• 15 اگست, 2022

غزل

تجھ سے کچھ اِس طرح ہوں وابستہ
روح جیسے بدن میں پیوستہ

پیار کی اک نظر مری قیمت
دیکھ! میں کس قدر ہؤا سَستا

زیست کی ڈور ٹوٹ بھی جائے
عشق سے پر نہ ہوں گے وارستہ

دام پھیلا رکھے ہیں کیوں اتنے
طائرِ دل تو آپ ہے پھنستا

مقتلِ حسن کو چلا ہوں مَیں
جاں بکف، مستعد، کمر بستہ

میں نے حق بات کی سرِ محفل
برمحل، بےدریغ، برجستہ

تم ہو رہبر تو پھر مجھے کیا غم
کتنا مشکل ہے عشق کا رستہ!

اِس کو سودائے دشتِ دامن ہے
اشک دل کے نگر نہیں بستا

چشمِ گلباز زخم زخم ہوئی
جب سجا اشک اشک گلدستہ

کتنی راتوں کو پائمال کِیا
تب کھلا رازِ عشق سربستہ

(میر انجم پرویز۔لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 جون 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ