• 23 اکتوبر, 2020

اللہ تعالیٰ کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو کر ملتی ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
…. اللہ تعالیٰ کی محبت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو کر ملتی ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرو۔ اعلان کرایا کہ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہ (آل عمران: 32)۔ انہوں نے فرمایا کہ میری پیروی کرو تو پھر اللہ تعالیٰ کی محبت بھی ملے گی۔

توحید کی حقیقت اور ایک مؤمن کا کیا معیار ہونا چاہئے، اس بارے میں آپ فرماتے ہیں کہ ’’جو لوگ حکّام کی طرف جھکے ہوئے ہیں اور ان سے انعام یا خطاب پاتے ہیں۔ اُن کے دل میں اُن کی عظمت خدا کی سی عظمت داخل ہو جاتی ہے۔ وہ اُن کے پرستار ہو جاتے ہیں اور یہی ایک امر ہے جو توحید کا استیصال کرتا ہے‘‘ (توحید کے معیار کو ختم کر دیتا ہے۔) ’’اور انسان کو اس کے اصل مرکز سے ہٹا کر دُور پھینک دیتا ہے۔ پس انبیاء علیہم السلام یہ تعلیم دیتے ہیں کہ اسباب اور توحید میں تناقض نہ ہونے پاوے بلکہ ہر ایک اپنے اپنے مقام پر رہے اور مآل کار توحید پر جا ٹھہرے۔‘‘ (آخرکار جو نتیجہ ہے، جو سارا انحصار ہے وہ توحید پر جا کے ٹھہرے۔) ’’وہ انسان کو‘‘ (یعنی انبیاء انسان کو) ’’یہ سکھانا چاہتے ہیں کہ ساری عزّتیں، سارے آرام اور حاجات برآری کا متکفّل خدا ہی ہے۔ پس اگر اس کے مقابل میں کسی اور کو بھی قائم کیا جاوے تو صاف ظاہر ہے کہ دو ضدّوں کے تقابل سے ایک ہلاک ہو جاتی ہے۔‘‘ (جب دو ضدوں کا مقابلہ ہو گا تو لازماً ایک ہلاک ہو گی۔ دو دشمنوں کا مقابلہ ہو گا، دو فریقین کا مقابلہ ہو گا تو ایک کو بہر حال ہار ماننی پڑے گی۔)

فرمایا کہ ’’اس لئے مقدم ہے کہ خدا تعالیٰ کی توحید ہو۔ رعایت اسباب کی جاوے۔ اسباب کو خدا نہ بنایا جاوے۔‘‘ (اسباب کو استعمال کرنا ضروری ہے۔ جو ذریعے اللہ تعالیٰ نے مہیا کئے ہیں، وسائل مہیا کئے ہیں ان کو استعمال کرو لیکن ان کو خدا نہ بناؤ۔ توحید کو مقدم رکھو۔) ’’اسی توحید سے ایک محبت خدا تعالیٰ سے پیدا ہوتی ہے جبکہ انسان یہ سمجھتا ہے کہ نفع و نقصان اسی کے ہاتھ میں ہے۔ محسنِ حقیقی وہی ہے۔ ذرّہ ذرّہ اُسی سے ہے۔ کوئی دوسرا درمیان نہیں آتا۔ جب انسان اس پاک حالت کوحاصل کرے تو وہ موحد کہلاتا ہے۔‘‘ (جب یہ حالت ہو جائے گی، مکمل انحصار خدا تعالیٰ پر ہو جائے گا) کوئی دوسرا درمیان میں نہیں ہوگا تبھی موحد کہلاؤ گے۔) ’’غرض ایک حالت توحید کی یہ ہے کہ انسان پتھروں یا انسانوں یا اور کسی چیز کو خدا نہ بنائے بلکہ ان کو خدا بنانے سے بیزاری اور نفرت ظاہرکرے اور دوسری حالت یہ ہے کہ رعایت اسباب سے نہ گزرے۔‘‘ (یعنی اسباب جو ہیں انہی پر زیادہ زیادہ انحصار نہ کرے۔ حد سے زیادہ نہ بڑھے۔ صرف انہی پر چارہ نہ کرے، اپنا مدار نہ رکھے۔

فرمایا کہ ’’تیسری قسم یہ ہے کہ اپنے نفس اور وجود کے اغراض کو بھی درمیان سے اٹھادیا جاوے‘‘ (توحید قائم کرنے کے لئے تیسری چیز یہ ہے کہ اپنے نفس کو بھی مٹا دو۔ اس کی جو غرضیں ہیں، جو ذاتی نفسانی اغراض ہیں ان کو ختم کر دو۔) ’’اور اس کی نفی کی جاوے۔ بسا اوقات انسان کے زیر ِنظر اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے‘‘ (اکثر یہ ہوتا ہے کہ انسان کی اپنی خوبی اور طاقت بھی ہوتی ہے اور بعض کاموں میں اپنی خوبی اپنی طاقت پر انحصار کر رہا ہوتا ہے۔) ’’کہ فلاں نیکی مَیں نے اپنی طاقت سے کی ہے۔ انسان اپنی طاقت پر ایسا بھروسہ کرتا ہے کہ ہر کام کو اپنی قوت سے منسوب کرتا ہے۔ انسان موحد تب ہوتا ہے کہ جب اپنی طاقتوں کی بھی نفی کردے۔

لیکن اب اس جگہ یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان جیسا کہ تجربہ دلالت کرتا ہے‘‘ (تجربے سے یہ ثابت ہے کہ) ’’… عموماً کوئی نہ کوئی حصہ گناہ کا اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔ بعض موٹے گناہوں میں مبتلا ہوتے ہیں اور بعض اوسط درجہ کے گناہوں میں اور بعض باریک در باریک قسم کے گناہوں کا شکار ہوتے ہیں۔ جیسے بخل، ریاکاری یا اور اسی قسم کے گناہ کے حصوں میں گرفتار ہوتے ہیں۔ جب تک ان سے رہائی نہ ملے انسان اپنے گمشدہ انوار کو حاصل نہیں کر سکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے احکام دیئے ہیں۔ بعض اُن میں سے ایسے ہیں کہ ان کی بجاآوری ہر ایک کو میسّر نہیں ہے۔ مثلاً حج۔ یہ اس آدمی پر فرض ہے جسے استطاعت ہو۔ پھر راستہ میں امن ہو۔ پیچھے جو متعلقین ہیں ان کے گزارہ کا بھی معقول انتظام ہو‘‘ (یہ نہیں کہ گھر والوں کو بھوکا چھوڑ جاؤ کہ ہم حج پر جا رہے ہیں) ’’اور اسی قسم کی ضروری شرائط پوری ہوں تو حج کر سکتا ہے۔ ایسا ہی زکوٰۃ ہے۔ یہ وہی دے سکتا ہے جو صاحب نصاب ہو۔ ایسا ہی نماز میں بھی تغیرات ہو جاتے ہیں۔‘‘ (سفر میں قصر ہو جاتی ہے یا بعض دوسرے حالات میں جمع ہو جاتی ہے۔) ’’لیکن ایک بات ہے جس میں کوئی تغیر نہیں‘‘ (کوئی تبدیلی نہیں پیدا ہو سکتی) ’’وہ ہے: لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔ اصل یہی بات ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ سب اس کے مکمّلات ہیں۔ توحید کی تکمیل نہیں ہوتی جب تک عبادات کی بجا آوری نہ ہو۔‘‘ (جس طرح اللہ تعالیٰ نے عبادت کرنے کا حکم دیا ہے اس طرح عبادت کرو گے تبھی توحید کی تکمیل ہو گی۔

فرمایا کہ ’’اس کے یہی معنے ہیں کہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہِ کہنے والا اس وقت اپنے اقرار میں سچا ہوتا ہے کہ حقیقی طور پر عملی پہلو سے بھی وہ ثابت کر دکھائے کہ حقیقت میں اللہ کے سوا کوئی محبوب و مطلوب اور مقصودنہیں ہے۔ جب اس کی یہ حالت ہو اور واقعی طور پر اس کا ایمانی اور عملی رنگ اس اقرار کو ظاہر کرنے والا ہو تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور اس اقرار میں جھوٹا نہیں۔ ساری مادی چیزیں جل گئی ہیں اور ایک فنا اُن پر اس کے ایمان میں آگئی ہے تب وہ لَااِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ منہ سے نکالتا ہے اور مُحَمَّدٌ رَسُوْلُ اللّٰہ جو اس کا دوسرا جزو ہے وہ نمونہ کے لیے ہے۔ کیونکہ نمونہ اور نظیر سے ہر بات سہل ہو جاتی ہے۔‘‘ (مثالیں قائم ہوں تو سب باتیں آسان ہو جاتی ہیں اور مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم کے ہر حکم پر عمل کر کے، اپنا اسوہ حسنہ قائم کر کے ہمیں دے دی۔)

فرمایا کہ ’’انبیاء علیہم السّلام نمونوں کے لئے آتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمیع کمالات کے نمونوں کے جامع تھے۔‘‘ (تمام کمالات جتنے بھی ہیں آپ میں جمع ہو گئے اور ان کے نمونوں کی مثالیں بھی آپ نے قائم کر دیں۔) ’’کیونکہ سارے نبیوں کے نمونے آپؐ میں جمع ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد 2صفحہ 58۔ 59۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

(خطبہ جمعہ 16؍ مئی 2014ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 21 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 22 ستمبر 2020