• 30 اپریل, 2024

رسول اللہؐ ہر رمضان میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے

ایک روایت میں آتا ہے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا روایت کرتی ہیں کہ ’’رسول اللہؐ ہر رمضان میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، ایک رمضان میں نماز فجر کی ادائیگی کے بعد آپ اپنے خیمہ میں داخل ہوئے تو حضرت عائشہ ؓ نے اعتکاف بیٹھنے کی اجازت مانگی تو آپؐ نے ان کو اجازت دے دی۔ انہوں نے بھی اعتکاف کے لئے خیمہ لگا لیا حضرت حفصہؓ نے حضرت عائشہ ؓ کے اعتکاف کرنے کا سنا تو انہوں نے بھی اعتکاف کے لئے خیمہ لگا لیا۔ حضرت ز ینب ؓ نے یہ خبر سنی تو انہوں نے بھی اعتکاف کے لئے خیمہ لگا لیا۔ رسول اللہؐ نے جب اگلی صبح دیکھا تو چار خیمے لگے ہوئے تھے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا یہ کیا ہے؟ اس پر آپؐ کو امہات المومنین کا حال بتایا گیا (کہ ہر ایک نے ایک دوسرے کی دیکھا دیکھی خیمہ لگا لیا ہے، اس لحاظ سے کہ آنحضرتؐ کا قرب حاصل ہو جائے گا) اس پر آنحضورؐ نے فرمایا کہ ان کو ایسا کرنے پر کس چیز نے مجبور کیا ہے۔ کیا نیکی نے؟ ان خیموں کو اٹھا لو مَیں ان کو نہ دیکھوں۔ چنانچہ وہ خیمے اکھاڑ دئیے گئے، پھر آنحضورؐ نے اس رمضان میں اعتکاف نہ کیا۔ اپنا خیمہ بھی اٹھا لیا۔ البتہ (اس سال) آپ نے (روایت کے مطابق) آخری عشرہ شوال میں اعتکاف کیا۔

(بخاری کتاب الاعتکاف باب اعتکاف فی شوال)

یہ دیکھا دیکھی والی نیکیاں بدعات بن جاتی ہیں۔ آپؐ برداشت نہ کر سکتے تھے کہ بدعات پھیلیں۔ نیکیوں کی خواہش تو دل سے پھوٹنی چاہئے۔ اس کا اظہار اس طرح ہو کہ لگے کہ نیکی کی خواہش دل سے نکل رہی ہے۔ یہ نہ ہو کہ لگ رہا ہو دیکھا دیکھی سب کام ہو رہے ہیں۔ امّہات المومنین بھی یقینا نیکی کی وجہ سے ہی اعتکاف بیٹھی ہوں گی کہ آنحضرتؐ کے قرب میں ان برکات سے ہم بھی حصہ لے لیں جو ان دنوں میں ہونی ہیں۔ لیکن آپؐ کو یہ برداشت نہ تھا کہ کسی نیکی سے دکھاوے کا ذرا سا بھی اظہار ہوتا ہو۔، ذرا سا بھی شبہ ہوتا ہو۔ چنانچہ آپؐ نے سب کے خیمے اکھڑوا دئیے۔

پھر آپؐ نے ہمیں یہ بھی بتایا کہ اعتکاف کس طرح بیٹھنا چاہئے، بیٹھنے والوں اور دوسروں کے لئے کیا کیا پابندیاں ہیں روایت میں آتا ہے کہ ’’آپؐ نے رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا، آپؐ کے لئے کھجور کی خشک شاخوں کا حجرہ بنایا گیا، ایک دن آپؐ نے باہر جھانکتے ہوئے فرمایا، نمازی اپنے رب سے راز و نیاز میں مگن ہوتا ہے اس لئے ضروری ہے کہ ایک دوسرے کو سنانے کے لئے قراءت بالجہر نہ کرو۔‘‘

(مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحہ 67۔ مطبوعہ بیروت)

(خطبۂ جمعہ بیان فرمودہ مؤرخہ 22 اکتوبر 2004ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اپریل 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ