• 18 اکتوبر, 2021

اللہ تعالیٰ کی کیا حقیقت ہے؟ اس کا مرتبہ کیا ہے؟

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
اس وقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چند اقتباسات پیش کروں گا جن میں آپ نے اللہ تعالیٰ کے بارے میں بتایا کہ اللہ تعالیٰ کی کیا حقیقت ہے؟ اس کا مرتبہ کیا ہے؟ اس کے سب طاقتوں کے مالک اور واحد و یگانہ ہونے کا مقام بیان فرمایا ہے نیز یہ بھی کہ وہی ہے جو تمام مخلوق کا خالق ہے۔ ہر چیز کو فنا ہے اور اس کو فنا نہیں۔ آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اس کائنات کے خدا تک پہنچنے کا ذریعہ اب صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے۔ جس کا حسن و احسان میں کوئی ثانی نہیں۔ آپ نے بتایا کہ خدا تعالیٰ کی قدرتوں کو دیکھنے کے لئے اس کی طرف خالص ہو کر جھکنا ضروری ہے۔ اس کے آگے خالص ہو کر جھکنا ضروری ہے۔ اس کی عبادت بجا لانا ضروری ہے۔ پھر جب انسان کی یہ حالت ہوتی ہے تو پھر خدا تعالیٰ دوڑ کر انسان کو گلے لگاتا ہے اور اس پر اپنے فضلوں کی بارش برساتا ہے۔ پس آپ نے بڑے درد سے فرمایا کہ ایسے خدا سے تعلق جوڑو تا کہ اپنی دنیا و آخرت سنوارنے والے بن سکو۔

اللہ تعالیٰ کی کیا حقیقت ہے، وہ خدا جو تمام کائناتوں کا مالک ہے جس کو اسلام نے پیش کیا ہے اس کی کیا حقیقت ہے؟ اس بارے میں ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ
’’خدا آسمان و زمین کا نور ہے۔ یعنی ہر ایک نور جو بلندی اور پستی میں نظر آتا ہے۔ خواہ وہ ارواح میں ہے۔ خواہ اجسام میں اور خواہ ذاتی ہے اور خواہ عرضی اور خواہ ظاہری ہے اور خواہ باطنی اور خواہ ذہنی ہے خواہ خارجی۔‘‘ (یعنی ہر قسم کا نور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی وہ نور ہے جو جسموں میں نظر آتا ہے۔ ذاتی خوبیاں ہیں ان میں نظر آتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بعض خاص آدمیوں کو دی گئی خوبیاں ہیں وہ ان میں نظر آتی ہیں، ظاہری خوبیاں ہیں یا چھپی ہوئی خوبیاں ہیں، ذہنی خوبیاں ہیں یا خارجی ہیں۔ انسان کے باہر نظر آرہی ہوتی ہیں۔ کسی چیز کی خوبصورتی جو نظر آ رہی ہوتی ہے وہ سب اللہ تعالیٰ کے نور کی وجہ سے ہیں۔ فرمایا:) ’’اسی کے فیض کا عطیّہ ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت رب العالمین کا فیضِ عام ہر چیز پر محیط ہورہا ہے اور کوئی اس کے فیض سے خالی نہیں۔‘‘

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1 صفحہ191 حاشیہ نمبر 11)

(خطبہ جمعہ 18؍ اپریل 2014ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 ستمبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ