• 6 مئی, 2021

نزولِ وحی کے وقت کی حالت

تبرکات حضرت سید میر محمد اسحاق صاحب رضی اللہ عنہ

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جب وحی نازل ہوتی تو آپ کو سخت گھبراہٹ ہوتی۔ آپ اپنے دونوں ہونٹ ہلاتے اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے ساتھ پڑھتے جاتے۔ تا ایسا نہ ہو کہ آپ بھول جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر کہ لَا تُحَرِّکْ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعْجَلَ بِہٖ (القیامہ:17)۔ آپؐ کو اس سے روکااور تسلی دی کہ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ (القیامہ:18) تجھے فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔ وحی کا تیرے سینہ میں محفوظ رکھنا اور تجھے لوگوں کو سنانے کی توفیق دینا ہمارے ذمہ ہے۔

فرمایا۔ دنیا میں بعض امور کسبی ہوتے ہیں اور بعض وھبی۔ یعنی بعض کام انسان کوشش، محنت اور جدوجہد کے ساتھ سیکھتا ہے اور بعض کام انسان اکتساب اور جدوجہد کے محض اللہ تعالیٰ کے فضل سے آ جاتے ہیں۔ مثلاً تیرنا ہے انسان اس کو کوشش اور جدوجہد سے سیکھتا ہے۔ اس لئے تیراکی انسان کے لئے کَسبی ہے۔ لیکن ایک بطخ کا بچہ بغیر کسی خاص کوشش اور اکتساب کے تیرنے لگ جاتا ہے۔ اس کے لئے ایک وھبی امر ہے۔

پس دنیا میں بعض امور ایسے ہیں جو ایک کے لئے کسبی ہیں اور دوسرے کے لئے وھبی۔ اسی طرح حفظ کرنے کا فعل ہے۔ یہ بھی کسب سے تعلق رکھتا ہے۔ کسی کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ کسی کا عمدہ۔ کوئی بارہ سال میں قرآن مجید حفظ کرتا ہے۔ کوئی پانچ سال میں۔ کوئی ایک عبارت کو ایک دفعہ سن کر یاد رکھتا ہے۔ کوئی دو دفعہ سن کر حفظ کر سکتا ہے۔ کسی کو بار بار رٹنا پڑتا ہے۔ غرض حفظ کے لئے ہر ایک کو کچھ نہ کچھ محنت اور جدوجہد کرنی پڑتی ہے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بھی ایک بشر تھے۔ وہ بھی باتیں بھول جایا کرتے تھے۔ حضور خود فرماتے ہیں۔ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ اَنْسیٰ کَمَا تَنْسَوْنَ۔ کہ میں تم جیسا ایک بشر ہوں۔ جس طرح تم بھول جاتے ہو۔ اسی طرح میں بھی بھولتا ہوں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں یہ استثنیٰ رکھا ہے کہ نبی کی قوتِ حافظہ کا اس کی وحی پر اثر نہیں ہوتا۔ اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا یہ قاعدہ ہے۔ سَنُقْرِءُکَ فَلَا تَنْسٰٓی (الاعلیٰ:7) یعنی جو وحی ہم تجھ پر پڑھیں گے وہ تو نہیں بھولے گا۔ ہاں اِلَّا مَاشَاءَ رَبُّکَ اگر اللہ تعالیٰ کی مشیئت کچھ بھلانا چاہے تو بھُلا سکتی ہے۔ پس نہ وحی کے یاد رکھنے میں نبی کی سعی کا دخل ہوتا ہے اور نہ وہ اس کو ازخود بھول سکتا ہے بلکہ یہ ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے خود اپنے اوپر لی ہوئی ہے کہ اِنَّ عَلَیْنَا جَمْعَہٗ وَ قُرْاٰنَہٗ (القیامہ:18) کہ وحی الٰہی کو نبی کے سینہ میں محفوظ رکھنے کی ذمہ داری ہم پر ہے اور پھر یہ بھی ہم پر ذمہ واری ہے کہ ہم نبی کو توفیق دیں کہ وہ اس وحی کو لوگوں تک پہنچائے۔ اگر وحی الٰہی کو محفوظ رکھنے کی ذمہ واری نبی پر ہوتی تو خداتعالیٰ کا کلام بندے کے کلام میں ضرور مخلوط ہو جاتا اور سلسلہ وحی الہام کے جاری کرنے کا مقصد فوت ہو جاتا۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اس تصریح کے نازل ہونے سے پہلے اپنی یہ ذمہ واری سمجھتے تھے کہ جو کچھ خداتعالیٰ کی طرف سے وحی ہو۔ اس کو میں یاد کروں تاکہ لوگوں کو پہنچانے میں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ آپ کے متعلق آتا ہے کہ جب آپ پر وحی نازل ہوتی۔ کان یعالج فی النزیل شدۃً تو آپ اپنی ذمہ واری کے احساس سے سخت گھبراتے اور آپ کو ڈر رہتا کہ کہیں میں وحی الٰہی کا کچھ حصہ بھول نہ جاؤں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے صدقِ دعویٰ پر یہ امر بھی ایک دلیل ہے۔ اگر آپ نعوذ باللہ جھوٹے تھے تو آپ کو اس قدر گھبراہٹ کیوں ہوتی۔ آپ خود ہی عبارت بناتے اور لوگوں کو سنا دیتے۔

پس آپ کا گھبرانا اور اپنی ذمہ واری کے احساس سے فکر مند رہنا دلیل ہے اس امر کی کہ آپ کو خداتعالیٰ کی طرف سے وحی ہوتی تھی اور آپ اپنے دعویٰ میں صادق تھے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 اپریل 2021