• 6 مئی, 2021

(توبہ کی علامت)

حضرت امیرالمؤمنین خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
جب اللہ تعالیٰ کسی انسان سے محبت کرتا ہے تو گناہ اُسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کے محرکات اُسے بدی کی طرف مائل نہیں کر سکتے۔ واضح ہو کہ یہ مطلب نہیں کہ گناہ کرتے چلے جاؤ، جان بوجھ کر گند میں گرتے چلے جاؤاور سمجھو کہ مَیں نے استغفار کر لی ہے اور اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ گناہ کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قانون کے خلاف ہے۔ مطلب یہی ہے کہ اس کو بدی کی طرف، برائی کی طرف، کوئی رغبت نہیں ہوتی۔ پھر حضورؐ نے یہ آیت پڑھی کہ {اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَیُحِبُّ الْمُتَطَہِّرِیْنَ}۔ اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ عرض کیا گیا یا رسول اللہ! توبہ کی علامت کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا ندامت اور پشیمانی علامتِ توبہ ہے۔ تو دیکھیں علامت یہ بتائی کہ ندامت ہو، پشیمانی ہو اور اس کی و جہ سے پھر آئندہ ان سے بچتا بھی رہے۔ کیونکہ جس بات کی ندامت ہو اور پشیمانی ہو اس بات کو انسان دوبارہ جان بوجھ کرنہیں کرتا۔

(خطبۂ جمعہ فرمودہ 20 مئی 2005ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اپریل 2021