• 20 جولائی, 2024

ہے گلِ سَر سَبَد رُخِ انور

ساتھ تیرا ہؤا اگر محسوس
مجھ کو ہو گا نہ یہ سفر محسوس

حسنِ جاناں کا ذکر ہو تو زیست
ہونے لگتی ہے مختصر محسوس

ہے گلِ سَر سَبَد رُخِ انور
لمحہ لمحہ ہو تازہ تر محسوس

کر رہے ہیں فراق کو دونوں
وہ اُدھر اور ہم اِدھر محسوس

ہجر کا دکھ نہ ہو تو کیونکر ہو
لذّتِ وصل اس قدر محسوس!

تیرِ الفت کا زخم ایسا ہے
دل کرے جس کو عمر بھر محسوس

ہے وہ ناواقفِ جنوں، جو کرے
دشت کو دشت، گھر کو گھر محسوس

روشنی کیا کرے گا دنیا میں
ہو اندھیروں سے جس کو ڈر محسوس

اپنے دل کو ٹٹول کر دیکھو
آنکھ کرتی نہیں اگر محسوس

اپنے ہی خواب میں نہ رہ انجمؔ!
عہد کے درد کو بھی کر محسوس

(میر انجم پرویز۔ یوکے)

i۔ جو اپنی نوع میں سب سے بہتر ہو، پھولوں کی ٹوکری کا عمدہ اور سب سے اوپر کا پھول

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 جولائی 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ