• 25 مئی, 2020

Covid-19 افریقہ ڈائری نمبر35 ، 21 مئی 2020

  • دودن کے بچے کی موت
  • مریضوں کی  گنتی آدھی کر دی گئی
  • بیماری زیادہ خطرناک ہے کہ بدنامی

افریقہ میں کورونا وائرس  کی  موجودہ  صورت  حال

 کل مریض تندرست ہونے والے  اموات
95,267 38,115 2,995

کیسز کی تعداد کے لحاظ سے پہلے پانچ ممالک

  ملک                        متاثرین
1 جنوبی افریقہ 18003
2 مصر 14229
3 الجیریا 7542
4 مراکش 7133
5 نائیجریا 6677

گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں  9940  مریضوں اور     227اموات    کا اضافہ ۔ یہ  اب تک افریقہ میں  ایک دن میں ہونے والا سب سے زیادہ اضافہ ہے ۔

مریضوں کی  گنتی آدھی کر دی گئی

یوگنڈا  کی وازارت صحت نے صدر مملکت کی ہدایت پر تمام ٹرک  ڈرائیورز کورونا مریضوں کی تعداد کو ملک کے مجموعی مریضوں کی تعداد سے نکال دیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ٹرک ڈرائیوز ان کے اپنے ملکوں میں شمار ہونے چاہئے۔اس تعداد کو نکال کر یوگنڈا  نے کورونا مریضوں کا شمار آدھا  ہو کر 145رہ گیا ہے جبکہ WHOکے مطابق یہ  تعداد260ہے ۔    (بی بی سی افریقہ )

دودن کے بچے کی موت

 جنوبی افریقہ میں دو دن کے بچے کی کورونا وائرس سے ہلاکت ہو گئی ہے ۔  یہ ملک میں سب سے کم عمر فرد کی موت ہے ۔ بچے کی ماں کورونا پازیٹو تھی ۔جنوبی افریقہ میں گزشتہ ۲۴ گھنٹوں میں 803مریضوں کا اضافہ ہوا ہے ۔   (بی بی سی افریقہ )

ماسک تقسیم کرنے کی مہم

موریطانیہ میں ، وزارت روزگار و نوجوانان نے بدھ کے روز 8،000 حفاظتی ماسک کی تقسیم کے ساتھ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے خلاف آگاہی مہم کا آغاز کیا ہے۔ RFI

قرضوں کی فراہمی

نائیجر حکومت نے  وبا کے بحران سے متاثرہ نجی کاروباری  افراد  کو سہارا دینے  کے لئے  قرضہ دینے  کا آغاز  کر دیا ہے ۔ RFI

گیمبیا

صدر Adama Barrow نے  ملک میں نافذ ایمرجنسی کو تین ہفتوں کے لئے مزید بڑھا دیا ہے۔  RFI

سرحدی کشمکش میں اضافہ

 کینیا اور تنزانیہ میں کورونا کے مریضوں کی وجہ سے آپس کے معاملات میں کشمکش پید اہوئی ہے۔ کینیا سرحد پار سے آنے والے  کورونا پازیٹو افراد   کے ساتھ زیادہ سختی  سے معاملات کر رہا ہے ۔ RFI

ویکسن کا پبلک پراپرٹی ہونا ضروری ہے

اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے RFIکو ایک انٹریو میں کہا ہئے کہ کورونا وائرس کی ویکسن جب بن جائے تو اسے عوام کی ملکیت ہونا چاہئے ۔ تاکہ تما غریب ملکوں تک پہنچ سکے ۔

سکول اور بزنس کھلنے کی اجازت

بوٹسوانہ میں سخت اقدامات کے تحت سکول اور بزنس کھلنے کی اجازت دے دی گئی ہے ۔  ملک میں 48دن لاک ڈاؤن نافذ رہا اور اب گزشتہ  دو ہفتے سے اس میں نرمی کی جارہی ہے ۔  بی بی سی افریقہ

بیماری زیادہ خطرناک ہے کہ بدنامی

افریقہ کے کئی ممالک میں کورونا کے مریضوں کے ساتھ نفرت  کے اظہار اور بدنامی کے واقعات ہو چکےہیں ۔ کورونا کے  مریضوں کے ساتھ نفرت کے بجائے  احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہمدردی کی ضرورت ہے ۔ کیمرون میں ایسے ہی ایک بچ جانے والے شخص نے ا ٓگاہی مہم کا آغاز کر دیا ہے۔اور اپنے تجربہ کو لوگوں تک پہنچانے کے لئے سوشل میڈیا   پرلیڈ کرنے لگا ہے۔ africanews.com 

ہمیں دوسروں کی مدد کرنے کے لئے کام کرنا ہے

تنزانیہ کے صدر نے کہا ہے کہ ملک میں  لاک ڈاؤن جیسی کوئی چیز نہیں ہوگی ، خدا ہماری مدد کرے گا۔ ہمیں سخت محنت کرنے کی ضرورت ہے ، ایک بار جب دوسرے مشرقی افریقی باشندے اپنے لاک ڈاؤن کے ساتھ کام کر لیں تو وہ ہمارے پاس آئیں گے۔ اور ہم پھر بھی ان کی خوراک میں مدد کریں گے ، ہم ان کے ساتھ  کوئی امتیازی سلوک  نہیں کریں گے۔ africanews.com 

وائرس کے ساتھ رہنا سیکھنا ہو گا

 گھانا کے صدر  مملکت نے کہا ہے کہ وائرس موجود ہے ، لیکن ہمیں اس کے ساتھ جینے کا راستہ تلاش کرنا ہوگا۔ گھانا کا کاروبار جاری رکھنا چاہئے۔ africanews.com

ہمارا ٹورازم تباہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے

کینیا  نے تنزانیہ سے آنے والے 180افراد کو وائرس کی وجہ سے  ملک میں داخل ہونے سے روک دیا تھا ۔ ادھر تنزانیہ کا کہنا ہے کہ جن ٹرک ڈرائیورز  کو پازیٹو  کہ کر واپس کیا گیا ہے ان کے دوبارہ ٹسٹ منفی آئے ہیں۔یہ کینیا کی طرف سے ہماری سیاحت کے کاروبار کو تباہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔ africanews.com

(چوہدری نعیم احمد باجوہ)

پچھلا پڑھیں

Covid-19 اپ ڈیٹ21۔مئی2020ء

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ