• 19 جون, 2021

’’گولڈن ٹمپل‘‘ امرتسر میں سکھ مذہب کا مقدس مقام

بھارتی پنجاب کے شہر امرتسر میں واقع ’’گولڈن ٹمپل‘‘ سکھ مذہب کا مقدس ترین مقام ہے جس کو سولہویں صدی میں چوتھے سکھ گرو ’’رام داس‘‘ نے تعمیر کیا تھا۔اس کا اصل نام ’’ہر مندر صاحب‘‘ ہے اور اس کو ’’دربار صاحب‘‘ کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے ۔

گولڈن ٹمپل افتتاح کا منظر

اکالی تخت

گولڈن ٹمپل کا فضائی منظر

تاریخ میں یہ بھی لکھا ہے کہ چوتھے گرو ’’رام داس‘‘ کے دور دسمبر1585ءمیں اس کی تعمیر شروع ہوئی اور پانچویں گرو ’’ارجن دیوجی‘‘ کے دور میں اگست 1604ء میں اس کی تعمیر مکمل ہوئی تھی۔ اس میں سکھ فن تعمیر نمایاں ہے ۔ بعد میں پنجاب کے حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ نے ’’ہرمندر صاحب‘‘ کی عمارت کو مکمل طور پر باہر سے سونے کے ساتھ کور کروایا تھا جس کی وجہ سے اس کا نام انگریزی زبان میں ’’گولڈن ٹمپل‘‘ مشہور ہوگیا تھا اور آج یہ اسی نام سے مشہور و معروف ہے۔ چوتھے گرو جی گرو رام داس نے1577ء میں گولڈن ٹمپل کی تعمیر سے قبل اس کے احاطے میں موجود بڑا تالاب بنوایا تھا جو بعد میں ’’امرت سر‘‘ کے نام سے مشہور ہوا تھا۔ تاریخ کی کتابوں میں سکھ مذہب اور مسلمان صوفی بزرگوں کے ساتھ ابتدائی مراسم اور مذہبی ہم آہنگی کے تذکرہ اور واقعات ملتے ہیں۔ مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ پانچویں گرو ’’ارجن دیوجی‘‘ کے مشہور صوفی بزرگ حضرت میاں میر رحمۃ اللہ کے ساتھ گہرے مراسم تھے جن کا مزار دھرمپورہ میاں میر کے علاقے میں موجود ہے اور یہ کہ گولڈن ٹمپل کی بنیاد کا پہلا پتھر گرو ارجن دیو نے حضرت میاں میر صاحب رحمۃ اللہ کے ہاتھوں رکھوایا تھا۔ امرتسر بھارتی پنجاب کا ایک شہر ہے اور لاہور سے صرف28 کلو میٹر دوری پر مشرق میں واقع ہے۔ اور امرتسر کی کل آبادی 36 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے۔ اسی سال 13جنوری 2021ء کو گولڈن ٹمپل کے سنگ بنیاد رکھنے کو پورے 433سال ہوگئے تھے۔ حضرت میاں میر صاحب رحمۃ اللہ دھرمپورہ لاہور کے رہنے والے تھے اور سکھ مذہب کے چوتھے گرو رام داس کی جائے پیدائش لاہور ہی تھی۔ ان کے بیٹے اور سکھوں کے پانچویں گرو ارجن دیو اکثر اپنے عزیزو اقارب اور دوستوں کو ملنے لاہور آیا کرتے تھے۔ اسی دوران ان کی ملاقات حضرت میاں میر صاحب سے ہوئی اور پہلی ملاقات ہی دوستی میں بدل گئی۔ اس وقت حضرت میاں میر صاحب ان سے دس بارہ سال بڑے تھے۔ گرو ارجن دیو حضرت میاں میر صاحب کی کی روحانی روشنی اور صوفیانہ مزاج اور محبت و آتشی کی تعلیمات سے بخوبی واقف تھے ۔ ایک روایت کے مطابق گرو صاحب خصوصی طور پر ان سے ملنے لاہور آئے اور ملاقات میں بتایا کہ وہ امرتسر میں ایک گوردوارہ بنانا چاہتے ہیں جہاں ہر مذہب، مسلک اور ذات کے لوگوں کو آنے جانے کی آزادی حاصل ہو ۔ اس ملاقات میں حضرت گرو جی نے ان سے اس گوردوارے کا سنگ بنیاد رکھنے کی درخواست کی ۔ اس درخواست کو قبول کرتے ہوئےحضرت میاں میر صاحب رحمۃ اللہ نے سال 13جنوری 1588ء کو مذہبی لباس اور مخروطی ٹوپی پہن کر امرتسر پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور گوردوارہ کا سنگ بنیاد رکھ کر مسلم سکھ دوستی کی بنیاد رکھی ۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر خدا کی تعریف کی گئی اور بھجن گائے گئے اور اس کو ’’ہرمندر صاحب‘‘ کا نام دیا گیا جس کا مطلب ہے ’’رب کا گھر‘‘ ۔

امرتسر میں جس جگہ یہ مقدس مقام واقع ہے اس بارے کہا جاتا ہے کہ ہزاروں سال قبل ایک انتہائی پرسکون جنگل نما جگہ ہوا کرتی تھی جہاں غورو فکر کے لئے مراقبے اور اعتکاف کئے جاتے تھے ۔ بدھا نے یہاں وقت گزارا تھا ۔ اس وقت یہاں ایک جھیل بھی ہوا کرتی تھی جس کے کنارے وہ بیٹھا کرتے تھے ۔ بدھا کے بعد ہزاروں سال بعد ایک فلسفی اسی مقام پر غورو فکر کے لئے آئے تھے اور یہ سکھ مذہب کے بانی حضرت بابا گرو نانک صاحب تھے (1469ء۔1539ء) حضرت بابا گرونانک صاحب نے سکھ مذہب کی تعلیمات پھیلانے کا آغاز ننکانہ سے کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ننکانہ شہر کو آج بھی سکھوں میں ایک اہم مقام حاصل ہے ۔ دربار صاحب کرتارپور وہ مقام ہے جہاں حضرت بابا گرونانک صاحب کی وفات ہوئی تھی اور انہوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام یہیں گزارے تھے۔ 1521ءمیں آپ نےیہاں آکر کرتار پور نام کا گاؤں آباد کیا تھا ۔یہ پاکستان کے سرحدی شہر نارووال میں واقع ہے ۔ 9 نومبر2019ء کو وزیر اعظم پاکستان نے اس ’’کرتارپور راہداری‘‘ کا سرکاری سطح پر افتتاح کرکے عالمی شہرت اور توجہ حاصل کی تھی۔ حضرت باباگرو نانک صاحب کی وفات کے بعد ان کے شاگردوں نے اس مقام پر جانے کا سلسلہ جاری رکھا اور یوں صدیوں کے بعد اس مقام کو سکھ مذہب کے انتہائی مقدس مقام کی حیثیت مل گئی اور بعد ازاں چوتھے سکھ گرو (1534ء۔1581ء) اور پانچویں گرو ارجن دیو (1581ء۔1606ء) کے ادوار میں موجودہ گولڈن ٹمپل کی تعمیر شروع ہوکر مکمل ہوئی تھی ۔ پنجاب کے حکمران مہاراجہ رنجیت سنگھ (1780ء۔1839ء) کے دور میں ہری مندر کو سنگ مرمر کے پتھروں ، مجسموں ، سنہری گولڈنگ اور دیگر قیمتی پتھروں سے آراستہ کیا گیا تھا ۔ سکھوں کا مقدس صحیفہ ’’گرو گرنتھ صاحب‘‘ ایک اتنہائی قیمتی پلیٹ فارم پر رکھا ہوا ہے ۔ یہ دعاؤں ، نظموں اور بھجنوں کا ایک مجموعہ ہے ۔

تاریخ کے مطابق حضرت باباگرونانک صاحب نے کرتارپور میں 1539ءمیں اپنی وفات سے قبل گرو انگد دیو کو نیا گرو نامزد کیا تھا۔اس کے بعد چوتھے گرو کے دور میں امرتسر کے پرانے تالاب کی دوبارہ مرمت شروع کی گئی تھی اور اس کے درمیان میں ’’گوردوارہ‘‘ تعمیر کیا جس کو آج ’’ہر مندر صاحب‘‘ اور ’’دربار صاحب‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے چار دروازے ہیں اور یہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو آنے کی آزادی حاصل ہے۔ کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں ۔ ہر مندر صاحب کے سامنے ایک ’’اکالی تخت‘‘ کو بھی تعمیر کیا گیا تھا جو اب اسی عمارت کا ہی حصہ بن چکا ہے ۔ اکالی تخت کا مطلب ہے کہ خدا کا تخت ۔ معروف تاریخ دان اور پاک و ہند میں سکھوں پر کتابیں لکھنے والے مکرم اقبال قیصر صاحب کے مطابق اکالی تخت کی بنیاد سکھوں کے چھٹے گرو ’’ہر گوبند‘‘ نے رکھی تھی اور اس کی تعمیر کے وقت اس کی بلندی کو تخت دہلی سے ڈھائی فٹ زیادہ اونچا رکھا گیا تھا ۔ تاریخ کے مضامین کے مطابق سب سے پہلے گرو رام داس نے یہاں مٹی کا چبوترا بنوایا تھا۔اس کے بعد گرو ارجن دیو نے وہیں ایک کچی کوٹھری بنائی جس کو ’’کوٹھا صاحب‘‘ بھی کہا جاتا ہے ۔ اور اس تخت پر سب سے پہلے بیٹھنے والے ’’گرو ہر گوبند‘‘ تھے ۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق سکھوں کے پانچویں گرو، گرو ارجن دیو، جو کہ گرو ہرگوبند کے والد تھے، ان کو مغل بادشاہ جہانگیر نے قتل کروادیا تھا ۔ ان کی موت کے بعد ان کے بیٹے ’’گرو ہر گو بند‘‘ کو صرف 11 برس کی عمر میں سکھوں کا گرو مقرر کردیا گیا تھا۔ اور انہی کے دور میں اکالی تخت کی تعمیر ہوئی اور فوجی روایات اور دفاع کا سلسلہ شروع ہوا (بی بی سی اردو مؤرخہ 9نومبر 2019ء)۔ اکالی تخت کو آج سکھ مذہب میں انتہائی اہمیت حاصل ہے اور اس کو سچے بادشاہ کے تخت کہا جاتا ہے اور یہ انصاف اور دنیاوی سرگرمیوں کا اہم مرکز ہے ۔

جون1984ء میں گولڈن ٹمپل پر حملہ اور بھارتی فوج کے ’’اپریشن بلیو اسٹار‘‘ کی کارروائی کے نتیجہ میں اسکو عالمی شہرت ملی تھی اور کئی دہائیوں تک عالمی سیاست اور صحافت میں اس کا چرچا ہوتا رہا تھا۔ اس سے پہلے ماضی میں بھی اس پر حملے ہوتے رہے ہیں۔ اٹھارویں صدی میں احمد شاہ ابدالی کے حملوں سے بھی اکالی تخت کو کافی نقصان پہنچا تھا ۔

(منور علی شاہد (جرمنی))

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 مئی 2021

اگلا پڑھیں

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع الی السماء کی تردید از روئے قرآن