• 6 اگست, 2021

بڑا آج فضلِ خدا ہو رہا ہے

بڑا آج فضلِ خدا ہو رہا ہے
کہ حاصل مرا مدعا ہو رہا ہے
اِدھر احمدی ہیں اُدھر احمدی ہیں
اُولوالعزم جلوہ نما ہو رہا ہے
ستاروں میں جس طرح ہو ماہ روشن
یہ رنگ آج صلِّ علیٰ ہو رہا ہے
یہ انبوہِ خلقت یہ جوشِ عقیدت
نہایت ہی راحت فزا ہو رہا ہے
مزے سے مزے لوٹتی ہیں نگاہیں
کہ منظر بہت خوشنما ہو رہا ہے
اٹھیں کیوں نہ رہ رہ کے دل میں امنگیں
تماشائے شانِ خدا ہو رہا ہے
ہے ایک ایک محمود احمد کا شیدا
جسے دیکھتا ہوں فدا ہو رہا ہے
پھرے ہیں نہ عہدِ وفا سے پھریں گے
یہی تذکرہ جابجا ہو رہا ہے
سوا اس کے ہے اور کچھ جس کے دل میں
وہ پابندِ حرص و ہوا ہو رہا ہے
کوئی جا کہ کہہ دے یہ اس خود نما سے
جو اپنی ادا پہ فدا ہو رہا ہے
کہیں منہ کی پھونکوں سے بجھتا ہے سورج
ارے میرے دانا یہ کیا ہو رہا ہے
کدھر آج تیرِ ستم چل رہے ہیں
کدھر وارِ تیغِ جفا ہو رہا ہے
جو ہونا تھا بالقصد اس کو بھُلایا
جو بھولے سے ہونا نہ تھا ہو رہا ہے
جو جائز نہ تھا ہو گیا آج جائز
جو تھا ناروا وہ روا ہو رہا ہے
وہ محمود احمد جو ہے ابنِ مہدی
اُسی پر ستم برملا ہو رہا ہے
وہ کس کو سنائیں وہ کیونکر دکھائیں
جو حالِ دلِ مبتلا ہو رہا ہے
نتیجہ یہ غیروں سے ملنے کا نکلا
کہ بھائی سے بھائی جدا ہو رہا ہے
بلاتے ہیں کس واسطے اب وہ ہم کو
مگر اُن کو کچھ وہم سا ہو رہا ہے
ہوئی ہے نہ ہو گی امید اُن کی پوری
کہ اب ان کا راز آئینہ ہو رہا ہے
بس اب امن اسی میں ہے مختاؔر احمد
اسے چھوڑ دو جو جدا ہو رہا ہے

(حضرت حافظ سید مختار احمد مختار ؔشاہجہانپوریؓ)
(حیات حضرت مختارؓ صفحہ257-258)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جولائی 2021