• 13 جولائی, 2024

اک قطرہ اس کے فضل نے دریا بنا دیا

ابتدائے آفرینش سے خدا تعالیٰ کی سُنت ہے کہ جب بھی اس کی مخلوق گمراہی کے رستے پرگامزن ہو جاتی ہےتو رحمت خداوندی جوش میں آتی ہےاپنی مخلوق کی بھلائی کے لیے اس پرُ آشوب دور میں مامورین اور مرسلین کو اس گمراہی کے سدّ باب کے لیےمبعوث فرماتا ہے اور ایک نئے آسمان اور زمین کی داغ بیل ڈالی جاتی ہے، ایک بیج خُدا کے ہاتھ سے بویا جاتا ہےاور آسمانی پانی کے ذریعے اس کی آبیاری کی جاتی ہے حتیٰ کہ وہ ایک ثمر آور درخت بن جاتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعا لیٰ نے اس کی مثال ایک کھیتی کی طرح دیتا ہے، یعنی جس نے پہلے تو اپنی روئیدگی نکالی اور پھر اس کو آسمانی اور زمینی غذا کے ذریعے سے مضبوط کیا، اور وہ روئیدگی اور مضبوط ہو گئی پھر اپنی جڑ پر مضبوطی سے قائم ہو گئی یہاں تک کہ زمیندار کو پسند آنے لگی۔

جس طرح اوّلین انبیأ کے دور میں آخرین کے دور کی خبر دی گئی اور تدریجاً قوموں نے ترقی حاصل کیا اسی طرح آنحضرت ﷺ نے آخرین کے دور کے لیے دین حق کی ترقی کی بشارات دیں کہ اگر ایمان ثُریا ستارے پر پہنچ گیا ہو گا اور ایک فارسی النسل اسے زمین پر لائے گا، یعنی مسیح موعود کے ذریعے دین حق کی ترقی کا غلبہ ہو گا۔

پس الٰہی نوشتوں کے ماتحت حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کے ذریعے دین حق کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھی گئی۔ حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کا تعلق مُغل برلاس قبیلہ سے تھا جو ایک فارسی النسل قبیلہ تھا۔ اس طرح آنحضرتﷺ کی یہ پیش خبری پوری ہوئی کہ آنے والا مسیح فارسی النسل ہو گا۔ حضرت بانیٔ سلسلہ احمدیہ کے مورث اعلیٰ مرزا ہادی بیگ ثمر قند سے پنجاب تشریف لائے اور موجودہ شہر قادیان آباد کیا جس کا نام انہوں نے اسلام پور رکھا، مگر وقت کے ساتھ قاضی ماجھی کے نام سے مشہور ہوا جو بدلتے بدلتے قادیان کے نام میں بدل گیا، حضورؑ کے پردادا اس زمانے کے بہت بڑے خود مختار رئیس تھے جن کی عملداری میں اٹھاون گاؤں تھے۔ حضرت مسیح موعودؑ بچپن سے غور وفکر کی عادت رکھنے والے،تنہائی پسند، کم گو،ہر وقت ذکر الہیٰ میں مصرف رہنے والے تھےآپؑ کے والد صاحب اکثر متفکر ہو کر کہتے کہ تمہارا بڑا فکر ہے تم کس طرح گزارہ کرو گے، والد صاحب کے باربار کہنےپر جواب دیتے کہ جو مالک الملک اور احکم الحاکمین کا ملازم ہو اسے اسے ملازمت کی کیا پرواہ اس پر آپؑ کے والد آبدیدہ ہو جاتے اور فرماتے یہ شخص زمینی نہیں آسمانی ہے یہ آدمی نہیں فرشتہ ہے۔

جس دور میں مسیح الزماں نے قدم رکھا مسلمان اسلامی تعلیمات سے اس قدر دُور جا پڑے تھے غیراللہ کے نام دُہائی ہر جگہ دی جاتی تھی، بدعات کا گھر گھر چرچا تھا۔ اس دور کے بزرگ شاعر مولانا اطاف حسین حالی اس کو یوں بیان کرتے ہیں:

رہا دین باقی نہ اسلام باقی
اک اسلام کا رہ گیا نام باقی

سو ایسے انتہائی مایوس کن پُر آشوب دور میں حالات نے گواہی دی کہ احیائے اسلام کا کام اسی نہج پر ہو سکتا ہے جس طریق پر اسلام کا آغاز ہوا، اور ازل سے یہی مقدر تھا۔

صحیح بخاری میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ: اے مسلمانو! تم کس قدر خوش قسمت ہو گے اس وقت جب تم میں ابن مریم نازل ہو گااور وہ تم میں سے تمہارا امام ہو گا۔

پھر ایسے بگڑے ہوئے حالات اور بگڑی ہو ئی قوم کی اصلاح کی خاطر عین ضرورت کے مطابق اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ کو بے یارومددگار نہ چھوڑا اور وعدوں کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانیؑ کو امام مہدی مبعوث فرما کر قادیان جیسی گمنام بستی کو ایک مقدس برکتوں والی بستی کا شرف بخشا۔ خود حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:

وقت تھا وقت مسیحا کا نہ کسی اور کا وقت
میں نہ آتا تو کوئی اور ہی آیا ہوتا

پھر اپنے ظہور کی صداقت میں فرمایا؛ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اسی نے مجھے بھیجا ہے اسی نے مجھے نبی کا نام دیا ہےاور اسی نے مجھے مسیح موعود کا نام دیا ہےاس نے میری تصدیق میں بڑے بڑے نشان ظاہر کیے ہیں جن کی تعداد تین لاکھ تک پہنچتی ہے۔

(حقیقتہ الوحی، روحانی خزائن صفحہ502-503)

پھر فرمایا؛ اللہ تعالیٰ نے زمانہ کو تاریک پا کر اور دنیا کو غفلت اور شرک میں غرق دیکھ کر اور ایمان اور صدق اور تقوی اور راستبازی کو زائل ہوتے ہوئے مشاہدہ کر کے مجھے بھیجا تاکہ دوبارہ دنیا میں علمی، عملی، اخلاقی، ایمانی سچائی کو قائم کرےاور تا اسلام کو ان لوگوں کے حملہ سے بچائے جوفلسفیت، نیچریت، اور دہریت اور شرک،اباحت کے لباس میں اس الٰہی باغ کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن صفحہ251 جلد5)

اس پرشوکت اعلان کا ہونا تھا کہ غیر مذاہب تو کجا خود مسلمانوں کی طرف سے اس مامور من اللہ کی وہ مخالفت ہوئی کہ جو اللہ رسولوں کے ساتھ قدیم سے سُنت ہے۔ آپؑ پر کفر کے فتوے لگائے گئے، واجب القتل قرار دیئے گئے، جھوٹے مقدمات میں الجھایا گیا، غرض ذلیل و رسوا کرنے کاکوئی ہتھکنڈا نہ چھوڑا۔ مگر اس قادر و قیوم آقا نے ہر ہر قدم پر آپ کواپنی نصرت سے نوازا اور تسلیوں اور وعدوں سے اپنے آپ کو ظاہر کیا اور آپؑ نے بھی اپنی تمام اعلیٰ لذات کو اس خدائے قیوم کی ذات میں پایااور دنیا کے مصائب کی کچھ بھی پروا نہ کی۔ ایک طرف تو آپ اسلام کی حقانیت، قرآن کی فضیلت اور آنحضرتﷺ کی صدقت کو ثابت کرنے کے لیے عقلی و تحقیقی جوابات دینے میں مصروف رہےدوسری طرف اپنے ان مقاصد کی تکمیل کے لیے دلائل و براہین اور مشاہدات و معجزات کے انبار لگا دیئے۔ اسلام کے اس تاریک دور میں آپ ہی وہ بطل جلیل تھے جنہوں نے دنیا بھر میں یہ منادی کر دی کہ زندہ خدا اسلام کا خدا ہے اور زندہ کتاب قرآن مجید فرقان حمید ہے۔ اس زندہ خدا کی خبر دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
میں کثرت قبولیت کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے، میں حلفاً کہتا ہوں کہ میری تیس ہزار کے قریب دعائیں پوری ہو چکی ہیں کوئی نہیں جو ان کا مقابلہ کرسکے۔ (ضرورۃالا امام، روحانی خزائن جلد13 صفحہ497) آج سے سو سال قبل کا اندازہ کریں تو خیال آتا ہے کہ کہاں تو عیسائی پادری اور آریہ سماج کے لیڈر اور مسلمان علما نے گلی کوچوں میں شور مچایا ہوا تھا اور اسلام کے خلاف طرح طرح کے ٹریکٹ شائع کرتے اور سادہ لوح عوام کو بے وقوف بناتے اور کہاں قادیان کی ایک چھوٹی سی بستی میں ایک حجرے میں بیٹھا ہوا انسان اپنے قلمی جہاد کے ذریعے سے سب مخالفین کو للکارتا ہے اور اعتراضات کرنے والوں کو دندان شکن جواب دیتا ہے۔

مخالفین نے ہر طرح کا زور لگا لیا اور ساری تدابیر اختیار کر لیں کہ یہ آواز کسی طرح دب جائے اسے کچل دیا جائے، مگر کوئی مخالفت اس رستے کی دیوار نہ بن سکی۔ خدائے قدوس نے اپنے مہدی موعودؑ کو خود یہ خوش خبری دی کہ تم خدا کے ہاتھ کا لگایا ہوا بیج ہو جو زمین میں بویا گیا، یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اورایک بڑا درخت بن جائے گا، پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے۔

میں تھا غریب و بے کس و گمنام بے ہنر
کوئی نہ جانتا تھا کہ ہے قادیاں کدھر

جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا وہ پودا ہے، جس کے اموال اور نفوس میں خدائے ذوالجلال نے برکات اور ترقیات مقدر کر دیں، جماعت پر اللہ کے فضل سے ایک دن بھی ایسا نہیں آیا کہ خدا کے ہاتھ نے اپنی دستگیری نہ کی ہو۔ گھبراہٹ کا اس جماعت کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ خدا نے اپنے بندے کو خود آگے بڑھ کر گود میں اُٹھا لیا اور متکفل ہو گیا۔

آپؑ کے والد صاحب کی وفات پر بشری تقاضا سے یہ خیال پیدا ہوا کہ اب کیسے گزارہ ہو گا تو اللہ تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا کہ، الیس اللّٰہ بکاف عبدہ، کہ کیا اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں اور اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے ایسا متوکل اور والی ہوا کہ آپ نے ایک جگہ فرمایا کہ،

ایک وقت تھا کہ دسترخوان کے بچے کھچے ٹکڑے میرا کھانا ہوتا تھا اب میرے دسترخوان پر خاندانوں کے خاندان کھانا کھاتے ہیں۔

مسیح و مہدئی دوراں کی جماعت دکھی انسانیت کی امتیازی شان کے ساتھ خدمت کی توفیق پا رہی ہے۔ مجلس نصرت جہاں، کے تحت بے شمار اسپتال اور اسکول افریقہ میں روحانی اور جسمانی شفأ کا باعث بن رہے ہیں اسی طرح ہیومینٹی فرسٹ اپنے بہترین طریقہ کار کی بدولت مختلف اسپتالوں، فوڈ بنک، میٹھے پانی کی ترسیل، خدمت کی توفیق پا رہی ہےآج وہ زمانہ ہے کہ لا کھوں لوگ مسیح کے لنگر سے سیر یاب ہوتے ہیں، یہ لنگر دنیا کے ہر ملک میں جہاں جماعت احمدیہ قائم ہے جا ری و ساری ہیں۔ عقل رکھنے والوں کے لیے اس میں نشان ہیں پس جماعت احمدیہ کی سو سالہ تاریخ شاہد ہے کہ وہ اکیلی آواز جو قادیان کی گمنام بستی سے اٹھی تھی آج وہ دنیا کے 212 ممالک میں پھیل چکی ہے اور تاریخ شاہد ہے کہ جماعت کا ہر قدم بعینہ قرآنی احکامات کے مطابق اُٹھ رہا ہے وہ آواز جو اکیلی تھی آج وہ ایک سے دو میں اور دو سے چاراور سیکڑوں ہزروں لاکھوں کروڑوں میں تبدیل ہوئی اورمسلم ٹیلی ویژن احمدیہ کی برکت سے شش جہات میں امن و محبت کا پیغام لیے روحوں کی سیرابی کا باعث بن کر گونج رہی ہے۔

کنارے گونج اٹھے ہیں زمین کے جاگو
کہ اک کروڑ صدا اک صدا سے اٹھی

(ناصرہ احمد۔ کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 مارچ 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ