• 29 نومبر, 2020

تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے

ذاتی تجربات کی روشنی میں
تبلیغ میں پریس اور میڈیا سے کس طرح کام لیا جاسکتا ہے
(قسط ششم)

فجی سن نے اپنی جولائی 1995 ء کی اشاعت میں ’’Islam Today‘‘ کے عنوان سے یہ خبر لگائی ہے کہ مرزا غلام احمد کے پوتے نے جماعت احمدیہ کے 47 ویں جلسہ سالانہ سے خطاب کیا۔

خبر میں خاکسار کے حوالہ سے بتایا گیا ہے کہ یہ خبر اور 4 تصاویر شمشاد احمد ناصر نے ہمیں مہیا کی ہے۔ تصاویر میں مکرم صاحبزادہ مرزا مظفر احمد امیر جماعت احمدیہ امریکہ تقریر کر رہے ہیں۔ باقی تین تصاویر سامعین کی ہے۔ جس میں زیادہ تر بازنین لوگ شامل ہوئے ہیں۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ جماعت احمدیہ امریکہ کا 47 واں جلسہ سالانہ مسجد بیت الرحمٰن میں 23 تا25 جون 1995ء منعقد ہوا جو کہ جماعت کی نئی مسجد ہے اور اس کا سال گزشتہ میں مرزا طاہر احمد خلیفۃ المسیح الرابع ؒ نے افتتاح کیا تھا۔

جلسہ کا پہلا سیشن مرزا مظفر احمد کی صدارت میں ہوا۔ آپ مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے اور جماعت امریکہ کے امیر ہیں۔ آپ نے سب حاضر ین کو خوش آمدید کہا۔ حاضرین میں امریکہ کے مختلف ریاستوں سے احمدی احباب شامل ہوئے۔ اس کے علاوہ کینیڈا ور پاکستان سے بھی مہمان شریک تھے۔ جلسہ کے موقع پر حکومتی سطح کے نمائندے اور بازنیا کے لوگ بھی شامل تھے۔ مرزا مظفر احمد نے جلسہ کی غرض و غایت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود کے الفاظ میں بیان کی۔ اس موقع پر دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا جن میں منیر حامد نے ’’ہمارا بہشت ہمارا خدا ہے‘‘ ، ’’مسلمانوں کی طرز بود و باش غیر مسلم معاشرہ میں‘‘ مبشر احمد ، ’’پہلے مبلغین کرام کی خدمات‘‘ کرنل فضل احمد، ’’اسلام امن اور برداشت کا مذہب ہے‘‘ مظفر احمد ظفر نائب امیر امریکہ، ’’تمام برکات کا سرچشمہ محمد ﷺ ہیں‘‘ انعام الحق کوثر ۔

ہفتہ و اتوار کو سید شمشاد احمد ناصر اور مرزا محمود احمد (ریجنل مبلغین) نے نماز تہجد اور درس دیا۔ جلسہ کے آخری سیشن کی صدارت شیخ مبارک احمد نے کی جو کہ جماعت امریکہ کے امیر و مشنری انچارج رہ چکے ہیں۔ اس موقعہ پر مرزا مظفر احمد صاحب نے بھی تقریر کی۔ جس میں انہوں نے حاضرین کی توجہ اسلامی اخوت و محبت، برداشت کی طرف دلائی۔ آپ نے یہ بھی بیان کیا کہ مسلمانوں کو اسلامی تعلیمات کے مطابق اپنے آپ کو ایک نمونہ کے طور پر پیش کرنا چاہئے۔ جس طرح کہ آنحضرت ﷺ نے پیش کیا تھا۔ آپ نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ ہمیں بلاامتیاز مذہب، رنگ اور نسل کے ہر ایک کی خدمت کرنی چاہئے۔

جلسہ سالانہ میں تین ہزار کے لگ بھگ حاضری تھی۔ تینوں دن حاضرین کو مفت کھانا پیش کیا گیا۔ منعم نعیم صدر خدام الاحمدیہ نے رضا کار جلسہ کی خدمت کے لئے پیش کئے تھے۔

دی مارننگ نیوز آرکنساس سٹیٹ کا اخبار ہے جس نے 27 جولائی 1995ء صفحہ 12A پر خاکسار کا ایک انٹرویو شائع ہوا ہے۔ جو کہ Mr Russul Ray نے لیا تھا۔ یہ اخبارکے ¼ صفحہ شائع ہوا ہے۔ اس خبر اور انٹرویو کا عنوان ہے۔

Islamic Missionary Chides U.S. on role in Bosnia.

یعنی مسلمان مبلغ امریکہ کو بازنیا کے مسئلہ پر سرزنش کرتا ہے۔

اخبار نے لکھا کہ بازنیا کے مسئلہ پر امریکہ کی سردمہری نے کام خراب کیا گیا ہے یہ ان کا دوغلا پن بھی ہے یہ لوگ ہیں جنہوں نے سربین کو مسلمانوں کے قتل پر آمادہ کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار ریورنڈ سید شمشاد احمد ناصر نے جو امریکہ کے 6 مبلغین میں سے ایک ہیں نے کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امریکہ تو سپرپاور ہے پھر اس نے کیوں موقع پر بازنین کی مدد نہیں کی۔

اس کے بعد اخبار نے جماعت کا تعارف دیا کہ شمشاد جماعت احمدیہ کے مبلغ ہیں جو کہ ہیوسٹن میں رہتے ہیں۔ شمشاد نے مزید کہا کہ امریکہ تو صرف اور صرف اپنے مفاد کو سرفہرست رکھتا ہے اسے دوسروں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ جس طرح 1991ء میں گلف میں جنگ ہوئی گلف کے مسائل مسلمانوں کے اپنے تھے جنہیں وہ خود حل کرتے لیکن تیل کی پیداوار کی وجہ سے امریکہ نے وہاں دخل اندازی کی۔ جس کا اس کو فائدہ ہونا تھا۔ شمشاد نے کہا اسی طرح بازنین مسلمانوں پر پابندیاں لگائی گئیں اور انہیں ہر طرف سے نہتے کر دیا گیا۔ جس کی وجہ سے وہ سربین سے اپنا دفاع کرنے کے قابل بھی نہیں رہے اور سب سے زیادہ قابل افسوس امر یہ بھی ہے کہ انہیں ایسے مسلمان ممالک سے بھی ہتھیار اور مدد لینے کی اجازت نہ دی گئی جبکہ اس کے برعکس سربین کو بازنین مسلمانوں کو قتل عام کرنے کی اجازت تھی۔ یہ مسلمانوں کے خلاف امریکہ اور مغربی اقوام کی کھلم کھلا سازش ہے۔ اب یو ایس، برطانیہ اور فرانس نے اعلان کیا ہے کہ وہ سربین پر حملہ کریں گے اگر وہ بازنین کے علاقوں پر حملہ کرنے سے باز نہ آئے۔

انڈیا ہیرلڈ۔17 جولائی 1995ء صفحہ 26 پر اپنی اشاعت میں جماعت احمدیہ امریکہ کے 47 ویں جلسہ سالانہ کی خبر شائع کی ہے۔ جس میں دو تصاویر ہیں۔ ایک تصویر میں مکرم مرزا مظفر احمد صاحب تقریر کر رہے ہیں (امیر جماعت احمدیہ امریکہ) اور دوسری تصویر میں بازنین مسلمان تقریر سن رہے ہیں۔

اخبار نے نصف صفحہ پر خبر اور تصویریں دی ہیں۔ خبر میں لکھا کہ جماعت احمدیہ کا 47 واں جلسہ سالانہ 23 تا 25 جون 1995ء مسجد بیت الرحمن میری لینڈ میں ہوا اس مسجد کا افتتاح گزشتہ سال جماعت احمدیہ کے چوتھے روحانی پیشوا مرزا طاہر احمد نے کیا تھا۔ جلسہ جمعہ کی نماز کے ساتھ شروع ہوا۔ جلسہ کی صدارت مرزا مظفر احمد امیر جماعت امریکہ نے کی۔ آپ جماعت احمدیہ کے بانی مرزا غلام احمد کے پوتے بھی ہیں۔ آپ نے سب حاضرین جلسہ کو خوش آمدید کیا۔ امریکہ کے علاوہ دیگر ممالک سے بھی مندوبین جلسہ میں شامل ہوئے۔ جلسہ میں حکومتی سطح اور سیاسی لیڈروں نے بھی شرکت کی۔ اس کے علاوہ بازنین مسلمانوں کی ایک کثیر تعداد نے بھی جلسہ میں شرکت کی۔ ایم ایم احمد نے جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد دلوں کی صفائی ہے جس سے انسان خدا کی طرف جھکے اور ان میں تقویٰ آجائے۔ ایم ایم احمد کے علاوہ دیگر مقررین نے بھی جلسہ سے خطاب کیا۔ جس میں منیر حامد ’’ہمارا بہشت ہمارا خد اہے‘‘ مبشر احمد نے ’’مختلف قومیتوں کے درمیان رہتے ہوئے اسلام کی تعلیم پر عمل کرنا‘‘ کرنل فضل احمد نے ’’ابتدائی مبلغین کی خدمات‘‘ نائب امیر مظفر احمد ظفر نے ’’اسلام کا امن کا پیغام اور برداشت‘‘ کے موضوع پر تقاریر کیں۔ ہفتہ و اتوار کو نماز تہجد شمشاد احمد ناصر ریجنل مبلغ اور مرزا محمود احمد نے پڑھائیں اور درس دیئے۔ درس کے موضوع تھے: ’’نماز کی اہمیت‘‘ اور ’’اللہ تعالیٰ کی صفات‘‘ آخری سیشن میں مرزا مظفر احمد نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں اسلامی محبت و اخوت کا پرچار کرنا چاہئے اور اپنے عملی نمونہ سے اظہار جس کا طریق آنحضرت ﷺ نے سکھایا ہے اپنانا چاہئے۔ اس سیشن کی صدارت شیخ مبارک احمد صاحب نے کی جو امریکہ کے سابق امیر و مشنری انچارج ہیں۔ جلسہ میں قریباً 3 ہزار مہمان شریک ہوئے۔

ہیوسٹن کرانیکل نے 19 جولائی 1995 ء صفحہ 8 پر کمیونٹی نیوز کے تحت مختصراً خبر دی ہے کہ سید شمشاد احمد ناصر ریجنل مبلغ ساؤتھ ریجن نے جماعت احمدیہ کا 47 واں جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔

یو ایس نیوز نے 15 جولائی 1995ء کی اشاعت میں امریکہ کے 47 ویں جلسہ سالانہ کی ایک سامعین کی تصویر کے ساتھ مختصراً خبر دی کہ گزشتہ ماہ (جون) میں جماعت احمدیہ امریکہ نے اپنا 47 واں جلسہ سالانہ میری لینڈ میں منعقد کیا۔ جس میں جماعت احمدیہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد صاحب کا پیغام بھی نشر کیا گیا۔ منعم نعیم صدر خدام الاحمدیہ نے جلسہ کے موقعہ پر خدمت کے لئے رضاکار مہیا کئے۔

وائس آف ایشیا۔ 17 جولائی 1995 صفحہ 34 پر ہمارے 47 ویں جلسہ سالانہ کی پورے صفحہ کی خبر دی۔ اس میں انہوں نے دو تصاویر شائع کیں۔ ایک مسجد بیت الرحمن کی اور ایک صاحبزادہ مرزا مظفر احمد صاحب امیر جماعت یوایس اے کی۔ خبر میں انہوں نے لکھا کہ جماعت احمدیہ امریکہ کا 47 واں جلسہ سالانہ 23 تا25 جون 1995ء سلور سپرنگ میری لینڈ میں ہوا۔ جس میں قریباً 3 ہزار احمدیوں نے سارے امریکہ سے شرکت کی۔ کینیڈا اور پاکستان سے بھی مہمان شامل ہوئے۔ اس جلسہ کےا ختتامی سیشن کی صدارت صاحبزادہ ایم ایم احمد نے کی جو جماعت امریکہ کے نیشنل صدر ہیں اور آپ مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے ہیں۔ افتتاحی تقریر میں آپ نے بانی جماعت احمدیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے الفاظ میں جلسہ کی غرض و غایت بیان کی۔ آپ کے علاوہ بھی مقررین نے جلسہ میں تقاریر کیں۔ ’’اسلام کا امن کا پیغام‘‘ پر مظفر احمد ظفر نائب امیر امریکہ نے۔ انعام الحق کوثر نے ’’ہر قسم کی بھلائی اور برکت محمد ﷺ سے وابستہ ہیں‘‘ کے عنوان پر کی۔ دوسرے اور تیسرے دن نماز تہجد ہوئی جو سید شمشاد احمد ناصر اور مرزا محمود احمد ریجنل مبلغین نے پڑھائیں اور درس دیا۔

جلسہ کے فائنل اور اختتامی سیشن کی صدارت مولانا شیخ مبارک احمد صاحب نے کی جس میں ایم ایم احمد نے تقریر کرتے ہوئے سامعین کو آپس میں پیار و محبت اور اخوت جو کہ اسلامی تعلیم ہے کی طرف توجہ دلائی۔ نیز بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے اعلیٰ اقدار اور اخلاق کو اپنانے کی تلقین کی۔ آپ نے جماعت احمدیہ کے افراد کو خدمتِ خلق اور خدمتِ انسانیت کی بھی ترغیب دی۔

نارتھ ویسٹ آرکنساس ٹائمز نے صفحہ اول پر اپنے سٹاف رائٹر Rusty Garrett کے حوالہ سے خبر دی ہے۔ جس کا عنوان ہے

Islamic Group says Prejudice fuels Bosnian conflict

’’مسلمانوں کا گروہ کہتا ہے کہ تعصب نے بازنین مسئلہ کو زیادہ خراب کیا ہے۔‘‘

اخبار نے لکھا کہ مسلمانوں کا گروہ ’’جماعت احمدیہ‘] جو کہ انٹرنیشنل مسلمانوں کی تنظیم ہے، نے کہا ہے کہ ’’تعصب‘‘ کی وجہ سے مسلمانوں کے خلاف بازنیا میں مسائل زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ سید مکرم شمشاد احمد ناصرصاحب جو کہ جماعت احمدیہ کے مبلغ ہیں کہتے ہیں کہ بازنین کا مسئلہ اور ان کے بے دریغ قتل عام پر جو امریکہ اور دیگر سیاستدانوں اور ملکوں نے سردمہری دکھائی ہے اس میں بظاہر تو وہ ہمدردانہ رویہ رکھتے ہیں لیکن درحقیقت انہوں نے اس مسئلہ کے حل کے لئے کچھ بھی نہیں کیا۔

نارتھ ویسٹ آرکنساس ٹائمز کے ساتھ دیئے گئے ایک انٹرویو میں مسڑ ناصر نے کہا ہے کہ اگرچہ یونائیٹڈ نیشن نے نیو ورلڈ آرڈر کے بارے میں بہت کچھ کہا ہے مگر اس کے نتیجہ میں سربین نے بہت زیادہ بازنین کے خلاف جارحانہ رویہ اختیارکیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ بازنین مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہیں۔ مغربی اقوام کا خیال ہے کہ یورپ کی سرزمین پر کہیں بھی اسلامی حکومت نہیں ہونی چاہئے۔ مسٹر ناصر اور مسٹرحمید نسیم نے اس خیال کا بھی اظہار کیا ہے کہ اسی قسم کا تعصب گلف وار میں بھی دکھائی دے رہا ہے۔ مسٹر ناصر نے یہ بھی کہا ہے کہ کیا 50 سال بعد مسلمانوں کے لئے بھی اسی قسم کا ایک میوزیم بنا دیا جائے گا جس طرح ہالوکوسٹ کے لئے بنایا گیا ہے؟ ضروری ہےکہ بجائے اس کے کچھ بروقت اقدام کئے جائیں۔

مسٹرناصر نے یہ بھی کہا ہے کہ امریکن کو چاہئے کہ بازنین کے بارے میں اپنی پالیسی کو تبدیل کریں اور حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ بازنین کے بنیادی حقوق کے لئے اور ان کے بارے میں عدل و انصاف سے کام لیں۔

مسٹرناصر نے مزید بتایا کہ ان کی جماعت امریکن لوگوں کو صحیح اسلامی تعلیم کے بارے میں آگاہی دینا چاہتی ہے۔ اور اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ سے اسلام کے خلاف غلط فہمیاں بھی پھیل رہی ہیں۔ بعض امریکن تو اسلام اور دہشت گردی کو ایک ہی چیز سمجھتے ہیں۔

میموریل سپرنگ برانچ سن نے اپنی 13 جولائی 1995ء صفحہ 6 پر ’’احمدیہ‘‘ کے عنوان سے ہمارے 47 ویں جلسہ سالانہ امریکہ کی مختصراً خبر دی ہے۔

ہیوسٹن کرانیکل ۔ 4 اکتوبر 1995ء کمیونٹی نیوز کے تحت ’’اسلامک میٹنگ‘‘ کے عنوان سے خبر دی ہے کہ ہیوسٹن میں جماعت احمدیہ بانی ءاسلام کی سیرت پر ایک ریجنل جلسہ کر رہی ہے جس میں مکرم مظفر احمد ظفر صاحب نائب امیرامریکہ (نیشنل نائب صدر) ،مکرم سید شمشاد احمد ناصر صاحب مبلغ جماعت احمدیہ اور مکرم عیسیٰ جبرئیل صاحب تقاریر کریں گے۔

اس کانفرنس کا مقصد محمد ﷺ کی تعلیم سے آگاہی دینےاور اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ کرنا مقصود ہے۔ اس کانفرنس میں مختلف شہروں انگلیٹن، وکٹوریہ پورٹ لِواکا، ڈلس اور نیو آرلینز سے احباب شامل ہوں گے۔

ہیوسٹن کرانیکل نے 7 اکتوبر 1995ء سیکشن E میں نہایت مختصراً اعلان میں دوسری مرتبہ ہمارے ریجنل کانفرنس جلسہ سیرت النبی ﷺ کا بتایا ہے جس کا اوپر ذکر ہوا ہے۔

انڈیا ہیرلڈ نے 2 اکتوبر 1995ء صفحہ 8 پر ہمارے ریجنل جلسہ سیرت النبی ﷺ کے منعقد ہونے کی خبر اعلان کے طور پرشائع کی اور جلسہ سیرت النبی ﷺ کا مقصد بیان کیا۔

میموریل سپرنگ برانچ سن نے 5 اکتوبر 1995ء میں صفحہ 1B پر کلینڈر میں ہمارے مذکورہ بالا ریجنل سیرت النبی ﷺ کے جلسےکا اعلان شائع کیا ہے جس کا انعقاد8 اکتوبر 1995ء کو ہونا ہے۔

وائس آف ایشیانے بھی 2 اکتوبر 1995ء کی اشاعت میں ریجنل جلسہ سیرت النبی ﷺ کے انعقادکی خبر تفصیل کے ساتھ شائع کی ہے۔ خبر میں جلسہ کا مقصد بیان کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کے بارے میں بھی معلومات دی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم 1400 سال پہلے مکہ میں پیدا ہوئے۔ اور آپ کا پیغام ساری دنیا کے لئے ہے اور آپ کے ذریعہ ایک روحانی انقلاب پیدا ہوا۔ خداتعالیٰ نے آپ کے ذریعہ مکمل اور کامل شریعت نازل فرمائی۔ مسلمانوں کے اعتقاد میں ہے کہ آپ جو مذہب لے کر آئے وہ کامل ہے یعنی اسلام۔ اور کامل شریعت جو لے کر آئے وہ قرآن کریم ہے۔ اس جلسہ کی آرگنائزیشن جماعت احمدیہ کا اعتقاد ہے کہ آخری زمانے میں جس مصلح نے آنا ہے وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیشگوئیوں کے مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہیں،جو آچکے ہیں۔ اور اس وقت جماعت احمدیہ دنیا کے 48 ممالک میں پھیل چکی ہے۔

پاکستان لنک 6 اکتوبر 1995ء کی اشاعت کےصفحہ 25 پر ریجنل جلسہ سیرت النبی ﷺ کا اعلان شائع کرتا ہے۔

ساؤتھ چائینیز ڈیلی نیوز ۔ اخبار کی 4 اکتوبر 1995ء کی اشاعت میں (چینی اخبار) چینی زبان میں ریجنل جلسہ سیرت النبی ﷺ کا اعلان ہے۔ اس میں انہوں نے جماعت احمدیہ کا تعارف اور آنحضرت ﷺ کا تعارف نیز مقررین مکرم برادر مظفر احمد ظفر صاحب نائب امیر امریکہ اور خاکسار شمشاد احمد ناصر کے نام بھی لکھے ہیں۔

دی لیڈر اخبار نے 5 اکتوبر 1995ء صفحہ 14 پر ’’چرچ نیوز‘‘ کے تحت ’’احمدیہ موومنٹ اِن اسلام‘] کی خبر یوں شائع کی ہے۔

جماعت احمدیہ مسلمہ ہیوسٹن 8 اکتوبر کو اپنا ریجنل جلسہ سیرت النبی منعقد کر رہی ہے جس میں بانی اسلام محمد رسول اللہ ﷺ کے اخلاق اور تعلیمات پر تقاریر ہوں گی۔اس سے لوگوں کی اسلام کے بارے میںاور بانی اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کو دور کیا جائے گا۔ یہ کانفرنس ایک بجے دوپہر سے 3 بجے دوپہر تک پریڈ ہال میں ہو گی جس میں مکرم ڈاکٹر مظفر احمد ظفر صاحب نائب امیر اور مکرم سید شمشاد احمد ناصر صاحب مبلغ جماعت احمدیہ ساؤتھ ریجن اور مکرم عیسیٰ جبرئیل صاحب تقاریرکریں گے۔

انڈو امریکن نیوز نے بھی اس ریجنل جلسہ سیرت النبی ﷺ کا ذکر کیا ہے۔

ہیوسٹن ڈیفنڈر یہ کلیۃً ایفرو امریکن اخبار ہے۔ اس نے بھی ’’چرچ‘‘ کے تحت جماعت احمدیہ مسلمہ کے ریجنل جلسہ سیرت النبی ﷺ کا اعلان صفحہ 4 پر شائع کیا ہے۔

دی ہیوسٹن پنچ نے دسمبر 1995ء صفحہ 22 پر ایک تصویر شائع کی ہے اور تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ احمدیہ مسلم کمیونٹی کے لیڈر مکرم سید شمشاد احمد ناصر صاحب ایک سمپوزیم میں نائیجیریا کے سفیر کو قرآن کریم اور دیگر کتب کا تحفہ پیش کر رہے ہیں۔ تصویر میں مکرم منعم نعیم صاحب بھی ہیں۔ (جو اس وقت صدر خدام الاحمدیہ امریکہ تھے)

دی ہیوسٹن پنچ ہی میں ایک چوتھائی صفحہ کا ہمارا اشتہار بھی ’’What is Islam‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا۔ یعنی ’’اسلام کیا ہے؟‘‘ جس میں لکھا گیا تھا کہ اسلام کا مطلب امن ہے۔ اور اس مذہب کا مقصد امن حاصل کرنا اور قیام امن کا حصول ہے۔ جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی صحیح اطاعت سے ممکن ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق اللہ تعالیٰ نے دنیا کے مختلف علاقوں میں اپنے نبی، مصلح اور ریفارمرز بھیجے۔ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے ذریعہ مکمل اور جامع پیغام قرآن کریم کی صورت میں بھیجا جو تمام جہانوں اور تمام زمانوں کے لئے ہے۔ دیگر مذاہب کی تمام خوبیاں اسلام میں پائی جاتی ہیں۔

اس اشتہار کے آخر میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت یا اس زمانے میں اسلام آپ کے لئے کیا پیش کرتا ہے؟

  1. عدل و مساوات ہر ایک کےلئے۔ عزت و احترام اور برابری کے حقوق سب کے لئے۔
  2. آزادی ضمیر
  3. تمام دنیا کی یک جہتی اور بلا امتیاز مذہب و ملت و رنگ و نسل برابری کے حقوق۔
  4. اسلامی کا مالی نظام و معاشی نظام
  5. توبہ اور اصلاح کے ذریعہ حصولِ نجات

اس کے آخر میں جماعت احمدیہ کا ایڈریس اور فون نمبر دیا گیا ہے تا مزید معلومات حاصل کرنے والے فون کے ذریعہ یا ملاقات کے ذریعہ اپنے مسائل اور سوالوں کا جواب حاصل کر سکیں۔

دی پورٹ لِواکا ویو نے 20 ستمبر 1995ء کی اشاعت میں خاکسار کا ‘‘کرسمس’’کے بارےمیں مضمون شائع کیا ہے جو ایڈیٹر کے نام ہے۔ اس مضمون میں خاکسار نے لکھا ہے:
عیسائی دنیا میں زیادہ تر اس بات کا رجحان پایا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام 25 دسمبر کو پیدا ہوئے۔ اگر ہم کتب مقدسہ اور تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہو گا کہ کسی صورت میں بھی 25 دسمبر کی تاریخ آپ کی پیدائش کی نہیں بنتی۔ خاکسار نے لوقا باب 2 آیات 7 اور 8 کا حوالہ دیاہے کہ اس کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جن دنوں حضرت عیسیٰ کی پیدائش ہوئی گڈریئے رات کو باہر سوتے اور اپنے جانور وں کی حفاظت کرتے تھے چونکہ دسمبر کی ان تاریخوں میں سردی کی وجہ سے رات کو باہر سونا ناممکن ہوتا تھااس لئے25دسمبرحضرت عیسیٰ کی یوم پیدائش نہیںہوسکتی۔ انسائیکلوپیڈیا بریٹینیکا نے بھی لکھا ہے کہ یہ تو ایک Pagan Holiday تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ قرآن کریم نے بھی حضرت عیسیٰ کی پیدائش کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ ایسے دن تھےکہ جب کھجور کے درختوں پر پکی کھجوریں لگی ہوئی تھیں۔ جس سے پتہ لگتا ہے کہ وہ موسم دسمبر کا نہیں ہوسکتابلکہ اگست اور ستمبر کا ہو سکتا ہے۔

ویسٹ سائڈ سن نے بھی اپنی اشاعت 21 دسمبر 1995ء میں ’’Letter‘‘ کے تحت ’’Is it Dec 25‘‘ ایڈیٹر کے نام خاکسار کا مندرجہ بالا خط (مضمون) شائع کیا ہے۔ اور اس کے 4 پوائنٹس بیان کئے ہیں۔

انڈو امریکن نیوز نے 25 دسمبر 1995ء کی اشاعت میں خاکسار کا یہی مضمون خط کی صورت میں من و عن شائع کیا ہے جس کا عنوان تھا:

Why is Christmas Celebrated in December?

کرسمس دسمبر میں کیوں منائی جاتی ہے؟

وائس آف ایشیا نے بھی اپنی 25 دسمبر 1995ء کی اشاعت میں خاکسار کا کرسمس کے بارے میں پورا مضمون خط کی صورت میں شائع کیا ہے۔ جس میں قرآن، تاریخ اور بائبل کے حوالوں سے ثابت کیا گیا ہے کہ 25 دسمبر کی تاریخ کسی صورت میں بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی یوم پیدائش نہیں بنتی اور عیسائیت کے سکالرز بھی اس بات پر متفق ہیں۔

انڈیا ہیرلڈ نے بھی اپنی 25 دسمبر کی اشاعت میں خاکسار کے اس مضمون کو شائع کیا لیکن اس کا عنوان یہ دیا

Critique on Significance of Christmas.

’’کرسمس کی اہمیت پر تنقید‘‘

دی لیڈر نے خاکسار کا یہی مضمون کرسمس کے حوالے سے 28 دسمبر 1995ء کی اشاعت میں اس عنوان سے شائع کیا۔

It is the Wrong Time of the Year?

کیا سال کے ان دنوں میں (کرسمس کو منانا) غلط ہے؟

انڈیا ہیرلڈ نے 5 جنوری 1996ء کی اشاعت میں خاکسار کا ایک اور مضمون

Jesus Died in Kashmir.

’’حضرت عیسیٰ کشمیر میں و فات پا گئے ہیں‘‘ شائع کیا۔ اس مضمون میں خاکسار نے لکھا کہ 18 دسمبر 1995ء کےٹائم میگزین میں عیسائی سکالرز کی تحقیق پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔

ہمیں کس پر یقین کرنا چاہئے؟ کیا ہمیں ان محققین پر یقین رکھنا چاہئے جنہوں نے برسوں سے Dead Sea Scrolls پر اپنی تحقیقات چھپائے رکھیں یا ہمیں Turin Shroud کے مسیحی محققین پر یقین کرنا چاہئے جو ان حقائق سے انکار کرتے ہیں جو ان کے عقیدے کے منافی ہیں۔

اگر حضرت عیسیٰ کو مصلوب کیا گیا تھا اوروہ صلیب پر مارے گئے تھے تو پھر ان کی قبر یروشلم میں ہونی چاہئے تھی اور ان کی قبر کو عیسائیوں کے ذریعہ محفوظ کیا جانا چاہئے تھا کیونکہ وہ اس قبر کو اپنی سب سے مقدس جگہ سمجھتے۔ مسلمانوں کو بھی ان کی قبر کی حفاظت کرنی چاہئےتھی کیونکہ مسلمان ان کو نبی سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ صلیب پر نہیں مرے تھے۔ وہ بے ہوش ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ان کے دشمن سے محفوظ کر لیا اور بچا لیا۔ اور انہوں نے کشمیر کی طرف ہجرت کی۔ وہ ایک نبی کی حیثیت میں لوگوں کو خداتعالیٰ کی طرف بلاتے تھے۔ انہوں نے اپنا مشن مکمل کر کے کشمیر ہی میں وفات پائی اور وہ اسی طرح وفات پا گئے جس طرح حضرت موسیٰؑ یا حضرت داؤد ؑوفات پا گئے تھے۔

وائس آف ایشیا نے اپنی 15 جنوری 1996ء کی اشاعت میں رمضان المبارک کے بارے میں مختصراً خبر شائع کی ہے۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ رمضان المبارک 22 جنوری سے 19فروری تک ہو گا اور احمدیہ مسلم سینٹر واقع 8121 Fairbank میں روزانہ درس القرآن، پانچوں نمازیں اور نماز تراویح کااہتمام ہوا کرے گا۔

انڈو امریکہ نیوز نے رمضان المبارک کی خبر اپنے 29 جنوری 1996ء میں شائع کی۔

دی لیڈر اخبار نے بھی 18 جنوری 1996ء صفحہ 16 پر مندرجہ بالا خبر رمضان المبارک کے بارے میں شائع کی۔

1960 West sun نے اپنی 24 جنوری کی اشاعت میں پورے صفحہ پر رمضان المبارک کی خبر دی۔ جس میں خاکسار کی تصویر بھی ہے۔ خاکسار نے ہاتھ میں قرآن مجید پکڑا ہوا ہے۔ اس میں خبر کے ساتھ خاکسار کا انٹرویو بھی شامل اشاعت ہے کہ رمضان کا کیا مطلب ہے اور اس کے فوائد و برکات کیا ہیں؟ غرباء کا خاص طور پر خیال رکھنا انسان کی حقیقی روح ہے۔ یہی وہ رمضان کا مہینہ ہے کہ جس میں نبی کریم بانی اسلام محمد ﷺ پر قرآن کریم کا نزول شروع ہوا۔ رمضان سے انسان اپنی تربیت کرتا ہے۔

خاکسار کی تصویر کے نیچے اخبار نے لکھا کہ سید شمشاد احمد ناصر جو کہ مسلمانوں کا مبلغ ہے اور یہاں 1992ء میں آیا ہے یہ یہاں کی کمیونٹی کو اسلام کے بارے میں غلط فہمیوں کا ازالہ کرتا ہے تاکہ لوگ بہتر رنگ میں اسلام کی تعلیم اور مذہب کو سمجھ سکیں۔

اخبار نے لکھا ہے کہ مسلم مشنری سید شمشاد احمد ناصر نے اگرچہ بہت سے ممالک کے سفراء اور لوگوں سے تعلق رکھا ہوا ہے لیکن ان کا بڑا مقصد یہاں کے لوکل عوام کی خدمت کرنا ہے اور یہاں ان کی جماعت اور کمیونٹی کے 200 سے زائد لوگ ہیں۔ مسٹر شمشاد نے بتایا کہ مجھے فون پر کالز آتی ہیں اور لوگ اسلام کے بارے میں معلومات لیتے ہیں اور بعض کہتے ہیں کہ اسلام میں کس طرح داخل ہوا جاتا ہے (یعنی کس طرح مسلمان ہونا ہوتا ہے)۔ مسٹر شمشاد کے دفتر میں کتب کی بہت سی الماریاں ہیں اور مختلف زبانوں میں قرآن کریم کے تراجم بھی ہیں مثلاً رشین، سپینش اور جاپانی۔ مسٹر شمشاد نے یہ بھی بتایا کہ اس کی کمیونٹی کے لوگ امریکن بھی ہیں، میکسیکن بھی ہیں اور ایشیا، مڈل ایسٹ سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔ اخبار نے خاکسار کے متعلق بھی کافی معلومات لکھی ہیںکہ کب مبلغ بنا اور کہاں کہاں خدمت کی توفیق ملی۔ لباس کے بارے میں اور پانچوں نمازوں علاوہ اور دیگر باتیں بھی لکھیں ہیں۔

ہیوسٹن کرانیکل نے 24 جنوری 1996ء کی اشاعت میں ’’اسلامک کمیونٹی رمضان منا رہی ہے‘‘ کے عنوان سے نصف صفحہ کی خبر دی ہے ۔ جس میں خاکسار کی ایک تصویر بھی جس میں ہاتھ میں قرآن کریم پکڑا ہوا ہے اور پیچھے خلفائے کرام کی تصاویر نظر آرہی ہیں، شائع کی ہیں۔

اخبار کی رپورٹر Cheryl, Dorsett نے یہ انٹرویو لیا۔ خبر میں رمضان کی اہمیت کے بارے میں بیان کرنے کے بعد لکھا کہ مسٹر شمشاد احمد ناصر علاقہ کے لوگوں کو دعوت دیتا ہے کہ وہ ہماری مسجد میں آکر رمضان کی عبادت میں شامل ہوں۔ رمضان کے دنوں میں خاص طور پر نمازوں کا اہتمام اور لیکچر (درس) کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

رمضان کی عبادات میں ہر شخص کے لئے پیغام اور سبق ہے۔ رمضان اسلام کے ارکان میں سے ایک اہم رکن ہے۔ (اخبار نے پانچوں ارکان اسلام کی بابت بیان کیا ہے جو خاکسار نے بتایا) رمضان کی فلاسفی، کن کن لوگوں پر روزہ فرض ہے اور کون کون لوگ روزے سے مستثنیٰ ہیں کا بھی ذکر ہے۔ روزہ رکھنے اور کھولنے کے اوقات نیز عید منانے کے بارے میں بھی تفصیل ہے۔

انڈیا ہیرلڈ نے بھی اپنی 19 جنوری 1996ء کی اشاعت میں ایک چوتھائی صفحہ پر رمضان المبارک کی تفصیل کے ساتھ خبر دی ہے۔

یو ایس ایشین نیوز نے اپنی اشاعت 20 جنوری 1996ء میں رمضان کی مندرجہ بالا خبر دی ہے ۔

دی ہیوسٹن پنچ نے اپنی فروری 1996ء صفحہ 16 کی اشاعت میں خاکسار کا ایک خط ایڈیٹر کے نام شائع کیا ہے جس میں عیسائی دنیا کے عقیدہ 25 دسمبر کو حضرت عیسیٰ کی ولادت کے بارے میں ہے کہ یہ تاریخ نہ ہی بائبل سے اور نہ ہی قرآن سے درست معلوم ہوتی ہے بلکہ عیسائی سکالرز بھی اس بات کو ماننے کے لئے تیار ہو گئے ہیں اور ان کی ریسرچ بھی یہی بتا رہی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی پیدائش ستمبر کے مہینہ میں معلوم ہوتی ہے اور دسمبر کے مہینہ میں غلط ثابت ہو گئی ہے۔ (یہ خط ؍ مضمون دسمبر میں شائع ہونے کی بجائے فروری میں شائع ہوا)

یو ایس ایشیا نیوز نے اپنی 24 فروری 1996ء کی اشاعت میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی تصویر کے ساتھ جلسہ سالانہ قادیان کی خبر شائع کی ہے۔

اخبار نے ہیوسٹن کے حوالہ سے لکھا ہے کہ جماعت احمدیہ انڈیا کا 104جلسہ سالانہ قادیان انڈیا میں منعقد ہوا جس میں ہندوستان کے علاوہ دیگر 24 ممالک کے نمائندگان بھی شامل ہوئے جن میں بنگلہ دیش، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، جرمنی، انگلینڈ ،کینیڈا، امریکہ، انڈونیشیا، ماریشس، سویڈن، آسٹریلیا، سنگاپور، ڈنمارک، برما، جاپان، ساؤتھ افریقہ، ملائیشیا، یو اے ای اور نیدرلینڈ کےممالک شامل تھے۔عالمگیر جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب نے جلسہ کاافتتاحی خطاب اور اختتامی خطاب فرمایا۔ یہ خطابات لندن سے لائیو سیٹلائیٹ کے ذریعہ نشرہوئے۔

نیز لکھا کہ جلسہ سالانہ میں روحانیت کا منظر تھا۔

حضرت مرزا طاہر احمدصاحب امام جماعت احمدیہ عالمگیر نے اپنے خطاب میں پاکستان اور ہندوستان کے عوام کو نصیحت کی کہ وہ آپس میں پیار، محبت اور اخوت اور برداشت کی فضاء کو بہتر رنگ میں پیدا کریں اور اس کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک کے لوگ اپنے اپنے ملکوں سے وفاداری بھی رکھ سکتے ہیں۔ آپ نے دونوں ملکوں کو نصیحت فرمائی کہ آپس میں جو ٹینشن ہے اس کو دور کر کے امن اور آشتی کی فضاء دونوں ملکوں میں پیدا کریں۔ دونوں ملک جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ دونوں ملک غریب ہیں پھر بھی انہوں نے اپنے دفاع کے لئے ایک اچھا خاصا بجٹ مختص کیا ہے۔ حضرت مرزا طاہر احمدصاحبؒ نے دونوں ملکوں کی غربت کے اعداد و شمار بھی بیان کئے۔ آپ نے فرمایا (یہ 1995ء کی بات ہو رہی ہے) کہ ہندوستان کے 300ملین لوگ غربت کی نچلی سطح پر زندگی گزار رہے ہیں اور پاکستان میں 130 ملین لوگ۔ آپ نے لوگوں کو خصوصیت کے ساتھ خداتعالیٰ کی طرف آنے اور بلخصوص احمدی مسلمانوں کو یہ نصیحت فرمائی کہ وہ اس کام کے لئے اپنی مساعی کو تیز تر کر دیں کہ لوگ خدائے واحد کی طرف آئیں۔ آپ نے جلسہ کے اختتام پر دعا بھی کرائی۔ آپ نے جلسہ کے شاملین کو محبت بھرا سلام بھی پہنچایا اور ان کےحق میں دردمندانہ دعائیںبھی کیں۔ جلسہ کے موقعہ پر ہندوستان کے وزیر خارجہ مسٹر آر ایل بھاٹیا بھی شامل ہوئے تھے۔

انڈیا ہیرلڈ نے اپنی 9 فروری 1996ء کی اشاعت میں حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے جلسہ سالانہ قادیان کے موقع پر افتتاحی و اختتامی خطاب کا ذکر کیا اور اخبار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی تصویر بھی خبر کےساتھ شائع کی۔ (تفصیل قدرے وہی ہے جو اوپر گزر چکی ہے) اس اخبار نے خبر کے آخر پر لکھا ہے کہ اگر آپ کو مزید معلومات چاہئیں تو آپ مسٹر سید شمشاد احمد ناصر سے 713-896-8969 پر فون کر کے رابطہ اور معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

دی ہیوسٹن پنچ نے بھی فروری 1996 صفحہ 15 کی اشاعت میں جلسہ سالانہ قادیان کا 104 ویں جلسہ کی خبر حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی تصویر کے ساتھ شائع کی ہے۔ اخبار نے خبر کا عنوان یہ دیا ہے۔

Ahmadiyya Muslim Held 104th Annual Convention in India کہ احمدیہ مسلم جماعت نے انڈیا میں اپنا 104 واں جلسہ سالانہ منعقد کیا۔

تفصیل قریباً وہی ہے جو اوپر گزر چکی ہے۔

دی لیڈر اخبار نے اپنی 14 مارچ 1996ء کی اشاعت میں صفحہ 19-20 پر ہماری عید الفطر منانے کی خبر شائع کی ہے۔ اخبار نے لکھا احمدیہ مسلم جماعت کے ممبران نے 20 فروری کو عیدالفطر اپنے سینٹر میں منائی۔ ساؤتھ ریجن کے مشنری شمشاد ناصر نے نماز پڑھائی اور خطبہ دیا۔ جس میں انہوں نے رمضان کے فلسفہ اور عیدالفطر منانے کے بارے میں بیان کیا۔ اس موقعہ پر انہوں نے کہا کہ غرباء کی خدمت اور مدد کا سبق جو رمضان میں حاصل کیا ہے اسے جاری رکھیں۔

وائس آف ایشیا نے قادیان کے حوالہ سے جلسہ سالانہ کی خبر دی ہے اس عنوان کےساتھ جماعت احمدیہ عالمگیر کے روحانی پیشوا نے انڈیا اور پاکستان کو امن کے ساتھ رہنے کی اپیل کی ہے۔ اخبار نے حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ کی تصویر بھی شائع کی ہے اور خبر کا متن قریباً وہی ہے جس کا پہلے ذکر ہو چکا ہے۔

وائس آف ایشیا نے 11 مارچ 1996ء کی اشاعت سید ممتاز احمد کے حوالہ سے عیدالفطر کی خبر شائع کی ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ رمضان کے بعد احمدیہ مسلم کمیونٹی نے اپنے سینٹر واقع 8121 Fairbank White Oak Rd. پر اپنی عیدالفطر منائی۔ ریجنل مبلغ مسٹر شمشاد ناصر نے نماز پڑھائی اور خطبہ عید دیا۔ خطبہ عید میں سب سے پہلے انہوں نے امریکہ کے نیشنل صدر مسٹر ایم ایم احمد کا پیغام اور عید مبارک دی۔

مسٹر شمشاد ناصر نے حاضرین کو عید کا مقصد بتایا۔ اب رمضان اور عید کے بعد بھی ہمیں رمضان کے سبق کو یاد رکھنا چاہئے اور غرباء کی ہمدردی اور خبرگیری کرتے رہنا چاہئے۔ شمشاد نے یہ بھی بتایا کہ رمضان کے بعد سب کو اپنے اپنے شیطان کو زنجیر میں جکڑے رہنے دینا چاہئے۔ جس کو رمضان المبارک میں آپ نے جکڑ کر رکھا تھا۔ عید کے موقع پر صرف اچھے کپڑے پہننا اور اچھے کھانے کھا لینا ہی عید نہیں ہے بلکہ حقیقی عید یہ ہے کہ ہم اسلام کے پیغام کو ہر شخص تک پہنچائیں۔ شمشاد نے یہ بھی بتایا کہ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ جماعت احمدیہ کے روحانی پیشوا حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کا درس القرآن ہم سنتے رہے۔ یہ درس Live تھا جس کا مختلف زبانوں میں بھی ساتھ کے ساتھ ترجمہ نشر ہو رہا تھا۔ رمضان کے آخری دن حضرت مرزا طاہر احمد نے اجتماعی دعا بھی کرائی۔ جس میں آپ نے یاددہانی کرائی کہ سب امۃ مسلمہ کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں اور تمام احمدیوں اور پاکستان کی عوام کے لئے بھی خاص دعا کریں۔ اس موقعہ پر قرآن کریم کے مختلف زبانوں میں تراجم کی نمائش بھی لگائی گئی تھی۔

(باقی آئندہ بدھ ان شاء اللہ)

(مولانا سید شمشاد احمد ناصر ۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 اکتوبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اکتوبر 2020