• 30 نومبر, 2021

تمام نوروں کا سبب اور ذریعہ

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں :
دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، جتنی ان کی خوبیاں نظر آتی ہیں، جہاں جہاں خوبصورتی نظر آتی ہے، حسن نظر آتا ہے۔ انسان دیکھتا ہے اس کو فائدے پہنچ رہے ہوتے ہیں۔ ہر قسم کی چیزیں جو ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے فیض عام کی وجہ سے ہیں اور اس کے فیض سے کوئی خالی نہیں چاہے وہ کوئی بھی ہو۔ فرمایا کہ
’’وہی تمام فیوض کا مبدء ہے اور تمام انوار کا علت العلل اور تمام رحمتوں کا سرچشمہ ہے‘‘ (اسی سے تمام فیض پھوٹتے ہیں۔ وہی تمام نوروں کا سبب اور ذریعہ ہے۔ وہی ہے جہاں سے رحمتوں کے چشمے پھوٹتے ہیں ) ’’اسی کی ہستیٔ حقیقی تمام عالَم کی قیّوم اور تمام زیر و زبر کی پناہ ہے۔‘‘ (یعنی تمام دنیا کے قائم رکھنے کے لئے اور جو بھی اس میں شکست و ریخت ہو رہی ہے یا جو بھی تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں وہ اسی کی طرف لوٹتی ہیں) ’’وہی ہے جس نے ہر ایک چیز کو ظلمت خانۂ عدم سے باہر نکالا‘‘ (جو اندھیروں میں پڑی ہوئی چیزیں تھیں ان کو باہر نکالا) ’’اور خلعتِ وجود بخشا۔ بجز اس کے کوئی ایسا وجود نہیں ہے کہ جو فی حد ذاتہ واجب اور قدیم ہو۔‘‘ (اس کے علاوہ کوئی ہستی نہیں، کوئی وجود نہیں جو اپنی ذات میں اس بات کا حقدار ٹھہرتا ہو اور ہمیشہ سے ہو) ’’یا اس سے مستفیض نہ ہو بلکہ خاک اور افلاک اور انسان اور حیوان اور حجر اور شجر اور روح اور جسم سب اسی کے فیضان سے وجود پذیر ہیں۔‘‘ (یہ دنیا، ہماری دنیا بھی، آسمان بھی، انسان بھی، حیوان بھی، پتھر بھی، درخت بھی، روح جسم ہر چیز جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فیض سے ہی وجود میں ہے۔)

(براہین احمدیہ، روحانی خزائن جلد1 صفحہ191۔ 192حاشیہ نمبر 11)

(خطبہ جمعہ 18؍ اپریل 2014ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

رپورٹ سالانہ اجتماع 2021ء مجلس خدام الاحمدیہ یوکے

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ