• 6 اگست, 2021

حلال و طیب اشیاء کے بارے میں قرآنی آیات (قسط دوئم)

حلال و طیب اشیاء کے بارے میں قرآنی آیات
قسط دوئم

طیب چیزیں اِس دنیا میں اور قیامت کے دن ایمان والوں کے لیے ہیں

قُلۡ مَنۡ حَرَّمَ زِیۡنَۃَ اللّٰہِ الَّتِیۡۤ اَخۡرَجَ لِعِبَادِہٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزۡقِؕ قُلۡ ہِیَ لِلَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا فِی الۡحَیٰوۃِ الدُّنۡیَا خَالِصَۃً یَّوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ کَذٰلِکَ نُفَصِّلُ الۡاٰیٰتِ لِقَوۡمٍ یَّعۡلَمُوۡنَ۔

(الاعراف:33)

تو پوچھ کہ اللہ کی (پیدا کردہ) زینت کس نے حرام کی ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے نکالی ہے۔ اور رزق میں سے پاکیزہ چیزیں بھی۔ تُو کہہ دے کہ یہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ان کے لئے ہیں جو ایمان لائے (اور) قیامت کے دن تو خالصۃً (بلاشرکتِ غیرے صرف انہی کے لئے ہوں گی)۔ اسی طرح ہم نشانات کھول کھول کر بیان کرتے ہیں ایسے لوگوں کے لئے جو علم رکھتے ہیں۔

حلال وطیب چیزیں حرام نہ ٹھہرانے کی تاکید

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا لَا تُحَرِّمُوۡا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمۡ وَ لَا تَعۡتَدُوۡا ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُعۡتَدِیۡنَ۔ وَکُلُوۡا مِمَّا رَزَقَکُمُ اللّٰہُ حَلٰلًا طَیِّبًا ۪ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اَنۡتُمۡ بِہٖ مُؤۡمِنُوۡنَ۔

(المائدۃ:88تا89)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اُن پاکیزہ چیزوں کو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کر دی ہیں حرام نہ ٹھہرایا کرو۔ اور حد سے تجاوز نہ کرو۔ یقیناً اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔اور اس میں سے جو اللہ نے تمہیں رزق دیا حلال (اور) پاکیزہ کھایا کرو۔ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو جس پر تم ایمان لاتے ہو۔

قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ مَّاۤ اَنۡزَلَ اللّٰہُ لَکُمۡ مِّنۡ رِّزۡقٍ فَجَعَلۡتُمۡ مِّنۡہُ حَرَامًا وَّ حَلٰلًا ؕ قُلۡ آٰللّٰہُ اَذِنَ لَکُمۡ اَمۡ عَلَی اللّٰہِ تَفۡتَرُوۡنَ۔

(یونس: 60)

تُو کہہ دے کیا تم غور نہیں کرتے کہ اللہ نے تمہارے لئے جو رزق اتارا ہے اس میں سے تم نے خود ہی حرام اور حلال بنا لئے ہیں۔ تُو (ان سے) پوچھ کہ کیا اللہ نے تمہیں (ان باتوں کی) اجازت دی ہے یا تم محض اللہ پر افترا باندھ رہے ہو۔

وَ لَا تَقُوۡلُوۡا لِمَا تَصِفُ اَلۡسِنَتُکُمُ الۡکَذِبَ ہٰذَا حَلٰلٌ وَّ ہٰذَا حَرَامٌ لِّتَفۡتَرُوۡا عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَفۡتَرُوۡنَ عَلَی اللّٰہِ الۡکَذِبَ لَا یُفۡلِحُوۡنَ۔

(النحل:117)

اور تم ان چیزوں کے بارہ میں جن کے متعلق تمہاری زبانیں جھوٹ بیان کرتی ہیں یہ نہ کہا کرو کہ یہ حلال ہے اور یہ حرام تاکہ تم اللہ پر بہتان تراشو۔ یقیناً وہ لوگ جو اللہ پر جھوٹ گھڑتے ہیں کامیاب نہیں ہوا کرتے۔

طیب چیزوں میں سے رزق دینے کا ذکر

وَ اذۡکُرُوۡۤا اِذۡ اَنۡتُمۡ قَلِیۡلٌ مُّسۡتَضۡعَفُوۡنَ فِی الۡاَرۡضِ تَخَافُوۡنَ اَنۡ یَّتَخَطَّفَکُمُ النَّاسُ فَاٰوٰٮکُمۡ وَ اَیَّدَکُمۡ بِنَصۡرِہٖ وَ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ لَعَلَّکُمۡ تَشۡکُرُوۡنَ۔

(الانفال: 27)

اور یاد کرو جب تم بہت تھوڑے تھے (اور) زمین میں کمزور شمار کئے جاتے تھے (اور) ڈرا کرتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں اُچک نہ لے جائیں تو اس نے تمہیں پناہ دی اور اپنی نصرت سے تمہاری تائید کی اور تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا تاکہ تم شکرگزار بنو۔

وَ اللّٰہُ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَنۡفُسِکُمۡ اَزۡوَاجًا وَّ جَعَلَ لَکُمۡ مِّنۡ اَزۡوَاجِکُمۡ بَنِیۡنَ وَ حَفَدَۃً وَّ رَزَقَکُمۡ مِّنَ الطَّیِّبٰتِ ؕ اَفَبِالۡبَاطِلِ یُؤۡمِنُوۡنَ وَ بِنِعۡمَتِ اللّٰہِ ہُمۡ یَکۡفُرُوۡنَ۔

(النحل:73)

اور اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لئے تمہاری جنس میں سے ہی جوڑے پیدا کئے اور تمہیں تمہارے جوڑوں میں سے ہی بیٹے اور پوتے عطا کئے اور تمہیں پاکیزہ چیزوں میں سے رزق دیا۔ تو پھر کیا وہ باطل پر تو ایمان لائیں گے اور اللہ کی نعمتوں کا انکار کر دیں گے؟

لوگوں کوخبیث چیزیں طیب کے ساتھ ملا کرنہ کھانے کی تاکید

وَ اٰتُوا الۡیَتٰمٰۤی اَمۡوَالَہُمۡ وَ لَا تَتَبَدَّلُوا الۡخَبِیۡثَ بِالطَّیِّبِ ۪ وَ لَا تَاۡکُلُوۡۤا اَمۡوَالَہُمۡ اِلٰۤی اَمۡوَالِکُمۡ ؕ اِنَّہٗ کَانَ حُوۡبًا کَبِیۡرًا۔

(النساء:3)

اور یتامیٰ کو اُن کے اموال دو اور خبیث چیزیں پاک چیزوں کے تبادلہ میں نہ لیا کرو اور ان کے اموال اپنے اموال سے ملا کر نہ کھا جایا کرو۔ یقیناً یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

یہودیوں کے ظلم کی وجہ سے طیب چیزیں بھی اُن پرحرام کر دی گئیں

فَبِظُلۡمٍ مِّنَ الَّذِیۡنَ ہَادُوۡا حَرَّمۡنَا عَلَیۡہِمۡ طَیِّبٰتٍ اُحِلَّتۡ لَہُمۡ وَ بِصَدِّہِمۡ عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ کَثِیۡرًا۔

(النساء: 161)

پس وہ لوگ جو یہودی تھے ان کے ظلم کے باعث اور ان کے اللہ کی راہ سے بکثرت روکنے کی وجہ سے ہم نے ان پر وہ پاکیزہ چیزیں بھی حرام کر دیں جو (اس سے پہلے) ان کے لئے حلال کی گئی تھیں۔

طیب چیزیں میں سے مومنین کو خرچ کرنے کا حکم

یٰۤاَیُّہَاالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡفِقُوۡا مِنۡ طَیِّبٰتِ مَا کَسَبۡتُمۡ وَ مِمَّاۤ اَخۡرَجۡنَا لَکُمۡ مِّنَ الۡاَرۡضِ ۪ وَ لَا تَیَمَّمُوا الۡخَبِیۡثَ مِنۡہُ تُنۡفِقُوۡنَ وَ لَسۡتُمۡ بِاٰخِذِیۡہِ اِلَّاۤ اَنۡ تُغۡمِضُوۡا فِیۡہِ ؕ وَ اعۡلَمُوۡۤا اَنَّ اللّٰہَ غَنِیٌّ حَمِیۡدٌ۔

(البقرہ:268)

اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! جو کچھ تم کماتے ہو اس میں سے اور اس میں سے بھی جو ہم نے تمہارے لئے زمین میں سے نکالا ہے پاکیزہ چیزیں خرچ کرو۔ اور (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے وقت اس میں سے ایسی ناپاک چیز کا قصد نہ کیا کرو کہ تُم اُسے ہر گز قبول کرنے والے نہ ہو سوائے اس کے کہ تم (سبکی کے خیال سے) اس سے صرفِ نظر کرو۔ اور جان لو کہ اللہ بے نیاز (اور) بہت قابلِ تعریف ہے۔

حضرت زکریاؑ کی طیب اولاد کے لیے دُعا

ہُنَالِکَ دَعَا زَکَرِیَّا رَبَّہٗ ۚ قَالَ رَبِّ ہَبۡ لِیۡ مِنۡ لَّدُنۡکَ ذُرِّیَّۃً طَیِّبَۃً ۚ اِنَّکَ سَمِیۡعُ الدُّعَآءِ۔

(آل عمران: 39)

اس موقع پر زکریا نے اپنے ربّ سے دعا کی اے میرے ربّ! مجھے اپنی جناب سے پاکیزہ ذریّت عطا کر۔ یقیناً تُو بہت دعا سننے والا ہے۔

رسول کریم ﷺ نے طیب چیزوں کو حلال اور خبیث کا حرام قرار دیتا

اَلَّذِیۡنَ یَتَّبِعُوۡنَ الرَّسُوۡلَ النَّبِیَّ الۡاُمِّیَّ الَّذِیۡ یَجِدُوۡنَہٗ مَکۡتُوۡبًا عِنۡدَہُمۡ فِی التَّوۡرٰٮۃِ وَ الۡاِنۡجِیۡلِ ۫ یَاۡمُرُہُمۡ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہٰہُمۡ عَنِ الۡمُنۡکَرِ وَ یُحِلُّ لَہُمُ الطَّیِّبٰتِ وَ یُحَرِّمُ عَلَیۡہِمُ الۡخَبٰٓئِثَ وَ یَضَعُ عَنۡہُمۡ اِصۡرَہُمۡ وَ الۡاَغۡلٰلَ الَّتِیۡ کَانَتۡ عَلَیۡہِمۡ ؕ فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا بِہٖ وَ عَزَّرُوۡہُ وَ نَصَرُوۡہُ وَ اتَّبَعُوا النُّوۡرَ الَّذِیۡۤ اُنۡزِلَ مَعَہٗۤ ۙ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ۔

(الاعراف:158)

جواس رسول نبی اُمّی پر ایمان لاتے ہیں جسے وہ اپنے پاس تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں۔ وہ ان کو نیک باتوں کا حکم دیتا ہے اور انہیں بُری باتوں سے روکتا ہے اور اُن کے لئے پاکیزہ چیزیں حلال قرار دیتا ہے اور اُن پر ناپاک چیزیں حرام قرار دیتا ہے اور اُن سے اُن کے بوجھ اور طوق اتار دیتا ہے جو اُن پر پڑے ہوئے تھے۔ پس وہ لوگ جو اس پر ایمان لاتے ہیں اور اسے عزت دیتے ہیں اور اس کی مدد کرتے ہیں اور اس نور کی پیروی کرتے ہیں جو اس کے ساتھ اتارا گیا ہے یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔

مال غنیمت میں سے حلال اور طیب کھانے کا ذکر

فَکُلُوۡا مِمَّا غَنِمۡتُمۡ حَلٰلًا طَیِّبًا ۫ۖ وَّ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ۔

(الانفال:70)

پس جو مالِ غنیمت تم حاصل کرو اس میں سے حلال اور پاکیزہ کھاؤ اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔ یقیناً اللہ بہت بخشنے والا (اور) بار بار رحم کرنے والا ہے۔

مومنین کو جنت میں طیب گھروں کے ملنے کا وعدہ

وَعَدَ اللّٰہُ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ وَ الۡمُؤۡمِنٰتِ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا وَ مَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیۡ جَنّٰتِ عَدۡنٍ ؕ وَ رِضۡوَانٌ مِّنَ اللّٰہِ اَکۡبَرُ ؕ ذٰلِکَ ہُوَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ۔

(التوبہ:72)

اللہ نے مومن مردوں اور مومن عورتوں سے ایسی جنتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے دامن میں نہریں بہتی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ اسی طرح بہت پاکیزہ گھروں کا بھی جو دائمی جنتوں میں ہوں گے۔ تاہم اللہ کی رضا سب سے بڑھ کر ہے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

طیب اور ناپاک برابر نہیں ہو سکتے

قُلۡ لَّا یَسۡتَوِی الۡخَبِیۡثُ وَ الطَّیِّبُ وَ لَوۡ اَعۡجَبَکَ کَثۡرَۃُ الۡخَبِیۡثِ ۚ فَاتَّقُوا اللّٰہَ یٰۤاُولِی الۡاَلۡبَابِ لَعَلَّکُمۡ تُفۡلِحُوۡنَ۔

(المائدۃ:101)

تُو کہہ دے کہ ناپاک اور پاک برابرنہیں ہوسکتے خواہ تجھے ناپاک کی کثرت کیسی ہی پسند آئے۔ پس اے عقل والو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔

طیب مومنین کو خبیث سے علیحدہ کرنے کا ذکر

مَا کَانَ اللّٰہُ لِیَذَرَ الۡمُؤۡمِنِیۡنَ عَلٰی مَاۤ اَنۡتُمۡ عَلَیۡہِ حَتّٰی یَمِیۡزَ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ ؕ وَ مَا کَانَ اللّٰہُ لِیُطۡلِعَکُمۡ عَلَی الۡغَیۡبِ وَ لٰکِنَّ اللّٰہَ یَجۡتَبِیۡ مِنۡ رُّسُلِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ ۪ فَاٰمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رُسُلِہٖ ۚ وَ اِنۡ تُؤۡمِنُوۡا وَ تَتَّقُوۡا فَلَکُمۡ اَجۡرٌ عَظِیۡمٌ۔

(آل عمران: 180)

اللہ ایسا نہیں کہ وہ مومنوں کو اس حال پر چھوڑ دے جس پر تم ہو یہاں تک کہ خبیث کو طیّب سے نتھار کر الگ کر دے۔ اور اللہ کی یہ سنّت نہیں کہ تم (سب) کو غیب پر مطلع کرے۔ بلکہ اللہ اپنے پیغمبروں میں سے جس کو چاہتا ہے چُن لیتا ہے۔ پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسولوں پر۔ اور اگر تم ایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو تو تمہارے لئے بہت بڑا اَجر ہے۔

اِنَّ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا یُنۡفِقُوۡنَ اَمۡوَالَہُمۡ لِیَصُدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ ؕ فَسَیُنۡفِقُوۡنَہَا ثُمَّ تَکُوۡنُ عَلَیۡہِمۡ حَسۡرَۃً ثُمَّ یُغۡلَبُوۡنَ ۔ وَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی جَہَنَّمَ یُحۡشَرُوۡنَ ۔لِیَمِیۡزَ اللّٰہُ الۡخَبِیۡثَ مِنَ الطَّیِّبِ وَ یَجۡعَلَ الۡخَبِیۡثَ بَعۡضَہٗ عَلٰی بَعۡضٍ فَیَرۡکُمَہٗ جَمِیۡعًا فَیَجۡعَلَہٗ فِیۡ جَہَنَّمَ ؕ اُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ۔

(الانفال:37تا38)

یقیناً وہ لوگ جنہوں نے انکار کیا اپنے مال خرچ کرتے ہیں تاکہ اللہ کی راہ سے روکیں۔ پس وہ اُن کو (اسی طرح) خرچ کرتے رہیں گے پھر وہ (مال) اُن پر حسرت بن جائیں گے پھر وہ مغلوب کر دیئے جائیں گے۔ اور وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا جہنم کی طرف اکٹھے کرکے لے جائے جائیں گے۔ تاکہ اللہ ناپاک کو پاک سے الگ کر دے اور خبیث کے ایک حصہ کو دوسرے پر ڈال دے پھر اس سارے کو (ڈھیر کی صورت میں) تہہ بہ تہہ اکٹھا کر دے پھر اسے جہنم میں جھونک دے۔ یہی لوگ ہیں جو گھاٹا کھانے والے ہیں۔

(جاری ہے)

(جاوید اقبال ناصر ۔مربی سلسلہ جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جولائی 2021