• 6 مئی, 2021

پیکرِ انوارِ عشق

خوب جچتی ہے یہ سر پر آپ کے دستارِ عشق
آپ ہی ہیں دنیا میں تو پیکرِ انوارِ عشق
گھر سے نکلے ہیں اٹھا کر پرچمِ اسلام جو
مصطفائی کر رہے ہیں ہر طرف پرچارِ عشق
حوصلہ رکھتا ہے دل میں وہ چٹانوں کی طرح
ہے رواں منزل کی جانب قافلہ سالارِ عشق
آپ کے قدموں کو چومیں اُلفتوں کی بستیاں
خاک کر دے دشمنوں کو آپ کا اِک وارِ عشق
دیکھنا رکھ دے گا بنیادیں ہلا کر اُن کی یہ
ایک دن پسپا کرے گی اُن کو یہ یلغارِ عشق
دل میں جذبہ رکھتا ہے اخلاص کا یہ ہر گھڑی
کرتی ہے پتّھر دلوں کو موم یہ گفتارِ عشق
جن کے ہاتھوں نے پہن لیں پیار کی ہیں بیڑیاں
راہ الفت میں کریں گے کیسے وہ انکارِ عشق
مثلِ جنت زندگی میری بنائے گا یہی
میری قسمت میں لکھے گا راحتیں اقرارِ عشق
راستوں سے رکھ دیے پتھر ہٹا کر آپ نے
دل میں یہ رچ بس گیا ہے آپ کا کردارِ عشق
بول بالا ہو گا اُس کا دیکھنا اک دن ضرور
دنیا پر غالب رہے گی آ کے یہ تلوارِ عشق
سارے مردے ایک پل میں زندہ کر دے گا خدا
پائیں گے اک دن شفا تم دیکھنا بیمارِ عشق
اپنی خوشبو سے معطر کر دے جسم و جان کو
رب کرے ہر دم مہکتا یہ رہے گلزارِ عشق
رات دن بشریٰ کے ہونٹوں پر دعا رہتی ہے یہ
رب کرے ،دلبر رہے میرا سدا پندارِ عشق

(بشریٰ سعید عاطف)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اپریل 2021