• 6 اگست, 2021

تعصّب، نفرت خطرناک سماجی امراض ہیں

تعصّب، نفرت اور عصبیت زمانہ جاہلیت کی پیداوار ہیں، بلکہ یہ انتہاپسندی کا دوسرا نام ہے۔ یہ نفرت، تفرقہ، گمراہی اور بغض کو بڑھا دیتا ہے اور تعصّبات حق و انصاف اور اصول پسندی کے دشمن ہیں۔ کوئی معاشرہ اس سے باہر نہیں رہ سکتا، اسی لیے ہر انسان اس کا شکار ہوجاتا ہے، تعصّب کی مرئی اور غیر مرئی لاتعداد شکلیں ہیں۔ دنیا کے اکثر علاقوں اور خصوصاً پاکستان میں تعصّب کو فروغ حاصل ہوا ہے۔ اخبارات اور سوشل میڈیا پر آئے دن ہم پڑھتے رہتے ہیں کہ فلاں مذہبی جماعت یا فرقہ کے افراد کو روزمرہ کے معمولات ادا کرتے ہوئے بےرحمی سےقتل کردیا گیا۔ نفرت اور تعصّب کی بنیاد پر یکم جولائی 2020ء کو شیخوپورہ میں ایک واقعہ پیش آیا قبریں توڑی گئیں اس کے بعد دوسرا واقعہ13، 14 جولائی کو گوجرانوالہ کے ایک احمدیہ قبرستان میں پیش آیا۔ جس میں 20 سے زائد قبروں کی بےحرمتی کی گئی بعض تعصّب اور نفرت کی آگ میں جلنے والے متشدد افراد تو انسانوں کو مرنے کے بعد بھی نہیں بخشتے ہیں۔ تعصّب اور نفرت کیوں برتا جاتا ہے؟ اور اس رویہ کو تبدیل کرنا اس قدر مشکل کیوں؟

جب ہم کسی کو متعصّب قرار دیتے ہیں تو دراصل ہم یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص ایک خاص رویہ کا حامل ہے جو فلاں چیز، قوم یا فرقہ کے متعلق نفرت پر مبنی ہے اور یہ نفرت مذکورہ شخص کے اندر راسخ ہوچکی ہے۔ معنوی اعتبار سے تعصّب کا مطلب ہے کسی کے متعلق فیصلہ صادر کردینا اور غضب، غصّہ، مکالمہ اور تبدیلی کا امکان ختم کردیتا ہے۔ یعنی نتیجہ نکالا جاچکا ہے۔ متبادل حقائق اور وضاحتوں کی کوئی ضرورت نہیں۔

تعصّب اور نفرت کی کئی شکلیں ممکن ہیں جن میں کچھ نسبتاً کم منفی ہوتی ہیں۔ ہم کسی مظلوم کے حق میں بھی متعصّب ہوسکتے ہیں۔ انتہائی سطح کی حُبّ الوطنی اپنے وطن یا قوم کے حق میں ایک طرح کا تعصّب ہی ہوتی ہے۔ ‘‘غلط یا درست، حق پر ہے یا غلطی پر، یہ میرا ملک ہے، مجھے اس کی حمایت کرنی ہے۔’’ اس فقرے سے ہم سب کی سماعتیں آشنا ہیں۔ اس رویہ کا حامل شخص اپنے ملک یا اپنی پسندیدہ حکومت کی ہر قیمت پر حمایت کرتا ہے۔ لیکن نفسیات دانوں کی اکثریت متفق ہے کہ تعصّب بنیادی طور پر ایک منفی جذبہ اور سوچ ہے۔ یہ کسی گروہ کے لئے ناپسندیدگی، منافرت اور دشمنی کا جذبہ ہے، محض اس لئے کہ اس گروہ کے ارکان کسی مخصوص شناخت سے تعلق رکھتے ہیں۔ لہٰذا انہیں قابل نفرت تصوّر کرلیا گیا ہے۔

دل صاف کرنے کا طریقہ: معروف سماجی سائنس دان ہربرٹ ہلمر

(1961ء) کا کہنا تھا کہ متعصّب اکثریتی گروہ میں چار جذبے کام کررہے ہوتے ہیں۔

(1) وہ اقلیتی گروہ سے فطری طور پر بہتر ہیں۔ (2) اقلیتی گروہ اپنی خصوصیات میں مختلف اور اجنبی ہے (3) سہولیات، طاقت، حیثیت اور وقار پر اکثریتی گروہ کا حق ہے، اقلیتی گروہ کا نہیں (4) یہ خوف اور شک کہ اقلیتی گروہ ان کے مفادات کے خلاف سازشیں کررہا ہے۔ اس حوالے سے تعصّب ہمیشہ ایک مجموعی مؤقف کی نشاندہی کرتا ہے۔

تعصّب اور نفرت ہمیشہ شدید جذبات، کٹر عقائد اور راسخ رویّوں کی صورت میں اظہار پاتا ہے۔ کٹر عقائد کے حوالے سے برتے جانے والے تعصّب پر غور کیجئے۔ یہ ایک مذہبی شناخت کے متعلق مجموعی طور پر ایک منفی رائے قائم کرلی جاتی ہے اور اس کے ہر فرد کو اس گروہ سے منسوب خصوصیات کا حامل تصور کرلیا جاتا ہے۔ انسانوں کے درمیان پایا جانے والا تنوّع بےتوقیر قرار پاتا ہے۔ اسی طرزِ احساس سے امتیازی سلوک جنم لیتا ہے۔ اس ہر منطبق کی جانے والی اجتماعی منفی خصوصیات ہی سے جواز پاتا ہے۔ جمعہ11 مئی 2018ء کو مسجدالحرام کے امام و خطیب شیخ ڈاکٹر صالح بن حمید نے اس ضمن میں خبردار کیا تھا کہ تعصّبات اور نفرت خطرناک سماجی امراض ہیں۔ یہ انسانیت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ یہ افراد، اقوام اور معاشروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ یہ ایسی آفت ہے جب بڑھتی اور پُھولتی ہےتو انسانوں کو تباہ کردیتی ہے۔ تعصّب کی ہوا چلتی ہے تو تعلیم یافتہ و غیرتعلیم یافتہ، مہذب و غیر مہذب، دیندار وغیردیندار کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہ غرور کا سرچشمہ ہے، یہ ظلم کی تحریک ہے، یہ نفرت اور بدعنوانی کا بہت بڑا سبب ہے۔ قرآن کی تعلیم ہے کہ اگر کسی قوم سے دشمنی بھی ہوتب بھی اس کے حقوق کا خیال رکھو اور اس کے ساتھ اپنے قضیے چکاتے ہوئے انصاف کا دامن ہاتھ سے ہرگز نہ چھوڑو۔ خداتعالیٰ نے تو ہمیں اس کی عبادت کے لئے تخلیق کیا ہے، وہ چاہتا ہے کہ بنی نوع انسان اس کی عبادت اور تعریف کریں اور انسان ایک دوسرے سے محبت کرے اور ایک دوسرے کے کام آئے انسان کی پیدائش کا تو اصل مقصد یہی ہے جس کو ہم بھول گئے ہیں۔ مثل مشہور ہے، ’’جو بُویا ہے وہی کاٹو گے‘‘ یا ’’جیسی کرنی ویسی بھرنی‘‘۔ آج ہمارا ملک پاکستان جن تعصّب اور نفرتوں کا شکار ہے تاریخ گواہ ہے اس سے پہلے سیاسی اور غیرسیاسی لیڈروں نے انجام دیکھ لیا ہے۔ لہٰذامؤدبانہ گزارش ہے کہ ہوش کے ناخن لیں اب بھی وقت ہے، ان تعصّبات اور نفرتوں کو ختم کریں اور اصل پیدائش کا مقصد جو کہ خداتعالیٰ کی عبادت ہے، کو سمجھیں ورنہ نہ آپ رہیں گے، نہ ملک اور نہ معاشرہ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ’’محبت سب سے اور نفرت کسی سے نہیں‘‘ کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(محی الدین عباسی۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 20 جولائی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 جولائی 2021