• 25 اکتوبر, 2020

جب انسان پر کوئی مصیبت یا آفت آتی ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
اب جب انسان پر کوئی مصیبت یا آفت آتی ہے اس وقت تو خداتعالیٰ کو پکارتا ہے، قدرتی بات ہے اور اس وقت مومن یا کافر کا سوال نہیں۔ ہر ایک کو جو خداتعالیٰ پر یقین نہیں کرتے، دہریہ بھی، اس وقت خداتعالیٰ کو پکارتے ہیں ۔ تو ایسی حالت میں جب اضطراب پیدا ہوتاہے اللہ تعالیٰ سن بھی لیتاہے لیکن مومن کا یہ کام ہے کہ امن کی حالت میں بھی خدا تعالیٰ سے دعائیں مانگتا رہے، اپنی حفاظت کے لئے، جماعت کے لئے، جماعت کی ترقی کے لئے، تاکہ جب مشکل دَور آئے اس وقت جو پہلے مانگی ہوئی دعائیں ہیں ان کا بھی اثر ہو اور خداتعالیٰ اپنی قبولیت کے نظارے جلد سے جلد دکھاسکے۔ اس لئے ہمیشہ ہر احمدی کا یہ فرض ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہم پر کوئی مشکل یا مصیبت آئے توہم نے دعائیں مانگنی ہیں ۔ ان مشکلات سے بچنے کے لئے بھی دعاؤں کی بہت ضرورت ہے اور ہم سب پر یہ فرض بنتاہے کہ دعاؤں پر بہت زور دیں اور مستقلاً اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں ۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں :
’’پس اگر دوسرے لوگ بھی جو اسلام کے مخالف ہیں اسی طرح ایمان لاویں اور کسی نبی کوجوخدا کی طرف سے آیا،ردّ نہ کریں ۔ تو بلاشبہ وہ بھی ہدایت پا چکے۔ اور اگر وہ روگردانی کریں اور بعض نبیوں کو مانیں اور بعض کوردّ کردیں توانہوں نے سچائی کی مخالفت کی اور خدا کی راہ میں پھوٹ ڈالنی چاہی۔ پس توُ یقین رکھ کہ وہ غالب نہیں ہو سکتے اور ان کو سزا دینے کے لئے خدا کافی ہے۔ اور جو کچھ وہ کہتے ہیں خدا سن رہاہے۔ اور ان کی باتیں خدا کے علم سے باہر نہیں‘‘۔

(چشمہ ٔمعرفت روحانی خزائن جلد ۲۳ صفحہ ۳۷۷)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :-
’’اگر وہ ایسا ایمان لائیں جیسا کہ تم ایمان لائے تو وہ ہدایت پاچکے اور اگر ایسا ایمان نہ لاویں تو پھر وہ ایسی قوم ہے (کہ) جو مخالفت چھوڑنا نہیں چاہتی اور صلح کی خواہاں نہیں۔‘‘

(یادداشتیں براہین احمدیہ، حصہ پنجم۔ روحانی خزائن جلد ۲۱ صفحہ ۴۱۸)

’’فَسَیَکْفِیْکَھُمُ اللّٰہُ وھُوَ السَّمیْعُ الْعَلیم اور اُن کی شرارتوں کے دفع کرنے کے لئے خدا تجھے کافی ہے اور وہ سمیع اور علیم ہے۔‘‘

(براہین احمدیہ۔ روحانی خزائن نمبر۱، بقیہ حاشیہ نمبر۱۱)

پھر آپؑ نے فرمایا: ’’خدائے تعالیٰ ان سب کے تدارک کے لئے جو اس کام کو روک رہے ہیں، تمہارا مددگار ہوگا‘‘۔

(تبلیغ رسالت (مجموعہ اشتہارات)، جلد اوّل صفحہ ۱۱۶)

پس آج کل کے حالات میں کسی بھی احمدی کو مایوس نہیں ہونا چاہئے۔ خدائی وعدے ہیں۔ خداتعالیٰ ہمیشہ ہمارا مدد گار رہا ہے اور ان شاء اللہ رہے گا۔ لیکن جہاں وہ مخالفین کی بیہودہ گوئی کو سن رہاہے کیونکہ آج کل پاکستان میں پھر کافی شورہوا ہواہے۔اور اس کو علم ہے کہ یہ لوگ احمدیوں کے ساتھ ظلم روا رکھ رہے ہیں اور اپنی تقدیر کے مطابق ایسے لوگوں کی خدا تعالیٰ نے پکڑ کرنی ہے۔ان شاء اللہ۔ اور ہمارے تجربہ میں ہے کہ ماضی میں بلکہ ماضی قریب میں ایسی پکڑ کے نظارے وہ ہمیں دکھاتارہاہے اور اپنی قدرت نمائی کرتا رہاہے۔ پھر کوئی وجہ نہیں کہ ہمارے دل مایوس ہوں اور ہلکا سا احساس بھی پیدا ہو۔ لیکن ہماری بھی یہ ذمہ دار ی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم پر یہ ذمہ دار ی ڈال رہا ہے کہ پہلے سے بڑھ کر میری طرف رجوع کرو اور میرے سے مانگو تاکہ وہ الٰہی تقدیر جو غالب آنی ہے ان شاء اللہ، تمہیں بھی احساس رہے کہ تمہاری دعاؤں کا بھی اس میں کچھ حصہ ہے اور اللہ تعالیٰ نے تمہاری دعاؤں کو بھی سناہے۔پس ان دنوں میں بہت زیادہ دعاؤں کی طرف ہمیں توجہ دینی چاہئے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعۡدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ

(سورۃ البقرہ :۱۸۲)

پس جو اُسے اُس کے سُن لینے کے بعد تبدیل کرے تو اس کا گناہ ان ہی پر ہو گا جو اسے تبدیل کرتے ہیں ۔ یقینا اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔

اس آیت میں وصیت کا مضمون بیان کیا گیاہے۔ اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :-
’’اگر کوئی شخص وصیت کرے اور بعد میں کوئی دوسرا شخص اس میں تغیر و تبدل کر دے تو اس صورت میں تمام تر گناہ اس شخص کی گردن پر ہے جس نے وصیت میں ترمیم و تنسیخ کی۔ یہ تغیر دو صور توں میں ہو سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ لکھانے والا تو کچھ اور لکھائے مگر لکھنے والا شرارت سے کچھ اور لکھ دے۔ یعنی لکھوانے والے کی موجودگی میں ہی اُس کے سامنے تغیر و تبدل کردے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وصیت کرنے والے کی وفات کے بعد اُس میں تغیر وتبدل کر دے۔ یعنی وصیت میں جو کچھ کہا گیا ہو اس کے مطابق عمل نہ کرے بلکہ اُس کے خلاف چلے۔ اِن دونوں صورتوں میں اس گناہ کا وبال صرف اُسی پر ہوگا جو اُسے بدل دے۔ (اِثْمُہٗ میں سبب مُسبّب کی جگہ استعمال کیا گیا ہے اور مراد گناہ نہیں بلکہ گناہ کا وبال ہے)۔یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس میں کسی قرآنی حکم کی طرف اشارہ ہے اور وہ حکم وراثت کا ہی ہے۔ ورنہ اس کا کیا مطلب کہ بدلنے کا گناہ بدلنے والوں پر ہوگا، وصیت کرنے والے پر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اگر اس وصیت کی تفصیلات شرعی نہیں تو بدلنے والے کو گناہ کیوں ہو۔ اُس کے گناہ گار ہونے کا سوال تبھی ہو سکتا ہے جبکہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہو، اور وہ اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مرنے والا تو یہ وصیت کرجائے کہ میری جائیداد احکام اسلام کے مطابق تقسیم کی جائے لیکن وارث اس کی وصیت پر عمل نہ کریں ۔ ایسی صورت میں وصیت کرنے والا تو گناہ سے بچ جائے گا لیکن وصیت تبدیل کرنے والے وارث گناہ گار قرار پائیں گے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم۔ صفحہ ۳۶۸)

(خطبہ جمعہ 13؍ جون 2003ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 ستمبر 2020