• 5 اگست, 2021

امانت ودیانت

خدائے بزرگ وبرتر قرآن مجید فرقان حمید میں امانت ودیانت کے متعلق فرماتاہے

فَاِنْ اَمِنَ بَعْضُکُمْ بَعْضًا فَلْیُؤَ دِّالَّذِی اؤْتُمِنَ اَمَانَتَہٗ

(البقرہ :284)

ترجمہ:کہ اگر تم میں سے کسی شخص کو امین جانتے ہوئے اس کے پاس کوئی چیز امانت رکھی جائے تو امین کو چاہئے کہ عندالطلب وہ امانت ادا کر دے۔

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے کہ اے میرے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں بھوک سے جس کا اوڑھنا بچھونا بہت برا ہے۔اور میں پناہ مانگتا ہوں خیانت سے کیونکہ یہ اندرونے کوخراب کر دیتی ہے یا اس کی چاہت برے نتائج پیدا کرتی ہے۔

(نسائی کتاب الاستعاذہ من الخیانة)

قریش مکہ نبی کریم ﷺ کے خون کے پیاسے اور آپ ﷺ کے قتل کے درپے تھے۔مگرحضور ﷺ کوہجرت مدینہ کے وقت ان کی امانتوں کی واپسی کی فکر تھی۔ چنانچہ مکہ چھوڑتے ہوئے اپنے عم زاد حضرت علیؓ کو ان خطرناک حالات کے باوجود پیچھے چھوڑ اکہ وہ امانتیں ادا کر کے مدینہ آئیں۔ رسول کریم ﷺ کے دل میں امانت کا جس قدر احساس گہرا تھااس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوتا ہے کہ ایک دفعہ ایک شخص نے آپ ﷺ سے پوچھا کہ اگر کوئی گری پڑی چیز مل جائے تو اس کا کیا کیا جائے؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ایک سال تک اس کی نشانیاں بتا کر اعلان کرتے رہو پھر اگر اس کا مالک آجائے تو اسے لوٹا دو۔ وہ کہنے لگا اگر کوئی گمشدہ اونٹ مل جائے تو اس کا کیا کریں ؟ نبی کریمﷺ بہت ناراض ہوئے چہرہ مبارک کا رنگ سرخ ہوگیا اور فرمانے لگے تمہیں اس سے کیا اس اونٹ کے پاؤں ساتھ ہیں وہ درخت چرکر اور پانی پی کر زندہ رہ سکتا ہے۔ تم اسے چھوڑ دو یہاں تک کہ خود اس کا مالک اُسے پالے۔

(بخاری کتاب العلم)

غزوۂ خیبر کے محاصرہ کے وقت بھوک اور فاقے کے ایام میںیہود کے ایک حبشی چرواہے نے اسلام قبول کرلیا اور سوال پیدا ہو اکہ اس کے سپرد یہود کی بکریوں کا کیا کیا جائے نبی کریم نے ہر حال میں امانت کی حفاظت کرنے کا فیصلہ فرمایا۔ آپ نے اپنے صحابہ کی بھوک اور فاقہ کی قربانی دے دی مگر کیا مجال کہ آپ کی امانت میں کوئی فرق آیا ہو حالانکہ یہ بکریاں دشمن کے طویل محاصرہ میں تو مہینوں کی خوراک بن سکتی تھیں۔مگرآپ نے کس شان استغناء سے فرمایا کہ بکریوں کا منہ قلعے کی طرف کر کے ان کوہانک دو۔خداتعالیٰ ان کو ان کے مالک کے پاس پہنچا دے گا۔نومسلم غلام نے ایسا ہی کیا اور بکریاں قلعے کے پاس پہنچ گئیںجہاں سے قلعے والوں نے ان کو اندر داخل کرلیا۔ سبحان اللہ! رسول اللہﷺ جنگ میں بھی جہاں سب کچھ جائز سمجھاجاتا ہے کس شدت سے امانت کے اصول پر عمل کرتے اور کرواتے تھے۔

(السیرة النبویة لابن ھشام جلد2 ص344)

غزوۂ خیبر کے موقع پر یہود شکست کے بعد پسپا ہوئے۔ مسلمانوں کو طویل محاصرہ کے بعد فتح عطا ہوئی۔ بعض مسلمانوں نے جو کئی دنوں سے فاقہ سے تھے یہود کے مال مویشی پر غنیمت کے طور پر قبضہ کر کے کچھ جانور ذبح کئے اور ان کا گوشت پکنے کے لئے آگ پر چڑھادیا۔ نبی کریم کو خبر ہوئی تو رسول کریم نے اسے سخت ناپسند فرمایا کہ مال غنیمت میں باضابطہ تقسیم سے پہلے یوں تصرف کیوں کیا گیااور اسے آپؐ نے خیانت پر محمول فرمایا۔ آپؐ نے صحابہ کو امانت کا سبق دینے کے لئے گوشت سے بھرے وہ سب دیگچے اور ہنڈیاں الٹوادیں پھر صحابہؓ کے مابین خود جانور تقسیم فرمائے اور ہر دس آدمیوں کو ایک بکری دی گئی۔دوسری روایت میں ہے کہ آپؐ نے فرمایا کہ اموال پر زبردستی قبضہ جائز نہیں۔

(مسند احمد جلد4 ص89)

فاقوں مر جائے پر جائے نہ امانت تیری
دور و نزدیک ہو مشہور امانت تیری
جاں بھی دینی پڑے تو نہ ہو اس سے دریغ
کسی حالت میں نہ جھوٹی ہو ضمانت تیری

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’امین اور دیانت دار بننا بہت نازک امر ہے۔ جب تک انسان اس کے تمام پہلو بجا نہ لاوے۔ امین اور دیانت دار نہیں ہو سکتا۔‘‘

(اسلامی اصول کی فلاسفی، روحانی خزائن جلد10 صفحہ345)

حضرت انس بن مالک ؓسے روایت ہے کہ میں ایک مرتبہ کھیل رہا تھا آنحضرت ﷺ نے مجھے کسی کام کے لئے بھجوادیا۔ میں جب ذرا تاخیر سے گھر آیا تو میری ماں نے مجھ سے پوچھا کہ گھر تاخیر سے کیوں آئے ہو تو میں نے کہا کہ حضور ﷺ نے مجھے کسی کے پاس پیغام دے کر بھجوایا تھا اس لئے مجھے دیر ہوگئی۔ تو میری ماں نے مجھ سے پوچھا کیا بات تھی میں نے کہا وہ میں نہیں بتا سکتا وہ میرے آقا محمد مصطفیﷺ کی امانت ہے۔مجھے حضور ﷺ نے بتانے کی اجازت نہیں دی۔ تب میری ماں نے مجھے کہا ٹھیک ہے بیٹے کسی کو نہ بتانا اسی طرح امانت کے حق ادا ہوتے ہیں۔

(صحیح مسلم کتاب الفضائل)

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: کتنی باریک تعلیم تھی اور کتنا گہرا اثر چھوڑا ہے کہ بچے بھی امانت کے راز سمجھ گئے اور امانت ایسے عظیم الشان مقام پر پہنچی کہ اس سے پہلے تاریخ میں دنیا نے کبھی ایسے امین نہیں دیکھے تھے۔ اور یہ اثر بڑی دیر تک امت مسلمہ میں جاری رہا ۔۔۔ سینکڑوں سال بعد یہ واقعہ رونما ہوا الپ ارسلان کا بیٹا ملک شاہ جب بادشاہ بنا تو چونکہ اس کے والد ایسے وقت میں گزرگئے جبکہ اس کی عمر ابھی چھوٹی تھی تو شریکوں نے اور رشتہ داروں نے اپنی اپنی جگہ حکومتوں کے اعلان کرنے شروع کر دئیے جس سے ملک میں ایک عام بغاوت کی فضا پیدا ہوگئی۔ اس وقت ان کا ایک مشہور وزیر طوسی چونکہ شیعہ تھا اس نے ان کو کہا کہ کیوں نہ ہم امام موسیٰ رضا ؒکی قبر پر چلیں اور وہاں دعا کریں اس دعا کا خاص اثر ہوگا۔ ملک شاہ صاحب نے یہ بات مان لی۔ وہ دونوں حضرت امام موسیٰ رضا ؒ کی قبر پر گئے اور دعا کی۔ دعا کے بعد ملک شاہ صاحب نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ بتاؤ تم نے کیا دعا کی تھی؟ وزیر نے جواب دیا کہ میں نے یہ دعا کی تھی کہ اللہ تعالیٰ آپ کو فتح نصیب فرمائے۔پھروزیرکے پوچھنے کے بغیر انہوں نے کہا کہ جانتے ہو میں نے کیا دعا کی تھی؟ میں نے یہ دعا کی تھی کہ اے خدا اگر میرے چچا زاد بھائی مجھ سے زیادہ اس امانت کے اہل ہیں کہ تیری مخلوق پر اور مسلمانوں پر حکومت کریں تو اے خدا! آج کے دن تو میری جان اور میرا تاج وتخت مجھ سے واپس لے لے میں اس کا اہل نہیں ہوں۔ یہ واقعہ بیان کر کے گبن لکھتا ہے کہ ساری انسانی تاریخ میں امانت کا اس سے زیادہ روشن واقعہ کوئی پیش نہیں کر سکتا۔

(خطبات طاہر جلد2 صفحہ620-621)

لوگ غلط فہمی سے یہ سمجھتے ہیں کہ امانت و دیانت بڑی بڑی چیزوں میں توٹھیک ہے چھوٹی چھوٹی چیزوں میں کیا فرق پڑتاہے حالانکہ حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے ہمیں سکھایا کہ امانت شروع ہی چھوٹی باتوں سے ہوتی ہے۔ جو شخص چھوٹی باتوں میں امانت ودیانت کا حق ادا نہیں کرتا وہ بڑی باتوں میں اس کا حق کر ہی نہیں سکتا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ علیہ السلام آرام فرمارہے تھے اور سید فضل شاہ صاحب آپ علیہ السلام کے پاؤں دبا رہے تھے۔ دباتے دباتے آپ علیہ السلام کے کوٹ کی جیب پر ہاتھ پڑا تو اندر سے ٹھیکریوں کی آواز آئی۔ انہوں نے سمجھا کہ کوئی بچہ جیب میں ڈال گیا ہے۔ آپ علیہ السلام کو پتہ نہیں لگا انہوں نے جیب میں ہاتھ ڈال کر ٹھیکریاں نکالیں اور باہر پھینکنے لگے توحضور علیہ السلام کی آنکھ کھل گئی۔ آپ علیہ السلام نے فرمایا یہ کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا میں نے یہ ٹھیکریاں نکالی ہیں تاکہ باہر پھینک دوں۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا بالکل نہیں واپس جیب میں ڈال دیں۔ یہ میرے محمود کی امانت ہے وہ میرے پاس امانت رکھوا گیا تھا،واپس آئے گا تو پوچھے گا اور جب ٹھیکریاں نہیں پائے گا تو کہے گا یہ کیسی امانت کا حق ادا کرتے ہیں۔یعنی ساری دنیا کو امانت کی تعلیم دے رہے ہیں اور بچے کی ٹھیکریاں بھی نہیں بچا سکے۔

حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:اسلامی خلق نے اس میدان میں بہت شکست کھائی ہے۔اتنے دکھ کے مناظر ہیں کہ مشرق اور مغرب میں سب سے زیادہ خیانت مسلمان ممالک میں نظر آرہی ہے۔ اتنے دکھ کا مقام ہے کہ وہ جو ساری دنیا کے امین بنائے گئے تھے آج ساری دنیا ان پر ہنستی ہے اور کہتی ہے یہ دیکھو خائن لوگ۔ پس اس کھوئی ہوئی بازی کو ہم نے جیتنا ہے۔ اور اس پانسے کو پھر پلٹنا ہے۔ یہ کام ہمارے سپرد کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ ہم امانت کے باریک تقاضوں کو پورا کریں خداکی محبت کی نگاہیں ہم پر پڑیں اور اللہ تعالیٰ آسمان سے یہ کہے کہ اے اس امین کے غلامو!! تم نے اس حق کو خوب ادا کر دیا۔ خوب ادا کر دیا۔ اور خوب ادا کر دیا۔ اب میرے حضور تم حاضر ہوگئے تو میں تمہیں پیار اور محبت سے نوازوں گا۔ خدا کرے کہ ایسا ہی ہو آمین۔

(خطبات طاہر جلد2 صفحہ624)

(ایم اے شہزاد)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 جون 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جون 2021