• 6 مئی, 2021

اس کی مزیدوضاحت کہ حکمرانوں سے اختلاف کی صورت میں کیا کیا جائے؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
اس کی مزید وضاحت کہ حکمرانوں سے اختلاف کی صورت میں کیا کیا جائے؟۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ کیا حکمران صرف مسلمان ہیں جن کی اطاعت کرنی ہے۔ یا یہ جو حکم ہے یہ دونوں کے لئے آتا ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارہ میں کیا ارشاد فرمایا؟ آپ نے پہلے خلفاء کی بابت فرمایا کہ ’’مَیں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اطاعت اور فرمانبرداری کو اپنا شیوہ بناؤ خواہ کوئی حبشی غلام ہی تم پر حکمران کیوں نہ ہو۔ جو لوگ میرے بعد زندہ رہیں گے، وہ لوگوں میں بہت بڑا اختلاف دیکھیں گے۔ پس ایسے وقت میں میری وصیت تمہیں یہی ہے کہ تم میری سنت اور میرے بعد آنے والے خلفاء راشدین کی سنت کو اختیار کرنا۔ تَمَسَّکُوْابِھَا۔ تم اُس سنت کو مضبوطی سے پکڑ لینا اور جس طرح کسی چیز کو دانتوں سے پکڑ لیا جاتا ہے، اسی طرح اس سنت سے چمٹے رہنا اور کبھی اس راستے کو نہ چھوڑنا جو میرا ہے یا میرے خلفائِ راشدین کاہو گا‘‘۔ مسند احمد بن حنبل کی یہ حدیث ہے۔

(مسند احمد بن حنبل۔ مسند العرباض بن ساریہ جلدنمبر5صفحہ842۔ حدیث نمبر 17275عالم الکتب بیروت 1998)

اور دنیاوی حُکاّم کی بابت کیا تعلیم ہے؟ یہ بخاری میں ہی ہے۔ فرمایا کہ ’’تم میرے بعد ایسے حالات دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ بے انصافی ہو گی‘‘۔ (اس کا پہلے بھی ذکر آ چکا ہے۔ جو دنیاوی حکام ہیں یہ اُن کے لئے ہے۔) ’’تمہارے حقوق دبائے جائیں گے اور دوسروں کو تم پر ترجیح دی جائے گی۔ اور ایسے امور دیکھو گے جنہیں تم ناپسند کرو گے۔ صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ایسے حالات میں آپ ہمیں حکم کیا دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا۔ اُن کا یعنی ایسے حکمرانوں کا حق اُنہیں دینا اور اپنا حق اللہ سے مانگنا‘‘۔

(صحیح بخاری۔ کتاب الفتن۔ باب قول النبیﷺ سترون بعدی اموراً تنکرونہاحدیث نمبر7052)

مسلم میں بھی اس سے ملتی جلتی ایک حدیث ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ خواہ حکمران بہت ظالم اور غاصب ہو، اُس کی اطاعت کرنی ہے۔

(صحیح مسلم۔ کتاب الامارۃ۔ باب فی طاعۃ الامراء وان منعوا الحقوق حدیث نمبر4782)

پس ظالم حکمران کی بھی اطاعت کا حق ادا کیا جائے۔ اُس کے خلاف بغاوت نہ کی جائے اور اُس کی اطاعت سے انکار نہ کیا جائے۔ بلکہ اُس کی تکلیف اور شر کے دور کرنے اور اُس کی اصلاح ہونے کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور تضرّع کے ساتھ دعا کی جائے۔

ایک احمدی کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اُس نے کن شرائط پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کی ہے؟ شرط دوم مثلاً یہ ہے کہ ’’جھوٹ اور زنا اور بدنظری اور ہر ایک فسق و فجور اور ظلم اور خیانت اور فساد اور بغاوت کے طریقوں سے بچتا رہے گا۔ اور نفسانی جوشوں کے وقت اُن کا مغلوب نہیں ہو گا اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آوے‘‘۔

اور چوتھی شرط یہ ہے کہ ’’یہ کہ عام خلق اللہ کو عموماً اور مسلمانوں کو خصوصاً اپنے نفسانی جوشوں سے کسی نوع کی ناجائز تکلیف نہیں دے گا، نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے‘‘۔

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 159مطبوعہ ربوہ)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’وَالْفِتْنَۃُ اَکْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ (البقرۃ: 218) اور بغاوت کو پھیلانا یعنی امن کا خلل انداز ہونا قتل سے بڑھ کر ہے‘‘۔

(جنگ مقدس۔ روحانی خزائن۔ جلد 6 صفحہ 255)

فرمایا کہ ’’اُوْلِی الْا َمْر سے مراد جسمانی طور پر بادشاہ اور روحانی طور پر امام الزمان ہے۔ اور جسمانی طور پر جو شخص ہمارے مقاصد کا مخالف نہ ہو اور اُس سے مذہبی فائدہ ہمیں حاصل ہو سکے وہ ہم میں سے ہے‘‘۔

(ضرورت الامام۔ روحانی خزائن جلد13صفحہ493)

پھر فرمایا کہ ’’خدا نخواستہ اگر کسی ایسی جگہ طاعون پھیلے جہاں تم میں سے کوئی ہو تو مَیں تمہیں ہدایت کرتا ہوں کہ گورنمنٹ کے قوانین کی سب سے پہلے اطاعت کرنے والے تم ہو۔ اکثر مقامات میں سنا گیا ہے کہ پولیس والوں سے مقابلہ ہوا۔ میرے نزدیک گورنمنٹ کے قوانین کے خلاف کرنا بغاوت ہے جو خطر ناک جرم ہے۔ ہاں گورنمنٹ کا بیشک یہ فرض ہے کہ وہ ایسے افسر مقرر کرے جو خوش اخلاق، متدیّن اور ملک کے رسم و رواج اور مذہبی پابندیوں سے آگاہ ہوں۔ غرض تم خود اِن قوانین پر عمل کرو اور اپنے دوستوں اور ہمسایوں کو اِن قوانین کے فوائد سے آگاہ کرو۔‘‘

(ملفوظات۔ جلد اول۔ صفحہ 134۔ جدید ایڈیشن)

پھر ایک دفعہ کالج میں، یونیورسٹی میں ایک ہڑتال ہوئی۔ اُس کے بارہ میں فرمایاکہ ’’مفسد طلباء کے ساتھ شمولیت کا جو طریق اختیار کیا ہے یہ ہماری تعلیم اور ہمارے مشورہ کے بالکل مخالف ہے۔ لہٰذا وہ اس دن سے اس بغاوت میں شریک ہے۔‘‘ (یعنی جو بھی اپنے ایک عزیز کے بارے میں فرمایا)۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ جب طلباء نے لاہور میں اپنے پروفیسروں کی مخالفت میں سٹرائیک کیا تھا تو جو لڑکے اس جماعت میں شامل تھے اُن کو میں نے حکم دیا تھا کہ وہ اس مخالفت میں شامل نہ ہوں اور اپنے استادوں سے معافی مانگ کر فوراً کالج میں داخل ہو جاویں۔ چنانچہ انہوں نے میرے حکم کی فرمانبرداری کی اور اپنے کالج میں داخل ہو کر ایک ایسی نیک مثال قائم کی کہ دوسرے طلباء بھی فوراً داخل ہو گئے۔

(ملفوظات۔ جلد پنجم۔ صفحہ 173-172۔ جدید ایڈیشن)

حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ کی اس بارہ میں کیا وضاحت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’ہر ایک مسلمان کے لئے اطاعت اللہ و اطاعت الرسول و اطاعت اولی الامر ضروری ہے۔ اگر اولی الامرصریح مخالفت فرمانِ الٰہی اور فرمانِ نبوی کی کرے تو بقدر برداشت مسلمان اپنی شخصی و ذاتی معاملات میں اولی الامر کا حکم نہ مانے یا اُس کا ملک چھوڑ دے۔ اَطِیْعُوا اللّٰہَ واَطِیْعُواالرَّسُوْلَ وَاُوْلِی الْاَمْرِ مِنْکُم صاف نصّ ہے۔ اولی الامر میں حکاّم و سلطان اول ہیں اور علماء و حکماء دوم درجے پر ہیں‘‘۔

(البدر نمبر 8۔ جلد 9۔ 16؍دسمبر 1909ء۔ صفحہ4 کالم 2)

اب بعض لوگ یہ بھی سوال اُٹھا دیتے ہیں کہ کشمیریوں کے حق میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہندوستان کے مسلمانوں کے ساتھ مل کر جو جلسہ اور جلوس کیا تھا اور اُس کی اجازت دی تھی۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ جو طریق تھا یہ بھی وہی طریق ہے جو آج کل حکومت کے خلاف بغاوت ہے اور اس لئے جائز ہے۔ حالانکہ یہ ایک باہر کی آواز تھی۔ جلوس اور جلسے اُن کے حقوق دلوانے کے لئے تھے۔ کوئی لڑائی نہیں تھی۔ کوئی توڑ پھوڑ نہیں تھی۔ حکومت کو توجہ دلائی گئی تھی کہ کشمیریوں کے جو حقوق غصب کئے جا رہے ہیں وہ دئیے جائیں۔ اُن کی جائیدادیں اُن کے نام برائے نام ہیں، اور ساری جائیداد کی جو آمد ہے وہ راجہ کے پاس چلی جاتی ہے تو اُن حقوق کی طرف توجہ دلائی گئی تھی کہ اُن کے حقوق اُن کو دلوائے جائیں۔ بہر حال حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے 1929ء میں 29نومبر کی ہڑتال کے متعلق دریافت کیا گیا کہ احمدیوں کا اِس کے متعلق کیا رویہ ہونا چاہئے؟ تو آپ نے فرمایا کہ ’’ہڑتال میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں، جلسے اور جلوس وغیرہ میں شامل ہو جانا چاہئے‘‘۔ حقوق کے لئے جہاں تک جلسے جلوس کا تعلق ہے ٹھیک ہے کیونکہ اس کی حکومت نے ایک حد تک اجازت دی ہوئی ہے۔ لیکن ہڑتال اور دکانیں بند اور توڑ پھوڑ، یہ چیزیں جائز نہیں۔ پھر ’’ایک صاحب نے کہا کہ شہروں میں احمدیوں کی دکانیں چونکہ بہت کم ہوتی ہیں اس لئے اگر وہ کھلی رہیں تو حملہ کا خطرہ ہوتا ہے اور لوگ ڈنڈے سے بند کرواتے ہیں‘‘۔ اس پر فرمایا کہ ’’اگر ڈنڈے سے کوئی بند کرائے تو کر دی جائے اور پولیس میں جا کر اطلاع دے دی جائے کہ ہم دکان کھولنا چاہتے ہیں لیکن ہمیں فلاں آدمی نہیں کھولنے دیتے۔ اگر پولیس حفاظت کا ذمہ لے تو کھول دی جائے ورنہ نہ سہی‘‘۔

ایک صاحب نے عرض کیا کہ کیا ہڑتال قانوناً ممنوع ہے؟ تو جواب میں آپ نے فرمایا کہ ’’قانون کا سوال نہیں۔ یہ یوں بھی ایک فضول چیز ہے جس سے گاہک اور دکاندار دونوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اب 29 تاریخ کو جو مسلمان باہر سے لاہور یا اپنے قریبی شہروں میں سودا وغیرہ خریدنے جائیں گے وہ مجبوراً ہندوؤں کی دکانوں سے سودا خریدیں گے (کیونکہ مسلمانوں نے ہڑتال کی ہوئی ہے) جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔

(ماخوذ از اخبار الفضل قادیان مؤرخہ 10؍دسمبر1929ء نمبر47 جلد17 صفحہ6 کالم1)

(خطبہ جمعہ یکم اپریل 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اپریل 2021