• 5 جون, 2020

رمضان کی اہمیت

حضرت مسیح موعودؑ کی عرفان انگیز تحریر اور حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی پُر معارف تفسیر

حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں۔

اب میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعض تحریرات آپ کے سامنے رکھتا ہوں جن میں سے ایک یہ مرض تپش کو کہتے ہیں۔ یہ آپ کی تحریر ہے جس میں آپ فرماتے ہیں۔کہ لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ رمضان یعنی دو گرمیاں۔ رمضان، رمض یعنی گرمی کو کہتے ہیں یہ نام اسی لئے رکھا گیا ہے کہ رمضان گرمی کے مہینے میں شروع ہوا تھا۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں یہ غلط بات ہے۔دو گرمیاں ایک اور مضمون اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا گرمی کے مہینے میں شروع ہونے سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر جب میں نے تحقیق کی کہ رمضان کب شروع ہوا تھا تو سردیاں بنتی تھیں۔ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی بات مجھے یقین ہے کہ اسی طرح ثابت ہوگی۔ رمضان کا آغاز سردیوں میں ہوا ہے گرمیوں میں ہوا ہی نہیں۔

پس آپ فرماتے ہیں اس لئے روحانی اور جسمانی تپش مل کر رمضان ہوا۔ یعنی جسمانی طور پر انسان بھوک پیاس کی شدت برداشت کرتاہے اور جدوجہد بہت کرتا ہے رمضان میں، یہ اس کے لئے ایک حرارت ہے اور روحانی طور پر اس کی روح میں غیر معمولی طور پر گرمی پائی جاتی ہے اور بڑے جوش کے ساتھ اپنے رب کی طرف لپکتی ہے پس یہ دوگرمیاں ہیں جو مل کر رمضان ہوا۔ اہل لغت جو کہتے ہیں کہ گرمی کے مہینےآیا اس لئے رمضان کہلایا میرے نزدیک صحیح نہیں ہے کیونکہ عرب کے لئے یہ خصوصیت نہیں ہو سکتی۔ روحانی رمض سے مراد روحانی ذوق و شوق اور حرارت دینی ہوتی ہے۔ رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سخت ولوں کو پگھلانے کے لئے رمضان کو ایک خاص مزاج عطا ہوا ہے۔اور امرواقعہ یہی ہے کہ بہت سے سخت دل جو عام دنوں میں نرم نہیں ہوتے اور خدا تعالیٰ کے لئے اپنے آپ کو پگھلتا ہوا محسوس نہیں کرتے رمضان میں بعض ایسی راتیں آتی ہیں کہ بے اختیار ان کے دل خدا کے حضور کے حضور سجدوں میں پگھل کر بہنے لگتے ہیں۔ پس حضرت موعود علیہ السلام کا یہ فقره رمض اس حرارت کو بھی کہتے ہیں جس سے پتھر وغیرہ گرم ہو جاتے ہیں۔ بے تعلق نہیں بلکہ حقیقتاً ہم نے اس کو ایسا ہی دیکھا ہے۔

اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے نبستاً لمبے اقتباسات میں سے میں کچھ پڑھ کر سناتا ہوں۔

(ملفوظات جلد نہم صفحہ122۔123)

‘‘تیسری بات جو اسلام کا رکن ہے وہ روزہ ہے۔ روزے کی حقیقت سے بھی لوگ ناواقف ہیں۔ اصل یہ ہے کہ جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔، فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ یہ مضمون وہی ہے۔ رمضان کو جود یکھے وہ اس میں روزہ رکھے۔ شَھِدکا مطلب ہے اپنی آنکھوں سےدیکھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے یہ تشریح فرمائی ہے جس ملک میں انسان جاتا نہیں اور جس عالم سے واقف نہیں اس کے حالات کیا بیان کرے۔ پس تم میں سے وہی ہے جو رمضان کو دیکھتا ہے، جو رمضان کو دیکھتا ان معنوں میں ہے کہ اس میں داخل ہو کر اپنی آنکھوں سے گواہی دے سکے۔اپنے دل سے گواہی دے سکے۔ یہ میرا ایسا ملک ہے جس میں جا چکا ہوں اور اس کے حالات کو جانتا ہوں۔

تزکیہ نفس

“روزہ اتنا نہیں کہ اس میں انسان بھوکا پیاسا رہتا ہے بلکہ اس کی ایک حقیقت اور اس کا اثر ہے ہر تجربے سے معلوم ہوتا ہے۔ انسانی فطرت میں ہے کہ جس قدر کم کھاتا ہے اسی قدر تزکیہ نفس ہوتا ہے اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں۔”
پس رمضان کے مہینے میں کھانے میں زیادتی رمضان کا حق ادا نہیں کرتی بلکہ رفتہ رفتہ کھانے میں کمی رمضان کا حق ادا کرتی ہے۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ لوگ شروع میں تو بھوک نہیں لگتی اس وقت میں اس لئے نسبتاً کم کھاتے ہیں اور جوں جوں رمضان آگے بڑھتا جاتا ہے وہ زیادہ کھانے لگتے ہیں یہاں تک کہ آخری دنوں میں تو رمضان ان کو پتلا کرنے کی بجائے موٹا کر جاتا ہے۔ یہ جسم کی فربہی دراصل ان کی فربہی بھی ہو سکتی ہے۔ اس لئے عام طور پر بھولےپن میں، لاعلمی میں لوگ ایسا کرتے ہیں مگر ان کو یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام فرماتے ہیں۔ تزکیہ نفس ہوتا ہے جوکم کھانےسے زیادہ ہوتا ہے۔ پس جتنا آپ کم کھانے کی طرف متوجہ ہوں گے اتنا ہی رمضان آپ کے لئے فائدہ بخش ہو گا۔

کشفی قوتیں بڑھتی ہیں

‘‘اور کشفی قوتیں بڑھتی ہیں” یعنی خدا تعالیٰ کو انسان مختلف صورتوں اور صفات میں دکھائی دینے لگتا ہے۔ یہ کشفی قوتوں کا لفظ بہت با معنی تو ہے ہی مگر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ بعض لوگوں کو ویسے ہی دماغ کی خرابی سے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ وہ کشف دیکھ رہے ہیں یا نیند کے غلبہ کی وجہ سے ان کو کچھ سمجھ نہیں آتی اور اپنے خیالات کو ہی کشف بنا لیتے ہیں۔ رمضان میں کشوف کا جو کم کھانے سے تعلق ہے یہ بالکل اور چیز ہے۔ اس کانفسانی خواہشات اور اپنے دل کے خیالات سے کوئی بھی تعلق نہیں اور مضمون بتاتا ہے کہ وہ کشف حقیقی خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا۔ دل کے تو ہمات میں ربط کوئی نہیں ہوتا۔دل کے توہمات میں ایسی سچائی اور پاکیزگی نہیں ہوتی جو انسان کو گناہوں سے دور پھینک دے۔ پس کشف کا احساس کا کافی نہیں۔ کشف کا مضمون ضروری ہے کہ کشف میں وہ مضمون ہو جو تقویٰ کا مضمون ہے۔اگر تقویٰ مضمون ہو گا تو کشف دیکھنے والا اپنے کشف کو چھپا لے گا اور اس کے تذکرے نہیں کرے گا۔ پس رمضان میں یہ ساری شرطیں اکٹھی پائی جاتی ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کے بعض الفاظ کو غلط معنی پہنا کر آپ میں سے کئی گمراہ بھی ہو سکتے ہیں ۔ یہ خیال کرکے کہ ہم بڑے صاحب کشف بن گئے رمضان میں لوگوں سے تذکرے شروع کر دیں کہ یوں مجھے ہلکا سا جھونکا آیا تو میں نےکشف میں یہ دیکھ لیا یہ ساری باتیں بتانے کا جتنا شوق ہو گا اتنا ہی آپ کا کشف جھوٹا ہوگا۔ لیکن سچے کشوف میں بعض دفعہ دوستوں اور عزیزوں کے متعلق خبر دی جاتی ہے اور وہ خبریں ایسی ہوتی ہیں جو سچی نکلتی ہیں۔ پس ان خبروں کا تذکرہ کرنا تقویٰ کے خلاف نہیں اور ان کشوف کو جھوٹا قرار نہیں دیتا۔

“پس خدا تعالیٰ کا منشا اس سے یہ ہے کہ ایک غذا کم کرو اور دوسری کو بڑھاؤ۔ ہمیشہ روزے دار کو یہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ اس سے اتنا ہی مطلب نہیں ہے کہ بھوکا رہے بلکہ اسے چاہئے کہ خداتعالیٰ کے ذکر میں مصروف رہے تاکہ تبتل اور انقطاع حاصل ہو۔ پس روزے سے یہی مطلب ہے کہ انسان ایک روٹی کو چھوڑ کر جو صرف جسم کی پرورش کرتی ہے دوسری روٹی کو حاصل کرے جو روح کی تسلی اور سیری کا باعث ہے۔ اور جو لوگ محض خدا کے لئے روزے رکھتے ہیں اور نرےرسم کے طور پر نہیں رکھتے انہیں چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور تسبیح اورتہلیل میں لگے رہیںجس سے دوسری غذا انہیں مل جائے’’

پھر روزے اور نماز کی عبادتوں میں ایک فرق بیان ہے۔

فرمایا ہے۔
“ روزہ اور نماز ہر دو عبادتیں ہیں۔ روزے کا زور جسم پر ہے اور نماز کا زور روح پر ہے۔ نماز سے ایک سوز و گداز پیدا ہوتاہے اس واسطے وہ افضل ہے۔ روزے سے کشوف پیدا ہوتے ہیں مگر یہ کیفیت بعض دفعہ جوگیوں میں پیدا ہو سکتی ہے۔”

یہ وہی بات ہے جس کا میں پہلے ذکر کر چکا ہوں۔ کشوف تو ہوتے ہیں مگر کشوف میں ایک نفس کا دھوکہ بھی شامل ہو جاتا ہے۔ جو گی بھی جو ریاضتیں کرتے ہیں وہ کشوف دیکھتے ہیں لیکن ان کشوف کا بنی نوع انسان کی بھلائی اور نیکی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ وہ عجیب و غریب کشوف ہیں جن کے تفصیلی تذکرے کی یہاں ضرورت نہیں مگر جوگیوں نے کبھی دنیا میں پاکیزگی نہیں پھیلائی۔ کبھی دنیا میں کسی مذہب کے جوگیوں نے بنی نوع انسان کی روحانی حالت تبدیل نہیں کی۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام متوجہ فرما رہے ہیں کہ روزے کے کشوف میں بعض دفعہ جوگیوں والی کیفیت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن روحانی گدازش جو دعاؤں سے پیدا ہوتی ہے اس میں شامل نہیں۔

روزے کا مقصد نماز

اب یہ دیکھیں کہ نماز کو روزے سے افضل قرار دیا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ روزہ سب سے افضل ہے۔ روزے کی جزاء اللہ ہے۔ اس میں غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔ روزہ بمقابل نماز نہیں ہے بلکہ روزے کا مقصد نماز ہے اور نمازوں کی حالت کو درست کرنا ہے۔ پس اگر روزے میں نمازیں نہ سنوریں تو روزہ بے کار ہے۔ اگر روزے میں نمازیں سنور جائیں تو روزه نماز کا معراج اور نمازیں روزے کا معراج بن جاتی ہیں۔ پس اس میں تفریق نہ کریں ورنہ مضمون بالکل بگڑ جائے گا۔ حقیقت میں روزے کے دوران جتنی نمازیں سنوریں گی اتنا ہی روزے کا آپ پھل پائیں گے اور اس حد تک سنور جانی چاہئیں کہ گویا آپ کو خدا نظر آگیا اور گویا اللہ آپ کو دیکھنے لگا۔ یہ صورتیں ہیں جو درحقیقت روزے کی افضلیت میں پیش نظر رہنی چاہئیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ملفوظات جلددوم صفحہ432 پر فرماتے ہیں۔

پانچ مجاہدات

“خدا تعالیٰ نے دین اسلام میں پانچ مجاہدات مقرر فرمائے ہیں۔ نماز، روزه، زکوة،صدقات، حج اور اسلامی دشمن کا رد اور دفع خواہ سیفی ہو خواہ قلمی ہو۔”

یہ پانچ مجاہدات ہیں جو مسلمان پر فرض ہیں۔ پہلی نماز پھر زکوة، صدقات اس کے ذیل میں آتے ہیں چوتھا حج اور پانچواں جہاد خواہ وہ قلمی ہو۔

فرمایا “یہ پانچ مجاہدے قرآن شریف سے ثابت ہیں مسلمانوں کو چاہئے کہ ان میں کوشش کریں اور ان کی پابندی کریں۔ یہ روزے تو سال میں ایک ماہ کے ہیں۔ بعض اہل اللہ تو نوافل کے طور پر اکثر روزے رکھتے ہیں اور ان میں مجاہدہ کرتے ہیں ہاں دائمی روزے رکھنا منع ہیں۔ یعنی ایسا نہیں چاہئے کہ آدمی ہمیشہ روزے ہی رکھتا رہے بلکہ ایسا کرنا چاہئے کہ نفلی روزے کبھی رکھے اور کبھی چھوڑ دے۔”

اب رمضان کے آنے پر کتنے دل خوش ہوتے ہیں اور کتنے ول غمگین ہوتے ہیں یہ ایسا مسئلہ ہے جس میں ہر انسان جو اپنا جائزہ لے گا اس کو محسوس ہوگا کہ رمضان کے آنے پر ویسی خوشی نہیں ہوتی شروع میںجیسی کہ رمضان کے آنے کا حق ہے بلکہ لوگ گھبراتے ہیں اور ڈرتے ہیں۔ پس اس عبارت کو سننے کے بعد یہ خیال نہ کریں کہ وہ منافقین ہیں۔ امر واقعہ یہ ہے کہ بوجھ اٹھانے سے پہلے دل میں خوف ضرور پیدا ہوتا ہے اور انسان رمضان میں داخل ہونے سے پہلے ڈرتا ہے کہ میں اس کے تقاضے پورے کر سکوں گا یا نہیں کر سکوں گا۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کے تقاضے آسان فرما دیتا ہے۔ اس لئے جب میں یہ عبارت پڑھو ں گا تو بعض لوگ ڈر کے یہ نہ سمجھیں کہ ان کی حالت منافقانہ ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک۔ کیونکہ عام دستور ہے کہ ہمیشہ رمضان کی ذمہ داریوں کا خوف رمضان کی آمد کے وقت شروع ہو جاتا ہے اور انسان شروع میں کچھ گھبراتا ہے کہ دیکھوں مجھ پر کیا گزرے گی لیکن اللہ تعالیٰ سچے کے بندوں کے لئے رمضان کو آسان فرما دیتا ہے اور پھر بشاشت کے ساتھ انسان رمضان میں سے گزر جاتا ہے۔ اس تمہید کے بعد میں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ اقتباس پڑھتا ہوں۔

روزہ رکھنے کی تڑپ

‘‘وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آگیا اور میں اس کا منتظر تھا کہ آوے اور روزے رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے روزہ نہیں رکھ سکا تو آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔”

جو شخص اس بات پر خوش ہے کہ رمضان آگیا اور میں اس کا منتظر تھا اگر بیماری اس کے راستے میں حائل ہو جائے وہ روزہ نہ رکھ سکے تو آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔

لیکن اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جو ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ ہم جس طرح اہل دنیا کو دھوکہ دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔ بات جو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں اور تکلفات شامل کر کے ان مسائل کو صحیح گردانتے ہیں۔’’

اب جو حقیقی بہانہ جو ہیں جن کا دل سچ مچ رمضان کی آمد سے خوش نہیں ہوتا ان میں اور سچے مومنوں میں جو دل سے رمضان کو برا نہیں جانتے اس کے فیوض سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔ یہ نمایاں فرق ہے کہ سچے لوگ جب رمضان میں داخل ہوتے ہیں تو ان کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ جس طرح بھی بن پڑے وہ روزہ رکھیں اور بیماریوں کے بہانے ان کی راه میں حائل نہ ہوں۔ اور جو بہانہ جو لوگ ہیں جو رمضان کی آمد سے خوش نہیں ہوتے ان کے نفس کے بہانے تیزی دکھانے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ مجھے جب میں روزہ رکھوں توچھینکیں شروع ہو جاتی ہیں۔ کوئی سمجھتا ہے کہ اس کے پیٹ میں خرابی ہو جاتی ہے، کسی کو سردرد ہو جاتی ہے کسی کو اور بیماریاں لاحق ہوتی رہتی ہیں۔ وہ رمضان کے سر جڑتا ہے اور کہتا ہے کہ اب میں خدا کا حکم مانوں گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو روزه نہیں رکھ سکتا بیماریوں کی وجہ سے وہ نہ رکھےتو کون ہے مجھےحکیم دینے والا میں تو خدا کا حکم مانوں گا۔ لیکن جب ان کا باقی سال آپ دیکھیں گے تو اس میں بھی نہیں رکھتے۔ ایسے لوگ زندگی بھر محروم رہتے ہیں ورنہ کم سے کم باقی وقت تو رکھیں۔ جوواقعتاً سچے عذر کی وجہ سے رکتے ہیں اللہ کی خاطر رکتے ہیں وہ باقی سال میں ضرور رکھتے ہیں اور یہ لوگ اپنی عمر گنوا دیتے ہیں۔

پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی ان تحریرات کو غور سے پڑھیں تو ہمارے لئے بہت سے باریک مسائل کو آپ کھولتے چلے جاتے ہیں۔

‘‘لیکن جو صدق اور اخلاص رکھتا ہے اس کا کیا حال ہے۔ خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا تعالیٰ اسے ثواب سے بھی زیادہ دیتا ہے کیونکہ درد دل ایک قابل قدر شے ہے۔”

پس روزے سے محرومی کے نتیجے میں اگر درد دل ہو تو ایک بہت ہی اعلیٰ نشان ہے اس بات کا کہ رات تمہاری روزوں سے محرومی تمہیں ثواب سے محروم نہیں رکھے گی۔ بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بعض دفعہ ایسے درد دل والے کو عام روزہ رکھنے والے کے ثواب سے بھی زیادہ ثواب ملتا ہے۔”

(خطبہ جمعہ فرمودہ 19جنوری1998ء)
(بحوالہ ماہنامہ خالد دسمبر 1998ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20مئی 2020

اگلا پڑھیں

پڑجائے ایسی نیکی کی عادت خدا کرے