن کچھ پودے ایسے ہیں جو ہر جگہ پر ہی لگائے جا سکتے ہیں ۔ برطانیہ میں چونکہ سال کے بیشتر مہینوں میں موسم نمداراور راتیں ٹھنڈی ہوتی ہیں اسلئے بیشتر سبزیوں کی کاشت اپریل سے ستمبر کے دوران بہتر درجہ حرارت میں کی جاتی ہے۔ ٹماٹر، لال مولی، مختلف قسم کے سلاد ، پھلیاں، آلو، مٹر ، کھیرا ، ماڑو اور چقندر وغیرہ باآسانی لگائے جاتے ہیں ۔ بعض شوقین افراد تو زمین نہ ہونے کی وجہ سے گملوں میں ہی پودے لگا لیتے ہیں ۔ پھلدار جھاڑیوں میں اسٹرابیری، گوز بیری، بلیک کرنٹ اور بلیک بیری لگائی جاتی ہیں جبک پھلدار درختوں میں چیری، سیب، آڑو، خوبانی اور ناشپاتی شامل ہیں۔

مقامی کونسلز ہر سال باقاعدگی سے باغبانی کے مقابلے منعقد کرواتی ہیں جن میں باغبانی کی مختلف کیٹیگریز میں بہتر کارگردگی دکھانے والے افراد کو انعامات دیئے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ بہت سی باغبانی کی تنظیمیں بھی قائم ہیں جو باغبانی کی راہنمائی کے علاوہ مختلف قسم کے مقابلے بھی منعقد کرواتی رہتی ہیں ۔موسم بہار کا آغاز ہوتے ہی ہر بڑے اسٹور پر باغبانی کا سامان اور کھاد وغیرہ فروخت کے لئے رکھ دیئے جاتے ہیں جو تمام موسم گرما دستیاب رہتے ہیں ۔ مختلف اقسام کے بیج ، پنیری اور پودے با آسانی مل جاتے ہیں۔

آئندہ مضمون میں ہم دیکھیں گے کہ موسم کے لحاظ سے مختلف جغرافیائی علاقوں میں باغبانی کا آغاز کیسے کیا جائےاور ابتداء میں کن امورکا خیال رکھنا پڑے گا۔

(عامر محمود ملک۔ نمائندہ الفضل آن لائن یوکے)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعۃ المبارک مؤرخہ 18؍مارچ 2022ء

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ