• 26 جنوری, 2021

آنحضرتﷺ کا اُسوہ جو خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی ایک کامل تصویر تھے

یہ تو اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے ہیں ورنہ ایک عاجز انسان کی کیا کوشش ہوتی ہے ۔اللہ تعالیٰ کی رحمانیت ہی ہے جو اسے اپنے قریب لے آتی ہے۔ آنحضرتﷺ کا اُسوہ جو خدا تعالیٰ کے احکامات پر عمل کی ایک کامل تصویر تھے رمضان کے علاوہ عام حالات میں بھی آپ کی عبادتوں، اخلاقِ فاضلہ اور حقوق کی ادائیگی کی وہ مثالیں نظر آتی ہیں جو کسی انسان میں نہیں ہوسکتیں۔

ایک روایت ہے ۔ایک دفعہ گھوڑے سے گر جانے کی وجہ سے آپ ﷺ کے جسم کا ایک حصہ شدید زخمی ہوگیا۔ کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتے تھے اس لئے آپ نے بیٹھ کر نماز پڑھائی لیکن اس حالت میں بھی نماز باجماعت کا ناغہ نہیں کیا۔ پھر غزوہ احد میں جب لوہے کی کڑیاں آپ کے رخسار مبارک میں ٹوٹنے کی وجہ سے آپ انتہائی زخمی تھے اور تکلیف کی حالت میں تھے تو اس دن بھی جب اذان کی آواز سنی تو اسی طرح نماز کے لئے تشریف لائے جس طرح عام دنوں میں تشریف لایا کرتے تھے۔

پس یہ عبدِ کامل تھا جس نے عبادت کا ایک حسین اسوہ قائم فرمایا۔ جس نے صحابہ کی عبادتوں میں بھی حسن پیدا کردیا۔پس جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میری بات پر لبیک کہیں،تبھی میں اپنے قرب کا پتہ دے سکتا ہوں تو اس کا سب سے پہلا اور اہم اور بنیادی مرحلہ جس سے گزرنا ضروری ہے وہ اپنی عبادت میں طاق ہونا ہے۔

پس یہ سب کچھ آپ ﷺ کے اللہ تعالیٰ کی محبت میں فنا ہونے کی وجہ سے تھا۔ پس ایمان میں بڑھنے کی اور عمل کی معراج بھی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب محبت کی بھی انتہا ہو۔ پس ہمیں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محبت کی انتہا کا نمونہ تمہارے سامنے ہے ۔تم جو سوال کرتے ہو کہ خدا تعالیٰ کہاں ہے؟ تو اللہ تعالیٰ کو اس محبوب کے عمل میں دیکھو۔ میرے حقیقی عبد بننے کا حق ادا کرنے کی کوشش کرو پھر مجھے اپنے قرب میں دیکھو گے۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 13 اگست 2010ء بحوالہ الاسلام)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 19 دسمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 دسمبر 2020