• 14 جولائی, 2024

فقہی کارنر

بآواز بلند اپنی زبان میں دعا

ایک شخص نے سوال کیا کہ حضورؑ! امام اگر اپنی زبان میں (مثلاً اُردو میں) بآواز بلند دُعا مانگتا جائے اور پچھلے آ مین کرتے جائیں تو کیا یہ جائز ہے جبکہ حضور کی تعلیم ہے کہ اپنی زبان میں دعائیں نماز میں کر لیا کرو؟

(حضورؑ نے) فرمایا:
دعا کو با آواز بلند پڑھنے کی ضرورت کیا ہے۔ خدا تعالیٰ نے تو فر مایا: تَضَرُّ عًا وَ خُفْیَةً (الاعراف: 56) اور دُوْنَ الْقَوْلِ (الاعراف: 206)

عرض کیا کہ قنوت تو پڑھ لیتے ہیں:۔ فرمایا:
ہاں ادعیہٴ ماثورہ جو قرآن و حدیث میں آ چکی ہیں وہ بے شک پڑھ لی جاویں۔ باقی دعائیں جو اپنے ذوق و حال کے مطابق ہیں وہ دل ہی دل میں پڑھنی چائیں۔

(بدر یکم اگست 1907ء صفحہ12)

(مرسلہ: داؤد احمد عابد۔ استاد جامعہ احمدیہ برطانیہ)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مارچ 2023