• 19 اکتوبر, 2021

نيلے افق میں طالع کہیں دور جا بسا

نيلے افق میں طالع کہیں دور جا بسا
پردیس میں وہ آنکھوں کا اب نور جا بسا
دے کر ہماری آنکھوں کو اشکوں کی وہ رتیں
جنت کی سر زمین پہ مغفور جا بسا
وہ چاندنی بکھيرنے افريقہ تھا گیا
ٹوٹا جو چاند اس کا واں سب نور جا بسا
بچھڑا بھری بہار میں خوشبو بھرا گلاب
مٹی بھی مہکے اس میں اک منصور جا بسا
پیارا تھا وہ حضور کا جو صبح نور تھا
بن کر شہید تاروں میں مسرور جا بسا
خادم تھا اور غلام تھا دین متین کا
قربان ہو کے دور وہ مشہور جابسا
اہل وفا کے سلسلے کا تھا وہ شہسوار
طے کرنے رستے نور کے وہ دورجابسا
زخمی دلوں کو کرکے وہ اک سیل غم عطا
خود عرش کی زمین پہ مبرور جا بسا

(عبدالجلیل عباد۔جرمنی)

پچھلا پڑھیں

رپورٹ سالانہ اجتماع 2021ء مجلس خدام الاحمدیہ یوکے

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ