• 19 جون, 2024

حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کے مقاصد

حضرت مسیح موعودؑ کی بعثت کے مقاصد
امام الزماںؑ اور خلفائے عظام کے ارشادات کی روشنی میں

سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے اہم مقاصد، توحید حقیقی کو قائم کر کے مخلوق کا تعلق اپنے خالق سے قائم کرنا، دین اسلام کو ازسرنو زندہ کرنا اور شریعت محمدیہ میں جو غلط باتیں رواج پاگئی تھیں ان کی اصلاح کرکے دوبارہ قائم کرناتھا۔ آپ علیہ الصلوۃ والسلام خدائی وعدوں کے مطابق اپنی آمد کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’جب تیرھویں صدی کا آخیر ہوا اور چودھویں صدی کا ظہور ہونے لگا۔تو خدا تعالیٰ نے الہام کے ذریعہ سے مجھے خبر دی کہ تو اس صدی کا مجدّد ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ الہام ہوا کہ

اَلرَّحۡمٰنُ عَلَّمَ الۡقُرۡاٰنَ لِتُنۡذِرَ قَوۡمًا مَّاۤ اُنۡذِرَ اٰبَآؤُہُمۡ وَلِتَسۡتَبِیۡنَ سَبِیۡلُ الۡمُجۡرِمِیۡنَ قُلۡ اِنِّیۡۤ اُمِرۡتُ وَاَنَا اَوَّلُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ

یعنی خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اور اس کے صحیح معنے تیرے پر کھول دئیے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا تُو ان لوگوں کو بد انجام سے ڈراوے کہ جو بباعثِ پُشت در پُشت کی غفلت اور نہ متنبّہ کئے جانے کے غلطیوں میں پڑ گئے اور تا اُن مجرموں کی راہ کھل جائے کہ جو ہدایت پہنچنے کے بعد بھی راہ راست کو قبول کرنا نہیں چاہتےان کو کہہ دے کہ مَیں مامور من اللہ اور اوّل المومنین ہوں۔‘‘

(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد13 صفحہ201-202 حاشیہ)

’’…اس زمانہ کے مجدّد کا نام مسیح موعود رکھنا اس مصلحت پر مبنی معلوم ہوتا ہے کہ اس مجدّد کا عظیم الشان کام عیسائیت کا غلبہ توڑنا اور ان کے حملوں کو دفع کرنااور ان کے فلسفہ کو جو مخالفِ قرآن ہے دلائلِ قویّہ کے ساتھ توڑنااور اُن پر اسلام کی حجت پوری کرنا ہے کیونکہ سب سے بڑی آفت اس زمانہ میں اسلام کیلئے جو بغیر تائیدِ الٰہی دور نہیں ہوسکتی عیسائیوں کے فلسفیانہ حملے اور مذہبی نکتہ چینیاں ہیں جن کے دُور کرنے کیلئے ضرور تھا کہ خدائے تعالیٰ کی طرف سے کوئی آوے۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ341)

انبیاءؑ کے دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض

انبیاء کی بعثت ایسے وقت میں ہوا کرتی ہے جب کفر و ضلالت اپنے عروج پر ہوتا ہے اور زمانہ با لطبع مصلح کا متقاضی ہوتا ہے۔ مصلح ربانی کی بعثت رحمت باراں بن کر روحانی خشکی کو تری میں بدلنے کا باعث بنتی ہے اور ہر طرف سر سبزی و شادابی کا پُر کیف منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔اس حوالے سے

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’انبیاء علیہم السلام کی دنیا میں آنے کی سب سے بڑی غرض اور ان کی تعلیم اور تبلیغ کا عظیم الشان مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو شناخت کریں اور اس زندگی سے جو انہیں جہنم اور ہلاکت کی طرف لے جاتی اور جس کو گناہ آلود زندگی کہتے ہیں، نجات پا ئیں، حقیقت میں یہی بڑا بھاری مقصد ان کے آگے ہوتا ہے پس اس وقت بھی جو خدا تعالیٰ نے ایک سلسلہ قائم کیا ہے اور اس نے مجھے مبعوث فرمایا ہے تو میرے آنے کی غرض بھی وہی مشترک غرض ہے جو سب نبیوں کی تھی یعنی میں بتانا چاہتا ہوں کہ خدا کیا ہے؟ بلکہ دکھانا چاہتا ہوں، اور گناہ سے بچنے کی راہ کی طرف رہبری کرتا ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد دوئم صفحہ8-9 ایڈیشن 2003ء)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی اغراض

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی بعثت کی غرض یوں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ
’’مجھے بھیجا گیا ہے تاکہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کھوئی ہو ئی عظمت کو پھر قائم کروں اور قرآن شریف کی سچائیوں کو دنیا کو دکھائوں اور یہ سب کام ہو رہا ہے لیکن جن کی آنکھوں پر پٹی ہے وہ اس کو دیکھ نہیں سکتے حالانکہ اب یہ سلسلہ سورج کی طرح روشن ہو گیا ہے اور اس کی آیات و نشانات کے اس قدر لوگ گواہ ہیں کہ اگر اُن کو ایک جگہ جمع کیا جائے تو اُن کی تعداد اِس قدر ہو کہ رُوئے زمین پر کسی بادشاہ کی بھی اتنی فوج نہیں ہے۔اس قدر صورتیں اس سلسلہ کی سچائی کی موجود ہیں کہ ان سب کو بیان کرنا بھی آسان نہیں۔چونکہ اسلام کی سخت توہین کی گئی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے اسی توہین کے لحاظ سے اس سلسلہ کی عظمت کو دکھایا ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد3 صفحہ9 ایڈیشن1988ء)

بعثت کی دو اغراض یعنی اندرونی و بیرونی فتنوں سے اسلام کی حفاظت

’’یاد رکھو کہ میرے آنے کی دو غرضیں ہیں۔ ایک یہ کہ جو غلبہ اِس وقت اسلام پر دوسرے مذاہب کا ہوا ہے گویا وہ اسلام کو کھاتے جاتے ہیں اور اسلام نہایت کمزور اور یتیم بچے کی طرح ہوگیا ہے۔ پس اس وقت خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے تا مَیں ادیانِ باطلہ کے حملوں سے اسلام کو بچاؤں اور اسلام کے پُر زور دلائل اور صداقتوں کے ثبوت پیش کروں اور وہ ثبوت علاوہ علمی دلائل کے انوار اور برکاتِ سماوی ہیں جو ہمیشہ سے اسلام کی تائید میں ظاہر ہوتے رہے ہیں۔ اس وقت اگر تم پادریوں کی رپورٹیں پڑھو تو معلوم ہو جائے گا کہ وہ اسلام کی مخالفت کیلئے کیا سامان کررہے ہیں اور ان کا ایک ایک پرچہ کتنی تعداد میں شائع ہوتا ہے۔ ایسی حالت میں ضروری تھا کہ اسلام کا بول بالا کیا جاتا۔ پس اِس غرض کیلئے خدا تعالیٰ نے مجھے بھیجا ہے اور مَیں یقینًا کہتا ہوں کہ اسلام کا غلبہ ہو کر رہے گا اور اس کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔ ہاں یہ سچی بات ہے کہ اس غلبہ کیلئے کسی تلوار اور بندوق کی حاجت نہیں اور نہ خدا نے ہتھیاروں کے ساتھ بھیجا ہے۔ جو شخص اِس وقت یہ خیال کرے وہ اسلام کا نادان دوست ہوگا۔ مذہب کی غرض دلوں کو فتح کرنا ہوتی ہے اور یہ غرض تلوار سے حاصل نہیں ہوتی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تلوار اُٹھائی مَیں بہت مرتبہ ظاہر کر چکا ہوں کہ وہ تلوار محض حفاظت خود اختیاری اور دفاع کے طور پر تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ مخالفین اور منکرین کے مظالم حد سے گزر گئے اور بیکس مسلمانوں کے خون سے زمین سُرخ ہو چکی۔

غرض میرے آنے کی غرض تو یہ ہے کہ اسلام کا غلبہ دوسرے ادیان پر ہو۔

دوسرا کام یہ ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ ہم نماز پڑھتے ہیں اور یہ کرتے ہیں اور وہ کرتے ہیں یہ صرف زبانوں پر حساب ہے۔ اس کیلئے ضرورت ہے کہ وہ کیفیت انسان کے اندر پیدا ہو جاوے جو اسلام کا مغز اور اصل ہے۔ مَیں تو یہ جانتا ہوں کہ کوئی شخص مومن اور مسلمان نہیں بن سکتا جب تک ابوبکر، عمر، عثمان، علی رضوان اللہ علیہم اجمعین کا سارنگ پیدا نہ ہو وہ دنیا سے محبت نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے اپنی زندگیاں خدا تعالیٰ کی راہ میں وقف کی ہوئی تھیں۔ اب جو کچھ ہے وہ دنیا ہی کیلئے ہے اور اس قدر استغراق دنیا میں ہورہا ہے کہ خداتعالیٰ کیلئے کوئی خانہ خالی نہیں رہنے دیا۔ تجارت ہے تو دنیا کیلئے۔ عمارت ہے تو دنیا کیلئے۔ بلکہ نماز روزہ اگر ہے تو وہ بھی دنیا کیلئے۔ دنیاداروں کے قرب کیلئے تو سب کچھ کیا جاتا ہے مگر دین کا پاس ذرہ بھی نہیں۔ اب ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ کیا اسلام کے اعتراف اور قبولیت کا اتنا ہی منشاء تھا جو سمجھ لیا گیا ہے یا وہ بلند غرض ہےمَیں تویہ جانتا ہوں کہ مومن پاک کیا جاتا ہے اور اس میں فرشتوں کا رنگ ہو جاتا ہے۔ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کا قرب بڑھتا جاتا ہے وہ خدا تعالیٰ کا کلام سنتا اور اُس سے تسلّی پاتا ہے۔

اب تم میں سے ہر ایک اپنے اپنے دل میں سوچ لے کہ کیا یہ مقام اُسے حاصل ہے؟ مَیں سچ کہتا ہوں کہ تم صرف پوست اور چھلکے پر قانع ہوگئے ہو حالانکہ یہ کچھ چیز نہیں ہے۔ خدا تعالیٰ مغز چاہتا ہے۔ پس جیسے میرا یہ کام ہے کہ اُن حملوں کو رو کا جاوے جو بیرونی طور پر اسلام پر ہوتے ہیں ویسے ہی مسلمانوں میں اسلام کی حقیقت اور رُوح پیدا کی جاوے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کے دلوں میں جو خدا تعالیٰ کی بجائے دنیا کے بُت کو عظمت دی گئی ہے اُس کی اَمَانِی اور امیدوں کو رکھا گیا ہے۔ مقدمات صلح جو کچھ ہے وہ دنیا کیلئے ہے۔ اس بُت کو پاش پاش کیا جاوے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت اور جبروت اُن کے دلوں میں قائم ہو اور ایمان کا شجر تازہ بتازہ پھل دے۔

(لیکچر لدھیانہ، روحانی خزائن جلد20 صفحہ نمبر293-295)

’’اب اتمام حجت کے لئے میں یہ ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ اسی کے موافق جو ابھی میں نے ذکر کیا ہے خدائے تعالیٰ نے اس زمانہ کو تاریک پا کر اور دنیا کو غفلت اور کفر اور شرک میں غرق دیکھ کر ایمان اور صدق اور تقویٰ اور راست بازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا ہے کہ تا وہ دوبارہ دنیا میں علمی اور عملی اور اخلاقی اور ایمانی سچائی کو قائم کرے اور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جو فلسفیت اور نیچریت اور اباحت اور شرک اور دہریّت کے لباس میں اس الٰہی باغ کو کچھ نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ سو اے حق کے طالبو! سوچ کر دیکھو کہ کیا یہ وقت وہی وقت نہیں ہے جس میں اسلام کے لئے آسمانی مدد کی ضرورت تھی کیا ابھی تک تم پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ گذشتہ صدی میں جو تیرھویں صدی تھی کیا کیا صدمات اسلام پر پہنچ گئے اور ضلالت کے پھیلنے سے کیا کیا ناقابل برداشت زخم ہمیں اٹھانے پڑے۔ کیا ابھی تک تم نے معلوم نہیں کیا کہ کن کن آفات نے اسلام کو گھیرا ہوا ہے۔ کیا اس وقت تم کو یہ خبر نہیں ملی کہ کس قدر لوگ اسلام سے نکل گئے کس قدر عیسائیوں میں جا ملے کس قدر دہریہ اور طبعیہ ہوگئے اور کس قدر شرک اور بدعت نے توحید اور سنت کی جگہ لے لی اور کس قدر اسلام کے رد ّکے لئے کتابیں لکھی گئیں اور دنیا میں شائع کی گئیں سو تم اب سوچ کر کہو کہ کیا اب ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس صدی پر کوئی ایسا شخص بھیجا جاتا جو بیرونی حملوں کا مقابلہ کرتا اگر ضرور تھا تو تم دانستہ الٰہی نعمت کو ردّ مت کرو اور اس شخص سے منحرف مت ہوجاؤ جس کا آنا اس صدی پر اس صدی کے مناسب حال ضروری تھا اور جس کی ابتدا سے نبی کریم نے خبر دی تھی اور اہل اللہ نے اپنے الہامات اور مکاشفات سے اس کی نسبت لکھا تھا ذرہ نظر اٹھا کر دیکھو کہ اسلام کو کس درجہ پر بلاؤں نے مجبور کر لیا ہے اور کیسے چاروں طرف سے اسلام پر مخالفوں کے تیرچھوٹ رہے ہیں اور کیسے کروڑہا نفسوں پر اس زہر نے اثر کردیا ہے یہ علمی طوفان یہ عقلی طوفان یہ فلسفی طوفان یہ مکر اور منصوبوں کا طوفان یہ فسق اور فجور کا طوفان یہ لالچ اور طمع دینے کا طوفان یہ اباحت اور دہریت کا طوفان یہ شرک اور بدعت کا طوفان جو ہے ان سب طوفانوں کو ذرہ آنکھیں کھول کر دیکھو اور اگر طاقت ہے تو ان مجموعہ طوفانات کی کوئی پہلے زمانہ میں نظیر بیان کرو اور ایمانًا کہو کہ حضرت آدم سے لے کر تا ایندم اس کی کوئی نظیر بھی ہے اور اگر نظیرنہیں تو خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور حدیثوں کے وہ معنے کرو جو ہوسکتے ہیں واقعات موجودہ کو نظر انداز مت کرو تاتم پر کھل جائے کہ یہ تمام ضلالت وہی سخت دجّالیت ہے جس سے ہریک نبی ڈراتا آیا ہے جس کی بنیاد اس دنیا میں عیسائی مذہب اور عیسائی قوم نے ڈالی جس کے لئے ضرور تھا کہ مجدّد وقت مسیح کے نام پر آوے کیونکہ بنیاد فساد مسیح کی ہی امت ہے۔‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ251-254)

حضرت مسیح موعود ؑ کی بعثت کے مقاصد
کے بارے میں خلفاء کرامؓ کے اقوال

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں: ’’ہزاروں ہزار مامور من اللہ دنیا کی ہدایت کو آئے اور ان سب کے بعد ہمارے سید و مولیٰ سید ولد آدم فخر الاولین و الآخرین افضل الرسل و خاتم النبیین حضرت محمد رسول رب العالمین صلی اللہ و علیہ وسلم تشریف لائے اور پھر کیسی رہنمائی فرمائی کہ ان کے ہی نمونہ پر ہمیشہ خلفاء امت کو بھیجتا رہا۔حتیٰ کے ہمارے مبارک زمانہ میں بھی ایک امام اس ہدائیت کے بتلانے کیلئے مبعوث فرمایا اور اس کو اور اس کے اقوال کو تائیدات عقلیہ و نقلیہ و آیات ارضیہ و سماویہ سے مؤید فرماکر روز بہ روز ترقی عطا کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ کس طرح الٰہی ہاتھ ایک انسان کی حفاظت کرتا ہے اور کس طرح آئے دن اس کے اعداء نیچا دیکھتے ہیں …ہاں تو خدا کی ایک ممتاز جماعت ہمیشہ اپنے اقوال سے اس راہ کو بتلاتی اور اپنے اعمال سے نمونہ دکھلاتی ہے جس سے ابدی آرام عطا ہو۔‘‘

(خطبات نور صفحہ30؍خطبہ فرمودہ 20؍اکتوبر1899ء ایڈیشن 2003ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانی فرماتے ہیں:
’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آنے کی غرض یہ ہے کہ وہ نور اورہدائیت جو لوگوں کو خدا وند کریم کی طرف سے دیا گیا تھا اور جس سے وہ ناواقف ہونے کی وجہ سے دشمنوں کا شکار ہوجاتے تھے دوبارہ دیا جائے۔اسلام کو جو ضعف پہنچا ہے وہ نہ صرف اس لئے کہ مسلمانوں میں علم کی کمی ہے بلکہ اس لئے بھی کہ ان میں روحانیت کی بھی جو اسلام کی جان ہے کمی ہوگئی ہے …اللہ تعالیٰ نے جس قدر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر افضال اور انعام اور معارف اور حقائق کھولے ہیں اور جو صداقتیں اسلام میں پائی جاتی ہیں وہ آپ کی کتب میں موجود ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اس وقت اسلام کی حفاطت کا یہی انتظام فرمایا ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کو مبعوث فرمایا۔ آپ پر اپنے انعامات کے دروازے کھول دیے۔پس بغیر ان کتب کو بار بار پڑھے اور قادیان میں کثرت سے آنے کے ایمان کامل نہیں ہوسکتا۔‘‘

(خطبات محمود جلد5,6 خطبہ فرمودہ 15؍جون 1917ء صفحہ486-487)

حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’ہمارے قادر و توانا خدا نے یہ جماعت ایک خاص مقصد کیلئے قائم فرمائی ہے اور سیدنا حضرت المہدی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا ہے وہ مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پہ ایمان مضبوط ہوجائے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا عرفان حاصل ہو یہ عرفان الٰہی ہی ہے جس سے انسان کا ایمان بڑھتا ہے اور یقین مستحکم ہوتا ہے وہ جان لیتا ہے کہ اس کی فلاح دارین اللہ تعالیٰ کی ذات سے وابستہ ہے اس کی تمام امیدیں اسکی رضا پر مزکور ہوجاتی ہیں۔ ایسا صاحب عرفان و یقین انسا ن خود اعتمادی اور وثوق کے ساتھ اپنے مقصد کی جانب بڑھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی رحمتوں اور برکتوں کے روشن نشانات اس کے سامنے موجود ہوتے ہیں اور اس کا ارادہ مجبوط اور عزم راسخ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی محبت اور الٰہی انعامات کا ذاتی تجربہ حاصل کرتا ہے جس سے اس کا اللہ تعالیٰ کی ہستی پر یقین اور قوی ہوجاتا ہے…حضرت المہدی علیہ السلام ہمیں نور دینے آئے تھے۔تاکہ ہم سچے ایمان کا نور اپنی ذات میں مشاہدہ کرسکیں۔‘‘

(خطبات ناصر جلد سوم صفحہ106-107 خطبہ 8؍مئی 1970ء)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’میں ایک اور کشتی کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانی چاہتا ہوں۔یہ کشتی بھی خدا کی آنکھوں کے سامنے بنائی گئی اور خدا تعالیٰ کی ہدایات کت تابع تشکیل دی گئی۔وہ کشتی آپ ہیں یعنی جماعت احمدیہ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتایا تھا کہ تو ایک کشتی تیار کر۔وہ کشتی کیا ہے؟ وہی جماعت احمدیہ جس میں شامل ہونے کے ساتھ اللہ تعالیٰ یہ ضمانت دیتا ہے کہ تمام دنیا کی ہلاکتوں سے تم محفوظ کئے جائو گے …وہ کشتی جو حضرت نوح علیہ السلام کی قوم کو نہیں بلکہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم کو عطا ہوئی جو پہلے ایک تعلیم کی شکل میں ظاہر ہوئی اور پھر اس تعلیم نے جماعت کا روپ دھار لیا اور ایک جماعت کی شکل میں وہ آج دنیا میں موجود ہے اور دنیا کے ہر ملک میں اس کشتی کے نمونے بن رہے ہیں۔‘‘

(خطبات طاہر جلد2 صفحہ272 خطبہ جمعہ 13؍مئی 1983ء)

سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’انبیاء دنیا میں بندے کو خدا کے قریب کرنے کے لئے بندے کو اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی تعلیم پر چلانے کے لئے آتے ہیں اور ان سب انبیاء میں کامل اور مکمل تعلیم لے کر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اوپر اتری ہوئی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کا حق ادا کر دیا اور پھر چودہ سو سال بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا۔جنہوں نے پھر اس عظیم کام کی تجدید کی اور دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف بلایا۔دنیا کو بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی راہ کس طرح تلاش کرنی ہے،کس طرح اس تک پہنچا جاسکتا ہے اور اگر اللہ تعالیٰ کی تلاش ہے اس تک پہنچنے کی خواہش ہے تو اب صرف اور صرف مذہب اسلام ہے جو اللہ تعالیٰ تک پہنچاتا ہے۔ پھر آپ نے غیر مذہبوں کو بھی یہی دعوت دی اپنی ایک نظم کے ایک مصرعے میں آپؑ فرماتے ہیں: ’’آئو لوگوکہ یہیں نور خدا پائو گے۔‘‘

(خطبہ فرمودہ 9؍مارچ 2012ء بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 30؍مارچ تا 5؍اپریل 2012ء)

جماعت احمدیہ 23؍مارچ کو یوم مسیح موعود نہ صرف لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دن یا د دلانے، اس کی نعمت عظمیٰ کا چرچا کرنے اور اس نعمت کے ملنے کی خوشی میں مناتی ہے بلکہ وہ یہ دن اسلام کی نشاةٔ ثانیہ کے دن کے طور پربھی مناتی ہے۔ تا دس شرائط بیعت کے اس عہد کو پھر سے تازہ کریں اور اپنی زندگی میں اس روز کی بیعت توبہ کے مطابق ایک تبدیلی پیدا کریں تااسلام کا انقلاب جلد رونما ہو۔

امیرالمؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطبہ جمعہ 23؍مارچ 2012ء میں فرماتے ہیں: ’’پس ہر سال جب 23؍مارچ کا دن آتاہے تو ہم احمدیوں کو صرف اس بات پر خوش نہیں ہو جانا چاہئے کہ آج ہم نے یوم مسیح موعود منانا ہے، یا الحمدللّٰہ ہم اس جماعت میں شامل ہو گئے ہیں۔جماعت کے آغاز کی تاریخ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے دعویٰ سے ہم نے آگاہی حاصل کر لی ہے، اتنا کافی نہیں ہے، یا جلسے منعقد کر لئے ہیں،یہی سب کچھ نہیں ہے، بلکہ اس سے بڑھ کر ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ ہم نے اس بیعت کا حق ادا کیا ہے ؟ آج ہمارے جائزہ اور محاسبہ کا دن بھی ہے۔بیعت کے تقاضوں کے جائزے لینے کا دن بھی ہے۔شرائط بیعت پر غور کرنے کا دن بھی ہے۔ اپنے عہد کی تجدید کا دن بھی ہے۔ شرائطِ بیعت پر عمل کرنے کی کوشش کے لئے ایک عزم پیدا کرنے کا دن بھی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے وعدے کے پورا ہونے پر جہاں اللہ تعالیٰ کی بے شمار تسبیح و تحمید کا دن ہے وہاں حبیبِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم پر ہزاروں لاکھوں درود و سلام بھیجنے کا دن ہے۔‘‘

(خطباتِ مسرور جلد10صفحہ174-175 مطبوعہ نظارت اشاعت ربوہ)

امیرالمؤمنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’آپ علیہ السلام نے تو نئی زمین اور نیاء آسمان بنایا اور کئی انسانوں کی کایاپلٹ کربتایا کہ یوں نئی زمین اور نئے آسمان بنتے ہیں۔آپؑ نے تو نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کرکے دکھایا اور بہت سارے نمونے ہم نے دیکھے، ہم نشانات دیکھتے بھی ہیں اور سنتے بھی ہیں، اور پڑھتے بھی ہیں۔ اپنے بزرگوں کی حالتوں کودیکھ کر، ان سے سن کر مزید ایمانوں میں تازگی بھی پیدا ہوتی ہے …اب یہ دیکھنا ہے کہ آپ کی جماعت کا حصہ بن کر آپ علیہ السلام کی بیعت میں آکر ہم کیا کوششیں کر رہے ہیں کہ ایک نئی زمین اور ایک نیا آسمان پیدا کریں۔ کیا صحابہ نے جو اسلام کی حقیقی تعلیم اپنائی اور اس کا اظہار کر کے نئی زمین اور نیا آسمان بنایا وہ معیار ہم حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ کیا ہمارے نفسوں میں اتنا تغیر اور تبدیلی پیدا ہو گئے ہیں کہ لوگ کہہ اٹھیں کہ یہ تو با لکل بدل گئے ہیں۔ انہوں نے نیا آسمان اور نئی زمین بنا ڈالی ہے۔ پس ہم نے اگر اس بات کی دلیل دینی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کس طرح نئی زمینیں اور نیا آسمان بنایا تو اس کا سب سے بڑا ثبوت ہماری ذات ہونی چاہئے۔ توحید کا قیام ہماری اوّلین ترجیح ہونی چاہئے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے میں ہماری کوشش ہونی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی ہمیں بھر پور کوشش کرنی چاہئے۔ حقوق العباد کی ادئیگی کی طرف ہماری توجہ رہنی چاہئے۔ ہم صرف اعتقاد ی لحاظ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے والے نہ ہوں بلکہ عملی تبدیلیاں بھی ہمارے اندر نظر آئیں اور جیسا کہ میں نے کہا لوگ کہیں کہ یہ تو کوئی بالکل اور انسان ہو گیا۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 26؍جون 2015ء صفحہ7)

نیز فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ کرے کہ ہم صرف رسمی طور پر یوم مسیح موعود منانے والے نہ ہوں بلکہ مسیح موعود کو قبول کرنے کا حق ادا کرنے والے ہوں اور ہر قسم کے اندرونی اور بیرونی فتنوں سے بچنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے اور ہر بلا اور ہر مشکل سے بچائے۔ آمین‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 23؍مارچ 2018ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل13؍اپریل 2018ء صفحہ9)

(درثمین احمد۔ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

ایڈیٹر کے نام خط

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مارچ 2023